سقوطِ کابل ممکن ہو پائے گا ؟۔۔اسلم اعوان

امریکی انخلا کے ساتھ جس شدت سے سقوط قند ھار کی گونج سنائی دے رہی تھی‘اضطراب کی وہ کیفیت جلد کافور ہو گئی بلکہ ہر گزرتا لمحہ افغانستان پر طالبان کی ممکنہ بالادستی کے امکان کو بعید تر بنا رہا ہے۔قندھار اس کشمکش کا آزمائشی میدان تھا لیکن اپنی تمام تر مساعی کے باوجود طالبان تاحال قندھار کی تسخیر پہ قادر نہیں ہو سکے۔ممکن ہے یہ سب کچھ ان کی جنگی حکمت عملی کا حصہ ہو لیکن اس تاخیر سے غنی گورنمنٹ کے کمزور ہونے کا تاثر تیزی سے زائل ہو رہا ہے جس نے طالبان کی نفسیاتی برتری کے اثرات کو کافی حد تک کند کر دیا ہے۔بظاہر ایسا لگتا ہے کہ شام کی طرح افغانستان میں بھی علاقائی طاقتیں سسٹم کو بچانے کی خاطر کابل میں موجود جمہوری حکومت کا دوام چاہتی ہیں‘خاص کر روسی صدر پوٹن کی ایما پہ وسطی ایشیائی ریاستوں نے امریکی باقیات کو ریسکیو کرنے کی پیشکش کرکے کھیل کا پانسہ پلٹنے کا عندیا دیا‘ تاہم وسطی ایشیائی ریاستوں کے اندر پنپنے والے اسلامی نظریاتی گروپوں کے ردعمل کو سنبھالنے کی کوئی سبیل دکھائی نہیں دیتی۔
اس کرہ ارض پہ برپا اس پیچیدہ جدلیات کا محوراسلام کے خلاف صلیب کے فرزندوں کی جارحیت ہے‘جسے دہشتگردی کا لباس مجاز پہنا کر مسلمانوں کو فریب دیا گیا‘چونکہ افغانستان میں بھی اسلام پسندوں کی مکمل نظریاتی فتح مغرب کی تہذیبی برتری کا فسوں توڑ سکتی تھی اس لئے عالمی طاقتیں ہر قیمت پہ افغانستان میں امارات ِاسلامی کے قیام کی راہ روکنے پہ کمربستہ ہوگئیں۔عالمی مقتدرہ نے شاید اسی لئے تمام علاقائی طاقتوں کو افغانستان میں اشرف غنی کی قیادت میں قائم اُس جمہوری نظام کو بچانے پہ راضی کر لیاجس کا علامتی مرکز کابل ہے۔ 1990ء کی دہائی میں روانڈا سے لے کر بلقان تک ابھرنے والے متعدد عالمی بحرانوں کے نتیجہ میں منصّہ شہود پہ نمودار ہونے والی وسطی ایشیائی ریاستوں کی امریکی خارجہ پالیسی میں کبھی ایسی اہمیت نہیں رہی کہ ان کے ساتھ تعلقات کو وسیع تناظر میں دیکھا جاتا لیکن اکتوبر2001 ء میں یہ سب کچھ اس وقت بدل گیا جب امریکہ افغان جنگ میں داخل ہوا تو وسطی ایشیائی ریاستیں ہی جنگ کی خاطر بنائے گئے لاجسٹک نیٹ ورک کا اہم ترین ستون بنیں کیونکہ گراؤنڈ پر طالبان کو شمال سے ہدف بنانا زیادہ سہل تھا۔ایسٹ ساؤتھ ایشیا سنٹر برائے سٹریٹجک سٹڈیزکے اسسٹنٹ پروفیسر برائن ٹوڈ کہتے ہیں کہ اگر ہم 1990ء کی دہائی میں وسطی ایشیا کو روسی نقطہ نظر سے دیکھتے تو یہی 2000ء کی پہلی دہائی میں ہمارا افغان نقطہ نظر بن جاتا۔اب جب امریکہ نے 20 سالہ جنگ کے بعد افغان آپریشن کی بساط لپیٹی تو وسطی ایشیائی ریاستیں ہی بائیڈن انتظامیہ کی افغانستان سے واپسی کے مضمرات پر قابو پانے کی حکمت عملی میں کلیدی کردار ادا کریں گی کیونکہ افغانستان کیلئے علاقائی مفادات حاصل کرنے اور شمال میں تاجکستان کے ساتھ جڑی لمبی سرحدکا دو تہائی حصہ تزویری لحاظ سے نہایت اہمیت کا حامل ہے‘اسی لئے واشنگٹن نے سفارتی مساعی کا محور وسطی ایشیا کو بنا لیا۔اطلاعات ہیں کہ تاجکستان‘ازبکستان اور قازقستان نے امریکہ کے ساتھ کام کرنے والے اُن افغانوں کو پناہ دینے کی حامی بھر لی جنہیں طالبان کی حکمرانی میں انتقام کا سامنا کرنا پڑتا۔ بنیادی طور پہ بائیڈن انتظامیہ افغان گورنمنٹ کو طالبان کی جارحیت سے بچانے کی خاطر خطے میں کسی مضبوط فوجی اڈے کی متلاشی ہے۔رواں ماہ امریکی سیکرٹری خارجہ انٹونی بلنکن سے ملاقات کیلئے ازبکستان اور تاجکستان کے وزرائے خارجہ عین اسی دن واشنگٹن میں موجود تھے جس روز وائٹ ہاؤس نے صدر کی معاون الزبتھ شیرووڈ کے امریکہ کے خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد کے ہمراہ علاقائی رابطوں سے متعلق کانفرنس کیلئے امریکی وفد ازبکستان لے جانے کا اعلان کیا۔تاہم ان بھرپور سفارتی روابط کے باوجود وسطی ایشیائی ریاستیں کافی محتاط ہیں کیونکہ طالبان اب زیادہ طاقتور بن کر ابھرے ہیں۔
اگرچہ ماضی میں طالبان نے ملک کے جنوب اور مشرق میں آباد پشتون بھرتی کئے تھے لیکن حالیہ برسوں میں انہوں نے شمال کے نسلی گروپوں مثلاً تاجک‘ترکمان اور ازبک باشندوں کو بھی اپنی صفوں میں مناسب جگہ دے کر سیاسی مفادات کی حیرت انگیز راہیں ہموار کر لی ہیں۔اس سے شمال میں بھی ان کے نظریات کو پھلنے پھولنے کے مواقع ملے ہیں؛چنانچہ وسطی ایشیائی ریاستیں کسی حد تک طالبان کی پیشقدمی سے پریشان ہونے کے علاوہ اپنے شہریوں کے افغانستان میں داخل ہونے سے بھی خوفزدہ ہیں‘یہاں فکر و خیال کی دوطرفہ شاہراہیں موجود ہیں۔2001 ء میں امریکی جارحیت سے قبل طالبان نے افغانستان پر اسلامی قانون کی سخت تشریح کے ساتھ حکمرانی کی۔اس گروہ کی پیش قدمی کو شمال میں بسنے والی وہ تمام مسلم ریاستیں نہایت احتیاط سے دیکھ رہی ہیں جنہیں طویل عرصے سے عسکریت پسندوں کی مزاحمت کا سامنا ہے۔مزید یہ کہ وسطی ایشیائی ممالک طالبان کے ساتھ مل کر کام کرنے کی ضرورت سے بھی بخوبی آگاہ ہیں۔وہ فقط اس یقین دہانی کے منتظر ہیں کہ یہ گروپ افغانستان سے آگے اپنے اہداف طے نہیں کریں گے۔
2001ء کے آخر میں امریکہ نے افغانستان میں جنگ کی حمایت کیلئے ازبکستان اورکرغزستان میں عارضی ہوائی اڈے قائم کر لئے تھے لیکن اس وقت روس اور چین کے ساتھ واشنگٹن کے تعلقات یکسر مختلف تھے‘سابق امریکی سفیر جارج کرول کا خیال ہے کہ اُس وقت امریکہ کے ساتھ خاموش چین اور کسی حد تک امداد دینے والا روس کھڑا تھالیکن اب تعلقات کی نوعیت بدل چکی ہے۔واشنگٹن کو اب خطے میں ڈرامائی طور پر مختلف قسم کے جغرافیائی‘ سیاسی منظر نامہ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ماہرین کو شبہ ہے کہ امریکہ خطے میں کوئی ایسا فوجی اڈہ قائم نہیں کر پائے گا جس سے افغان جنگ کے مابعد مضمرات کا مقابلہ کیا جاسکے۔کرول نے کہا ”میں ان ممالک میں سے کسی کو ایسا تعاون دیتے نہیں دیکھ رہا کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ روس اور چین کی طرف سے ان پر دباؤ ڈالا جائے گا‘(بدقسمتی سے)ایشیا میں امریکی کردار زیادہ تر سکیورٹی تعاون اور اسلحہ کی خرید وفروخت تک محدود ہے‘‘۔روس نے خطے میں امریکی فوج کی مستقل موجودگی بارے اصل سوچ کا اظہار تو نہیں کیا تاہم روسی جریدے کو انٹرویو دیتے ہوئے نائب روسی وزیر خارجہ سیرگئی ریابکوف نے کہا تھا کہ روس نے امریکہ اور وسطی ایشیائی ممالک کو خطے میں مستقل امریکی فوجی اڈوں کے قیام کے خلاف خبردار کر دیا ہے۔واضح رہے کہ تاجکستان میں افغان سرحد کے قریب روس کا اپنا سب سے بڑا فوجی اڈہ موجود ہے۔
حالیہ برسوں میں ماسکو نے خطے میں اپنی فوجی صلاحیتوں کو دوبارہ استوار کیا‘کچھ دن قبل روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ روس وسطی ایشیا میں اپنے اتحادیوں کے خلاف کسی بھی جارحیت کو روکنے کی خاطر ہر ممکن قدم اٹھائے گا۔تاجکستان نے روس کی زیرقیادت” اجتماعی سلامتی معاہدہ تنظیم‘‘کے فوجی بلاک سے کسی ممکنہ جارحیت کی صورت میں جواب دینے کیلئے حمایت کا مطالبہ بھی کر رکھا ہے۔بلاشبہ روس اس امرکو یقینی بنانے میں دلچسپی رکھتا ہے کہ طالبان اور دیگر شدت پسند گروپوں کے نظریات وسطی ایشیا میں داخل نہ ہوں۔سابق سفیر کرول نے کہا ”روسی افغانستان سے ایسے نظریات آتے دیکھنا نہیں چاہتے جو وسطی ایشیائی ریاستوں میں سرایت کریں‘جو دراصل روسی فیڈریشن کی سافٹ بیلی ہیں۔چین نے بھی افغانستان سے ملحقہ سرحدوں کے سنگم پہ مشرقی تاجکستان کے قریب خاموشی سے فوجی چوکیاں قائم کرلیں کیونکہ بیجنگ‘سنکیانگ میں ممکنہ عدم استحکام کو روکنے کی کوشش کرے گا۔اپنے جغرافیائی محل وقوع کی وجہ سے وسطی ایشیا صدیوں سے زبردست طاقت کے مقابلے کا محور رہا۔اگرچہ اب یہاں نئے امریکی اڈے بنانے کے امکانات کم ہیں لیکن واشنگٹن اس خطے کے ساتھ اپنی بڑھتی ہوئی تلویث کا خیرمقدم کرے گا کیونکہ وہاں کے ممالک روس اور چین کے مابین توازن برقرار رکھنے میں محتاط ہیں۔

  • merkit.pk
  • merkit.pk

Aslam Awan
اس وقت یبوروچیف دنیا نیوز ہوں قبل ازیں پندرہ سال تک مشرق کا بیوروچیف اور آرٹیکل رائٹر رہاں ہوں،سترہ سال سے تکبیر میں مستقل رپوٹ لکھتا ہوں اور07 اکتوبر 2001 سے بالعموم اور 16مارچ 2003 سے بالخصوص جنگ دہشتگردی کو براہ راست کور کر رہاں ہوں،تہذیب و ثقافت اور تاریخ و فلسفہ دلچسپی کے موضوعات ہیں،

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply