سی پیک گلگت بلتستان اور مقامی حکومت ۔شیر علی انجم

گلگت بلتستان کے مقامی اخبارات کو پڑھنا چھوڑ دینے کے بعد کبھی کبھار دل چاہتا ہے کہ سوشل میڈیا کو بھی خیرباد کہہ دوں مگر بدقسمتی یہ ہے کہ یہودی جب آپ کو کسی چیز کے پیچھے لگا دیتے ہیں تواُس سے جان چھڑانا مشکل ہوجاتا ہے۔ بہت ظالم ہے یہ سوشل میڈیاجس نے سنسر شب کے نام پر من مانی کرنے والوں کو سڑک پر گھسیٹ لیا اور ہم جیسے مجبور سرپھرے لوگوں کو بولنے لکھنے کی کھلی آزادی دے دی ۔یعنی اب اس حقیقت سے انکار کرنا مشکل ہے کہ سوشل میڈیا   پرنٹ میڈیا کے  سینے چھری گھونپ کر سینہ تان کے مارکیٹ پر قبضہ جمائے بیٹھا ہے۔
اگر ہم گلگت بلتستان جیسے لاغر اور طرزی نظام کے ماتحت کمزور غریب اور سب سے بڑھ کر فکری شعور اور صحافتی اقدار سے خالی پرنٹ میڈیا کی طرف دیکھیں تو ہر جگہ پیٹ نظر آتا ہے جو پیٹ کو بہائے وہی کام گلگت بلتستان کے پرنٹ میڈیا کو اچھا لگتا ہے اور حکومت کی بھی یہی خواہش ہوتی ہے کہ ان کے کرتوت پر مٹی ڈالیں اور سرکار سے اشتہارات کے مزے لیں۔ اسی ہفتے انتہائی اہم ذرائع نے خبر دی ہے  جس کے مطابق حکومت گلگت بلتستان نے اشتہارات کے لئے حکومت مخالف خبریں چھاپنے والے اخبارات کے سر پر ہاتھ نہ رکھنے کا فیصلہ کیا ہے اور وزیر اعلی نے اپنے حلقے کے صحافیوں سے سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے سدھر جانے کی دھمکی بھی دی ہے ۔یوں اہل مراعات میں ایک ہنگامہ سابرپا ہے ہر کوئی حفیظ الرحمن کو فرشتہ صفت انسان ثابت کرنے کی دوڑ میں ایک دوسرے کو روندتے ہوئے داد وصول کر نے کے  چکر میں پڑے ہیں، خدا کرے میرے کچھ یاروں کا بھی اسی دوڑ میں بھلا ہوجائے اور کچھ مزید افراد کو بھی مشیری کا عہدہ مل جائے۔
محترم قارئین عنوان پر واپس چلتے ہوئے اگر ہم سی پیک پر بات کریں تو اس حقیقت سے انکارکرنا مشکل ہے کہ یہ پروجیکٹ یقیناًپاکستان کی قسمت بدل دے گا  اور ہماری دعا ہے کہ قائد کے پاکستان کو کرپٹ اور جمہوریت کے نام پر لوٹ مار کرنے والے اشرافیہ سے  آزادی   ملے  اور پاکستان دنیا میں ایٹمی سپرپاور کی طرح معاشی طور پر بھی سپر پاور بن کر ابھر کر سامنے آئے۔ لیکن جب سی پیک کا ذکر ہواور گلگت بلتستان کا نام نہ لیا جائے ایسا ممکن نہیں کیونکہ متنازعہ گلگت بلتستان کو سی پیک گیٹ ہونے  کا اعزاز حاصل ہے یہ الگ بات ہے کہ اس خطے کو سی پیک سے کوئی فائدہ تو نہیں البتہ ماحولیاتی آلودگی نے بڑھ جانا ہے یہاں کے گلیشئرز نے پگھل جانا ہے ۔
اس حوالے سے  ایک بین الاقوامی نشریاتی ادارے کی جانب سے باقاعدہ ایک رپورٹ سامنے آئی ہے جس میں سی پیک کی وجہ سے گلگت بلتستان کے برفانی گلیشئرز پر پڑھنے والے منفی اثرات کے حوالے سے  آگاہ کیا ہے لیکن مجھے یہ نہیں معلوم کہ ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے کے لئے سی پیک کے فریقین پاکستان اور چائنا نے کیا حکمت عملی طے کی ہے لیکن اتنا ضرور اندازہ ہے کہ گلیشرز پگھل جانے کی صورت میں گلگت بلتستان نے بھی بہہ جانا ہے۔ محترم قارئین یہ اُس وقت کی بات ہے جب سی پیک کی آمد آمد تھی اور لوگ بڑے بے چین تھے گلگت بلتستان کی  مقامی حکومت اس حوالے سے بڑی  پُرامید تھی  کیونکہ اُن کا خیال تھا کہ اس پروجیکٹ سے گلگت بلتستان بھی مستفید ہوں گے ۔یہاں بھی ترقی اور تعمیر کی راہیں کھلے گی،لیکن اُس وقت بھی ہم جیسے بغیر معاوضے کے قوم کے لئے پریشان ہونے والوں کا یہی خیال تھا کہ متنازعہ حیثیت کوختم یا قانونی طور پر گلگت بلتستان کو بطور سٹیک ہولڈر کے اس اہم پروجیکٹ میں فریق نہیں بناتے ۔
گلگت بلتستان کی قسمت میں دھواں ہی آئے گا مگر حکومت نے اس قسم کی باتوں پر توجہ دینے کے بجائے یہاں حقوق کی جدوجہد کرنے والوں کے لئے شیڈول فور ،غداری ایکٹ وغیر متعارف کرایا، بلکہ اس قسم کی باتیں لکھنے والوں کو اخبارات سے بھی دور کرنا شروع کیاتاکہ وہ لوگ جو اپنی  مراعات کو حق سمجھ کر میر جعفر اور میر صادق کا کردار ادا کر رہے ہیں وہ عوام کے سامنے ایکسپوز نہ ہو۔ بحرحال دنیا کا دستور ہے کہ سچ چاہیے  ایک آدمی ہی کیوں نہ بولے، اصل  جیت  سچ  کی ہوتی ہے اور یہی ہوا چائنا نے اعتراض کیا بھارت نے اعتراض کیا اور پھر امریکہ نے بھی سی پیک کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا ۔لیکن مقامی حکومت حکمت عملی کے بجائے پہاڑوں کے درمیان رہ کر امریکہ کو لکارتے رہے جس کا کوئی فائدہ نہ ہوا۔
گزراش یہ ہے کہ اوپر کی جو دوسطریں لکھنے کی جسارت کی ہے اس  کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ خدانخواستہ ہم سی پیک مخالف قوتوں کی باتوں کو سپورٹ کرتے ہیں بلکہ گلگت بلتستان کے عوام سختی سے اس قسم کے منفی پروپیگنڈوں کو مسترد کرتے ہیں ہماری  پاکستان سے ایک نظریاتی اور مذہبی الفت ہے لیکن اس الفت کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ دنیا قانون کے مطابق چلتی ہے۔ ایک اور نکتہ جس کی طرف آج تک گلگت بلتستان کی   نئی نسل نے توجہ نہیں دی وہ ہے قیادت کا فقدان،ہمارے خطے کی بدقسمتی یہ ہے کہ ہم جن کو ووٹ دے کر اسمبلی کا راستہ دکھاتے ہیں وہی بعد میں چند مفاد پرستوں کے ہاتھوں یرغمال ہوجاتے ہیں اور سی پیک اور گلگت بلتستان کے باقی حقوق کی جہاں تک بات ہے وہ تو ان لوگوں نے کبھی مانگے  ہی نہیں، اُن کے مطالبات تو بڑی گاڑیاں،غیرملکی دوروں کی خواہش،مشیری اور بلیوپاسپورٹ سے آگے کبھی گئے  ہی نہیں،ایسے میں حقوق کوئی طشتری میں سجانے کر دینے کے لئے آج کے اس دور میں کوئی تیار نہیں۔
المیہ یہ ہے کہ گلگت بلتستان کے طرزی وزراء آج تک عوام سے جھوٹ بول کر مراعات حلال کرتے رہے ہیں یہی سلسلہ سی پیک کے مسئلے پر ہے گلگت بلتستان کے نمائندے آخری وقت تک یہی کہتے رہے کہ نہیں جناب گلگت بلتستان کو بڑا فائدہ ہوگا یہاں پر صنعتی زون بنیں گے اور اس  سے بھی بڑھ کر بدقسمتی اس قوم کی اور کیا ہوسکتی  ہے کہ نام نہاد مقامی پرنٹ میڈیا جو سرکاری خزانے سے ماہوار لاکھوں روپیہ اشتہارات کی مد  میں ہضم کرتی ہیں ان اشتہارات کی وجہ سے پیاز آلو اور شادی کارڈ والے آج بڑی بڑی گاڑیوں میں گھومتے ہیں اور بنگلوز کے مالک ہیں مگر اُنہوں نے صحافتی اقدار کی تھوڑی سی لاج رکھتے ہوئے قوم کو یہ نہیں بتایا کہ گلگت بلتستان کی متنازعہ حیثیت کے سبب دیگر صوبوں کے برابر حقوق ملنا اُس وقت تک ناممکن ہے جب تک گلگت بلتستان کے لئے آئین ساز اسمبلی دے کر یہاں کی اسمبلی سے باقاعدہ ایک فریق کے طور پر قرار داد پاس نہیں کراتے۔
عجب المیہ ہوا گلگت بلتستان کے ساتھ سابق وزیر اعلیٰ کو جب پہلی مرتبہ اقتدار کا موقع ملا تو جو سامنے آیا جیب میں ڈالتے گئے اور موجودہ وزیر اعلیٰ چونکہ اس معاملے میں تھوڑا چالاک لگتے  ہیں  اور اُنہوں نے مشروں اور کوآرڈنیٹروں کا ایک لشکر بنایا ہوا ہے جو اُن کے لئے کام کرتے ہیں نہ صرف مشیر اور کوآرڈنیٹر بلکہ لندن میں ایک کشمیر ی صاحب کو گلگت بلتستان کا  سفیر بھی مقرر کیا اور گلگت بلتستان بلکہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار بغیر الیکشن کے اعزازی وزیر اُن کی  کابینہ میں شامل ہے ،جو یقیناًاُن کی  ہر کرپشن اور بدعنوانی  کے لئے ایک طرح سے طریقے تلاش کرتے ہوں گے۔ ایسے میں کیا عوام اور کیا عوامی حقوق؟ یہ باتیں اخبارات کی حد تک تو ٹھیک ہے لیکن درحقیقت اس وقت گلگت بلتستان میں جنگل کا قانون ہے یہاں بولنے پر پابندی ہے حقوق کی بات کرنا ایک طرح سے جرم ہے جس کے لئے مقامی پرنٹ میڈیا بھی بطور سہولت کار کے استعمال ہوتے ہیں ،
مگر حقیقت یہ ہے کہ اوبر ہو یا سی پیک، گلگت بلتستان کے لئے کچھ بھی نہیں مل رہا،جب سی پیک شروع ہوا تھا تو راقم نے اُس وقت بھی لکھا تھا کہ وفاق گھر والوں سے پوچھے بغیر( کوہل) نکال کر لے جارہے ہیں لیکن حق ملکیت دینا تو دور کی بات روایتی شکریہ ادا کرنے کے لئے بھی تیار نہیں بلکہ مراعات یافتہ طبقہ جو صوبائی طرز کے نظام میں طرزی وزیر اعلیٰ، گورنر،اسپیکر،وزیر وغیر وغیرہ کا نام رکھتے ہیں اُن کے ذریعے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکتے رہے ہیں اور جو اُن کے کرتوت پر بات کرنے کی کوشش کریں سیدھا بھارت کا ایجنٹ قرار دے کر ڈراتے رہے اور یہ روش آج بھی جاری ہے۔ لہذا سی پیک پرز  یادہ کچھ وضاحت کرنے کے بجائے اتنا ہی کہوں گا کہ بلآخر خود وزیر اعلیٰ بھی اقرار کرچُکے ہیں کہ سی پیک میں گلگت بلتستان متنازعہ حیثیت کے سبب وہ فوائد حاصل نہیں کرسکتے جو پاکستان کے  چاروں صوبوں کو حاصل ہے ۔
یہی وجہ ہے کہ اُن کے لوگ تاریخ مسخ کرنے کے لئے کبھی کہیں سے لےلکیر کھنچنے کی کوشش کرتے ہیں تو کبھی کہیں سے ،اُن تمام افراد کے لئے بس اتنا ہی لکھوں گا کہ خدا را کچھ وقت کی نوکری کے لئے کم از کم اپنا ضمیر مت بیچو کیونکہ حفیظ الرحمن کی حکومت اس وقت ہوا کے جھونکے پر کھڑی ہے پاکستان کا سیاسی ماحول اس وقت نون لیگ کے لئے اُن کی پالیسیوں کی وجہ سے نازک صورت حال سے گزر رہا ہے لہذا عوام کے درمیان دوبارہ جانے کے لئے کچھ لاج رکھیں ۔ آج بدقسمتی سے گلگت بلتستان کی متنازعہ حیثیت کی وجہ سے یہاں صنعتی زون بنانے کے لئے وفاق تیار نہیں لیکن اُسی منتازعہ خطے میں ہر قسم کے ٹیکس نافذ کیا   جارہا ہے اور گلگت بلتستان کے عوامی نمائندوں کی جرات نہیں کہ آئین پاکستان اور سپریم کورٹ کے فیصلوں کی بنیاد پر گلگت بلتستان کی حیثیت کو واضح کرنے کا مطالبہ کریں اور اس خطے پر جبری ٹیکس مسلط کرنے سے روکیں۔ بس اس بات کا دکھ ہے کہ گلگت بلتستان میں قیادت کے نام پر مفاد پرستوں نے لوٹ مچائی  ہوئی  ہے اور اُنہیں عوام اور قوم  کے  مستقبل سے کوئی سروکار نہیں۔

شیر علی انجم
شیر علی انجم
شیرعلی انجم کا تعلق گلگت بلتستان کے بلتستان ریجن سے ہے اور گلگت بلتستان کے سیاسی،سماجی اور معاشرتی مسائل کے حوالے سے ایک زود نویس لکھاری ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *