زندگی کا دھارا کبھی رکتا نہیں۔۔اسلم اعوان

طویل عرصہ بعد جے یو آئی جیسی ملک گیر جماعت نے جنوبی وزیرستان کے دل مکین میں بڑے عوامی اجتماع کے ذریعے جنگ زدہ خطہ میں سیاسی سرگرمیوں کی ابتداءکرکے سب کو حیران کر دیا،امید ہے یہ گداز سرگرمی مقامی آبادی کی تیزی سے سمٹتی ہوئی سوچوںکو قومی دھارے سے منسلک کرنے کا وسیلہ بنے گی،مولانا فضل الرحمن کے جلسہ کا پیغام یہ تھا کہ نہایت سرعت کے ساتھ نسل پرستی اور لسانی تعصبات کی طرف بڑھتی قبائلیوں کی نوجوان نسل کو پھر سے اپنی مذہبی اساس سے جوڑا جائے۔ اگرچہ مولانا صاحب کے مقاصد ارفع اور تمنائیں نیک تھیں لیکن شاید اب بہت دیر ہو چکی،حالات کے جبر نے قبائل کی مصیبت زدہ نسلوں کو اپنی روایتی زندگی سے اتنا دورکر دیا کہ اب وہ آزادی کے مشتاق نہیں رہے بلکہ شدت کے ساتھ تحفظ،سماجی نظم و ضبط اورغیر مشروط امن کے خواہشمند ہیں۔افغانستان میں لڑی جانے والی تاریخ کی طویل ترین جنگ نے جس طرح پورے ملک کے سیاسی،سماجی اور معاشی تمدن کو متاثر کیا اِسی طرح اِس مہیب جنگ کی پیچیدہ حرکیات نے ان قبائلی معاشروں کے ثقافتی رجحانات اور معاشی مفادات کو بھی تبدیل کردیا جو صدیوں سے ایک گنبد بے در میں مقید رہ کے ہر آن بدلتے زمانے کے تقاضوں سے بے خبر رہا کرتے تھے،انگریزوں کے بنائے ہوئے ایف سی آر قوانین اور پولٹیکل ایڈمنسٹریٹو سسٹم کے تحت ریگولیٹ کرکے کم و بیش ڈیڑھ سو سال تک ریاست نے قبائلیت کو دوام دےکر انہیں فروغ پذیر انسانیت کے اجتماعی دھارے سے جدا رکھا۔

ہر چند کہ اس جمودپرور معاشرہ میں زندگی کی تفہیم کے پیمانے آج بھی سلبی ہیں تاہم یہ لوگ سماجی حیثیت میں خود کو”آزاد“قبائل اور نسلی طور پہ افغانستان سے وابستہ رکھنے میں فخر محسوس کرتے ہیں، افغانستان ماضی کی طرح آج بھی انکی اسی نفسیاتی کمزروری کوایکسپلائیٹ کرکے پاکستان کے لئے مسائل پیدا کرنے سے گریز نہیں کرتا۔چنانچہ اسی پس منظر میں متعین ریاستی پالیسی کے تحت مغربی سرحد کے دونوں اطراف محو خرام رہنے والے ان قبائل کو سنبھالنے کی خاطر پہلے جنرل ایوب خان کے دور میں یہاں انجینئرنگ و میڈیکل کالجز اور سی ایس ایس میں ان کا کوٹہ مقرر کراکے قبائلی سماج کو قومی ترقی کے ہموار دھارے سے ہم آہنگ کرنے کی موہوم سی کوشش ہوئی تاہم سقوط بنگال کے بعد 1970کی دہائی میں ذولفقارعلی بھٹو کے عہد میں یہاں نہ صرف رزمک کیڈٹ کالج جیسے بہترین تعلیمی ادارے اور سراروغہ لیدر فیکٹری بنی بلکہ قبائیلیوں کو پاکستانی پاسپورٹ دیکر جب گلف کی ابھرتی ہوئی معشتوں میں کھپایاگیا تو صدیوں کے افلاس زدہ اس خطہ میں مادی خوشحالی در آئی،اسی زمانہ میں ملک کے بندوبستی علاقوں میں قبائلیوں کوجائیداد کی خرید و فروخت کی اجازت اور تجارت کرنے کے مواقع دیکر پاکستان میں ان کے معاشی مفادات تخلیق کئے گئے تاکہ مملکت کے ساتھ انکی وابستگی استوار ہو سکے لیکن ان ساری عنایات کے باوجود یہاں کے عام لوگ ذولفقار علی بھٹو کو مذہب کا سب سے بڑا مخالف اور نفسیاتی طور پہ خود کو پاکستان سے الگ آزاد معاشرہ تصور کرنے میں لذت محسوس کرتے رہے۔

tripako tours pakistan

ہرچند کہ جنوبی ایشیا میں ابھرنے والی طویل جنگووں کے باوجود یہاں کی انتظامی اتھارٹی نے اپنی بہترین حکمت عملی سے 1979 میں روسی مداخلت کے خلاف افغانوں کی مزاحمتی جدوجہد سے قبائلیوں کو الگ رکھا،روسی افواج کے انخلاءکے بعد وہاں بھڑک اٹھنے والی خانہ جنگی اور1995کی طالبانی لہر سے بھی یہ خطہ لاتعلق رہا لیکن بدقسمتی سے نائن الیون کے بعد افغانستان پہ امریکی جارحیت کے نتیجہ میں بکھرنے والے عسکری گروہوں کو پہلی بار قبائلی سماج میں سرایت کرنے کا موقعہ ملا تو نوجوانوں کی بڑی تعداد نہ چاہتے ہوئے بھی اس جدلیات کا حصہ بن گئی جس کے نتیجہ میں یہ خطہ عمیق بدامنی اور تشدد کی لپیٹ میں آ گیا۔اسی سرگرانی کی بدولت پولیٹیکل ایجنٹ کی انتظامی اتھارٹی کمزور ہوئی تو یہاں کے فطری نظم و ضبط میں انحراف بڑھنے لگا جسے عالمی طاقتوں کی ایما پہ قانون تشدد کی مدد سے کم کرنے کی راہ اپنا کے سماجی تضادات کو مزید گہرا کر دیا گیا۔تقریباً پندرہ سو کلومیٹر طویل سرحدی پٹی کے دشوار گزار پہاڑی سلسلوں میں پھیلے عسکریت پسند گروہوںکو کچلنے کے لئے 16 مارچ 2003 کو پہلی بار فاٹا کی ساتوں ایجنسیوں میں فوجی آپریشن لانچ کئے گئے۔

ابتداءمیں جنوبی وزیرستان کے ہیڈکوارٹر وانا میں مولوی نیک محمد وزیر کے جیش القباءگروپ نے طاہریلدش،ابومصف بلوشی،خالدشیخ اور حمزہ ربیعہ جیسے عرب،ازبک اور چیچن جنگجوؤں کے ساتھ ملکر امریکہ اور اس کی اتحادی فورسیز کے خلاف شدیدترین مزاحمت کی آگ بھڑکائی جس کے بعد اپریل 2004 میں گورنمنٹ کو مولوی نیک محمد کے ساتھ شکئی معاہدہ کرنا پڑا جس میں عسکری گروپوں نے پاکستانی فورسیسز پہ حملے نہ کرنے کی ضمانت دی لیکن یہ معاہدہ زیادہ دیر تک قائم نہ رہ سکا۔نیک محمد کو اگرچہ امریکہ نے جون2004 میں ڈرون حملہ میں ہلاک کر دیا تھا لیکن اس وقت تک ان کے افکار و نظریات پورے وزیرستان میں پھیل چکے تھے،بعد میںمولوی نذیر گروپ ان کا جانشین بنا جن کے غیر ملکی جنگجووں کے ساتھ تنازعات پیدا ہوئے تو یک بعد دیگرے بیت اللہ محسود،حکیم اللہ محسود،شہریار اور سجنامحسود گروپوں نے غیرملکی مزاحمت کاروں کو محسود ایریا میں پناہ دیکر اس کشمکش کو پورے ریجن میں پھیلا دیا،یہی عسکری گروہ رفتہ رفتہ قبائلی سماج کو ڈھال بنا کے ریاستی فورسیسز پہ حملے بڑھاتے گئے،اسی جدلیات نے ان درجنوں مقتدر قبائلی سرداروں کو نگل لیا جن کی زبان پہ کبھی تقدیر بولتی تھی،ایک طرف فوجی آپرشنز کی وجہ سے پولیٹیکل سسٹم کی انتظامی اتھارٹی تحلیل ہوئی اور دوسری جانب معاشرتی نظم و ضبط کی علامت قبائلی سرداروں کی عسکریت پسندوں کے ہاتھوں ہلاکت نے یہاں کے روایتی سماجی نظام کو اندر سے توڑ ڈالہ،جس سے قبائلی معاشرہ بیک وقت روایات کے بندھن اور قانونی تحفظ سے محروم ہوکے پوری طرح عسکریت پسندوں کی گرفت میں پھنس گیا۔

چنانچہ 19جون2009 میں فوج نے آپریشن راہ نجات شروع کرنے سے قبل لدھا،مکین،سروکئی،تیارزہ اور سراروغہ تحاصیل میں سے مقامی لوگوں کو نکالا تو کم و بیش 44 ہزار خاندان نقل مکانی کرکے ڈیرہ اسماعیل خان آ پہنچے۔یہی وہ مرحلہ تھا جب صدیوں پہ محیط ایف سی آر کا نظام اور قبائلیت کا نفسیاتی سحر ٹوٹا گیا اور یوں لاکھوں قبائلیوں کو زندگی کے جدید پہلووںکو دیکھنے کے مواقع ملے،بلاشبہ تشدد کی لہریں اور نقل مکانی کی کلفتیں نہایت اذیتناک تھیں جنہوں نے کئی معصوم لوگوں کی جان لے لی لیکن خود محسود اہل الرائے کہتے ہیں،اسی فوجی آپریشن اور نقل مکانی کے بعد اس خطہ کے لوگوں کا معیار زندگی قدرے بلند اور سماجی شعور میں بہتری آئی،نقل مکانی کرکے شہروں میں آنے والوں کو بنیادی سہولیات سے آشنائی اورروزگار کے نت نئے مواقع ملے،پہلے گھر کا ایک فرد کماتا،چھ کھانے والے ہوتے،اب ہر فرد کو روزگار پیدا کرنے کی ترغیب اور سہولت مل گئی۔تخریب و تعمیر کے اسی عمل سے جہاں اس خطہ میں عالمی معیار کی سڑکوں،ہسپتالوں،سکولز،کیڈٹ کالجز،آبنوشی اور آبپاشی کی سکیموں،موبائل فون سروسیسز،گھرکی تعمیر کے لئے نقد امداد اور دور افتادہ علاقوں تک بجلی کی ترسیل کے ذریعے ترقیاتی عمل کو مہمیزملی وہاں اسی تغیر کی بدولت یہاں پر بسنے والے نوجوانوں کے سوچنے اور بولنے کے انداز بھی بدل گئے،آزمائش کی انہی گھڑیوں میں قبائلی نوجوانوں نے ایف سی آر جیسے کالے قوانین کے خلاف منظم مہم چلا کے بنیادی انسانی حقوق حاصل کرنے کے علاوہ قبائلی ایجنسیوں کو خیبر پختون خوا میں ضم کرانے کا ہدف حاصل کیا،پہلے انہیں خیبر پختون خوا اسمبلی میں بارہ نشستیں ملیں،اب اگلے انتخابات تک انکی صوبائی نشستیں چوبیس تک بڑھ جائیں گی۔۔

Advertisements
merkit.pk

لیکن سوال یہ ہے کہ اس ساری مشق ناز کے باوجود یہاں کی نوخیز نسلوں کے دل و دماغ کا اضطراب ختم کیوں نہیں ہوتا؟۔اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ قبائیلی سماج کی مذہب سے وابستگی محض نظریاتی تھی اور وہ اپنی عملی زندگی میں ہمیشہ ان منجمد روایات کا سہارا لیتے رہے جو انہیں لامحدود سماجی آزادیوں کی ضمانت دیتی تھیں،اس لئے وہ محبت اور لڑائی جھگڑوں کے ذریعے اپنے روزمرہ کو دلچسپ بنا لیتے تھے لیکن نائن الیون کے بعدمذہبی عسکریت پسندوں نے بندوق کے زور پہ جب انہیں مذہبی اطاعت پہ مجبور کیا تو قبائل کو ان سماجی آزادیوں سے ہاتھ دھونا پڑے جنہیں وہ سرمایا حیات تصور کرتے تھے،چنانچہ معاشرتی آزادیوں کے چھن جانے کے دکھ نے قبائلیوں کی نوجوان نسل کو مذہبی سیاست سے برگشتہ کرکے سیکولر قوم پرستی کے اُن پُرفریب نعروں میں پناہ لینے کی راہ دیکھائی جس کی گونج میں مرکزگریز تنظمیں مقبول ہو رہی ہیں۔یہی وہ اڑچن تھی جس نے ارباب حل و عقد کو مجبور کیا کہ وہ ضم شدہ اضلاع میں سیاسی سرگرمیوں کی راہ کھول کے ملک گیرجماعتوں کو یہاں کام کرنے کا موقعہ دیں تاکہ ایف سی آر کی جبریت اور قبائلیت کی تاریکیوں سے ٹٹول ٹٹول کے نکلنے والے معاشرے کو زندگی کے روشن امکانات سے متعارف کراکے بے چینی و اضطراب کی کیفیت سے نکالا جائے۔جس طرح مولانا فضل الرحمن نے مکین میں جلسہ منعقد کرکے سیاسی عمل شروع کیا،اسی طرح پی ٹی آئی سمیت نواز لیگ اور پیپلزپارٹی جیسی ملک گیر جماعتوں کوبھی یہاں سیاسی سرگرمیوں کے ذریعے خوف اور بے یقینی کے آشوب میں گھیرے قبائلی بھائیوں کوہمدردی اور اپنائیت کا پیغام دے سکتے ہیں۔

  • merkit.pk
  • merkit.pk

Aslam Awan
اس وقت یبوروچیف دنیا نیوز ہوں قبل ازیں پندرہ سال تک مشرق کا بیوروچیف اور آرٹیکل رائٹر رہاں ہوں،سترہ سال سے تکبیر میں مستقل رپوٹ لکھتا ہوں اور07 اکتوبر 2001 سے بالعموم اور 16مارچ 2003 سے بالخصوص جنگ دہشتگردی کو براہ راست کور کر رہاں ہوں،تہذیب و ثقافت اور تاریخ و فلسفہ دلچسپی کے موضوعات ہیں،

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply