عورت اور بالشویک انقلاب.زہرا خان

SHOPPING

ہمارے سماج میں عورت کی عمومی سماجی حیثیت نہ ہونے کے برابر ہے اوربے علمی کی انتہا یہ ہے کہ ہم آج بھی جنس اور صنف کی تشریح میں کوئی فرق نہیں کر پاتے۔ اس کی خاص وجہ ہمارے معاشرے میں تیزی سے پھیلتے ہوئے غیر سائنسی رجعتی خیالات ہیں جو عینی نظریات پر مبنی رسم ورواج اورعقائدکے نام پر عورت پر مسلط کئے گئے ہیں ۔سماج میں موجوداس جہالت نے کبھی ان غیر سائنسی خیالات کو رد کرنے یا انسان کو یہ سوچنے پر مجبور نہیں کیا کہ کیوں عورتوں پر صدیوں سے جنس کی بنیاد پر تفریق روا رکھی جاتی رہی ہے ۔صورتحال یہ ہے کہ خود کو باشعور سمجھنے والے بھی ایسی ہی غلطی کو دہراتے رہتے ہیں اور یوں نہ ختم ہونے والا سلسلہ پیڑھی در پیڑھی چلتا رہتا ہے۔

اینگلز کے مطابق سماج میں جب monogamy (کثرتِ ازدواج) کا تصور عام ہوا اور مردوں نے عورت کی fertility (زرخیزی) کو ذاتی ملکیت کے طور پر وارث کے حصول کے لیے کنٹرول کرنا شروع کیا تب سے عورت کی سماج میں حیثیت گرتی چلی گئی یعنی جب سماج میں آلات پیداوار سادہ تھے تب سماج اشتراکی تھا جہاں ہر فرد برابر تھا اور کسی بھی قسم کی تقسیم یا استحصال موجود نہ تھا مگر جب سماج میں ذاتی ملکیت رائج ہوئی اور اس کی بنیاد پر ایک انسان کے ہاتھوں دوسرے انسان کے استحصال کا آغاز ہواتواس کا مطلب مرد کی حاکمیت اور کنبے کے تمام افراد پر اس کی اجارہ داری تھا۔ یوں عورت دیگر اشیاء کی طرح ذاتی ملکیت کہلانے لگی جسے دیگر اشیاء کی طرح جب چاہے مرد خرید سکے اور آسانی سے فروخت کر سکے۔

سماج میں پھیلے دیگر فکری مغالطے جودور کرنا انتہائی ضروری ہے ان میں سے ایک جنس اور صنف سے متعلق غیر سائنسی رویہ ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ جنس کا مطلب کسی کا پیدائشی طور پر عورت یا مرد پیدا ہونا ہوتا ہے جسے تبدیل نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی سماج کا اس عمل میں کوئی دخل ہوتا ہے ، جو کہ ہر سماج میں ایک جیسے ہی ہوتے ہیں جسے ہم خالصتاً حیاتیاتی فرق کہہ سکتے ہیں مثلا عورت بچہ پیدا کر سکتی ہے اور دودھ پلاسکتی ہے ۔ جبکہ صنف کا مطلب معاشرے میں کام کی تقسیم ، ذمہ داریاں اور کردار کو بحیثیت مرد اور عورت کے معین کرنا ہے۔ یعنی معاشرتی/ سماجی قدروں کوبحیثیت مرد اور عورت لاگو کرنا، جو کہ تبدیل ہو سکتے ہیں اور یہ ہر سماج میں مختلف ہوتے ہیں اور یہ تاریخ کے مختلف ادوار میں تبدیل ہوتے رہے ہیں اور اسے ہم دوسرے لفظوں میں سماج سے حاصل شدہ شناخت کہہ سکتے ہیں ۔

عورتوں سے متعلق تصورات جسے صدیوں سے حقیقت سمجھ کر سماج کے شعور کا حصہ قرار دے دیا گیا ہے جو نہایت لغو اور حقائق سے کوسوں دور ہیں ۔جیسے یہ تصور کہ عورت مرد کی پسلی سے پیدا کی گئی ہے ، وہ کم عقل ہوتی ہے ، وہ پاؤں کی جوتی ہے اور کوئی کام درست نہیں کر سکتی۔ ان باتوں کو سماجی قدر بنا دیا گیا۔ یہی وہ تصورات تھے جو ذاتی ملکیت کے تصور کے ساتھ بڑی تیزی سے سماج میں پھیلائے گئے اور عورتوں پر صدیوں سے جبر اور تشدد کا بازار گرم کر دیا گیااور یہ سلسلہ اب بھی اسی شد ومد سے جاری ہے جسے عورت خود بھی ذہنی طور پر صحیح مان کر اپناتی آئی ہے اورسماج میں اس کی پروارش انہی خیالات کے تحت کی جاتی ہے۔ ذاتی ملکیت (پدرسری نظام) نے صدیوں پرانے مدرسری سماج، جہاں اوزار اور وسائل اجتماعی ملکیت تھے، اس میں موجود عورت کی حیثیت کو ختم کردیا ۔ آج شاید ہی عورتیں جانتی ہوں کہ انسانی تاریخ میں ایک ایسا بھی زمانہ تھا جب عورت سماج میں جنس نہیں بلکہ ایک کارکن کی حیثیت رکھتی تھی اور معاشرے میں عزت و احترام کی نظر سے دیکھی جاتی تھی اور اس کے فیصلوں کی اہمیت تھی۔

مگر مرد کی وسائل پر قبضے اورجارحیت کی عادت نے عورت کو کہیں کا نہ چھوڑا اور اسے مردوں کی لکھی ساری تاریخ میں فتنہ اور فساد کی جڑ بنا کر عبرت کا نشان بنا دیا گیا ۔مثلاََ ارسطو جیسے دانشور کا قول ہے کہ’’ خدایا تیرا شکر ہے کہ تو نے مجھے عورت پیدا نہیں کیا۔‘‘ عورت کی توہین مرد کبھی مذہب تو کبھی روایات کے نام پر کرتا رہا اوراسے نہ ختم ہونے والی غلامی کی زنجیروں میں جکڑتا چلاگیا۔ یوں قدیم اشتراکی سماج کے خاتمے کے ساتھ ساتھ طبقاتی سماج کا آغاز ہوا جہاں عورت کی کوئی اہمیت اور عزت نہ تھی وہ صرف مردوں کے لیے ایک غلام اور شے میں تبدیل ہوگی۔

سماج میں مختلف ادارے ہیں جو عورتوں کی غلامی کی حیثیت کو برقرار رکھتے ہیں جن میں گھر، سماجی نظام، معاشی رشتے اور رسم و روایات ہیں جن کے ذریعے عورتوں کومحکوم رکھا جاتا ہے۔ عورت کی غلامی کا آغاز گھر سے ہوتا ہے جہاں سماج کی نام نہاد روایات اور عقیدے بڑی مضبوطی سے اپنائے جاتے ہیں اورمختلف طریقوں سے ان پر عمل درآمد کروا کر برقراربھی رکھا جاتا ہے۔ اینگلز کے مطابق خاندان کوئی آفاقی) (universalشے نہیں بلکہ خاندان بھی وقت کے ساتھ ساتھ ارتقا پذیر ہوا۔یہ ہمیشہ سے ایسا نہیں تھا جیسا اب ہے ۔ خاندان (Family) لاطینی زبان کا لفظ ہے جو کہ Fomulus اور Familia سے نکلا ہے جس کے معنی گھریلو غلام یا ایک انسان کے تمام غلاموں پر اجارہ داری کے ہیں ۔

یوں ہم کہہ سکتے ہیں کہ خاندان غلامی کی بنیاد ہے اور اسی کی بنیاد پر عورت اور مرد میں نہ ختم ہونے والی تفریق گھر سے ہی شروع کی جاتی ہے جیسے بیٹے کی پیدائش پر اب بھی اکثر علاقوں میں خاندان خوشیاں مناتا ہے اور بیٹی کی پیدائش پر خوف اور سوگ کا منظر نظر آتا ہے ۔ اگر عورت حمل سے ہو تو خاندان کے سبھی لوگ بیٹے کی پیدائش کا تصور کر لیتے ہیں ۔بچے جیسے جیسے بڑے ہوتے ہیں ان کے لباس ، کھلونے اور کھانے پینے اور دیگر عادات میں سماج کے دیے ہوئے خیالات اور روایات کے مطابق فرق کرنا شروع کر دیا جاتا ہے۔جبکہ فطری طور پربچوں کا پیدا ہونا ، کھانا ، بولنا اور بڑھنا ایک ہی جیسا ہوتا ہے یعنی فطرتاً انسانوں میں کوئی فرق نہیں ہے سوائے جسمانی ساخت کے لیکن یہ انسان اور انسانی معاشرہ ہی ہے جو لڑکا اور لڑکی میں جنس کی بنیاد پر تفریق پیدا کر کے غیر سائنسی خیالات کو آگے بڑھاتا ہے اور نئی نسل میں نفرتوں کومنتقل بھی کر تا ہے ۔

خواتین حقوق کی علمبرداردانشورسیمون ڈی بور کہتی ہیں کہ ” لڑکیاں پیدا نہیں ہوتی بلکہ بنا دی جاتی ہے”یعنی پیدائش کے بعد یہ معاشرہ ہی ہے جو انسانوں میں تفریق پیدا کر دیتا ہے اور عورتوں کو کم تر گردانتا ہے ۔ گھر کے بعد معاشرے کے دیگر ادارے بھی ہیں جو مسلسل عورتوں کی تحقیر اور کمتری کو تقویت پہنچاتے ہیں ۔ اس میں تعلیمی نظام اور نصاب اہم کردار ادا کرتا ہے ۔ ہم اسکول کے نصاب کی بات کریں تو یہ بھی ہمیں واضح طور پر عورت اور مرد کا فرق بہادری اور جنگ کے قصے سنا اور پڑھا کربیان کر تا ہے ۔
اینگلز کہتے ہیں کہ” لکھی ہوئی تاریخ مردوں کی تاریخ ہے” جو حقیقت بھی ہے اس لیے کہ مردوں، خاص کر ذاتی ملکیت پر کنڑول رکھنے والوں نے جیسا چاہا تاریخ کو لکھ ڈالا اوریہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ عورت کم تر ہے اوراسے کمزورلاچار قرار دیا۔

تاریخ سے عورت کے حقیقی کردار کو غائب یا پھر مسخ کر کے پیش کیا گیاہے ۔آج تک لکھی کئی ساری تاریخ میں سب سے زیادہ بھیانک مذاق عورت کے ساتھ ہی روا رکھا گیا ہے ۔ مادیت پسند دانشور وں کے مطابق سماج میں جب ذرائع پیداوار تبدیل ہوئے اور ذاتی ملکیت نے مرد کی حاکمیت کو بڑھایا وہیں اس نے اپنے کنڑول کا غلط استعمال کرتے ہوئے قوانین بھی اپنے مقاصد اور کنٹرول کو برقرار رکھنے کے لئے بنائے اور مذہب کا سہار ا لے کر اسے جائز قرار دیا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ سماج میں موجود معاشی نظام ہی درحقیقت تمام سماجی رویوں ، مذہبی اعتقادات، رویوں اور دیگر معیارات اور قدروں کا تعین کرتا ہے ان سب کا مقصد صرف اور صرف حاکم طبقات کے مفاد کے لئے کام کرنا ہے اورحکمرانوں کو ہر طرح کا تحفظ فراہم کرتا ہے ۔

جس کی مثالیں ہمیں دنیا کے مختلف ثقافتوں اور عقیدوں میں نظر آتی ہیں جہاں مقدس خیالات کے نام پر عورتوں کی بَلی چڑھائی گئی۔کہیں اسے ستی قرار دے کرفوت شدہ مرد کے ساتھ ہی زندہ آگ میں جھونکنا پڑتا تھا اور اگر کوئی عورت انکار کر دے تو اس کی زندگی موت سے بھی بدتر بنادی جاتی تھی، کہیں عورتوں کو دوسری شادی کی اجازت ہی نہیں تھی۔جہاں قدیم عقائد نے سماج میں موجود عورت کی عزت کو مزید پامال کیاوہاں پادریوں نے اسے گناہ کا گھر کہا اور اسے کمتر ثابت کرکے مردکی غلام قرار دیااور ملاؤں نے مذہب کے نام پرامتیازی قوانین، آدھی گواہی اور مردوں کو چار شادی کی اجازت دے کر عورت کا وقار خاک میں ملا دیا۔ یہ سب ثابت کرتا ہے کہ تاریخی طور پر عقائد نے عورت دشمن کردار ادا کیااور عورتوں کو گھر اور چار دیواری میں قید کر کے ہمیشہ کے لیے مردوں کا غلام بنادیااورعورت کو مردوں نے اپنے مفادات کے لیے ڈھال بنا کر استعمال کیا ۔

اسی طرح دنیا کے ہر سماج میں جہاں ذرائع پیداوار پر ذاتی ملکیت کا رواج ہے وہاں مقامی روایات نے بھی عورتوں کی سماجی حالت کو مزید ابتر کیا ہے ۔خود ہمارے ملک میں وٹہ سٹہ ، کاروکاری، ونی سوارہ، قرآن سے منسوب کرنا، زبردستی یا کم عمری میں شادی کر دینا،لڑکیوں کو فروخت کرنااور جنسی کاروبار میں ملوث کرنا، فیصلہ سازی کے ہر عمل سے دور رکھنا، غیر ت کے نام پر قتل اور عورتوں کو زندہ دفن کرنے جیسی دقیانوسی روایات آج بھی فخریہ انداز میں جاری ہیں۔ اس کی خاص وجہ یہاں موجودسرمایہ داری نظام کے ساتھ ساتھ جاگیرداری نظام اور قبائلی نظام کی اب تک موجودگی ہے جن کی بقا بربریت کوقائم رکھنے اور اسے مزید آگے بڑھانے میں ہے ۔

سیمون ڈی بور کہتی ہیں کہ” مرد نے عورت کو قید کرکے خود اپنے لئے بھی مشکلات پیدا کر لی ہے لہذا وہ عورت کو آزاد کر کے درحقیقت خود بھی آزاد ہوگا” ۔مگر سماج میں موجود حکمران طبقات اور ان کے خیالات کے زیر اثر اکثر افراد عقیدے کی آڑ میں خواتین کی غلامی کی حیثیت کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں اور صدیوں سے جبر کے ذریعے حاصل کردہ بالادستی کو کسی بھی قیمت پر کھونا نہیں چاہتے ۔ مگر تاریخ میں قدیم اشتراکی نظام کے بعد ایک دور ایسا بھی آیا جس نے سماج میں موجود ان خیالات کو یکسر تبدیل کردیا اور عورتوں کو ان کے حقوق مل سکے جو دنیا میں کہیں اور یا سرمایہ دار ممالک میں آج تک حاصل نہ سکے ۔ وہ سوشلسٹ دور تھا جس کا آغاز روس میں مزدوروں کے اقتدار سے ہوا۔ جس میں تمام عورتوں کو آزادی سے جینے اور برابری کاحق ملا جس کا ثبوت عظیم اکتوبر انقلاب کے نام سے معروف ہونے والا7 نومبر 1917 کاسوشلسٹ انقلاب تھا ۔اس انقلاب نے تاریخ میں ہونے والے جبر کی بنیادوں کو ختم کیا۔ ان دو ادوار یعنی قدیم اشتراکی اور سائنٹفک سوشلسٹ نظام کے علاوہ دنیا کی تمام تاریخ طبقاتی تاریخ ہے اور عورتوں کی تذلیل اور اس کے خلاف جدوجہد کی تاریخ ہے۔

عورتوں کے مسائل سب سے پہلے سرمایہ داری دور میں اجاگر ہوئے جب صنعتیں لگنی شروع ہوئیں، مشینیں جدید ہوئیں اورفیکٹریوں میں کھپت کے لئے سستے مزدور کی صورت میں عورتوں اور بچوں کوملازم رکھا جانے لگا۔ سرمایہ داری نے عورتوں کے استحصال کو دہراکر دیا، ایک بحیثیت عورت کے اور دوسرا بحیثیت عورت مزدور کے۔ مگر ایک اہم صورتحال جو سرمایہ داری نے پیدا کی وہ یہ تھی کہ اس نے اپنے معاشی مقصد کے لئے فیکٹریوں میں مزدوروں کی ضرورت کی بنا پر عورتو ں کو خاندان کی غلامی سے آزاد کروایا اور یوں بہت سی عورتیں نے فیکٹریوں کا رخ کیا۔ یہ صورت حال صنعتی دور میں تمام دنیا کی طرح روس میں بھی تھی اور اسی قید سے آزادی نے عورتوں کو اپنے حقوق کے لیے لڑنا سکھایااور شعورسے ہم کنارکیا۔ انہوں نے اسی شعور کے نتیجے میں اپنے آپ کو ٹریڈ یونین میں اجتماعی مفادات حاصل کرنے کے لیے منظم کیا اور یوں خواتین جدوجہد کی ہر تحریک میں منظم اور شریک ہونے لگیں۔

خواتین کی جدوجہد کی تحریک کی تاریخ میں یہ حقیقت ہے کہ خواتین کے حقوق کے لئے سب سے پہلے بورژوا طبقے( سرمایہ دار) کی خواتین نے ہی اپنے آپ کو منظم کیا اور اپنے لئے چند طبقاتی حقوق کا مطالبہ کیا جس میں ووٹ کے حق کے ساتھ ساتھ ملکیت کے حقوق کے مطالبات شامل تھے۔ اپنے اس حق کے لئے انہوں نے بہت سی اجتماعی کوششیں بھی کی ۔ یہ خواتین، عورتوں کی آزادی کی بات تو کر رہی تھیں مگر یہ بورژوا خواتین سماجی حقوق کی تحریکوں میں صرف اپنے طبقاتی مفادات کے لیے شامل ہوئی تھیں ۔ انہیں دیگر خواتین اورخصوصاً محنت کش خواتین کے حقوق اورمفادات سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ وہ صرف اپنے لیے مزید چند سہولیات اور مراعات کا مطالبہ کررہی تھیں اور وہ چیزوں کو صرف مرد با مقابلہ عورت کے طور پر دیکھ رہی تھیں ۔

جبکہ اس دور میں چند باشعور عورتوں نے محنت کش خواتین کے حقوق کی بات کا آغاز کیا اور ان کا مطالبہ تھا کہ عورتوں کی آزادی بنیادی طور پر محنت کش عورتوں کی آزادی سے جڑی ہوئی ہے۔ وہ خواتین کے صنفی مسائل کے ساتھ ساتھ محنت کش خواتین کے تمام معاشی، سماجی و سیاسی مسائل کی بات بھی کررہی تھیں ۔ وہ اس حقیقت کو جان گئی تھیں کہ عورتوں کے استحصال کی سب سے بڑی وجہ ذاتی ملکیت اور سماج میں موجودبالا دست طبقات ہیں۔ وہ صنف سے جڑے مسائل کو سماج میں استحصال کرنے والے اور استحصال سہنے والوں کی طبقاتی کشمکش کے ساتھ جوڑ کر دیکھ رہی تھیں۔ یہ رحجان بعد میں مارکسسٹ فیمنزم کے طورپر موسوم ہوا اور انہی مارکسسٹ خواتین کی انقلابی تحریک نے آگے چل کر دنیا کو بدلنے میں اہم کردار ادا کیا۔

دنیا بھر میں استحصالی نظام کے خلاف جاری انقلابی تحریکوں میں سب سے اہم معرکہ صنعتی ممالک کے سب سے پسماندہ ملک روس میں وقوع پذیر ہوا جس نے انسانی تاریخ خصوصاً خواتین کی حقوق کی جدوجہد پر انمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔ روسی سماج نیم صنعتی ، قبائلی اور جاگیردارانہ تھا جہاں عورتوں کو تعلیم حاصل کرنے کا حق نہ تھا اورنہ ہی انہیں باہر جانے اور کام کرنے کی اجازت تھی۔ روس میں مسیحی آرتھوڈوکس صدیوں سرکاری مذہب رہا جس نے عورتوں کی سماج میں آزادی کوہر طرح سے سلب کیا کیونکہ چرچ کا عورتوں کی زندگی پر کنٹرول تھاجو مرد کو طاقت دیتی تھی کہ وہ چاہے تو عورت کو طلاق دے سکتا ہے مگر عورت طلاق کا مطالبہ نہیں کرسکتی اور نہ ہی انہیں باہر جانے کی آزادی تھی ۔ عورتوں کو جائیداد میں بھی کوئی حق نہیں تھا اور نہ ہی انہیں مرضی سے گھر بدلنے یا ملک چھوڑنے کا اختیار حاصل تھااور نہ ہی ووٹ کا حق تھا۔

یہ وہ حالات تھے جن میں ان عورتوں نے کام کا آغاز کیا اور عورتوں کی تحریکیں منظم ہوئیں ۔اس کا پہلا اظہار 1905 میں نظر آیا جب سینکڑوں کی تعداد میں عورتوں اپنے اوقات کار کو کم کروانے اور اجرتوں میں اضافے کی بات کر رہی تھیں اور ریلی کی صورت میں زار کے محل کی طرف بڑھ رہیں تھیں مگر اس مظاہرے کو زار کی فوجوں نے تشدد کر کے ناکام بنادیا۔ مگر 1905 میں ہی بورژواخواتین نے عورتوں کی پہلی کانفرنس بلائی جس میں انہوں نے اپنے لیے ووٹ اور جائیداد میں اپنے حق کے مطالبات کا ذکرکیا تھا۔ مگر مارکسسٹ خواتین نے تمام کام کرنے والی خواتین کے لیے ووٹ کے حق کا مطالبہ کیا اور استحصال کے خلاف کام کرنے والوں کے اتحاد کی بات کی۔

جس کے بعد انہوں نے محنت کش خواتین میں کام کرنے کے لئے سوشل ڈیموکریٹک وومن کے نام سے تنظیم قائم کی تاکہ بورژوا خواتین کے اثر کو کم کیا جا سکے اور خواتین کے ساتھ مختلف جگہوں پر رابطوں کا آغاز کیا جس سے بورژوا خواتین خوف زدہ ہوئیں اور پھر انہوں نے 1908 میں آل رشیا وومن کانگریس بلائی۔ اس میں بھر پورشرکت کے لیے مارکسسٹ خواتین نے اپنے کام کو مزید تیز کیا اور اس کانگریس کے لیے مختلف فیکٹریوں اور علاقوں سے اپنے نمائندے چنے۔ اس کانگریس میں خواتین محنت کش کی تعداد صرف 45 تھیں جبکہ بورژوا طبقہ سے تعلق رکھنے والی 700 خواتین اس کانگریس میں شریک ہوئیں۔

مگر ان 45 محنت کش خواتین نے اس کانگریس کو اپنے نظریات کی تشہیر اور تمام خواتین کے حقوق کا مطالبہ ہر سیشن میں کیا اور اس کانگریس کے پلیٹ فورم کو اپنے مقصد کے لیے استعمال کیا جس میں کام کی جگہ پر تحفظ، ووٹ کا حق اور سیاست میں خواتین کی شمولیت جیسے اہم مسائل کو اٹھایا گیا۔ یہی وہ وقت تھا جب بورژا خواتین کے مقاصد واضح ہوئے۔ ان خواتین نے ذاتی ملکیت کے حق کے خلاف جدوجہد کی مخالفت کی یوں مارکسسٹ خواتین اور بورژوا خواتین کے درمیان ایک واضح سمت کا تعین ہوا جس کے مطابق بورژوا مرد اور بورژوا خواتین محنت کشوں کے استحصال سے فائدہ اٹھاتے ہیں تو کس طرح وہ عام خواتین کو ووٹ دینے کے حق کی حمایت کر سکتے ہیں جبکہ مارکسسٹ خواتین کی آزادی کو محنت کش کی آزادی سے جدا کرکے نہیں دیکھ رہی تھیں۔

ان کے مطابق کام کرنے والی خواتین کی آزادی تمام خواتین کی آزادی تھی جس کے لیے انہوں نے 1905 میں عورتوں کی پہلی کانفرنس (پیٹرسبرگ( کے بعدجدوجہد شروع کی اور 1907 میں کام کرنے والی خواتین کا پہلا اسٹڈی سرکل گروپ Working women’s Mutual Assisstance Associaiton کے نام سے بنایاجس میں سب سے زیادہ ٹیکسٹائل کے شعبے سے وابستہ محنت کش خواتین تھیں جو سوشلزم کے نظریے کو عام لوگوں تک پھیلانے اور زیاد ہ سے زیادہ خواتین کو ٹریڈیونین، سیاست اور خواتین پر ہونے والے استحصال کے خلاف جدوجہد میں شامل کرنے کے لیے کام کررہی تھیں اور مزید محنت کش خواتین کو اپنے ساتھ جوڑ رہی تھیں۔ اس گروپ کی خاص بات یہ تھی کہ اس میں مرد بھی شامل ہو سکتے تھے مگر لیڈینگ پوزیشن صرف عورتوں کے لیے ہی تھی۔

1910 میں کوپن ہیگن میں سوشلسٹ خواتین کی دوسری انٹرنیشنل کانفرنس میں کلارا زٹکن نے universal suffrage (ہر شخص کو ووٹ کا حق )کا مطالبہ دھرایا ، جو کہ انہوں نے 1907 میں ہونے والی سوشلسٹ عورتوں کی پہلی انٹرنیشنل کانفرنس میں بھی کیا تھا۔ ان کے مطابق ووٹ کا حق ذاتی ملکیت اور ذرائع پیداوارپرکنٹرول کرنے والوں کے خلاف جدوجہد کو مضبوط کرے گاجو کہ حقیقی طور پر صنفی تفریق کا باعث ہے، اور کام کرنے والی خواتین کو لوکل اسمبلوں اور قانون سازی اسمبلی تک لے کر جائے گا۔ اس سے وہ حالات کو بہتر بنا سکیں گی۔اس پر کانفرنس اور کانفرنس سے باہر بھی بحث ہونے لگی کیونکہ چند سوشلسٹ پارٹیوں کی سرگرم خواتین اور مرد وں نے universal suffrage کے حق کی مخالفت یہ کہہ کر کی اسے صرف لوکل الیکشن تک رکھا جائے اور کچھ نے یہ کہہ کر مخالفت کی کہ یہ حق صرف جائیداد رکھنے والی خواتین تک ہی محدود ہونا چاہیے۔

جبکہ چند لوگ اس بات پر بحث کر رہے تھے کہ یہ حق 30 یا40 سال سے اوپر کی خواتین تک محدود کیا جائے۔ اس کے علاوہ اس کانفرنس میں خواتین کے عالمی دن کے منانے کے حوالے سے بھی خیالات کا اظہار کیا گیا۔ اگلے سال ہی 1911 میں پہلی بار خواتین کاعالمی دن منایا گیا جب کہ جرمنی اور دیگر ممالک میں سو شلسٹ خواتین یہ دن منانے میں کامیاب ہوئیں۔
روس میں یہ دن پہلی بار 28 فروری 1913 کو منایا گیا۔ مگر اس وقت معاشی اور سیاسی بحران دیگر ممالک کی طرح روس میں بھی بڑی تیزی سے پھیل رہا تھا۔ 1913 میں پہلی سامراجی جنگ کا آغاز ہوا اور یہی وہ موقع تھا جب محنت کشوں کی عالمی تنظیم” دوسری انٹرنیشنل” دو حصوں میں تقسیم ہوئی ۔ ایک دھڑے نے عوام کی خواہشات کے بر خلاف سامراج جنگ کی حمایت کی اور اسے قومی جنگ قرار دے کر اپنے اپنے ملکوں کے بورژوا طبقے کا ساتھ دے کر محنت کش عوام سے غداری کی۔

جبکہ دوسرے گروہ نے اسے سامراجی جنگ قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف محنت کش عوام کو منظم کیا جو بعد میں تیسری انٹرنیشنل کی صورت میں نمودار ہوئی۔ یہی وہ زمانہ تھا جب فیکٹریوں میں کام کرنے کے لیے مزید مزدوروں کی ضرورت پڑی جن میں سب سے زیادہ خواتین نے بھوک سے لڑنے کے لئے فیکٹریوں کا رخ کیا کیونکہ مردوں کو جنگ کی آگ میں جھونک دیا گیا تھا ۔ روس میں جنگ کے خلاف مزاحمت میں بڑی تیزی آئی کیونکہ10 ملین سے زیادہ کسانوں کو اس جنگ میں مجبوراً جانا پڑا۔ ڈیڑھ ملین لوگ 1917 تک مارے گئے اور چار ملین لوگ زخمی ہوئے۔ اس جنگ نے بھوک اور مہنگائی میں بڑی تیزی سے اضافہ کیا اور شہر کھنڈرات میں تبدیل ہوتے گئے جس کی وجہ سے خواتین کی حالت مزید بری ہوتی جا رہی تھی۔ انہیں کھیتوں سے ہٹا کر فیکٹریوں میں ہفتے میں 60 گھنٹے کا م کروایا جارہا تھا ۔

اپنی اس ابتراور پسماندہ صورت حال کے خلاف اظہار انہوں نے منظم ہو کر کیا۔ چونکہ فیکٹریوں میں خواتین کی تعدا میں تیزی سے اضافہ ہوا اور یہی ان میں شعور کی بیداری کی وجہ بنا اور اپنے آپ کو ٹریڈ یونین کی صورت میں منظم کرنا شروع کیا اور امن کے لئے پہلی بار 1913 میں خواتین کے عالمی دن پر ریلی نکلی گو کہ یہ بہت بڑی نہیں تھی مگر اس ریلی نے انہیں اپنے حقوق کے لیے مزید نئی راہیں فراہم کیں۔ 1914 میں لینن کے پر زوراصرار پر خواتین کے لئے ایک رسالہ Rabotnitsa (The Women Workers) کے نام سے نکالاگیا (اس سے پہلے Parvada کے نام سے ایک پیپر نکلتا تھا جس میں عورتوں کے مسائل کے حوالے سے لکھا جاتا تھا) تاکہ خواتین میں سوشلسٹ شعور کو مزید بڑھایا جا سکے ۔ لینن نے کہاتھا کہ کمیونزم میں ہی خواتین آزاد ہو سکتی ہیں۔ اور اس مقصد کے لئے اس رسالے میں دیگر علاقوں میں ہونی والی جدوجہد اور حالات کے بارے میں لکھا گیا اور مہنگائی اور جنگ کے خلاف کئی مظاہرے بھی کئے گئے۔

اس رسالہ کی خاص بات یہ تھی کہ فیکٹری کی خواتین فنڈ جمع کرکے اس رسالے کو نکالتی تھیں اور پھر خود ہی اسے تقسیم بھی کرتی تھیں۔ اس سال بھی خواتین کے عالمی دن کے حوالے سے مظاہرے کئے گئے اور اسی سال وومن ورکرز نے اپنا پہلا شمارہ بھی نکالا مگر چند مہینوں بعد ہی اس شمارے کے سارے ایڈیٹوریل بورڈ جس میں کروپسکایا، انسہ آرمنڈ، الگزنڈر اکولن تائی اور دیگر کامریڈ خواتین تھیں انہیں زار کی پولیس نے گرفتار کر لیا اور بالشویک پارٹی کے تمام اخبارات بند کر دیئے گئے۔ کامریڈ لینن کو بھی روپوش ہونا پڑا ،کیونکہ ا ن کی جان کو خطرہ تھا۔ مگر ان تمام پابندیوں اور سختیوں کے باوجود 1915 میں پارٹی کا کام بڑی تیزی سے پھیلا خاص طور پر خواتین ورکروں میں کیونکہ فیکٹریوں میں ان کی تعداد میں مزید اضافہ ہورہا تھا اور وہ اپنے حالات کو بہتر بنانے کے لئے انقلابی تحریکوں میں سرگرم ہوئیں اور بالشویک پارٹی کا حصہ بنیں۔

جنگ کی تباہوں نے مزید لوگوں کی جانوں کو نقصان پہنچایا اور حالات بد سے بدتر ہوتے چلے گئے۔ اس دوران خواتین کامریڈز نے یہ طے کر لیا تھا کہ وہ اپنے حقوق حاصل کرکے رہیں گی اور جنگ کا خاتمہ کروا کر رہیں گی تب خواتین نے امن اورروٹی کے نام سے 28 فروری 1917 (8 مارچ)کو ایک شاندارہڑتال کرتے ہوئے مظاہرہ کیا جس میں90000 سے زیادہ خواتین اور مرد مزدور شامل تھے جو اس جنگ کے خاتمے اور اپنے شوہروں کی واپسی کا مطالبہ کررہیں تھیں اورwhite palace کی طرف بہادری سے بڑھ رہی تھیں ۔ مگر زار نے انہیں روکنے کے لیے مسلح سپاہی روانہ کر دیے جو خواتین کی اتنی بڑی تعدادکو دیکھ کر خوف زدہ ہو گئے اور پر امید بھی کہ یہ بہادر اورنڈر خواتین اپنا حق لئے بغیر واپس نہیں جائیں گی اور جنگ کا خاتمہ بھی ممکن ہو پائے گا۔

کیونکہ یہ تمام سپاہی بھی جنگ سے بیزار تھے اور وہ خواتین کی اس جدوجہد کو اپنی جدوجہد تصور کر رہے تھے اور ایسا ہی ہوا ، ان بہادر خواتین نے پانچ دن تک اپنا مظاہرہ جاری رکھا اور بلا آخر سپاہیوں کو بھی ان کے ساتھ شامل ہونا پڑا (کیونکہ وہ بھی جنگ سے تنگ آ چکے تھے) اور اپنے ہتھیار بھی ان خواتین کو دے دیے۔ یہی وہ لمحہ تھا جب زار نے ان بہادر اور نڈر خواتین کے آگے ہتھیار ڈالے اور یوں روس میں صدیوں سے جاری زار شاہی کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ممکن ہو پایا۔ فروری انقلاب خواتین کابہت بڑا کارنامہ تھا جس کی کامریڈلینن اور کامریڈ اسٹالین نے بھی حمایت کی تھی اور ان کا یہی نعرہ پارٹی کا بھی اہم نعرہ بنا Peace, Land and Bread ۔ لینن اور ان کے ساتھی جنگ ختم کرنا چاہتے تھے ۔ لینن اس وقت اگر عورتوں کے مطالبات یعنی امن اور روٹی(Bread (Peace and کو نہ مانتے تو شایدانقلاب کی اسی وقت موت ہو جاتی ۔لینن کے اسی عمل کے نتیجے میں بہت سی خواتین اورمرد ٹریڈیونین میں شامل ہوئے اور پارٹی میں بھی شمولیت اختیار کی۔

زار کے بعد پارلیمانی حکومت Kerensky کے زیر اثر بنائی گئی جسے لوگ سمجھ رہے تھے کہ زار سے کافی ترقی پسند ہے مگر اس حکومت نے بھی لوگوں کے مطالبات پورے نہیں کئے۔ تمام سپاہوں نے بھی کسانوں کے ساتھ ملکر زمین کی تقسیم کا مطالبہ کیا مگر kerensky نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا کیونکہ وہ ذاتی ملکیت کا حامی تھا۔ جس کی وجہ سے مزید سپاہی اور کسان بالشویک پارٹی کے ساتھ جڑے جو اس وقت ان کی بات کر رہی تھی۔اس سال (1917) لینن بھی اپنی جلاوطنی ختم کرکے واپس روس آگئے اور سوویت بنانے میں کسانوں اور مزدوروں کے ساتھ مل کر کلیدی کردار ادا کیااور ایسی تنظیم بنائی جس میں bosses اور land lord کی ضرورت نہیں تھی۔

چند مہنیوں بعد ہی لینن نے مزدور انقلاب کرنے کا مشورہ دیا کہ اب وقت ہے کہ اس بگڑتے ہوئے حالات کو مزدور انقلاب ہی ٹھیک کر سکتا ہے ۔بہت سے لوگ اس تجویز کے خلاف تھے ۔ عورتیں اور مزدور بھی کوئی نئے انقلاب کے لیے تیار نہیں تھے کیونکہ تھوڑے عرصے پہلے ہی انہوں نے زار شاہی کا خاتمہ کیاتھا اور وہ سمجھتے تھے کہ نئی حکومت ان کے مطالبات(جنگ کا خاتمہ ، کسانوں میں زمین کی تقسیم، کم اوقات کار ، مناسب اجرت اور مزدوروں کے پاس کھانے کو ہو) تسلیم کر لیں گی اور انہیں ان کے جائز حقوق دیں گی مگر Kerensky حکومت بھی برطانیہ اور فرانس کی جنگ میں شامل ہوگئی کیونکہ انہوں نے اسے ترکی اور ایران کے گرم پانی کے پورٹ دینے کا وعدہ کیا تھا ۔

یہی وجہ تھی کہ کرنسکی حکومت نے بھی جنگ جاری رکھنے اور سرمایہ دار ممالک کا ساتھ دیا۔ اس وقت لینن نے مزدور انقلاب کی بات کی اور اس کے لئے تمام سوویتوں کو بھی تیار کیا۔ چونکہ اس زمانے میں ذرائع ابلاغ کا کوئی نظام نہیں تھا، عورتوں نے فیکٹری فیکٹری اور بیرک بیرک جا کر لوگوں کوشعور دینا شروع کیا اورآمادہ کیا کہ وہ اقتدار پر قبضہ کریں۔ ہزاروں کی تعداد میں لوگ بالشویک پارٹی کے جلسوں میں آتے اورانقلابی رہنماؤں کی بات سنتے۔ کامریڈز نے ریلوے، ٹیلی گرام اور پوسٹ آفیس، الیکٹرک اور اسٹیٹ بینک پر قبضہ کر لیا ۔یوں دنیا میں پہلی بار مزدور انقلاب کا نعرہ بلند ہوا اور مزدوروں نے حکومت سنبھالی۔یوں جہاں سماج کے تمام شعبوں میں انقلابی تبدیلیاں آئیں وہیں عورتوں کوبھی انسانی تاریخ میں پہلی بار استحصال سے نجات ملی۔

اکتوبر انقلاب نے روس کی عورتوں کی زندگی ہی تبدیل کر دی ۔ لینن نے 1918 میں عورتوں کی کانگریس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم قانون کی عمارت میں کوئی ایک بھی اینٹ ایسی نہیں چھوڑیں گے جو عورتوں کو مردوں سے کمتر ثابت کرے۔ مزدوروں کے انقلاب کے نتیجے میں عورتوں کو پہلی بار ووٹ کا حق ملا۔ عورتوں کو آزادی اور برابری ملی اور صدیوں کی خاندانی غلامی سے آزادی ملی جو کسی سرمایہ دار ممالک میں عورتوں کو نہیں ملی۔ عورتیں بھی اب سیاسی، معاشی اور دیگر شعبوں میں اپنا فعال کردار ادا کرنے لگیں۔ عورتوں کو جائیداد اور ذرائع پیداوار میں برابر کا حق ملا اب وہ زمین بھی رکھ سکتی تھیں۔ اس کے علاوہ 1917 سے لے کر 1927 تک کے عرصے میں بہت سے نئے قوانین لائے گئے جس نے عورتوں کے خلاف استحصالی رویے اور استحصالی سماج پر ضرب لگائی۔

1918 میں شادی کے نئے قوانین لاگو ہوئے جس کی وجہ سے شادی کی رجسٹریشن کا عمل آسان ہوا اور پہلی بار عورتوں کو طلاق کا حق ملا اس سے پہلے عورتیں مرد سے طلاق لینے کی حق دار نہیں تھیں ۔ قانون میں عورتوں اور مردوں کو برابر کا درجہ دیا گیا۔ 1918 ہی میں عورتوں کوایام زچگی) (Maternity کے خاص سہولیات دی گئیں جس کے مطابق حاملہ عورتوں کو 16 ہفتے پہلے اور بچے کی پیدائش کے 16 ہفتے بعد تک چھٹیاں تنخواہ کے ساتھ ، رات دیر تک ان سے کام نہ لینا، اور نہ ہی بھاری /وزنی کام کروانا جیسی سہولیات شامل تھی۔ ماں کے تحفظ اور یوتھ کے لیے سرکاری طور پر محکمہ بنایا گیا۔ 1920 میں عورتو ں کو اسقاط حمل کا حق ملا جو اس سے پہلے نہیں تھا۔ اس کے علاوہ 1920 سے 1930 تک عورتوں کو ماہواری کے چند دنوں کی چھٹیاں بھی دی جاتی تھی۔ 1928 میں جائز اور ناجائز بچوں کا تصور ختم ہو گیا۔ خواتین کویکساں کام کی یکساں اجرت ملی اور کام پر رکھتے ہوئے صنف کی بنیاد پر تفریق کو ختم کیا گیا ۔ اس کے علاوہ عورتوں کے تمام ذاتی کام کو سماجی کاموں میں تبدیل کر دیا گیا تاکہ عورتیں زیادہ سے زیادہ سماجی تعمیر اوراسے بہتر کرنے میں اپنا کردار ادا کرسکیں۔

اینگلز کے مطابق کوئی قوم اس وقت تک آزاد نہیں ہو سکتی جب تک کہ اس کی آدھی آبادی کچن میں غلام ہو ۔ انقلاب کے بعد عوامی laundry بنائی گئی، عوامی dinining ہال اور بچوں کے لیے سینٹر کھولے گئے جن کی تعداد میں مزید اضافہ بھی ہوا ۔ ان سروسز سے 90% لوگ فائدہ حاصل کر رہے تھے۔ بے روزگاری الاؤنس بھی دیئے جاتے تھے اور اس سے بڑھ کر یہ کہ
سرمایہ داری اور جاگیرداری کی باقیات طوائف کے ادارے کو سرے سے ہی ختم کر دیا اور ان خواتین کو بھی انقلاب کے لیے سرگرم بناتے ہوئے سماج کا کار آمد شہری بنا یاگیا۔ یہ وہ تمام اہم کام تھے جو اکتوبر انقلاب کے بعد کئے گئے جو سرمایہ دار ملک میں کبھی نہیں ہو سکتے تھے اور آج بھی سرمایہ دار ممالک میں ان کا تصور ممکن نہیں۔

اس انقلاب نے سامراجی سرمایہ دار ممالک کی نینداڑا دی اور انہوں نے 17 ممالک کے ساتھ ملکرمزدور انقلاب کو ناکام بنانے کی ہر ممکن کوشش کی اور ان پر حملہ کر دیا جس کے نتیجے میں خانہ جنگی شروع ہوئی۔ اس خانہ جنگی کو ختم کرنے اور انقلاب کے دفاع کے لئے روسی مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین نے بھی بھر پور کردار ادا کیا۔ 1918 سے ہی انقلاب پر حملے شروع ہوگئے تھے جس میں خواتین نے ایک بار پھر اپنے آپ کو پہلے سے زیادہ منظم کرناشروع کیا کئی ایک اہم کانفرنسز کا انعقاد کیا گیاجس کا مقصدخواتین کو بڑی تعداد میں پارٹی کے ساتھ جوڑنا تھا۔ 1918 میں آل رشین کانگریس فار وومن بلائی گئی جس میں پورے روس سے 1184 خواتین نے شرکت کی۔

اس کانگریس کا مقصد عورتوں میں کس طرح کام کیا جائے جیسے مسائل پر بات چیت تھی۔ یہ کانگریس 1917 میں ہونا تھی مگر انقلاب کی وجہ سے یہ 1918 میں ہوئی جس میں لینن نے خواتین کے کام کو کافی سراہااور ان کے لیے مضامین بھی لکھے ۔ اس کا نگریس میں انہوں نے کہا کہ دنیا کی تمام جدوجہد سے یہ بات صاف ظاہر ہے کہ انقلاب کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ اس میں کتنی خواتین شامل ہیں اور خواتین کے بغیر انقلاب نا ممکن ہے۔خانہ جنگی کے دوران خواتین میں کام کو تیز کیا گیا اور ان کے لیے خصوصی کمیٹیاں بنائی گئی جس کا کام شہر کی خواتین اور پسماندہ علاقوں کی خواتین کو انقلاب کی کامیابی کے لیے جوڑنا تھا جوکہ مزدور حکومت اور نئے سماج کے لیے ضروری تھا تاکہ وہ اندرونی اور بیرونی دشمنوں سے لڑ سکیں۔لینن نے زور دیا کہ انقلاب سے پہلے اور انقلاب کے دوران خواتین کو منظم کیا جائے تاکہ وہ انقلاب کی کامیابی میں اپنا اہم کردار ادا کرسکیں۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ لینن خواتین کی پارٹی میں شمولیت کے لئے کس قدر سنجیدہ تھے جو انقلاب لانے اور بچانے کا ایک اہم عنصر تھا۔ خواتین کی کمیٹیوں نے فیکٹریوں اور مختلف عوامی مقامات پررابطے شروع کئے اور لوگوں کو کمیونزم کے بارے میں بتایا اور انہیں پارٹی کے اہم عہدوں تک پہنچایا۔ بعد میں(1919) ان کمیٹیوں کوZhenotdel کا نام دیا گیاجس نے خواتین کو سوشلزم کے لیے متحرک کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس کمیٹی کے عہدیداران باقاعدہ فیکٹریوں میں الیکشن کے ذریعے تین سے چھ ماہ کے لیے چنے جاتے تھے جو اپنے تجربات ایک دوسرے سے شیئر کرتے تھے۔ اس گروپ نے کسان اور مزدور عورتوں کے لیے سیاسی تعلیم اور literacy کلاسز کا انعقاد کیا ہوا تھا جس سے عورتوں نے کافی فائدہ اٹھایااورتعلیم کے شرح میں بھی اضافہ ہوا۔ پھر ان خواتین کو بالشویک پارٹی میں شامل کیا گیا اور سوویت کاموں میں بھی شامل کیا گیا۔ بعد میں اس کمیٹی نے Kummunistka کے نام سے خواتین کے لیے ایک میگزین بھی نکالا جس کا مقصد دیگر لوگوں تک انقلاب کے پیغام کو پہنچانا تھا ۔

عورتوں کے مسائل پر بہت سے مضامین بھی لکھے گئے اس میگزین کی circulation تین ہزار کے قریب تھی۔
لینن عورتوں کی الگ پارٹی کے خلاف تھے جس کا اظہار انہوں نے تیسری کمیونسٹ انٹرنیشنل کانگریس میں بھی کیا۔ ان کے مطابق comradeship کو مزید مضبوط کرنے کے لیے ضروری ہے کہ خواتین کے لیے کوئی الگ سے پروگرامز جیسے سوشلسٹ اسکول وغیرہ نہ کیا جائے بلکہ پارٹی پروگرامز کے اندر ہی خواتین کے مسائل پر بات کی جائے اورمحاذ بنائے جاسکتے ہیں۔ اس بات پر تو لینن نے اپنے کامریڈ ساتھیوں پر بھی کافی تنقید کی تھی کہ وہ باتوں میں ماہر ہیں مگر ان کی بیویاں اس کمیٹی (Zhenotdel) کا حصہ نہیں ہیں۔ وہ پارٹی کے لوگوں کے غیر سنجیدہ رویے کی تبدیلی کی بات کرتے تھے۔ اس لیے جہاں تک ممکن ہوا لینن نے خواتین کے ایشوز کو ہر جگہ اٹھایا اور اس کے لیے کام کیااور کہا کہ عورتوں کی حقیقی آزادی صرف کمیونزم سے ہی آسکتی ہے اور استحصال کے خلاف صرف ایک ہی راستہ ہے اور وہ ہے جدوجہدکا۔

انہوں نے کہا کہ مزدور جدوجہد کے نتیجے میں ہی سب سے زیادہ سیکھتے ہیں اس لیے وہ تنظیموں کے ساتھ جڑیں اور یہ اس بات کا ثبوت تھا کہ انقلاب کے کافی عرصے بعد بھی لوگ اس کے ثمرات حاصل کرتے رہے۔ روس ہی وہ پہلا ملک تھا جس میں عورتیں آرمی میں سرکاری طور پر بھرتی ہو سکتی تھیں اور یہ پہلا ملک ہے جس میں خواتین نے combat war کے مشن میں حصہ لیا۔ روس ہی پہلا ملک تھا جہاں کی خواتین سفیر اور کمیسار (وزیر) بھی بنیں جن میں کروپسکایا اور الگزنڈرا کولن تائی کا نام قابل ذکر ہے۔ اس کے علاوہ انسہ آرمینڈ، ویرا، اینااور ماریہ، yelen، valintina جیسے کئی نام ہیں جنہوں نے انقلاب کی کامیابی کے لیے بہت کام کیا۔ ان کی محنت کے نتیجے میں دنیا کی دیگر عورتوں نے بھی کافی عرصے تک فائدہ اٹھایا۔ جب کہ دوسری عالمگیر جنگ میں فاشزم کے خلاف جنگ میں سوویت یونین کی زویا اناطولیا جیسی کئی ایک نوجوان لڑکیوں نے اپنی جانوں پر کھیل کرہمت وبہادری کی اعلیٰ مثالیں قائم کیں۔ دنیا کی پہلی خلا بازعورت ویلنٹینا کا تعلق بھی سوویت یونین ہی سے تھا ۔

SHOPPING

سوشلسٹ ممالک کے تجربات بنی نوع انسان خصوصاََ عورتوں کے لیے روشنی کا مینار ہیں جہاں جنس کی بنیاد پر کوئی ظلم نہ تھا اور سب برابر کارکن کی حیثیت سے اپنے فرائض انجام دے رہے تھے۔
مگر سوویت یونین اور سوشلسٹ بلاک کے خاتمے کے بعد ، چند ایک ممالک کو چھوڑ کر، پوری دنیا میں سرمایہ داری کا غلبہ اور سامراجیت کا تسلط ہے،جس میں عورت طویل عرصے کی جدوجہد کے نتیجے میں پانے والی حاصلات سے محروم کر دی گئی ہے ۔لیکن ان حالات میں بھی سامراجیت ، سرمایہ داری کے خلاف پوری دنیا میں جدوجہد منظم ہو رہی ہے اور عورتوں کے حقوق کے لیے تحریکیں بھی نئے جوش و جذبے کے ساتھ نمودار ہو رہی ہیں ۔اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم شعوری بنیادی پر اپنے آپ کو سوشلسٹ انقلاب کے لیے تیار کریں اور زیادہ سے زیادہ خواتین کو اس جدجہدمیں شامل کریں۔ ہم اپنے کام کو کسان عورتوں اور محنت کش عورتوں میں پھیلادیں اور انہیں اس بات پر آمادہ کریں کہ حقیقی تبدیلی سوشلسٹ انقلاب سے ہی ممکن ہے جس میں تمام ذرائعِ پیداور سماج کی اجتماعی ملکیت ہو ں گے،فرد کے ہاتھوں فرد کے استحصال اور ذاتی ملکیت کے خاتمے سے عورت بھی حقیقی
معنوں میں آزاد ہو گی ۔
(کامریڈ زہر ا خان گھر مزدور عورتوں کی رہنما اور ہوم بیسڈ وومن ورکرز فیڈریشن کی مرکزی جنرل سیکریٹری ہیں)

SHOPPING

حال حوال
حال حوال
یہ تحریر بشکریہ حال حوال شائع کی جا رہی ہے۔ "مکالمہ" اور "حال حوال" ایک دوسرے پر شائع ہونے والی اچھی تحاریر اپنے قارئین کیلیے مشترکہ شائع کریں گے تاکہ بلوچستان کے دوستوں کے مسائل، خیالات اور فکر سے باقی قوموں کو بھی آگاہی ہو۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *