اردو یا ہندی ؟ استعماری ، ملی یا عوامی زبان ؟(2)۔۔نوید علی

وسط ایشیا کا ڈی این اے آپ کو سارے ہندوستان میں ملے گا اور زمانہ قبل از اسلام سے ملے گا۔ ہندوستان کے لئے وسط ایشیائی باشندے اور عرب دونوں ہی نہ تو اجنبی تھے نہ ہی ان کا ہندوستان میں موجود ہونا اچنبھے کی بات تھی۔ عرب مسلمان سندھ میں بسے اور واپس نہیں پلٹے ، انہوں نے عربی بولنا چھوڑ دی اور سندھی اپنا لی ، عربی مذہبی امور تک محدود رہ گئی جیسے کہ سنسکرت کے ساتھ ہو چکا تھا ۔ افغانستان اور پھر وسط ایشیا سے آنے والے شروع میں پنجاب تک محدود رہے۔

دہلی سلطنت کے دوران مسلمان سارے ہندوستان میں پھیل چکے تھے اور بڑی تعداد میں مقامی لوگوں نے بھی اسلام قبول کر لیا تھا۔ یہ بھی انہونی نہیں تھی کہ صدیوں سے مقامی باشندے آنے والوں کے اثرات قبول کرتے آ رہے تھے۔ فرق یہ پڑا کہ مسلمان ہو جانے والوں نے نئے نام اپنائے، نئی ذاتیں اختیار کر لیں اور روز مرّہ کی زندگی میں بھی ایسی استثنیات اپنا لیں جو دوسروں سے الگ تھیں۔ مگر زبان ان استثنیات میں نہیں تھی یا بہت زیادہ عرصہ نہیں رہ سکی۔ یہ عربی نہیں بلکہ فارسی تھی جو سرکاری زبان کا درجہ اختیار کر گئی اور ہندوستان بھر میں پھیل گئی، صرف مسلم نہیں بلکہ زیادہ تر ہندو ریاستوں کی سرکاری زبان بھی فارسی ہو گئی ۔ مگر عام بول چال کی زبانیں مقامی ہی رہیں ،فرق یہ پڑا کہ انہوں نے عربی ، فارسی اور ترکی کے اثرات اپنانے شروع کر دیے، خاص طور پر پراکرت زبانوں نے۔

tripako tours pakistan

دہلی سلطنت کے دوران ایک فرق یہ بھی پڑا کہ چند صدیوں بعد ایک بڑا علاقہ ایک طاقت کے زیر ِاثر آیا جس کے دیرپا اثرات معاشرے پر پڑے اور زبانیں بھی متاثر ہوئیں۔ ایسا بھی ہوا کہ عام آدمی کی پہنچ میں بھی اضافہ ہوا اور لوگ ایک جگہ سے دوسری جگہ سفر کرنے لگے اور تجارت کے علاوہ ملازمتوں کے واسطے سے یہاں وہاں روزگار بھی حاصل کرنے لگے، نتیجہ یہ نکلا کہ مختلف علاقوں ، مقامی تہذیبوں اور زبانوں کے اشتراک میں اضافہ ہوا۔ فوجی بھی ایک سے دوسری ریاست یا ایک سے دوسری طاقت کے ملازم ہونے لگے یا ایک علاقے سے دوسرے کو جانے لگے۔

علما   حکام اور ہنر مند و فنکار بھی ایسے ہی سارے ہندوستان میں گھومنے لگے۔ یہاں یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ ان میں ہندو مسلم کی تشخیص نہیں تھی اور یہ کہ مسلمان اقلیت ہی رہے، تو ہندوستانی تہذیب کی اس نشونما میں ہندوؤں کا حصہ مسلمانوں سے زیادہ ہی رہا ہوگا۔ ہندو اعمال یا ملازمت پیشہ افراد نے فارسی اور عربی میں مہارت حاصل کی، خاص طور پر فارسی میں۔ مسلمان، مغلوں کی آمد تک ہندوستان کا حصہ بن چکے تھے، مغل بھی واپس نہیں پھرے۔ غوری کے بعد سارے ہی سلاطینی مسلمان حکمران ہندوستانی تھے، انہوں نے اپنی حدود میں اضافہ کیا مگر ان کا جینا مرنا سب اسی ملک کا ہو چکا تھا۔ مغل بھی ہندوستانی بن کر ہی جیے، جہانگیر ایک ہندو ماں کا بیٹا تھا۔ ان سب نے جس زبان کو رفتہ رفتہ ترویج دی وہ ہندوستانی تھی۔

یہ وہ حالات ہیں جن میں ہندوستانی زبان کو عروج حاصل ہوا اور یہ زبان کسی ایک علاقے کی نہیں بلکہ ہندوستان اور ہندوستانی عوام کی زبان بنی، اس کی جڑیں عربی یا فارسی میں نہیں بلکہ پراکرت زبانوں میں ہیں۔ ہاں یہ بالکل درست ہے کہ اس نے عربی، فارسی الفاظ، اصطلاحات و ترکیبات ، شاعری اور نثر نگاری کی روایات کو اپنا لیا۔ رسم الخط بھی فارسی سے حاصل کیا مگر اپنی   آپ  میں پراکرت اور ہندوستانی ہی رہی اور عوام اور ہندوستانی تاریخ سے جڑی رہی۔ امیر خسرو جب عوام کی بات کرتے ہیں تو ہندوی یا برج بھاشا میں بات کرتے ہیں۔ اس زبان کی خاص بات یہ کہ یہ عوام میں پیدا ہوئی، یہ اپبھرمسا تھی اور اس کا خواص سے تعلق نہیں تھا، یہی وجہ ہے کہ ہمیں اس دور میں اس کے استعمال کے تحریری ثبوت کم کم ملتے ہیں اور یوں اس کے آغاز سے متعلق کئی غلط فہمیاں بھی۔ مغلوں تک آتے آتے تو یہ درباروں تک جا  پہنچی ، پراکرت زبان نے ایک بار پھر ذات پات کا نظام توڑ دیا تھا۔

یہ سوال بھی ہے کہ یہ ایک زبان تھی یا کئی زبانیں ؟ ہندی، ہندوی، برج بھاشا، کھڑی بولی، ہریانوی، اودھی ، دہلوی، بھوجپوری ، دکنی، گجری یہ کیا تھی ؟ شاید یہ کہنا بہتر ہوگا کہ یہ سب مل رہی تھیں کیونکہ یہ ایک ایسے وقت کی زبان تھی جب ہندوستانیوں کا آپسی اختلاط بڑھ رہا تھا اور شمالی ہند ایک اکائی بن چکا تھا اور ارد گرد جیسے دکن، راجپوتانہ، پنجاب، کشمیر، گجرات، سندھ اور بنگال کو بھی متاثر کر رہا تھا۔ ماہرین لسانیات کا ان زبانوں کے ایک ہونے یا نہ ہونے کا تعلق بڑی حد تک مختلف تعصبات سے ہے مگر ایسا طبقہ فکر موجود ہے کہ جو ان سب زبانوں کو ایک ہی زبان کی شکلیں قرار دیتا ہے اور ہم اسی خیال کے حامی ہیں کیونکہ صرف و نحو، صوت و آہنگ کے حوالے سے ان سب میں نہ جھٹلانے والا اختلاط و اشتراک موجود ہے۔

رسم الخط کے حوالے سے تو یہ بات طے شدہ ہے کہ ہندوستان میں صدیوں سے برہمی رسم الخط کے مختلف انداز رائج ہیں۔ صرف ہندوستان ہی نہیں مشرق بعید کے کئی علاقوں میں بھی اسی رسم الخط کی مختلف اقسام رائج تھیں اور رائج ہیں۔ یہ بھی مزے کی بات ہے کہ  آریائی اور دراوڑی زبانیں سب ہی اسی رسم الخط کا استعمال کرتی ہیں ، ایسا لگتا ہے کہ رسم الخط زبانوں کے رائج ہونے کے بعد رواج پایا اور تہذیبوں نے یہاں سمجھوتہ کر لیا۔ بہرحال یہ بات طے شدہ ہے کہ برہمنی رسم الخط مسلمان ریاستوں میں بھی استعمال ہوتا رہا۔ کایاتھی رسم الخط جو کہ کائستھ استعمال کرتے تھے ، ایک ایسا برہمنی رسم الخط ہے جو پراکرتی روایت سے قریب تھا یعنی مذہبی صحیفوں کے بجاۓ دنیا کے کاروبار میں استعمال ہوتا تھا۔ یہ کایاتھی رسم الخط شمالی ہندوستان میں عام استعمال ہوتا تھا اور مغلوں کے عہد میں اس کے استعمال کے ثبوت ملتے ہیں، ہندی یا ہندوی زبان کایاتھی رسم الخط میں بھی لکھی جاتی تھی اور انگریزی دور تک یہ رسم الخط رائج تھا۔ اسی دوران دیوناگری کو سنسکرت لکھنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ مسلمانوں نے فارسی رسم الخط کا استعمال جاری رکھا جو وسط ایشیا سے آیا تھا۔

یہ بھی یاد رہے کہ مسلمانوں کی اکثریت مقامی ہی تھی جس نے اسلام قبول کر لیا تھا۔ لہٰذا یہ بات تو طے ہے کہ ہندوستانی میں رسم الخط کے حوالے سے بھی تنوع تھا مگر ہندو مسلم یا فرقہ وارانہ مسئلہ ہونے سے زیادہ یہ ذاتی استعداد کا معاملہ  تھا لہٰذا کایاتھی رسم الخط اور فارسی رسم الخط ہندو مسلم سب ہی استعمال میں لا رہے تھے اور کیاتھی میں لکھی دستاویزات مغلوں کے ہاں مانی جاتی تھیں۔ ایسے ہی راجپوت، پنجابی ، دیگر بشمول مراٹھا ریاستوں کی سرکاری زبان بھی فارسی تھی اور فارسی رسم الخط وہاں عام تھا۔ ان کے ساتھ ہی برہمی کے دیگر شکلیں بھی ہندستان میں علاقائی سطح پر رائج تھیں جیسے بنگالی، آسامی ، سلہٹی ، اڑیا ، گجراتی، گرمکھی ، تامل، کننڈا، تیلگو ، ملیالم، اور بہت سے دوسرے۔ چندر بھان برہمن، شاہجہان کے دور کے شاعر تھے جو فارسی اور ہندوستانی میں لکھ رہے تھے۔

ہمیں اس بات کا بھی خیال رکھنا چاہیے کہ خواندہ طبقہ جو لکھ اور پڑھ سکتا ہو اس کی تعداد کل آبادی کا کتنا فیصد ہوگی ؟ ١٩٤٧ میں خواندگی کی شرح ١٢ فی صد تھی تو اس سے تین ، چار یا پانچ سو سال پہلے کتنی ہوگی؟ چلیں فرض کر لیتے ہیں کہ پانچ فی صد یا دس فیصد، ایسے لوگ جو لکھ اور پڑھ سکیں۔ تو ہندستان کی زبانیں لکھائی میں کم ہی آتی تھیں زیادہ تر محض بولیاں تھیں۔ اور ہر بولی ایک مخصوص علاقے تک محدود ہوگی، شاید یہی وجہ ہو کہ لوگ ہندوستانی زبان کی مختلف شکلوں سے بھی علاقائی حوالوں سے منسلک رہے اور اس کی قومی حثیت ماننے میں پریشان ہی رہے ۔ وہ لوگ جو لکھنا پڑھنا جانتے ہونگے وہ ایک تو مذہبی پیشوا تھے یا متوسط طبقے میں دفتری ملازمت سے منسلک افراد یا کسی حد تک تاجر یا پھر اعلیٰ طبقے کے افراد جو پڑھ لکھ سکتے تھے، ان کے علاوہ کسی اور کا پڑھا لکھا ہونا ذاتی صلاحیتوں پر ہی منحصر ہوتا ہوگا۔ اس خواندہ طبقے میں اردو ہندی یا فارسی کے حوالے سے کوئی کشمکش نہیں تھی۔ اگر ایسا ہوتا تو راجہ رام موہن رائے اپنی پہلی کتاب تحفتہ الموحدین فارسی میں نہ لکھ پاتے۔

یہ بھی صاف ہے کہ قوم کا جو تصور آج ہم لئے بیٹھے ہیں، سترہویں اٹھارویں صدی کا ہندوستانی اس سے محروم تھا، باہر والے ضرور ان کو ہندوستانی کہتے ہونگے مگر ہندستان کے اندر مزید علاقائی شناخت پر زیادہ زور ہوگا اور بڑی حد تک آج بھی ہے۔ پنجابی، کشمیری ، گجراتی، مراٹھی، تمل، تیلگو وغیرہ سب اپنی علاقائی شناخت اور زبان سے آج بھی منسلک ہیں۔ چنانچہ زبان کی علاقائی شناخت شاید ضروری سمجھی جاتی ہو لہٰذا دکنی، دہلوی، بھوجپوری، برج بھاشا اور ایسے نام سمجھ آتے ہیں ۔ ہندی ، ہندوی یا ہندوستانی جیسے نام اس بات کی عکّاسی کرتے ہیں کہ باہر سے آنے والے اس زبان کو اپنا رہے تھے، ساتھ ہی ساتھ سلطنت دہلی اور مغلیہ کے تحت ایک ملک کا خیال بھی راسخ ہو رہا ہوگا اور رابطے کی ایک مشترک زبان کی ضرورت بھی جو گفتگو، سرکاری اور کاروباری مراسلہ نگاری وغیرہ میں کام آ سکے۔ اس بات کے شواہد ہیں کہ یورپی طاقتوں کے ہندوستان میں داخلے سے قبل اور بعد ہندوستان کی ریاستیں غیر ملکی ریاستوں سے رابطے رکھتی تھیں۔ سفارت کاری کا رواج تھا اور تجارت کو بھی سرکاری سرپرستی اور کنٹرول حاصل تھا۔ محصولات کا نظام بھی نافذ تھا۔

یہ وہ حالات ہیں جن میں یورپی ہندوستان میں آئے اور تجارتی مفادات کا تحفظ کرتے کرتے یہاں کی سیاست و حکومت میں دخیل ہو گئے۔ برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی نے آہستہ آہستہ ہندوستان پر تسلط حاصل کر لیا مگر ڈینش ، ولندیزی ، فرانسیسی اور پرتگیز بھی یہاں موجود رہے۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کی سرگرمیوں کا آغاز سترویں صدی کے آغاز سے ہوتا جب انہوں نے جہانگیر سے تجارت کا فرمان حاصل کیا اوراسی دوران ان کے مقابلے میں پرتگیزیوں کو ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا۔ تجارتی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ کمپنی نے سورت ، مدراس اور کلکتہ وغیرہ میں اپنے مراکز سے آغاز کیا اور رفتہ رفتہ ہندوستانی ریاستوں کی باہمی چپقلش اور لڑائی سے فائدہ اٹھانے لگے ۔ کمپنی نے اپنی فوج بھی بنا لی اور دولت تیزی سے ہندوستان سے باہر لے جانے لگی ، ساتھ ہی ساتھ ہندوستانی ریاستوں سے زیادہ سے زیادہ مراعات حاصل کرنا شروع کیا اور رفتہ رفتہ حکومت بھی چھیننے لگی۔اٹھارویں صدی میں ایسٹ انڈیا کمپنی نے بنگال اور میسور سے آغاز کیا اور انیسویں صدی میں ہندوستان کی سب سے بڑی قوت بن چکی تھی اور اپنے حریفوں جیسے مرہٹے ، بنگال، میسور اور پنحاب کا زور توڑ چکی تھی، اب صرف وہی ریاستیں باقی تھیں جو کمپنی سے وفادار اور اس کی باجگزار تھیں۔ ١٨٥٧ کے بعد انگریز بادشاہت نے براہ راست ہندوستان کی حکومت حاصل کر لی جو ١٩٤٧ تک جاری رہی۔

کمپنی کے انگریز افسران نے اپنی صوابدید کے مطابق اس ملک کو سمجھنا اور یہاں کی تہذیب، کلچر، تاریخ، جغرافیہ اور زبانوں سے متعلق معلومات کو قلمبند کرنا شروع کیا ۔ ہندوستان میں چھاپے خانے کا آغاز گوا سے ہوا اور وہ مقامی زبان جو پہلی بار چھپی تامل تھی، اس کے بعد ملیالم اور تیلگو میں کتابیں چھپنے لگیں۔ ہندی-اردو میں کتابوں کی چھپائی یا یوں کہہ لیں کہ شمال ہند میں چھاپے خانے کا آغاز جنوب سے دیر سے شروع ہوا ۔ انیسویں صدی سے ہی ہندوستان میں بڑی تبدیلیاں آنی شروع ہوئیں۔ ایک بڑا طبقہ تھا جو انگریزوں کے اقتدار سے متاثر ہوا، اور ان کی مراعات ، ملازمتیں ، جاگیریں ، حیثیت سبھی متاثر ہوئیں۔ ایسے میں ہندوستانیوں میں باہمی مقابلہ بھی شروع ہو گیا اب جو وسائل انگریز کے تحت آ چکے تھے ان تک کیسے رسائی ممکن ہو۔ متوسط طبقے میں تجارت اور صنعت کی آمد کے ساتھ اضافہ ہوا، شہروں کی آبادیوں میں بھی اضافہ ہونے لگا جہاں ملازمتیں اسی صورت ممکن تھیں کہ فرد لکھا پڑھا ہو۔ انگریزوں نے تجارت، صنعت ، مواصلات ، زراعت سبھی میں جدید اصلاحات متعارف کروائیں اور ہندوستانی معاشرہ ایک نئی جہت سے آشنا ہوا جو نو آبادیاتی سٹرکچر میں سرمایہ داری اور صنعت سے جڑی تھی۔ اب ہندوستان انگریزی اثر کے تحت باقی دنیا کو خام مال ، زرعی اجناس اور محنت فراہم کر رہا تھا ۔ اس زمانے سے دنیا بھر میں بھیجے گئے ہندوستانی مزدوروں کی اولادیں آپ کو ساری دنیا میں ملیں گی۔

Advertisements
merkit.pk

انگریز افسروں جیسے گلکرسٹ نے ہندوستانی زبانوں پر کام شروع کیا۔ گلکرسٹ ، فورٹ ولیم کالج کلکتہ کا پہلا پرنسپل تھا۔ یہ کالج انگریز افسروں کو مقامی زبانیں سکھانے کے لئے کھولا گیا تھا۔ یہاں اس کالج میں جہاں ہندوستانی یا اردو میں کام شروع ہوا وہیں ہندی کی گونج بھی سنائی دینے لگی۔ اس ادارے میں سب سے پہلے اس بات پر باقائدہ زور دیا گیا کہ ہندوستانی ایک نہیں بلکہ دو زبانیں ہیں۔ اس خیال کو کسی حد تک ہندو متوسط طبقے کی حمایت بھی مل گئی جو بدلے حالات میں مواقع کی تلاش میں بھی تھا اور کئی ایک احیا پرست تحریکوں سے بھی مستفید ہو رہا تھا جو ہندوستانی معاشرے کو مغرب سے منسلک کرنا چاہتے تھے۔ آریا سماج ، برہمو سماج وغیرہ ایسی تحریکیں تھیں۔ ہندی کو دیونا گری میں لکھنے کا سہرا بھی انگریزوں کے سر جاتا ہے جنہوں نے کیاتھی جو ہندو مسلم دونوں جانتے تھے کو تقریباً جڑ سے اکھاڑ پھینکا۔ چارلس ولکنز نے دیونا گری رسم الخط وضع کیا جو چھاپے خانے میں استعمال ہونے لگا۔ مسلمان رد عمل میں اردو کو سراہنے لگے اور شمالی صوبہ جات میں اپنی مراعات کے تحفظ میں جت گئے جہاں اردو کو سرکاری زبان کا درجہ دے دیا گیا ۔ اس طرح ایک خاص انداز میں اور دانستہ یا نا دانستہ طور پر اردو ہندی تقسیم کھڑی کر دی گئی۔ نا دانستہ یوں کہ انگریز نے ہندوستانی معاشرے کو مغربی تہذیب، علم اور نکتۂ نظر سے سمجھنے کی کوشش کی اور اپنا قومیت کا نظریہ کھینچ تان کر ہندوستان پر نافذ کر دیا جو ہندوستانی فکر تہذیب اور تاریخ سے مختلف تھا ۔ دانستہ یوں کہ لڑاؤ اور حکومت کرو انگریز کی پالیسی تھی اور انہوں نے سیاسی، تاریخی ، تہذیبی ہر اعتبار سے ہندوستان کو تقسیم کرنے کی کوشش کی۔
جاری ہے

  • merkit.pk
  • merkit.pk

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply