پہلے نہاؤ، پھر جوتیاں اُتارو۔۔گل نوخیز اختر

’’میں روز نہیں نہا سکتا‘‘۔ خانساماں نے بےچارگی سے کہا اور میرے اندر قہقہے ابلنے لگے۔ خالو فرقان کے ہاں کام کرنے والے ہر ملازم کے لئے لازم تھا کہ وہ روز نہائے۔ گھر میں آنے والے رشتے داروں کے لئے بھی لازم تھا کہ نہ صرف وہ اچھی طرح نہا دھو کر آئیں بلکہ گھر کے اندر جوتی پہن کر آنے سے گریز کریں۔ اگر کوئی جوتی پہن کر آجاتا تو خالو اپنی جوتی اتار لیتے۔ اصل میں ساری مصیبت ان کا گھر تھا۔ یہ گھر انہوں نے بڑے ارمانوں سے بنایا تھا، اس کی سب سے منفرد بات یہ تھی کہ اس گھر میں شیشے کا بہت زیادہ استعمال کیا گیا تھا، پورے محلے میں یہ شیشے والا گھر مشہور تھا۔ میں جب بھی خالو سے ملنے گیا انہوں نے مجھ سے ہاتھ ملانے سے پہلے یہ ضرور پوچھا ’’نہائے ہو؟‘‘۔ خالو کے نزدیک سردی گرمی کی کوئی اہمیت نہیں تھی، بس یہ ضروری تھا کہ بندہ نہایا ہوا ہو۔ میں نے ان کے گھریلو ملازمین کے قصے سنے تو دنگ رہ گیا۔ کام کرنے والی ماسی نے بتایا کہ اسے بھی روز ’بلاوجہ‘ نہانا پڑتا ہے جس کی وجہ سے پچھلے دسمبر میں وہ چھ سات دفعہ پسلیوں کے درد میں مبتلا ہو چکی ہے۔ ڈرائیور بھی روتا ہوا پایا گیا، کہنے لگا ’’سردیوں میں نہانے کی بجائے میں صرف منہ گیلا کرکے صاحب کے پاس آجاتا تھا۔ ایک دفعہ صاحب کو پتا چل گیا۔ اُس کے بعد ایک حمام والے کی ڈیوٹی لگا دی گئی ہے جو روز چیک کرتا ہے کہ میں نہایا ہوں یا نہیں‘‘۔ چوکیدار کی کہانی اس سے بھی المناک تھی۔ اُس نے بتایا کہ پہلے وہ ہر سیزن میں ایک ہی دفعہ جی بھر کے نہا لیا کرتا تھا لیکن جب سے خالو کے ہاں نوکری کی ہے روز نہانا پڑتا ہے جس کی وجہ سے لوگ اس کی ذات پر شک کرنے لگے ہیں۔ خالو فرقان مٹی کا ذرہ بھی دیکھتے تو بےچین ہوکر چیخنے چلانے لگتے۔ ان کی بیٹی کا رشتہ بھی اس لئے نہ ہو سکا کیونکہ لڑکے والے لڑکی دیکھنے آئے تو خالو نے ان کو اندر بلانے سے پہلے حکم دیا ’’جوتیاں اُتار لیں‘‘۔ کورونا تو اب آیا ہے خالو کو تو میں نے زندگی بھر کسی سے گلے ملتے نہیں دیکھا۔ عید کے روز بھی گھر سے اپنی جائے نماز لے کر جاتے، سب سے الگ کھڑے ہوکر نماز پڑھتے اور عید ملنے کے ڈر سے نماز ختم ہوتے ہی فوراً گھر کی راہ لیتے۔ دوست انہوں نے ساری زندگی کوئی نہیں بنایا لہٰذا بلاوجہ کسی سے ہاتھ ملانے کی ضرورت ہی نہیں پڑی۔ شادی بیاہوں میں جانے سے انہیں نفرت تھی۔ انہوں نے ساری زندگی صرف ایک شادی میں شرکت کی، وہ بھی اُن کی مجبوری تھی کیونکہ دولہا وہ خود تھے۔
خالہ پر سخت پابندی تھی کہ وہ محلے کی عورتوں سے دور رہیں۔ اگر کوئی ہمسائی خالہ سے ملنے گھر آجاتی تو اسے اندر بلانے کی بجائے گیراج میں بٹھایا جاتا اور خالو اپنے کمرے میں بیٹھے سی سی ٹی وی کے ذریعے پوری نظر رکھتے۔ یہ رویہ دیکھ کر بہت سے ہمسائیوں نے اُن کے گھر آنا ہی چھوڑ دیا۔ خالو اپنے گھر کے جنون میں مبتلا تھے، کوئی شک نہیں کہ یہ گھر انہوں نے بڑی محنت اور بڑے پیسے سے بنوایا تھا لیکن اِس گھر نے ان کا سکون برباد کرکے رکھ دیا تھا۔ انہیں ہر وقت یہی فکر رہتی کہ کہیں اِن کے گھر کے کسی کونے میں مٹی تو موجود نہیں۔ ہروقت ہاتھ میں ایک سفید رومال رکھتے تھے اور گھر کے مختلف کونوں میں پھیر کر چیک کرتے رہتے کہ کہیں کوئی گوشہ آلودہ تو نہیں۔ مجھے خالو سے بہت پیار تھا، وہ فون پر اکثر مجھ سے گپ شپ لگایا کرتے لیکن میں جب بھی ان سے ملنے جاتا وہ ایک دم چوکنے ہو جاتے اور میرے منہ سے فوراً نکل جاتا ’’خالو میں اچھی طرح نہا کر آیا ہوں‘‘۔ میرے اس جملے سے ان کی 50فیصد تسلی ہو جاتی، دروازہ بھی کھول دیتے لیکن ساتھ ہی اگلا جملہ سننے کو مل جاتا ’’جوتیاں اُتار لیں‘‘۔

Advertisements
julia rana solicitors london

خالو کا گاڑیوں کا بزنس تھا، روپے پیسے کی کوئی کمی نہیں تھی اس کے باوجود انہوں نے خود پر قدرت کی ہر نعمت حرام کی ہوئی تھی۔ چکن اس لئے نہیں کھاتے تھے کہ برائلر مرغی کا ہوتا ہے۔ دیسی مرغی اس لئے نہیں کھاتے تھے کہ اس سے کولیسٹرول بڑھ جاتا ہے۔ بڑا گوشت ویسے ہی ناپسند کرتے تھے اور چھوٹا گوشت اُس سے بھی زیادہ۔ سبزیوں کے متعلق ان کا فیصلہ تھا کہ یہ انتہائی گندے پانی اور جراثیم کش اسپرے کی بدولت تیار ہوتی ہیں لہٰذا اِن سے بچنا چاہئے۔ خالو کی ساری زندگی مرچ مسالے کے بغیر پھیکی دالیں کھاتے بسر ہوئی۔ الحمدللہ جو خود کھایا وہی ملازمین کو کھلایا!
دو سال پہلے خالو کو دل کی ہلکی سی تکلیف ہوئی اور اگلے ہی روز ان کی وفات کی خبر آگئی۔ میں بھی فوری طور پر ان کی طرف پہنچا۔ ہر وہ رشتہ دار جسے خالو ٹھکراتے آئے تھے وہاں موجود تھا۔ گرمی کی وجہ سے خالو کی میت کو ٹی وی لائونج میں رکھا گیا تھا اور چاروں اے سی بھرپور کولنگ کر رہے تھے۔ ٹی وی لاؤنج میں موجود سب لوگوں نے جوتیاں پہنی ہوئی تھیں اور بےشمار لوگ نہائے بغیر آئے تھے۔ اُس دن اگر کوئی اچھی طرح سے نہایا تو وہ صرف خالو تھے۔ اُس دن کسی کے پاؤں ننگے نہیں تھے، سوائے خالو کے۔ جب خالو کو قبر میں اتارا جارہا تھا تو شاید پہلی بار مٹی ان کے وجود سے آشنا ہوئی۔ قبر پر مٹی ڈالتے ہوئے کسی نے انہیں مٹی سے محفوظ رکھنے کی کوشش نہیں کی۔ سب نے جی بھر کے مٹی ڈالی۔ میں نے ان کے ملازمین کی طرف دیکھا تو مجھے لگا جیسے وہ اپنی جوتیاں اتارنے کے لئے بھی بےچین ہیں!

  • julia rana solicitors
  • merkit.pk
  • julia rana solicitors london

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply