شمع سوزاں وصالِ دلبر

شور شرابے کی وجہ سے اس کا سر درد سے پھٹ رہا تھا۔ کوٹھی کی بالائی منزل پر واقع اس کمرے میں آکر ہمیشہ اسے سکون ملتا تھا، شاید کچھ یادیں تھیں جو اس کے یہاں آتے ہی آباد سی ہوجاتیں تھیں۔
گرے سوٹ میں ملبوس اپنے خاص رعب دار انداز کے ساتھ اس نے کمرے کا دروازہ کھولا۔
کمرے میں موجود ہر شے نے خاموشی کا لبادہ اوڑھ رکھا تھا، گہری اور وجود میں سنسناہٹ پیدا کرتی خاموشی۔
کمرہ روشن کر کے وہ بوجھل قدموں سے کتابوں کے شیلف کی جانب بڑھا، گرد مٹی سے اٹی ہوئی کتابوں میں سے ایک کتاب نکالی اور رومال سے اس پر لگی ڈسٹ صاف کرنے لگا۔
( اسکے علاوہ اس کمرے میں کوئی زیادہ نہیں آتا تھا، اس لئے کتابوں پر جمی گرد بھی وہ پھونک پھونک کر بڑی احتیاط سے صاف کیا کرتا تھا )
کتاب لے کر اس نے بیڈ کی جانب نگاہ ڈالی اور مسکرایا۔
اور پھر کمرے میں اپنی من پسند جگہ کی جانب سگار جلاتے ہوئے آیا۔۔۔
اس کے سرکل میں یہ بات کافی مشہور تھی کہ " سگار کو وہ پیتا ہے یا پھر سگار اسے مگر مجال ہے کہ کبھی اس نے سگار کو ہونٹوں سے دور رکھا ہو "
مگر یہ ایک سچ بھی تھا کہ سگار ہی وہ واحد شے تھی جس کی قربت کی تپش نے اسے ہمیشہ مسرور کیے رکھا تھا۔
کتاب کھولتے ہی اس نے سگار کو ہونٹوں کے اور نزدیک کیا…
قد آدم کھڑکی کے پاس آرام دہ کرسی پر تقریباً لیٹتے ہوئے وہ کئی سوچوں میں گھِرا ہوا تھا….!
کھڑکی کے پار دور سمندر کی سطح پر تیرتی اکِا دکّا کشتیوں کی لائیٹس سمندر میں جگنوؤں کا پانی پر تیرنے کا منظر دے رہی تھیں…!!
اسے اچھی طرح سے یاد ہے کہ صحافت کے شروعاتی دور میں وہ کس قدر رقص و سرور کی محافل کا دلدادہ تھا مگر اب….
کمرے کا درازہ بند تھا مگر سُر بکھیرتی گلوکارہ کی دور سے آتی مدھم سریلی آواز اسے صاف سنائی دے رہی تھی۔
اس نے کتاب بند کی اور آنکھیں بند کر کے آواز کی لے کا ساتھ دینے لگا…..!

وہ آکے پہلو میں ایسے بیٹھے
کہ شام رنگین ہو گئی ہے
ذرا ذرا سی کھلی طبعیت
ذرا سی غمگین ہو گئی ہے..

درد تو پھر درد ہوتا ہے صاحب جسم سے رستے زخموں میں ہو یا پھر روح پر لگے گھاؤ میں…
او یو شٹ اپ… جتنا پوچھا ہے اتنا جواب دو..
( میں بے حس تھا اور کیوں نہ ہوتا جس سوسائٹی سے تھا، وہاں بےحس ایلیٹ کلاس جانوروں کا ایک بہت بڑا ریوڑ ہر رات یہ ہی سب کچھ تو کیا کرتا ہے )
میں نے موبائل اٹھایا اور ایک نمبر ملایا.. یار نومی تجھے اور کوئی نہیں ملی تھی ؟ میں اپنا غصہ نکال رہا تھا اور نومی آگے سے مجھے کول کرنے کی کوشش کر رہا تھا….
شاید وہسکی کا نشہ کچھ زیادہ سر چڑھ گیا تھا۔ میں ایک جھٹکے سے اٹھا اور سگار کا دھواں ہوا میں پھینکتا ہوا کھڑکی کے قریب آگیا۔
( کھڑکی کے پار سمندر کی سطح پر تیری کشتیوں کی جگمگ کرتی روشنیاں اسے بہت پسند تھیں وہ رات بھر شراب پیتے ہوئے انہیں گھنٹوں دیکھ سکتا تھا )

ویسے تم جیسی لڑکیوں کی کمزوری صرف پیسہ ہی ہوتا ہے….
نہیں صاحب ایسی بات نہیں یہ تو ہماری روزی ہے..
( وہ تقریباً بیڈ کے کونے میں سمٹ چکی تھی )
میں سمجھی کہ آپ کا کام ہوگیا ہے تو اب آپ آرام کریں گے تو پھر میں چلی جاتی ہوں..
یو ایڈیٹ.. نہیں ہوا میرا کام ابھی ( میں چلایا )
اور ہاں صبح چلی جانا کچھ کھا پی کر، ویسے بھی اس وقت اس حلیے میں کس کے ساتھ جاؤ گی…؟
( ایک تو تم جیسیوں کو لاؤ بھی اور لے جاؤ بھی ) میں منہ ہی منہ میں بڑبڑایا.

پر صاحب……
کہا نا… سمجھ نہیں آتی (سگار کا کش لیتے ہوئے میں نے ساڑھی میں لپٹے اس خوبرو مجسم پر نظر ڈالی )
جی جیسا حکم صاحب جی…

ویسے کیا نام بتایا تھا تم نے..؟
( میں نے دھواں جان بوجھ کر اس کی جانب پھینکا )
مومل… ( اس نے سر جھکاتے ہوئے جواب دیا )
کتنا کما لیتی ہو دن بھر میں ( عجیب سا سوال تھا مگر مجبوری تھی پوچھنا بھی ضروری تھا )
دن میں ….؟ ( طنزیہ مسکراہٹ اس کے چہرے پر عیاں تھی )
میرا مطلب ہے کہ رات میں ہی…
یہ ہی کوئی بارہ پندرہ سو. ( بیڈ سے پاؤں لٹکاتے ہوئے بولی)
واٹ…!
صرف پندرہ سو…..
مگر آنٹی سے تو پانچ ہزار طے ہوا تھا..؟
(دل میں آیا کے کتنی جھوٹی لڑکی ہے پانچ ہزار لیکر ڈرامہ کر رہی ہے)
جی صاحب مگر اس میں سے میرا حصہ صرف پندرہ سو ہی بنے گا۔

ہیں کیا کہا تمھارا حصہ… وہ کیسے؟ میں کچھ سمجھا نہیں مجھے کھل کے بتاؤ..
(میں بیڈ پر اسکے تھوڑا نزدیک آکر بیٹھا )
صاحب.. کیا بتاؤں بس رہنے دیں۔
(میں نے اسے جیسے ہی غصے سے گھورا تو وہ فر فر بولنے لگی..)

صاحب جی یہ ظالم پیٹ ہے نا بس اسے پالنا ہوتا ہے..
( اس نے ہاتھ سے پیٹ کی جانب اشارا کرتے ہوئے کہا اور نہ چاہتے ہوئے بھی میری نظریں اس کے اشارے کی جانب اٹھ گئی )
گاؤں میں بوڑھی ماں ہے، چھوٹی بہنیں ہیں، معذور باپ ہے ان سب کے لیے کام تو کرنا ہے….!
یہ لو ہزار روپے ( میں نے والٹ نکالا اور ہزار کا کڑک نوٹ اس کی جانب عجیب تکبرانا انداز سے بڑھایا )

لو یہ رکھو اور اب بتاؤ….
نہیں صاحب مجھے بخشش نہیں چاہیے۔
( وہ دونوں ہاتھوں سے منع کرنے والے انداز میں کہنے لگی )
یہ بخشش نہیں ہے میں وعدہ کرتا ہوں تم جو بتاؤ گی وہ سب ہمارے بیچ راز ہی رہے گا…. (میں نے سگار کا ایک اور کش مارا اور اسکی آنکھوں کو غور سے دیکھا جو اس وقت نم تھیں مگر…. )
صاحب یہ جو پانچ ہزار ہیں نا ان میں سے دو ہزار تو پولیس کو چلے جاتے ہیں باقی کے بچے تین ہزار ان تین ہزار میں سے پندرہ سو باجی لے گی۔
باقی پندرہ سو میرے ہوں گے پر ان میں سے بھی مجھے تین سو اُس آدمی کو دینے ہیں جو مجھ یہاں تک پہنچا کر گیا ہے اسکی بھی تو کمیشن ہوتی ہے نا۔

باجی… یہ باجی کون ؟ ( میں حیران ہوا کہ یہ کس طرح کی بڑی بہن ہے جو اپنی چھوٹی بہن سے ایسا کام کرواتی ہے )

صاحب وہ جو ہماری میڈم ہے نا جس نے مجھے آج یہاں آپ کے پاس بھیجا ہے۔
اچھا اچھا وہ آنٹی جسے ببلی کہتے ہیں سب..؟
جی جی وہ ہی آنٹی۔

اور یہ کمیشن والا بندہ کون ہے.؟
صاحب وہ جو آدمی میرے ساتھ آیا تھا وہ…..
عجیب دھندہ ہے تم لوگوں کا سارا ہی کام کمیشن پر چلتا ہے۔
( اور میں نے حقارت بھرا قہقہہ لگایا )
شاید اسے میری یہ بات قطعاً اچھی نہیں لگی تھی۔

صاحب جی..! غربت کی زندگی میں پیٹ کا دوزخ بھرنا اتنا آسان ہوتا تو رات کے اس پہر میں آپ کے کمرے کے بیڈ پر اس حالت میں نہ ہوتی ( آنسوؤں کو ضبط کرنے کی ناکام کوشش کیساتھ ہاتھوں کی انگلیوں کو چٹخاتے ہوئے بولی )

مجھے لگا کہ اب وہ مگر مچھ کے آنسو بہا کر اپنی مظلومیت کا ڈھونگ شروع کرے گی۔
(میں نے ناگواری سے اسے دیکھا اور کہا )
اپنی عیاشیوں کو پورا کرنے کے لئے یہ سب بھی تو شوق ہی ہوا نا بی بی…!
شوق… ؟
جسم فروشی شوق نہیں ہوتی صاحب۔
( اسکے لہجے سے تلخی عیاں تھی )
جان بوجھ کے غلاظت بھری دلدل میں کون اترتا ہے صاحب جی..
بڑھتے ہوئے غلیظ ہاتھوں کی اذیت کا دکھ کیا ہوتا ہے آپ کیا جانیں۔۔۔
اور آپ اسے شوق کہتے ہو..!!
مگر میں نے تو تمھیں ابھی تک ہاتھ بھی نہیں لگایا..
( میں سوچنے لگا کہ عجیب لڑکی ہے مفت میں پیسے دے رہا ہوں اور اس کے نخرے ہیں کہ .. )

صاحب جی سارے مرد آپ جیسے نہیں ہوتے ( اب اسکا چہرا سرخ ہوچکا تھا، اس جذباتی حالت میں اسکا حسن نکھر کے بول رہا تھا )

تو پھر کیسے ہوتے ہیں.. ؟
( میں نے شرارتاً پوچھا )
جی…. وہ
ارے میرا مطلب کس طرح کا رویہ ہوتا ہے انکا ؟
صاحب…. جی … !!
( اسکی آنکھیں اب مکمل بھیگ چکیں تھیں ساڑھی کے پلو سے آنکھوں کے کنارے صاف کرتے ہوئے وہ مجھے بہت بھلی معلوم ہوئی مگر میرا مقصد تو صرف… )
بتاؤ بتاؤ گھبراؤ نہیں..
میں نے ایک ہزار کا ایک اور نوٹ اسکی جانب کیا اور کہا..
دیکھو مجھے اپنا دوست ہی سمجھو اور یہ رکھو میں جانتا ہوں کہ ان پیسوں سے تمھارے دکھوں کا مداوا ممکن نہیں مگر شاید یہ تمھارے کچھ کام آجائیں۔

صاحب مگر آپ مجھے یہ کیوں دے رہے جبکہ آپ نے مجھے……….!!
میں یہ کیوں دے رہا ہوں اس پر اتنا مت سوچو۔
اچھا بتاؤ .. (میں نے اپنا سوال دہرایا )
اس نے میرے ہاتھ سے پیسے نہیں لئے
( اور اس بار تو اس نے مجھے یوں دیکھا جیسے میرا مذاق اڑا رہی ہو )

رہنے دیں صاحب یہ ڈھکوسلے بازی آپ جو میرا سودا کرنے کے باوجود مجھے ہاتھ نہیں لگا رہے میں بھی سب جانتی ہوں ( اسکی مسکراہٹ میں طنز تھا اس کی ہنسی نے مجھے خوف میں مبتلا کر دیا )

اصل میں آپ بھی شرافت کی دھجیوں میں لپیٹ کر مجھے سر عام نیلام ہی تو کریں گے میری کہانی کا سودا کریں گے..
ہیں نا صاحب جی … ؟
( وہ ہذیانی کیفیت میں مسلسل بولے جارہی تھی )

اچانک وہ میرے سامنے آگئی اور پہلی بار ساڑھی کا پلو اپنے جسم سے مکمل ہٹایا، ہاف سلیوز کو اور اوپر چڑھانے کی ناکام کوشش کی..
میں بری طرح سے چلایا یہ کیا بے ہودگی ہے………..
اُس پر تو جیسے کوئی جنون سوار تھا

( اس نے ہاتھ جھٹک کر اپنا کاندھا گہرے گلے سے باہر نکالا اور دکھاتے ہوئے بولی )
ایسے ہوتے ہیں مرد صاحب جی…
( میری نظریں نہ چاھتے ہوئے بھی اسکی جانب اٹھ گئیں جہاں سفید جسم پر جابجا کئی نشانات تھے جسم تو کیا روح کو بھی چھلنی کرتے بے دردی سے روندے جانے کے نشان )

میں شاید سمجھ گیا تھا مگر پھر بھی سوال کر ہی ڈالا کہ یہ کیا ہیں….؟
صاحب یہ سگریٹ کے نشان ہیں.
خریدی ہوئی عورت کے جسم کی کوئی عزت نہیں ہوتی، صاحب لوگ اپنی ہوس کا نشانہ تو کیا ہی بنائیں گے الٹا نشے کی حالت میں اتنا مارتے ہیں کہ میں کئی کئی دن بےہوش پڑی رہتی ہوں۔
نامرد سالے….. ( اس کے منہ سے کئی گالیاں ایک ساتھ نکلیں )

میرا لہجا نرم ہوا
اففف….
پھر تم یہ کام چھوڑ کیوں نہیں دیتی ہو؟
کیسے چھوڑوں صاحب ؟
کچھ مجبوریاں ہیں میری…
باپ معذور ہے اور اس عمر میں کوئی کام نہیں کرسکتا ماں بیمار رہتی ہے بھائی کوئی ہے نہیں..
صاحب جی.. !
میرے پاس نا تعلیم ہے اور نا ہی کوئی ہنر اس لیے کوئی کام بھی نہیں دیتا اوپر سے میڈم کا قرضہ الگ ہے قرضہ اتر جائے تو بھی ہزار مسئلے ہیں۔

پھر کیا مسئلہ ہے..؟ ( میں نے تجسُس میں پوچھا میرا مقصد کامیاب ہو رہا تھا )

کچھ نہیں…..
مجھے بتاؤ کیا مسئلہ ہے..
نہیں صاحب کوئی مسئلہ نہیں..

میں: دیکھو میں نے تمھارے پیسے دیئے ہیں اب میں جو پوچھ رہا ہوں وہ مجھے بتاؤ..
صاحب وہ جو آدمی میرے ساتھ آیا تھا نا
میں: ہاں وہ بڈھا سا…؟

جی جی وہ ہی..
ہاں تو… ( مجھے شک گزرا کہ کہیں وہ اسکا شوہر نا ہو اکثر ایسی لڑکیوں سے انکے شوہر ہی دھندا کرواتے ہیں )
صاحب جی وہ میرا مالک ہے اسی نے مجھے میڈم کے پاس کام دلایا ہے وہ ہی مجھے گاؤں سے خرید کر لایا تھا..

واٹ….. خرید کر…..؟
کیا مطلب ہے تمھاراَ؟
( میں ایک دم چونکا )
جی صاحب اسی نے تو میرے باپ کو تین لاکھ دیئے تھے۔
کیا مطلب میں سمجھا نہیں ( میں حیرانی کے عالم میں جیسے ہی اس کی جانب بڑھا تو وہ گھبرا کر پیچھے کو ہٹ گئی)
ارے گھبراؤ نہیں.. پوری بات بتاؤ..
صاحب میرے ماں باپ نے مجھے اس آدمی کے ہاتھ بیچ دیا تھا اب یہ ہی میرا مالک ہے جتنا کماتی ہوں اس میں سے اس کا بھی حصہ ہوتا ہے۔

اور اس کے باوجود تم ہر ماہ اپنے باپ کو پیسے بھیجتی ہو..؟
جی صاحب ہر ماہ آٹھ دس ہزار بھیجتی ہوں۔

( زیادہ پینے کی وجہ سے پہلے ہی سر درد کر رہا تھا، اسکی یہ باتیں سن کر میرا سر اور چکرا گیا میں نے آڈیو ریکارڈنگ ڈیوائس بند کی اور پین کو نوٹ بک میں رکھ کر بیڈ کی ایک جانب پھینکا۔
پانی کی بوتل اٹھائی اور سردرد کی دوا ڈھونڈتے ڈھونڈتے بک شیلف کی طرف آگیا.. )

صاحب وہ صبح مجھے لینے آئے گا آپ مہربانی کرنا اس کے سامنے یہ ساری باتیں نا کرنا ( وہ بالکل روہانسی ہوچکی تھی)
تم فکر نا کرو..
اچھا ایک بات بتاؤ
جی صاحب..
اگر تمھیں ایک بہتر زندگی ملے میرا مطلب ہے کہ کوئی اچھا کام وغیرہ مل جائے تو کیا تم تب بھی……
نہیں صاحب نہیں…!! کون سی عورت ہوگی جو بہتر زندگی کی خواہش نہیں رکھتی ہو مگر میرے نصیب میں شاید یہ ہی سب لکھا تھا.. ( وہ میرے پیچھے اب قالین پر بیٹھ چکی تھی )

جانے کتنے عرصے کا دکھ تھا جو آج اسکی آنکھوں سے رواں تھا۔
آنسوؤں کو ہتھیلی کی پشت سے صاف کرتے ہوئے اس نے قالین کو کھرچا اور کہا…

صاحب جی یہ میرا میلا پن تحفہ ہے میرے ماں باپ کا مجھے۔
نوچ کھانے والے ہر رات کے نئے رشتے تو اکثر اللہ کے سامنے بھی گڑ گڑانے کا حق چھین لیتے ہیں۔

( میں یہ سب کیا سن رہا تھا اور کیوں میرے قدم جکڑ کیوں گئے تھے میں نے گہری سانس لی مگر جان بوجھ کر اسکی جانب پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا )
صاحب جی…
کیا ہے….! ( میں دوبارا آرادم دہ کرسی پر بیٹھ چکا تھا )
آپ کو معلوم ہے یہ جو روٹی ہوتی ہے نا یہ بڑی ہی ظالم چیز ہوتی ہے۔ یہ گاؤں کی مومل کو صاحب لوگوں کے بنگلوں تک لے آتی ہے۔
ھمممم…. ( میرے اندر بہت ساری چیزیں ایک ساتھ ٹوٹ رہیں تھیں سگار میری انگلیوں سے کہیں گر چکا تھا سمندر کی لہروں کی آواز میرے اندر کے خود ساختہ تکبر کے بت سے آہستہ آہستہ ٹکرا رہیں تھیں بہت ساری سوچوں میں گھرا میرا وجود اپنے غرور و تکبر کی ڈھتی عمارت کو پاش پاش ہوتے دیکھ رہا تھا )

میں نے گھڑی کی جانب نگاہ ڈالی صبح کے ساڑھے پانچ کا وقت تھا کھڑکی کے باہر سمندر کی سطح پر اب مکمل اندھیرا تھا مگر میرے اندر تو جیسے اب…
شاید دور سے اذان کی آواز آرہی تھی، شاید نہیں بلکہ یقیناً….!!
اٹھو.. تمھیں چھوڑ آتا ہوں ( خوف تھا یا کچھ اور مگر میری ٹانگیں اب لرز رہیں تھیں میں سوچ رہا تھا کہ صرف دو وقت کی روٹی کی خاطر ایک جسم میرے آگے اس طرح پڑا تھا وہ بھی فقط پانچ ہزار کے لیے…. )

مگر صاحب آپ کے دوست نے تو کہا تھا کہ صاحب جی کو کام ہے، وہ سوال پوچھیں گے اور آواز ریکارڈ کریں گے۔
مگر آپکا کام تو رہ گیا ہے آپ نے تو مشین بھی پھینک دی… ( اسکی آواز میں لرزش تھی)

نہیں بس ہوگیا کام اٹھو اب چلو..
( میں نے اس رات پہلی بار قالین پر بیٹھی اس لڑکی کا بازو پکڑا اور بے دردی سے کھینچتا ہوا کار پورچ تک لایا..)

بیٹھو جلدی ….!
اور وہ چپ چاپ بھیگتی آنکھوں کیساتھ گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر میرے ساتھ بیٹھ چکی تھی….

تو جناب یہاں ہیں آپ…
یُو نو میں جانتی تھی کہ آپ اسٹڈی میں ہی ہوں گے..
میں نے آنکھیں کھول کے اسکی جانب دیکھا…
وہ میرے پاس قالین پر گھٹنوں کے بل بیٹھ چکی تھی.
آپکی پہلی کتاب جانتے ہیں یہ مجھے کتنی عزیز ہے..( میرے ہاتھ سے کتاب لیکر وہ ٹیبل پر رکھتے ہوئے بولی)

کتنی …؟
( میں نے بھی مسکراتے ہوئے اسکی جانب دیکھتے ہوئے کہا..)

جتنا آپکو آپکی یہ مومی عزیز ہے.
( بہت محبت اور چاہت سے وہ میرا ہاتھ اپنے سر پر رکھتے ہوئے بولی )

اب اٹھیں بھی آج بیٹی کی مہندی ہے سب مہمان نیچے آپکا انتظار کر رہے ہیں.
( آج وہی مومل میرا ہاتھ پکڑ کر میرے بوڑھے ہوتے جسم کو سہارا دے رہی تھی جسے پچیس سال پہلے میں اسی کمرے سے مسجد لے گیا تھا اور نکاح کر کے واپس گھر لے آیا تھا..

Avatar
رضاشاہ جیلانی
پیشہ وکالت، سماجی کارکن، مصنف، بلاگر، افسانہ و کالم نگار، 13 دسمبر...!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *