جو چلے تو جاں سے گزر گئے(قسط9)۔۔محمد اقبال دیوان

تعارف:زیرِ  مطالعہ کہانی دیوان صاحب کی پہلی کتاب ”جسے رات لے اڑی ہوا“(چوتھا ایڈیشن زیر گردش) میں شامل ہے۔اسے پڑھ کر رات گئے ایک افسر عالی مقام کا فون یہ معلوم کرنے کے لیے آیا کہ مصنف کو یہ حقائق جو ہر چند ایک قصے کی صورت میں بیان ہوئے ہیں، کہاں سے دستیاب ہوئے۔ ؟کیا یہ ان کے ادارے کے کسی افسر نے بتائے۔ہمارے دیوان صاحب کا جواب تھا کہ دنیا بھر کی مرغیاں کتنی کوشش بھی کرلیں ایک ماہر شیف سے اچھا آملیٹ نہیں بناسکتیں۔ہمیں آپ شیف کا درجہ دیں اور اپنے افسروں کو مرغیاں مان لیں۔ان کی پیشکش تھی کہ دیوان صاحب سے ملاقات ہوگی  ، اور آئندہ کے کچھ پروگرام بنیں گے۔ افسر عالی مقام حالات کی گردش کی وجہ سے اپنے عہدے پر برقرار نہ رہ پائے اور

ع ،ان کہی ہی رہ گئی وہ بات سب باتوں کے بعد

tripako tours pakistan

والا حساب رہا

ادارہ ”مکالمہ“ چودہ اقساط کی اس طویل کہانی کو شائع کررہا ہے اور ممکن ہوا تو اسے ویب سیریز کی صورت میں ڈھالے گا۔کوشش جاری ہے۔

چیف ایڈیٹر :انعام رانا

آٹھویں قسط کا آخری حصہ
عمان میں بھیجے جانے کے لئے بلوچستان کے ایک مقامی ایجنٹ کی خدمات لی گئیں اور اسے اس نے شناختی کارڈ پاسپورٹ وغیرہ ایک کثیر معاوضے کے عوض کوئیٹہ سے بنوادیا۔ اس کے ساتھ جانے والوں میں کچھ تو مقامی مزدور تھے اور کچھ افغانی جنہیں اسی کی طرح جعلی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ اسی ایجنٹ نے بنوا کر دیا تھا۔۔ عمان کے ویزہ وغیرہ میں جان بوجھ کر ایسی خرابی رکھی گئی،کہ کچھ دن بعد جب اسکے کیمپ پرعمان کی پولیس نے چھاپا مارا تو غیر قانونی داخلے کے الزام میں دیگر افراد کے ساتھ اسے بھی پکڑ کر ڈی پورٹ کردیا گیا۔ واپسی پر اسے ایف۔ائی۔اے نے گرفتار کرکے دو دن اپنی تحویل میں بھی رکھا اور ایک مجسٹریٹ کی عدالت سے اس پر جرمانہ بھی کیا، جسے جرمانے کے برابر رقم رشوت کے طور پر بھی ادا کی گئی۔ جو وہاں موجود کسی انہیں کے کسی نامعلوم فردنے ادا کیا اور وہ رہا ہوگیا۔ اب ہر جگہ اس کا ریکارڈ بن چکا تھا۔ لہذا اس کو اس بات کا کوئی خوف نہیں رہا کہ کوئی یہ ثابت کرسکے کہ وہ پاکستانی نہیں
نویں قسط
واپسی پر اس نو تشکیل شدہ جمیل احمد کے روپ میں ڈھالے را کے ایجنٹ سکھبیر پانڈے کا ٹھکانہ فیصل آباد کو بنایا گیا۔ ان کا ایک Sleeper ایجنٹ(وہ ایجنٹ جو پہلے ہی سے موجود ہو مگر جس سے کام نہ لیا جاتا ہو) پہلے ہی ابرار احمد کے ہاں اکاؤنٹ سیکشن میں کام کرتا تھا۔
فیصل آباد میں اسے ان کے اسی ایجنٹ نے اسے ابرار احمد کی مل میں ملازمت دلوادی۔یہ چھوٹی سی ایک مل تھی۔ مالک ابرار کی تین بیٹیاں تھیں۔ سکھبیر پانڈے عرف جمیل احمد کو یہ حکم تھا کہ ان تھک محنت اور وفاداری اور ایمانداری سے اس نے ابرار احمد کے نہ صرف دل میں جگہ بنانی ہے بلکہ جتنی جلد ممکن ہو کوئی ایسا کام کرنا ہے کہ اس کی بڑی بیٹی سمیعہ اس پر عاشق ہو جائے اور وہ اس سے شادی کرکے اپنا گھر آباد کرلے۔

اس کام میں ان کا اکاؤنٹ سیکشن میں ملازم ایجنٹ برابر کا مدد گار ہوگا مگر کوشش یہ ہونی چاہیے کہ ان دونوں کے تعلقات پر کسی کو بھی ذرا سا شک نہ ہو۔ اس Agent -provocateur (ایسا ایجنٹ جو اکسانے والے فسادی حالات پیدا کرے) کا کام یہ ہوگا کہ وہ مسلسل ایسے حالات اور مواقع پیدا کرے جو جمیل احمد کو ابرار احمد کے نزدیک سے نزدیک لائیں۔ جمیل کا کام اتنا ہوگا کہ وہ اپنی دین داری، مالک سے وفاداری اور ان تھک محنت سے دل میں جگہ بنا کر اس کے گھر کے ممبر کے طور پر اپنی جگہ بنالے۔ اس دوران اگر اسے کچھ ایسے کام بھی کرنے پڑیں جو اس کی ڈیوٹی سے ہٹ کر ہوں تو وہ اس میں کسی کوتاہی کا مظاہرہ نہ کرے۔ مل میں معمولی سا مسئلہ ہو یا کوئی بڑی خرابی جمیل احمد ہر جگہ اسی اکاؤنٹنٹ کی مدد اور سفارش پر پیش پیش ہوتا۔ابرار احمد جلد ہی اسکی وفاداری کے قائل ہوگئے۔ وہ بھی اپنی ابتدائی زندگی میں اسی طرح سے میمن سیٹھوں کی زندگی میں داخل ہوئے تھے۔ انہیں لگتا کہ وفاداری کا پیکر جمیل احمد ان کی جوانی کا عکس ہے۔

ابرار احمد کی بیوی رشتے میں نبیل ہارون کی والدہ کی کزن تھی۔ابرار جن دنوں کراچی میں ہوتا تھا اس کی ملازمت ایک میمن سیٹھ کے ہاں تھی اور اس کی ذہانت اور شخصیت سے متاثر ہوکر سیٹھ نے اپنی ایک رشتہ دار کی بیٹی سے اس کی شادی کرادی۔ اولاد، مرد کے،دولت،عورت کے نصیب سے آتی ہے۔ ابرار جلد ہی اپنی خداداد صلاحیت سے مالدار ہوگیا اور تین بیٹیوں کا باپ بھی بن گیا۔
چند دن بعد جب ابرار احمد کا ڈرائیور کسی ایمرجنسی کی وجہ سے اپنے گاؤں چلا گیا تو اسی ایجنٹ کی سفارش پر ابرار احمد نے اسے اپنے گھر کے ڈرائیور کے فرائض سونپ دیے۔سکھبیرجو دیکھنے میں ہینڈ سم تھا۔ انگریزی بھی روانی سے بولتا تھا اپنی ایک گھڑی ہوئی کہانی  ان میں چلا دی۔ جو اس بات کا اعادہ کرتی تھی کہ اس کا تعلق ایک دیندار مالدار گھرانے سے تھا۔ مگر مشرقی پاکستان میں ان پر بڑے مظالم ہوئے اور وہ وہاں سے مہاجر بن کر لٹے پٹے یہاں لاہور آگئے اور زندگی گزارنے کے لئے اسے اپنی تعلیم نامکمل چھوڑ کر یہ ملازمت کرنی پڑگئی۔ اس کا دنیا میں کوئی نہیں اور وہ ابرار احمد کو اپنے باپ کی جگہ پر سمجھتا ہے۔ اس کہانی کا ابرار احمد کی بیوی پر بڑا گہرا اثر ہوا۔

اس کی شخصیت اور خاندان سے لگاؤ کے  باعث جلد ہی اسے یہ موقع مل گیا کہ وہ سمعیہ کے قریب آگیا اور جب ان کا عشق کچھ دم پکڑگیا تو سمعیہ نے اپنی ماں کو قائل کرلیا کہ اس سے نیک اور عمدہ گھر داماد جس کی شرافت، نیک نامی اوروفا داری اتنی مسلّم ہو ،کوئی اور نہیں مل سکتا۔ ماں نے کسی طور پر ابرار احمد کو اس کا اپنا زمانہ یاد دلایا کہ کس طرح وہ بھی ایک غریب اور شریف نوجوان تھا اور اس کے والدین نے اس پر بھروسہ کرکے اس کی شادی کردی اور اللہ نے کیسا ان کا ہاتھ پکڑا۔ اچھے رشتے کتنے کم یاب ہیں اور وہ یہ موقع اپنے ہاتھ سے نہ جانے دے۔یوں جمیل احمد کی شادی سمعیہ سے ہوگئی۔

سکھبیر بانڈے کو اب بھی بمبئی یاد آتا تھا۔ فیصل آباد ویسا نہ تھا۔ اس کے خفیہ ادارے والے کرم فرما اسے لگا وہاں لانچ کرکے   بھول گئے ہیں۔ جب حالات کچھ ساز گار ہوں گے تو وہ خاموشی سے سمعیہ کو سوتا چھوڑ کر ایک دن اسی طرح لانچ سے بمبئی چلا جائے گا، جیسے وہ وہاں سے آیا تھا۔ اسے یہ سب طریقہ اب اچھی طرح آگیا تھا۔ اب وہاں حکومت بھی تبدیل ہوگئی تھی اور مخالف جماعت اب وہاں برسر ِ اقتدار تھی جس میں اس کا ایک قریبی عزیز وزیر بن گیا تھا۔ شادی کے دو سال بعد اس کے ہاں یعنی جمیل احمد کے ہاں اولاد ہوئی تو   اسکے     ایجنٹوں نے دوبارہ اس سے  رابطہ کیا ۔ جمیل احمد جو اپنی موجودہ زندگی سے بہت مطمئن ہو چلا تھا ا س نے ذرا پس و پیش کی تو یہ جتلایا دیا گیا کہ یا تو اس کی شناخت ظاہر کرکے اسے یہاں پاکستانی ایجنسیوں کے حوالے کردیا جائے گا اور وہ جان لے کہ وہ جاسوسوں کا کیا حشر کرتے ہیں یا کانتا کے والد کے ذریعے اس کی واپسی کا مطالبہ کیا جائے گا۔

جمیل احمد کے پاس اب ان کی بات ماننے کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا۔ اب وہ جابجا تخریبی کاروائیوں میں حصہ لیتا اور ان کے بتائے ہوئے منصوبوں کے تحت ایجنٹوں کی بھرتی کرتا۔ سمعیہ کو اکثر حیرت ہوتی کہ جمیل احمد کئی کئی دن کہاں غائب رہنے لگا تھا۔ واپسی پر اسکے لئے وہ البتہ بہت سے تحائف لاتا اور اس کی ایک ہی کہانی ہوتی کہ یا تو وہ تبلیغی چلےّ پر گیا تھا یا کاروبار کے سلسلے میں وہ کسی دوسرے شہر گیا تھا۔ وہ ایک سادہ لوح لڑکی تھی۔ایک کے بعد ایک تین بچوں کی پیدائش نے اس  کے ذہن میں کوئی ایسا منفی خیال نہ آنے دیا۔ عورتوں کے معاملے میں جمیل احمد کا ریکارڈ بہت صاف تھا۔
شادی کے بعد وہ ایک قریبی محلے میں ہی علیحدہ گھر لے کر رہنے لگے تھے۔۔صرف ایک بات سے وہ پریشان ہوتی کہ جمیل احمد کے سامان میں ہروقت پستول اور گولیاں کیوں
ہوتی ہیں۔ بعض دفعہ وہ جو تھیلے لاتا ہے وہ سیدھا گیرج کے ساتھ والے کمرے میں لاکر کیوں چپ چاپ رکھ دیتا ہے اور اس کمرے کو تالہ لگا کر چابیاں بھی اپنے پاس ہی رکھتا ہے کسی ملازم کو اس کمرے کو کھولنے اور اس کے سامان کو ہاتھ لگانے کی اجازت کیوں نہیں۔ بعض دفعہ وہ کھڑکی سے دیکھتی تو اسے عجیب سی  ڈاڑھی والے افراد دکھائی دیتے، جو اس کے شوہر سے وقت بے وقت ملنے آجاتے اور کئی دفعہ اپنی گاڑیوں میں وہ سامان رکھ کر چلے جاتے۔اس نے کبھی یہ غور کرنے کی زحمت نہ کی کہ اس طرح کے دوروں کے بعد کہیں نہ کہیں تخریب کاری کی لرزہ خیز واردات کیوں ہوتی تھی۔

ایک رات جب اس نے جمیل احمد کو بہت کریدا تو اس نے صرف اتنا بتایا کہ وہ جہادی لوگوں کے قریب ہے اور یہ افغانستان میں دین کی بڑی خدمت میں مصروف ہیں۔کئی دفعہ وہ بھی ان کی مدد کے لئے صوبہ سرحد کے اور کراچی کے دورے کرتا ہے۔ اس کا معصوم ذہن اس طرف بھی کبھی نہ جاتا کہ جمیل احمدخود جو اتنا دین دار ہے نہ تو گھر پر کبھی نماز پڑھتا ہے، نہ کبھی قرآن کی تلاوت کرتا ہے۔روزے بھی نہیں رکھتا اور اکثر گھر پر شراب بھی پی لیتا ہے۔جب وہ اس سے نماز روزے کی ضد کرتی تو وہ فارسی کا ایک شعر سناکر لاجواب کردیا کرتا کہ ع
نمازِزاہداں، سجدہ سجود
نمازِ عاشقاں، ترکِ وجود
(زاہدوں کی نماز تو صرف سجدہ سجود کی حد تک محدود ہے اور اللہ کے عاشقوں کی نماز تواس کی راہ میں خود کو مٹادینے کا نام ہے)

اس کا اطمینان ابھی ابتدائی مراحل میں ہوتا تو وہ اسے اپنی بانہوں میں سمیٹ کر کہتا کہ ہماری جنت تو تم ہو، ہم تو وہاں تمہاری وجہ سے جائیں گے۔تمہیں کیا پتہ کہ ہم اسلام کی کتنی بڑی خدمت میں مصروف ہیں۔ پیار کی اس وارفتگی پر سمعیہ کے تمام اعتراضات ختم ہوجاتے۔چونکہ ا سے سختی سے ہدایت تھی ،اس لئے وہ اپنے میکے میں اس کی  کسی کاروائی یا غائب ہونے کا ذکر نہ کرتی ،کبھی اس کے والد یا والدہ بھولے سے یہ تذکرہ چھیڑبھی دیتے تو وہ یا تو موضوع بدل لیتی تھی یا تبلیغی چلّوں کا ذکر کرکے انہیں خاموش کردیتی تھی۔

cambridge university spies working for Russia
mata hari famous mole

بیٹی کی طمانیت اور میاں سے پیار دیکھ کر والدین اپنا ہر سوال بھول جاتے۔انہیں اس بات کا بھی بخوبی علم تھا کہ جمیل احمد اسے کسی بات سے تنگ نہیں کرتا۔اسکے والدین کی عزت بھی بہت کرتا ہے اور اس کی بہن ربیعہ کے لئے ایک عمدہ افغان لڑکے کے رشتے کے لئے بھی سرگرداں ہے۔

ایک دن جب اس کی سالی ربیعہ ان کے گھر پر آئی ہوئی تھی اس نے اس افغان لڑکے کو بھی دید شنید کے لئے بلوالیا، سمعیہ کو اس نے بتایا کہ اسلام میں لڑکی کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ شادی سے پہلے اپنے ہونے والے شوہر کے بارے میں اطمینان کرلے۔

ربیعہ نے جب اس کے گھر پر اس فارسی بولنے والے لڑکے تبریز خان کو، جو ہمیشہ نظریں نیچی کرکے بات کرتا تھا،دیکھا،تو پہلی ہی نظر میں اپنا دل اسے دے بیٹھی۔جمیل احمد نے اسے  بتایا کہ وہ اس کے ایک جہادی ساتھی کا بھانجا ہے جن کا چار سدہ میں ٹرانسپورٹ کا بڑا کاروبار ہے۔ربیعہ کے امتحانات کی وجہ سے یہ شادی کا معاملہ ذرا ٹھنڈا پڑا ہوا تھا، گو اس کے والدین نے اس کی زبانی لڑکے کی تعریف سن کر دل ہی دل میں اس کے حسن ِ انتخاب سے اتفاق کرلیا تھا۔

تبریز خان کا اصرار تھا کہ شادی جلد از جلد ہو اورانتہائی سادگی سے ہو اسکے زیادہ تر عزیز افغانستان کے اس طرف آذر بائیجان میں ہیں۔ جمیل کی وجہ سے رشتوں میں تحقیق اور جانچ پھٹک کا جو اہتمام ہوتا ہے اسے بالائے طاق رکھ دیا گیا۔ جیسے ہی ربیعہ کا بی۔اے کا آخری پرچہ ختم ہواء شام کو بارات آگئی۔ دونوں طرٖف سے چند قریبی لوگ شریک ہوئے۔ بارات میں تبریز خان کے  چند قریبی عزیز اور زیادہ تر جہادی مولوی شریک ہوئے جس کی وضاحت یہ دی گئی کہ ان کے ہاں خاندان سے باہر شادی کو معیوب سمجھا جاتا ہے۔جیسے جیسے حالات ٹھیک ہوں گے سب نارمل ہوجائے گا۔ صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے۔

deported from spies
deported from spies
kim philby
mole
moles work
famous mole

ملک میں جابجا دھماکے ہوتے تھے۔تخریب کاری کی وارداتوں میں، اسلحہ کی فراہمی میں اس کے نیٹ ورک کا بڑا ہاتھ تھا۔ ان دنوں چونکہ پاکستان امریکی مدد سے اٖفغانستان میں مجاہدین کا بڑا مددگار تھا اور وہ سب روسی افواج سے وہاں برسرِپیکار تھے، لہذا ان تخریبی کاروائیوں کا زیادہ تر الزام افغانستان کی خفیہ ایجنسی خاداور روسی خفیہ ایجنسی کے۔جی۔بی پر جاتا تھا۔ شاید یہ سوچ عام نہ تھی کہ پاکستان کی جڑیں کمزور کرنے کے لئے ہندوستان کی خفیہ ایجنسی را نے ایک دور رس منصوبے پر عمل کا سوچا ہے  اور وہ اس پر تیزی سے عمل پیرا ہے۔ وہ پاکستان کے دو صوبوں بلوچستان اور سندھ میں اپنا جال تیزی سے پھیلا رہے تھے۔انکے ایجنٹ اب ہر سیاسی جماعت میں تیزی سے داخل ہورہے تھے۔

یہ ایجنٹس انگریزی کی مشہور اصطلاحPush and Pull Factor (یعنی دھکیلو اور کھینچو) کے طور پر کام کررہے تھے۔ یہ لسانی فسادات پھیلانے کے ماہر تھے، ان دنوں کراچی اور سندھ کے دیگر علاقے ہمہ وقت لسانی فسادات کی زد میں تھے۔ چُن کر یہ  ایسی کاروائیاں کرتے کہ اس کا شبہ ایک لسانی گروپ کو دوسرے لسانی گروپ پر ہوتا تھا۔ ان کا  ارادہ یہ تھا کہ کراچی جو پاکستان کی ایک معاشی شہ رگ کا درجہ رکھتا ہے اسے مفلوج کرکے رکھ دیا جائے۔ ان فسادات کی وجہ سے یہاں غیر ملکی سرمایہ کاری بالکل ختم ہوگئی اور وہ سرمایہ جو پاکستان میں آنا چاہیے تھا وہ دوبئی اور دیگر خلیجی ریاستوں میں جانے لگا اور کراچی ائیر پورٹ سے زیادہ تر غیر ملکی فضائی کمپنیوں نے اپنا آپریشن بھی دوبئی منتقل کردیا۔ بلوچستان میں البتہ ان کے منصوبے دیر پا اور زیر زمین تھے اور یہ آہستہ آہستہ اس کے اوپر عمل درآمد کرنے لگے۔

جمیل احمد کی شادی کوپانچ برس پورے ہوئے اور ربیعہ کی شادی بھی اس افغان لڑکے سے ہوگئی۔اس دوران سمعیہ تین بچوں کی ماں بن چکی تھی۔

تیسری بیٹی کی  پیدائش پر جمیل احمد نے بہت ہنگامہ کیا، اسے بیٹے کی خواہش تھی ،کسی کو شک نہ ہوا  کہ یہ بھی جمیل احمد کے اسکرپٹ کا حصہ ہے کہ اس کی ازدواجی زندگی بے حد نارمل اور ان ہی شکوہ شکایت سے لیس لگے جو عام جوڑوں کی زندگی میں سننے کو ملتے ہیں۔ ایک دن ایک عجب بات یہ ہوئی کہ ابرار احمد انتہائی مشکوک حالات میں مردہ پائے گئے۔ جمیل لنچ کرنے کے لئے گھر ہی پر تھا کہ ان کے دفتر سے فون آیا کہ کسی نے سمعیہ کے والد ابرار احمد کو فیکٹری میں ان کے دفتر میں گولی ماردی ہے۔ گولی کھڑکی سے ماری تھی اور کسی نے کوئی آواز بھی نہ سنی۔ وہ کمرے میں تنہا تھے اور اکاؤنٹنٹ ساتھ کے کمرے  میں بیٹھا تھا ۔وہ کچھ دیر کے لئے کمرے سے باہر گیا اوریہ سب کچھ ہوگیا۔ فیکٹری کا کوئی ملازم جب اندر گیا تو اس نے دیکھا کہ ابرار احمد اپنی میز پر گرے ہوئے ہیں۔ سر سے خون نکل کر ان کے کپڑوں پر گر رہا تھا۔ چونکہ اکاؤنٹنٹ کی موجودگی کے دفتر میں سب گواہ تھے لہذا کسی کو اس پر شک نہ ہوا ،یہ الگ بات ہے کہ وہ چند دن بعد ہی نوکری چھوڑ کر وہاں سے چلا گیا۔اب کاروبار کا تنہا مالک جمیل احمد تھا۔سکھبیر پانڈے کو شک ہوا کہ اسکی ایجنسی کے افراد نے الماتا، باکو یا دوشنبے میں اس کی جگہ اس اکاؤنٹنٹ کو پوسٹ کردیا   ہے۔

خفیہ ادارے اپنے انسانی ایجنٹوں کو بڑا سنبھال کر رکھتے ہیں انہیں وہ انگیریزی کی اصطلاح میں Humint(Human Intelligence) کے نام سے پکارتے ہیں جاسوسی کا یہ انداز قدیم ترین ہونے کے باوجود موثر ترین مانا جاتا ہے۔ خصوصاً ان کے سلیپر ایجنٹ تو ان کے لئے بہت کارآمد ہوتے ہیں۔ ان کی تربیت اور ان کی کاروائیوں پر ان اداروں کو بہت محنت اور وسائل صرف کرنے پڑتے ہیں۔ اس سلسلے میں مشہور ترین نام برطانیہ کے کم فلبی Kim Philbyکا تھا جسے اس کی طالب علمی کے زمانے میں ہی بھرتی کرلیا گیا تھا مگر جسکا استعمال اس وقت کیا گیا جب وہ برطانوی خفیہ ایجنسی ایم۔آئی۔سکس کی ملازمت میں آگیا۔ ایسے ایجنٹ برطانوی اصطلاح میں moleکہلاتے ہیں جو چوہے کی نسل کا ایک جانور ہوتا ہے اور زمین کے اندر سرنگیں کھودنے کا ماہر سمجھا جاتا ہے۔اسکی زیر زمیں کاروائی کی کوئی علامت زمین کے باہر دکھائی نہیں دیتی۔

Advertisements
merkit.pk

جاری ہے

  • merkit.pk
  • merkit.pk

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply