ہمیں ہمارے کام والوں سے بچاؤ۔۔سعدیہ علوی

اگر آپ نوکری کرنے والی خاتون ہیں تو آپ جانتی ہی ہوں گی کہ ہمیں اپنے گھر کو سنبھالنے کے لیئے مددگار لوگوں کی ضرورت رہتی ہے( حضرات کو اس لیے مخاطب نہیں کیا کہ وہ بے چارے ہم کوہی سنبھال لیں تو بہت ہے گھر کہاں سنبھالیں گے) – سو ہم بھی کچھ عظیم لوگوں کی مدد کے بنا کارہائے زندگی سرانجام نہیں دے سکتے ہیں، اب یہ مدد گار کیسے ہیں آ ئیے  آپکو  بتاتے  ہیں۔

یہ خاتون جو انتہائی منحنی سی ہیں یہ صبح صبح 6 بجے آجاتی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ یہ ہمارے گھر کی صفائی کرتی ہیں ، ہم بالکل خاموش ہیں کہ جو یہ کرتی ہیں اسے صفائی کہنا ایک مغالطے سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے- محترمہ ہمارے یہ بڑے سارے گھر کو کل پندرہ منٹ میں بھگتا دیتی ہیں اور جانے سے پہلے بڑے لاڈ سے، کہہ کر ہم سے چائے بنوا کر پیتی ہیں- پچھلے ہفتے کی بات ہے ہم چائے بنا رہے تھے تو گویا ہوئیں
“باجی ایک بات تو بتا تو یہ جو کام کرتی ہے گھر سے تجھے پیسے پورے ملتے ہیں”
ہم نے رسانی سے جواب دیا
“جی ملتے ہیں کیوں کہ ہم گھر سے پڑھاتے ہیں اور ہفتے میں تین دن یونیورسٹی جاتے بھی ہیں”
اس کے بعد وہ پورے ہفتے کے لیئے غائب ہوگئیں – کوئی فون نہ اطلاع ہم غصے  میں بھی تھے اور پریشان بھی کہ اللہ جانے کیا بات ہے جو نہیں آرہی طبیعت خراب نہ ہو، اس نگوڑ مارے کرونا نے تو سب کے اعصاب ہلا رکھے ہیں، اچھا مزے کی بات یہ کہ ہرروز ایک وڈیو کال ضرور کرتی تھیں ،جو خراب سگنلز کی وجہ سے منسلک نہ ہوتی اور جب ہم فون کریں تو فون اٹھاتی نہ تھیں، ہماری پریشانی اور بڑھ رہی تھی ،آج جب آئیں تو بالکل ہشاش بشاش ہم نے پوچھا کہ کہاں تھیں پورا ہفتہ
فرماتی ہیں
“باجی بس گھر پر تھی”
ہم کو غصہ آگیا کہ جب ٹھیک تھیں تو مزے سے چھٹی کر کے کاہے بیٹھی تھیں ہم نے کہا
“اچھی بات ہے میں ایک ہفتہ کے پیسے کاٹوں گی”
لو بھائی وہ تو ہتھے سے اکھڑ گئیں ۔۔
“ارے واہ باجی کیوں کاٹو گی پیسے؟ ہم تو تم کو روز وڈیو کال کرتے تھے کہ ہم گھر سے کام کرلیں تم خود ہی بات نہ کرتی تھیں -اور تم خود بھی تو گھر پر رہتی ہو تمہاری تنخواہ تو نہیں کٹتی، تو ہم غریبوں کے ساتھ یہ ظلم کیوں؟”
اللہ اللہ بڑی مشکل سے ان کو سمجھایا کی بی بی ہمارے اور آپ کے کام میں بہت فرق ہے اور آپ گھر سے کام نہیں کرسکتی ہیں

tripako tours pakistan

ہماری ایک اور ماسی صاحبہ جو اب عمرداز ہوگئی ہیں اور ریٹائرڈ لائف گزار رہی ہیں ، ہمارے پاس ہر مہینے اپنی  پنشن لینے آتی ہیں، ہم نے ان کو سمجھایا کہ خالہ ویکسین لگوا لو ضروری ہے اور اللہ کا حکم ہے کہ تدبیر کرو پھر توکل۔۔پوچھتی ہیں
“بٹیا تم نے لگوالی؟”
ہم نے انتہائی جوش سے جواب دیا
“جی خالہ لگوالی”

Advertisements
merkit.pk

کہتی ہیں بس تو دو تین مہینے دیکھے لیتی ہوں تم بچ  گئیں  تو میں بھی لگوا لوں گی
ہم ان کو دیکھتے ہی رہ گئے اس شاندار خواہش کا اظہار تو ہمارے سان و گمان میں بھی نہ تھا-
ایک اور موصوف ہمارے پاس آتے ہیں سوداسلف لانے کے لیئے، بڑا نیک بچہ ہے ہمارے پکائے ہوئے کھانے اسےبہت پسند ہیں-
ایک دن کہنے لگا
“باجی مجھے ان مصالحوں کی  ترکیب بتائیں”
ہمیں اس پر بہت پیار آیا ہم نے کہا
“بیٹے ترکیب کا کیا کروگے لو یہ ڈبا لے جاؤ اور اس سے کھانا پکالینا”
اس کا جواب سن کر ہم اس کی فراست اور دوراندیشی کے دل سے قائل ہوگئے کہتا ہے
“باجی ترکیب بھی بتادیں جو آپ فوت ہوگئیں تو میں کیا کروں گا ”
ہم شاکڈ
یہ سب روکڈ!

  • merkit.pk
  • merkit.pk

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply