جو چلے تو جاں سے گزر گئے(قسط8)۔۔محمد اقبال دیوان

تعارف:زیرِ  مطالعہ کہانی دیوان صاحب کی پہلی کتاب ”جسے رات لے اڑی ہوا“(چوتھا ایڈیشن زیر گردش) میں شامل ہے۔اسے پڑھ کر رات گئے ایک افسر عالی مقام کا فون یہ معلوم کرنے کے لیے آیا کہ مصنف کو یہ حقائق جو ہر چند ایک قصے کی صورت میں بیان ہوئے ہیں، کہاں سے دستیاب ہوئے۔ ؟کیا یہ ان کے ادارے کے کسی افسر نے بتائے۔ہمارے دیوان صاحب کا جواب تھا کہ دنیا بھر کی مرغیاں کتنی کوشش بھی کرلیں ایک ماہر شیف سے اچھا آملیٹ نہیں بناسکتیں۔ہمیں آپ شیف کا درجہ دیں اور اپنے افسروں کو مرغیاں مان لیں۔ان کی پیشکش تھی کہ دیوان صاحب سے ملاقات ہوگی  ، اور آئندہ کے کچھ پروگرام بنیں گے۔ افسر عالی مقام حالات کی گردش کی وجہ سے اپنے عہدے پر برقرار نہ رہ پائے اور

ع ،ان کہی ہی رہ گئی وہ بات سب باتوں کے بعد

tripako tours pakistan
book title JRLUH
bahavna jesay log
albadar-key-razakar
albadr

والا حساب رہا

ادارہ ”مکالمہ“ چودہ اقساط کی اس طویل کہانی کو شائع کررہا ہے اور ممکن ہوا تو اسے ویب سیریز کی صورت میں ڈھالے گا۔کوشش جاری ہے۔

sukhbir pandey jesay log
training
training

چیف ایڈیٹر :انعام رانا

ساتویں قسط کا آخری حصہ

گیٹ کے ساتھ کچھ علاقہ گاڑیوں کی پارکنگ کے لئے چھوڑدیا گیا تھا۔ یہاں پر دو تین سے زیادہ کاریں کبھی بھی موجود نہ ہوتیں جو اندر کام کرنے والے ملازمین کی ہوتیں۔ یہاں کے انچارج ایک مولانا سلطان احمد تھے۔ جو خال خال ہی دکھائی دیتے۔ مولانا سلطان کے بارے میں وہاں مشہور تھا کہ وہ حیدرآباد دکن کے ہیں اپنی دو عدد بیویوں کے ساتھ اس مکان کے اندر ہی رہتے ہیں۔ جب بھی یہ باہر جاتے ہیں ان کے دونوں بیویاں برقعے میں انکے ہمراہ کار کی پچھلی سیٹ پر بیٹھی ہوتی تھیں۔ وہ خود اپنے ایک مسلمان ڈرائیورعبدالباقی کے ساتھ آگے بیٹھے ہوتے ہیں۔ ڈرائیور عبدالباقی چونکہ گونگا تھا۔ لہذا گیٹ پر موجود چوکیداروں سے ہی اشاروں سے بات کرتا تھا اور ضرورت کی چیزیں وہی اندر پہنچاتے تھے۔ مولانا سلطان دراصل اندر کمار شرما تھا۔ جس نے حیدرآباد کے کسی مدرسے سے بطور مسلمان اپنی دینی تعلیم حاصل کی تھی۔ اس کی یہ دونوں بیویاں دراصل اکیڈیمی کی انسٹرکٹرز تھیں۔ ان کے نام سنیدھی باوا اور بھاؤنا بینرجی تھے۔ سنیدھی باوا بم بنانے اور انہیں نصب کرنے کی ماہر تھی اور بھاؤنا بینرجی کے ذمے ایجنٹوں کی نفسیاتی تربیت کی ذمہ داری تھی۔

آٹھویں قسط کا آغاز
۔۔۔۔۔۔۔۔
بھاؤنا بینرجی جب بہت چھوٹی تھی تو وہ ڈھاکہ سے کلکتہ  اپنی  ماں کے ساتھ بھاگ کر آگئی۔ ڈھاکہ میں ان کا بڑا کاروبار تھا, مگر اس وقت کے مشرقی پاکستان  میں اس گھرانے کے ساتھ کافی زیادتی ہوئی۔ اس کی دو بڑی بہنوں کو اس کے سامنے ہی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ اسکے والد کو بھی البدر اور الشمس  نامی تنظیموں کے ارکان نے ان کے سامنے ہی ٹوکے سے پیٹ پھاڑ کر ہلاک کردیا گیا تھا۔

ان زیادتیوں کا اس کے مزاج پر گہرا اثر تھا۔ اسکے دل میں مسلمانوں کے خلاف اور مردوں کے خلاف نفرت بہت گہری تھی۔ بھاؤنا بلا کی ذہین لڑکی تھی۔ اسے اس خفیہ ادارے نے کلکتہ یونیورسٹی کے شعبہء نفسیات  سے دورانِ تعلیم ہی  بھرتی کر لیا تھا، اسے باہر بھی اعلیٰ تعلیم کے لئے انہوں نے ہی بھجوایا۔ نفسیات میں ایک مضمون Pain Administration and Pain Management یعنی جسمانی ایذا اور اس کا سدباب کا ہوتا ہے۔ یہ اور معالجاتی ہپناسسزClinical Hypnosis اس کی دلچسپی کا خاص موضوع تھا۔
جب وہ دوران تربیت سکھبیر پانڈے اور اسکے قماش کے دوسرے ایجنٹوں کو تربیت کی غرض سے شدید جسمانی اور ذہنی ایذا پہنچاتی تو اسکے اپنے بچپن کے حادثات اور اس ذہن پر مرتب نقوش کی ایک یورش برپا ہوجاتی اور اس ہنگامے میں اسے بہت سواد آتا تھا۔
طبیعتاً وہ شدید قنوطیت پسند تھی ہر بات کے سیاہ پہلو کو پہلے دیکھتی تھی۔ جب اس سے سوال کیا جاتا کہ وہ ایسا مزاج کیوں رکھتی ہے تو کہا کرتی تھی کہ وہ بچپن سے ایسی ہی تھی۔

اسکول میں ایک دن شدید گرمی کی وجہ سے اس نے ٹیچر کے منہ سے سن لیا کہ سورج آج آگ برسا رہا ہے بس پھر کیا تھا، گھر آن کر اس نے اودھم مچا دیا کہ سورج پگھل رہا ہے اور ہم پر آگ گر جائے گی۔ چلو کہیں اور چلے جائیں۔ کاکس بازار میں جہاں ان کا ایک اور گھر تھا، وہ سمندر کے کنارے واقع تھا۔وہاں جب وہ سمندر کی امڈتی، لمحہ بہ لمحہ آگے آتی لہروں کو دیکھتی تو وہ اپنے والدین سے کہتی تھی کہ تھوڑی دیر میں سمندر انہیں ڈبو دے گا۔ اس خوف سے وہ آخری کمرے میں دروازہ کھلا رکھ کر سوتی تھی تاکہ اگر ایسا کوئی طوفان آئے تو وہ بھاگ نکلے۔
سکھبیر پانڈے اور اس طرح کے دوسرے ایجنٹ جنہیں پاکستان یا دوسرے مسلم ممالک بھیجنا ہوتا ان کی ختنہ اور ان کو لٹکا کر مارنے سے لے کر انہیں مختلف مقامات پر بجلی کے جھٹکے دینا، انہیں نیند سے محروم رکھنا، تنگ جگہوں پر انہیں بند رکھنا، خوف ناک قسم کی آوازیں سنا کر انکے اعصاب کی مضبوطی کا جائزہ لینا، اسی کے فرائض میں تھا۔ جب کوئی ایجنٹ اسکی پہنچائی گئی ایذا سے کراہ رہا ہوتا تو اس دوران ہنستے ہنستے وہ صرٖف ایک ہی جملہ کہتی تھی۔”مرد بن مرد۔ مرد ہے تو درد ہے”!کراٹے میں بلیک بیلٹ رکھنے والی یہ چست و چالاک عورت اگر آپ کو کناٹ پیلس دہلی کی کسی دکان میں دکھائی دیتی تو آپ کے لئے یہ باور کرنا ناممکن ہوتا کہ یہ کتنی بے رحم اور سفاک عورت ہے۔ جب کوئی گرفتار ملزم راز اگلنے میں تعاون نہ کرتا تو اسے بھاؤنا کے پاس اسی سینٹر پر بھیجا جاتا۔ یہ ممکن نہ تھا کہ اس کے ہتھے چڑھ کر ملزم اپنے راز افشا نہ کرے۔ وہ بہت کم بات کرتی۔ جب وہ اپنے اس بھیانک کام میں مصروف نہ ہوتی توکاٹن کی کالی ساڑھی پہن کر بال کھولے، ہر وقت مٹی کے ایک تسلے میں پانی میں بہت سے پھول رکھ کر آئینے کے سامنے بیٹھ کر ستار بجاتی رہتی تھی۔ وہاں زیرِتربیت ایجنٹ اس وقت تک فارغ التحصیل نہ ہوپاتا، جب تک بھاؤنا بینرجی اس کی او۔کے رپورٹ نہ دیتی۔

اندر کمار کا کام ان ایجنٹوں کی دینی تربیت تھا جنہیں پاکستان بھجوانے کا پروگرام ہوتا۔
مولوی کے روپ میں کسی بھارتی ایجنٹ کا پاکستان کے کسی علاقے بالخصوص بڑے شہروں میں Embed یعنی کیاری کا بیج بن کر چھپ جانا بہت آسان ہوتا۔دین سے عقیدت کے جذبات کی وجہ سے تفتیش اور سوال اٹھانے کے باب ہمیشہ بند ہوجاتے۔بڑے اجتماعات میں گھسنے کے مواقع بھی باآسانی مل جاتے تھے۔ ان نو بھرتی شدہ ایجنٹوں کو ایک پکے قابلِ  قبول اور باعث احترام مولوی کے روپ میں ڈھالنے کے لیے اس نے کئی مسلمان مولوی بھرتی کر رکھے تھے جو اس کے ایجنٹوں کو دینی تربیت دیتے، نماز اور قرآن کی سورتیں اور اسی طرح کی دوسری عبادات میں مشاق بناتے تھے۔

سکھبیر کو سب سے پہلے ایک مسلمان کا روپ اور اسٹائل اختیار کرایا گیا، اس کی ختنہ بھی کرادی گئی۔ ختنہ کے تین گھنٹے بعدجب سکھبیر پانڈے کو ہوش آیا اور پیشاب کی حاجت محسوس ہوئی تو اسے پتہ چلا کہ اس کی زندگی کس چنگل میں بری طرح پھنس گئی ہے۔ وہ سوچنے لگا کہ کاش وہ جوگیندر سنگھ کی باتوں میں آن کر کانتا کے ساتھ یہ سب کچھ نہ کرتا تو اس کی زندگی اپنی سابقہ ڈگر پر آرام سے گزر سکتی تھی۔ کبھی کبھار اسے یہ بھی شک ہوتا کہ جوگیندر نے ایک منصوبے کے تحت اسے ان کے جال میں پھانسا تھا۔ اس کے دل میں نفرت کی ایک لہر جوگیندر سنگھ کے خلاف سر اٹھاتی، مگر اب وہ مجبور تھا اور ان سے جان چھڑانے کا اسکے پاس کوئی ذریعہ نہ تھا۔

scorpion

بھاؤنا زیر تربیت اس چھوٹے سے گروپ کو جس میں تین لڑکیاں اور پانچ لڑکے شامل تھے۔ مختلف کہانیاں جن میں پاکستانی شہروں اور انکے مختلف مقامات اور لوگوں کا ذکر ہوتا تھا یا اسی نوعیت کی فلمیں دکھا کر ان کی یادداشت کا مستقل امتحان لیتی تھی۔ غلطیوں پر ان کو سزا بھی ملتی تھی۔ جو درد کے حوالے سے  تربیت ہی کا حصہ ہوتی تھی۔ ایک مرتبہ اس نے تین لڑکوں کو سخت جسمانی ایذا دی اور ان کی چیخوں کو کلاس کے دیگر شرکاء کو بھی سنایا گیا، بعد میں یہ ہی اذیت ان لڑکیوں کو بھی دی گئی۔ اس اذیت پر ایک بھی لڑکی نے کوئی شور نہ مچایا تو ان کی مردانگی کا خوب مذاق بنایا گیا۔ کئی دن بعد اسے بھاؤنا کی زبانی یہ جان کر حیرت ہوئی کہ عورتیں جسمانی اذیت برداشت کرنے میں مردوں سے بہت مضبوط ہوتی ہیں۔ اس نے بتایا کہ دنیا میں بدترین درد بچے کی پیدائش کا ہے اور اگر یہ درد کسی مرد کو برداشت کرنا پڑے تو ساری عمر مرد بچہ پیدا کرنے سے توبہ کرلے۔ اور دنیا کی آبادی خاصی حد تک کم ہوجائے۔ اسکے برعکس عورت اس درد سے گزرنے کے فوراً بعد ہی اسوقت ہنس رہی ہوتی ہے جب اسکا نوزائیدہ بچہ نرس اسکی گود میں ڈال دیتی ہے۔

ایک دن ان میں سے کسی نے جب بھاؤنا سے درد کی شکایت کی تو وہ کہنے لگی کہ “پاکستان میں ہر دوسرا پولیس والا اس طرح کی اذیت رسانی کا ماہر ہے۔ اس کے ہتھے چڑھ گئے تو وہ بھی ایسے ہی اذیت پہنچائے گا۔ تب کیا ہوگا”۔ جب ایک زیر تربیت افسر نے پوچھا کہ” کیا وہ بھی اسکی طرح ظالم ہوں گے” تو وہ ہنستے ہنستے کہنے لگی کہ” اگر مجھے ماں مانتے ہو تو ان کو ماموں سمجھو”۔

انہیں بڑی حیرت ہوئی جب ایک دن  اس نے پرس سے زندہ چوہا نکالا اور اگلی نشست پر بیٹھی لڑکی کی طرف اچھال دیا۔ لڑکی زور سے اپنی  جگہ اچھلی اور نیچے گری۔ جس پر اس نے یعنی بھاؤنا نے صرف اتنا کہا کہ Enemies have no table manner and you are not a wedding guest! (دشمن کے  ہاں کوئی آداب نہیں ہوتے اور آپ اس کے ہاں شادی کے مہمان بن کر نہیں جارہے)۔

سکھبیر پانڈے نے وہ واحد لڑکی دیکھی جو سانپ، چوہوں  ، چھپکلی اور بچھو کو ہاتھ سے پکڑلیتی تھی۔ وہ کہا کرتی تھی کہ سانپ،چوہے اور مرد کو ہمیشہ گردن سے پکڑنا چاہیے۔ سب حیرت زدہ رہتے کہ یہ زہریلے بچھو وہ اپنی ہتھیلی پر کیسے مزے سے آرام سے چلاتی رہتی تھی۔ کبھی کبھی وہ اس کے مظاہرے کے لئے اپنی انگوٹھی سے دم کو چھیڑتی تو وہ بلند کرکے ڈنک مارنے کی کوشش کرتا تھا جس پر وہ مسکرا کر اپنی سفاک حکمت سے یہ جواہر پارہ اچھالتی تھی کہ عورت اور بچھو کی دم سے بچو۔ جب کوئی ایجنٹ ضد کرتا کہ عورت کی دُم کیا ہوئی۔ تو وہ کہتی تھی دیکھو یہ انگوٹھی جب تک یہ اس کے دم کو نہیں چھیڑتی یہ اٹیک نہیں کرتا۔ تو یہ جان کر رکھو کہ عورت ہو یا کوئی اور اس کی برداشت کی حد کہاں ختم ہوتی ہے۔ یہ بات کا پتہ چل جائے تو آپ اس کو منفی طور پر بھی استعمال کر سکتے ہو اور مثبت طور پر بھی۔

نفسیاتی تربیت کے بعد  میں انہیں نماز، اور دیگر اسلامی تعلیمات سے آشنائی کرائی گئی۔ اسے پہلے تو نماز کی تربیت سینٹر کے اندر ہی دی گئی ،بعد میں ایک ایجنٹ کے ہمراہ انہیں علاقے کی مسجد میں  پانچ وقت بھیجا جاتا۔ دو ایجنٹ ان کی  نگرانی کے لئے ہروقت مسجد کے باہر موجود رہتے۔ انہیں وہاں مسجد میں موجود کسی سے تعلقات بڑھانے کی اجازت نہ تھی۔ وہ اس کی شناخت سب سے چھپا کر رکھنا چاہتے تھے کیوں کہ ان کے اندازے کے مطابق اس علاقے میں پاکستان سے ہمدردی رکھنے والے اور  وہاں رشتہ داریاں رکھنے والے کئی افراد موجود تھے۔ چونکہ اس علاقے میں پاکستان کا ویزہ دلانے والے ایجنٹوں کی بھی بھرمار تھی جن کے بارے میں شبہ تھا کہ ان کے پاکستانی سفارت خانے والوں سے گہرے تعلقات ہیں۔ وہ احتیاط کرتے تھے کہ کوئی ایجنٹ انکی موجودگی اور بات چیت میں نادانستہ طور پر کوئی راز نہ اچک لے۔

وہ اکثر یہ بھی سوچتا تھا کہ اس ٹریننگ سینٹر کو یہاں مسلمانوں کے علاقے کے قریب میں کیوں قائم کیا گیا ہے۔ مگر اس کا کوئی خاطر خواہ جواب اسکی سمجھ میں نہ آتا۔
یہ دینی ٹریننگ اس کے لئے سب سے مشکل مرحلہ تھا۔ اسے پاکستان میں ایک جعلی شناخت کے ساتھ رہنا تھا۔ پاکستانی گو اتنے  غور سے مشاہدہ کرنے والی قوم نہیں سمجھے جاتے پھر بھی ایک ہندو کا مسلمان بن کر ان کے درمیان رہنا ایک مشکل کام تھا۔ اسکی ٹرنینگ کے دوران کئی دفعہ اسے سکھبیر پانڈے کے نام سے بلایا جاتا، یہ دیکھنے کے لئے کہ وہ اس نام پر چونکتا یا جواب تو نہیں دیتا۔ نمستے پر جواب تو نہیں دیتا اور اسلام وعلیکم کے جواب میں وہ کیا کہتا ہے۔ اسے نماز پڑھنا صحیح سے آئی ہے یا نہیں۔ وہ روزہ رکھنے سے بھوک پیاس کے ہاتھوں پریشان تو نہیں ہوتا۔ سکھبیر پانڈے اس ٹریننگ سے خاصی الجھن محسوس کرتا رہا مگر اس معاملے میں اس سے کوئی رعایت نہ برتی گئی۔ اسے بتلایا گیا کہ اسلحہ اور تخریب کاری نسبتاً آسان کام ہیں۔ اصل مسئلہ ایک ہندو کا دشمن ملک میں مسلمان بن کر اس طرح رہنا کہ مسلمانوں کو اس کے دین کے بارے میں شک نہ ہو، یہی اسکی تربیت کا سب سے اہم مرحلہ ہے۔ اس تربیت میں اسے دوسری دفعہ شدید مشکل اس وقت پیش آئی جب اسے قرآن کی سورتیں یاد کرائی گئیں۔

manori Mumbai
delhi-hauz-khas-
Karol_Bagh
thatta
kabirnagar
ormara

چھ مہینے کی اس تربیت کے بعد اسے اسلحہ استعمال کرنے، اپنے کام کے لئے ایجنٹ بھرتی کرنے اور بم وغیرہ بنانے کی ترکیب، انہیں مختلف پبلک مقامات پر نصب کرنے کی تربیت دی گئی، یہ مرحلہ بھی چھ ماہ میں مکمل ہوا۔اس دوران اسکے کئی Dry Run Tests (وہ جعلی امتحانات جس میں ناکامی کے امکانات کو کم سے کم کردیا جاتا ہے) بستی  نظام الدین، گڑ گاؤں، حوض خاص اور قرول باغ کے علاقے میں ہوئے جن میں اس کی  کامیابی اور دیدہ دلیری نے سب کو متاثر کیا۔  اس  دوران  اس کی ملاقات تین دفعہ اسکے والدین سے ان کے کبیر نگر والے سیف ہاؤس پر ہی کرائی گئی۔ آخری  دو ملاقاتوں میں اسکے والدین بھی  اسکا یہ نیا روپ دیکھ کر پریشان ہوگئے کہ کیا یہ انہی  کی اولاد ہے مگر وہ یوں مطمئن تھے کہ اسکا حلیہ جو بھی ہو ایک تو وہ محفوظ ہے اور بقول اسکے وہ بھارت ماتا کی سیوا کے لئے ایک مشن پر جانے والا ہے۔

سکھبیر پانڈے کو دیکھنے سے اب کسی کو شک نہ ہوتا تھا کہ یہ ایک ٹھیٹھ  ہندو ہے جس نے مسلمان کا جعلی روپ دھار لیا ہے۔ اسے کہا گیا کہ وہ پاکستان میں اپنی ڈیوٹی پانچ سال سرانجام دے گا۔جس کے بعد یہ ادارہ اسکی باقاعدہ بھرتی اپنے یہاں ایک افسر کے طور پر کرلے گا اور اس کی اگلی پوسٹنگ تین سال کے لئے، الماتا، باکو یا دوشنبے میں کردی جائے گی۔ سکھبیر نے ان میں سے کوئی نام اس سے پہلے نہیں سنا تھا۔ یہ انکے قازقستان، آذربائیجان اور تاجکستان کے اسٹیشن تھے۔

Advertisements
merkit.pk

گیارہویں مہینے اسے جمیل احمد کے نام سے جعلی پاکستانی پاسپورٹ پربمبئی سے چالیس میل دور ایک ماہی گیر بستی مانوری سے مچھیروں کے روپ میں انہیں کی کشتی میں بٹھادیا اس کا سمندری سفر ویراول، پوربندر، مٹھا پور، مانڈوی اور پھر کچھ زمین کے راستے اور کچھ چھوٹی کشتیوں سے ٹھٹھہ تک جاری رہا۔ ٹھٹھہ سے وہ کراچی آگیا اور کچھ دن وہاں قیام کرواکے وہاں سے اسے اووڑ مارہ کے راستے لانچ کے ذریعے عمان بھجوایا گیا۔ یہ سب کچھ اسلئے کیا گیا کہ اس کی عمان سے جب واپسی ہو تو وہ ان لوگوں میں رہ کر کوئی اجنبیت نہ محسوس کرے۔ سفر میں انسان بہت کچھ سیکھتا ہے۔ جاسوسی کے لئے دشمن ملک میں بھیجے جانے والے ایجنٹوں کی سب سے اہم خوبی مقامی لوگوں میں گھل مل کر رہنے کا فن ہوتا ہے۔
عمان میں بھیجے جانے کے لئے بلوچستان کے ایک مقامی ایجنٹ کی خدمات لی گئیں اور اسے اس نے شناختی کارڈ پاسپورٹ وغیرہ ایک کثیر معاوضے کے عوض کوئیٹہ سے بنوادیا۔ اس کے ساتھ جانے والوں میں کچھ تو مقامی مزدور تھے اور کچھ افغانی جنہیں اسی کی طرح جعلی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ اسی ایجنٹ نے بنوا کر دیا تھا۔۔ عمان کے ویزہ وغیرہ میں جان بوجھ کر ایسی خرابی رکھی گئی،کہ کچھ دن بعد جب اسکے کیمپ پرعمان کی پولیس نے چھاپا مارا تو غیر قانونی داخلے کے الزام میں دیگر افراد کے ساتھ اسے بھی پکڑ کر ڈی پورٹ کردیا گیا۔ واپسی پر اسے ایف۔ائی۔اے نے گرفتار کرکے دو دن اپنی تحویل میں بھی رکھا اور ایک مجسٹریٹ کی عدالت سے اس پر جرمانہ بھی کیا، جسے جرمانے کے برابر رقم رشوت کے طور پر بھی ادا کی گئی۔ جو وہاں موجود کسی انہیں کے کسی نامعلوم فردنے ادا کیا اور وہ رہا ہوگیا۔ اب ہر جگہ اس کا ریکارڈ بن چکا تھا۔ لہذا اس کو اس بات کا کوئی خوف نہیں رہا کہ کوئی یہ ثابت کرسکے کہ وہ پاکستانی نہیں
جاری ہے

  • merkit.pk
  • merkit.pk

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply