تالا ۔ سو الفاظ کی کہانی/سیف الرحمن ادیؔب

میں عوام ہوں،
مجھ پر تالے ظلم کر رہے تھے،
کالے کالے تالے،
وہ بھی لگے ہوئے۔
“دس تالے کھول لو!
نجات مل جائے گی۔”
آواز آئی۔
چابیاں ڈھونڈنے لگا،
پر تکلیف ناقابل برداشت تھی۔
بہت ظالم تالے تھے،
سخت اذیت دے رہے تھے،
مار پیٹ تو تھی ہی،
گالیاں سنا رہے تھے،
برا بھلا بھی کہہ رہے تھے۔
کوشش کی،
چابیاں ڈھونڈ نکالیں،
تالے کھولنے لگا،
ایک، دو ۔۔۔۔ آٹھ، نو،
“یہ تو نو ہیں،
دسواں کہاں ہے؟”
میں چیخا۔
وہی آواز آئی:
“ظلم سے لڑنے کے لیے
سارے تالے کھول دو،
ایک تالا تمھاری زبان پر لگا ہوا ہے۔”
  • merkit.pk
  • merkit.pk

سیف الرحمن ادیؔب
سیف الرحمن ادیؔب کراچی کےرہائشی ہیں۔سو الفاظ کی کہانی پچھلے دو سالوں سے لکھ رہے ہیں۔ فیسبک پر ان کاایک پیج ہےجس پر 300 سےزائد سو الفاظ کی کہانیاں لکھ چکے ہیں۔اس کے علاوہ ان کی سو الفاظ کی کہانیوں کا ایک مجموعہ "اُس کے نام" بھی پی ڈی ایف کی صورت میں شائع ہو چکا ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply