نینڈرتھلز کون تھے؟(1)۔۔ضیغم قدیر

نینڈرتھلز ہمارے قریبی ارتقائی کزن رہ چکے ہیں ۔ یہ انسانوں کیساتھ پانچ ہزار سال سے زیادہ عرصہ ایک ساتھ رہے اور ان کے رہنے کی بنیادی جگہ یورپ ، سینٹرل اور ساؤتھ ویسٹ ایشیاء تھا۔
نینڈرتھلز کیساتھ ہمارا رشتہ اتنا قریبی تھا کہ انسان اور نینڈرتھلز آپس میں جنسی تعلق رکھتے تھے۔
ہم سے قدرے چھوٹے قد والی یہ مخلوق بہت طاقتور اور جسمانی طور پہ مضبوط تھی۔ ان کے دماغ کا سائز ہم سے قدرے بڑا اور ان میں معاشرتی اقدار ایک حد تک موجود تھی۔ جیسا کہ ان کے آرٹ کے نمونے، کپڑے اور مردوں کی آخری رسومات ادا کرنے کی خوبیاں ان میں ایک کلچر کے موجود ہونے کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔
یہ دکھتے کیسے تھے؟
نینڈرتھلز کا سب سے پہلا ثبوت ہمیں ایک کھوپڑی کی شکل میں ۱۹۰۰ کے اوائل میں فرانس سے ملا۔ لیکن بعد میں انکے ملنے والے ڈھانچوں سے یہ پتا چلا کہ یہ تو کافی عرصہ پہلے ہمارے ساتھ رہ چکے ہیں۔ یہ دکھنے میں باہم انسانوں جیسے تھے بس چند ظاہری اور بہت سے جینیاتی فرق ہمیں ان سے جدا کرتے تھے۔
تحقیق سے اس بات کی طرف بھی اشارہ ملتا ہے کہ نینڈرتھلز کی وجہ سے انسانوں کی جلد کے مختلف رنگ ہونے جیسا کہ بالوں کا سرخ رنگ یا صاف جلد کے خصائص آئے۔
تجزیہ کرنے پہ معلوم پڑتا ہے کہ نینڈرتھلز اور ہم آٹھ لاکھ سال پہلے ایک مشترکہ جد سے وجود میں آئے اور ہمارا ڈی این اے بعد میں باہمی جنسی ملاپ کی وجہ سے کافی مکس ہوا۔
نیڈرتھلز اور جدید انسان آپس میں جنسی تعلق رکھتے تھے اور اسی تعلق کی وجہ سے ہم آج ان کے ساتھ ڈی این اے شئیر کرتے ہیں۔
نیڈرتھلز کی وجہ سے آنے والی تبدیلیاں کیا ہیں؟
اس بات کا مکمل پتا لگانا ابھی ممکن تو نہیں لیکن تحقیق سے یہ پتا چلا ہے کہ ان کے جینز کا اب بھی ہم میں کافی عمل دخل ہے۔ جیسا کہ یہ ہمارے نظامِ مدافعت کو بہتر بناتے ہیں اور ہماری کھوپڑی کے سائز کا تعین بھی کرتے ہیں۔ اسکے علاوہ بہت سے خصائص جن کا ذکر آگے چل کر ہوگا ان کا تعین کرتے ہیں۔
یہ کب معدوم ہوئے؟
تحقیق سے سامنے آتا ہے کہ نینڈرتھلز تقریبا چالیس ہزار سال پہلے نا پید ہوئے۔ انکے ناپید ہونے کے عرصے کے دوران جدید انسانوں کا ایک سیلا ب یورپ آیا۔ ان کے ناپید ہونے کے بارے کئی ہائپوتھیسس ہیں جیسا کہ وہ مقابلہ بازی کی وجہ سے ناپید ہوئے، یا پھر موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے یا پھر کسی نئی بیماری یا باہمی عملِ تولید کی وجہ سے ناپید ہوئے۔
جاری ہے۔

  • merkit.pk
  • merkit.pk

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply