• صفحہ اول
  • /
  • خبریں
  • /
  • راولپنڈی: گداگر خاتون نسیم بی بی اور کم سن بچے کے قاتل کا دوران تفتیش حیران کن انکشاف

راولپنڈی: گداگر خاتون نسیم بی بی اور کم سن بچے کے قاتل کا دوران تفتیش حیران کن انکشاف

راولپنڈی مہوٹہ موہڑہ میں قتل ہونے والی گداگر خاتون نسیم بی بی اور اس کے کم سن بچے کے قتل کیس کے ملزم واجد نے دوران تفتیش جرم کا اعتراف کرتے ہوئے حیران کن دعویٰ کیا ہے-

تفصیلات کے مطابق ملزم واجد نے دوران تفتیش جرم کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ وہ مقتولہ سے شادی کرنا چاہتا تھا،تاہم مقتولہ کی جانب سے شادی اور بچے کو باپ کے حوالے کرنے سے انکار پر دونوں کو قتل کیا۔

tripako tours pakistan

پولیس ذرائع کے مطابق مقتولہ پہلے سے شادی شدہ تھی، ملزم نے اس سے پہلے دوستی کی اور قیمتی موبائل بھی تحفہ میں دیا تھا۔ ملزم نے مقتولہ کو 14 ماہ کا بچہ باپ کے حوالے کرنے کو کہا ملزم مقتولہ کو عامل سے ملانے کا جھانسہ دے کر مہوٹہ موہڑہ جنگل لے کر گیا تھا۔

پولیس کے مطابق ملزم واجد علی مہوٹہ موہڑہ کا رہائشی ہے اور فرنیچر کا کام کرتا ہے جبکہ مقتولہ کا تعلق وہاڑی سے تھا اور وہ راولپنڈی میں رہائش پذیر تھی ،پیشے کے اعتبار سے خاتون گداگر اور ایک 14 ماہ کے بچے کی ماں تھیں۔

راولپنڈی کے ایک پولیس اہلکار نے بتایا تھا کہ جو ریسکیو 15 کی اطلاع پر 24 جولائی کو شہر کے ایک قدرے سنسان علاقے مہونہ موہڑہ پر پہنچے اور وہاں انھیں زخمی حالات میں ایک عورت اور ایک بچے کی لاش ملی۔

پولیس اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ خاتون کی گردن پر تیز دھار آلے کا زخم تھا۔ ان کی حالت بھی ٹھیک نظر نہیں آرہی تھی اور اس کی گردن سے خون نکل رہا تھا ہم نے خاتون سے معلومات حاصل کرنے کی کوشش کیں تو وہ صرف اتنا ہی کہہ سکیں کہ یہ بچہ یوسف گلفام ہے اور میں نسیم ہوں اور اس کے بعد وہ کوشش کرنے کے باوجود بھی مزید بات نہیں کرسکیں۔پھر یہی خاتون ہسپتال میں تین روز زیر علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئیں پولیس نے متاثرہ خاتون کی ہمشیرہ کی مدعیت میں ملزم کے خلاف قتل، اقدام قتل، اور زیادتی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔

راولپنڈی کے تھانہ چونترہ میں ماں بیٹے کے قتل کا مقدمہ مقتولہ نسیم بی بی کی بہن شمیم بی بی کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔

شمیم بی بی کی جانب سے درج مقدمہ میں کہا گیا کہ 24 جولائی کو ان کی بہن نسیم بی بی اپنے بیٹے گلفام کے ساتھ اپنے بھائی محمد رمضان کے ہمراہ گداگری کے لیے چک بیلی خان بازار پہنچے۔

مقدمے کے مطابق نسیم کا ایک جاننے والا شخص انھیں اور ان کے بیٹے کو اپنے ساتھ موٹر سائیکل پر بٹھا کر گاؤں مہوٹہ موہڑہ لے گیا۔

مقدمے میں کہا گیا کہ دو گھنٹے بعد وہ شخص اپنی موٹر سائیکل پر تیزی سے ہمارے پاس سے گزر گیا جس سے شمیم بی بی اور محمد رمضان کو شک ہوا۔ جب انھوں نے نسیم بی بی اور گلفام کی تلاش شروع کو تو مہوٹہ موہڑہ کے جنگل میں انھیں نسیم اور ان کا بیٹا ملا۔

نسیم بی بی نے انھیں بتایا کہ وہ شخص انھیں اس مقام پر لے کر آیا تھا اور پھر اس نے ان کے ساتھ زبردستی جنسی فعل کیا۔ مقدمے کے مطابق نسیم نے کہا کہ ریپ کرنے کے بعد اس نے چھری نکال کر انھیں قتل کرنے کی نیت سے وار کیا جو ان کی گردن پر لگا اور وہ شدید زخمی ہو گئیں۔

پھر اس شخص نے چھری کا دوسرا وار ان کے بیٹے گلفام پر کیا۔ چھری اس کی گردن کے بائیں جانب لگی اور وہ بھی شدید زخمی ہو گیا اور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے موقع پر جاں بحق ہوگیا۔

شمیم بی بی نے بتایا کہ وہ کُل پانچ بہن بھائی ہیں۔ ان کا تعلق وہاڑی سے ہے تاہم کچھ عرصے سے ان کا خاندان اسلام آباد اور راولپنڈی میں مقیم ہیں۔ شمیم بی بی نے بتایا کہ ان کی بہن نسیم راولپنڈی کے علاقے روات میں اپنے ماموں محمد رمضان کے پاس رہائش پذیر تھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ نسیم کی دس برس قبل کم عمری میں ہی شادی ہوگئی تھی جس کے بعد اگلے کئی سال تک وہ اولاد کے لیے بے چین تھیں تاہم بیٹے کی پیدائش کے بعد وہ بے حد خوش تھیں۔

وہ اپنے بیٹے کو اپنی جان سے زیادہ چاہتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ پہلے اس کا نام یوسف رکھا، پھر پتا نہیں کیا ہوا اور اس نے کہنا شروع کر دیا کہ یہ تو دنیا کا خوبصورت ترین بیٹا ہے اور یوسف کے ساتھ گلفام بھی لگا دیا۔

Advertisements
merkit.pk

شمیم بی بی کا کہنا تھا کہ نسیم کا خاوند ساہیوال میں ہوتا ہے جبکہ یہ ساہیوال اور راولپنڈی آتی جاتی رہتی تھیں۔ اسی طرح اس کا خاوند بھی آتا جاتا رہا تھا۔ دونوں میاں بیوی اپنے بیٹے کو بہت خیال رکھتے تھے-

  • merkit.pk
  • merkit.pk

خبریں
مکالمہ پر لگنے والی خبریں دیگر زرائع سے لی جاتی ہیں اور مکمل غیرجانبداری سے شائع کی جاتی ہیں۔ کسی خبر کی غلطی کی نشاندہی فورا ایڈیٹر سے کیجئے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply