جو چلے تو جاں سے گزر گئے(قسط7)۔۔محمد اقبال دیوان

تعارف:زیرِ  مطالعہ کہانی دیوان صاحب کی پہلی کتاب ”جسے رات لے اڑی ہوا“(چوتھا ایڈیشن زیر گردش) میں شامل ہے۔اسے پڑھ کر رات گئے ایک افسر عالی مقام کا فون یہ معلوم کرنے کے لیے آیا کہ مصنف کو یہ حقائق جو ہر چند ایک قصے کی صورت میں بیان ہوئے ہیں، کہاں سے دستیاب ہوئے۔ ؟کیا یہ ان کے ادارے کے کسی افسر نے بتائے۔ہمارے دیوان صاحب کا جواب تھا کہ دنیا بھر کی مرغیاں کتنی کوشش بھی کرلیں ایک ماہر شیف سے اچھا آملیٹ نہیں بناسکتیں۔ہمیں آپ شیف کا درجہ دیں اور اپنے افسروں کو مرغیاں مان لیں۔ان کی پیشکش تھی کہ دیوان صاحب سے ملاقات ہوگی  ، اور آئندہ کے کچھ پروگرام بنیں گے۔ افسر عالی مقام حالات کی گردش کی وجہ سے اپنے عہدے پر برقرار نہ رہ پائے اور

ع ،ان کہی ہی رہ گئی وہ بات سب باتوں کے بعد

tripako tours pakistan

والا حساب رہا۔

book title JRLUH
panchgani mumbai
panchgani mumbai

ادارہ ”مکالمہ“ چودہ اقساط کی اس طویل کہانی کو شائع کررہا ہے اور ممکن ہوا تو اسے ویب سیریز کی صورت میں ڈھالے گا۔کوشش جاری ہے۔

چیف ایڈیٹر :انعام رانا

چھٹی قسط کا آخری حصہ
مرلی بالاسنگھم نے اپنے فرائض منصبی کی آڑ میں ایک خفیہ منصوبہ بنایا۔ بمبئی میں اپنے ادارے کے ایک افسر کے ذریعے جسے سکھبیر پانڈے سے بڑی پرخاش تھی اس نے جوگیندر سے ملاقات کرکے ایک مشن سونپا۔ مشن کی تفصیلات جان کر جوگیندر کے تو اوسان خطا ہوگئے مگر اب اس کے سامنے دو راستے

تھے یا تو ان سے مشن کی تکمیل میں تعاون کرے یا اپنی کاروائیوں کا علم ان تمام لوگوں کو ہوجانے دے جن کے خلاف اس نے جاسوسی کی تھی۔ دوسرے راستہ میں جان کا خطرہ تھا اور پہلے میں دوستیاں اور احسان مندیاں برباد ہوتی تھیں۔ بہت دن سوچ کر بالاخر وہ ان سے تعاون پر رضامند ہوگیا۔
ساتویں قسط کا آغاز
جوگیندر کو ملنے والا مشن یہ تھا کہ ان کی کلاس شہر سے پنچ گنی پکنک جارہی تھی۔ اسے سکھایا گیا کہ وہ کسی نہ کسی طرح کانتا کے مشروب میں ان کی فراہم کردہ دوائی کے چند قطرے انڈیل دے گا۔ اس سے اسکی طبیعت اچانک خراب ہوجائے گی۔ وہ اسے سکھبیر پانڈے کی کار میں ڈال کر وہاں سے ایک سیف ہاؤس (وہ گھر جہاں خفیہ اداروں کے افراد اپنی کاراوئیاں کرتے ہیں) میں لے آئے گا۔ یہاں سکھبیر بانڈے اس کے ساتھ بلاتکار (زنا) کرے گا۔ سکھبیر پانڈے کو کانتا بہت پسند تھی مگر کانتا کو اس سے شدید چڑ تھی۔ کئی دفعہ وہ اس کی بے عزتی بھی کرچکی تھی۔ سکھبیر پانڈے کے دل میں کانتا کی تسخیر کے ساتھ ساتھ ایک انتقام کا جذبہ سرگرم بھی تھا مگر وہ اس کے والد کے اثر و رسوخ سے بھی خوف زدہ تھا۔

ایسا نہ تھا کہ سکھبیر پانڈے، عورتوں کے معاملے میں کسی محرومی کا شکار تھا، اسکے انڈر ورلڈ سے تعلقات، اسکی دولت اور اسکی مردانہ وجاہت کی وجہ سے بمبئی شہر میں اسکے لئے عورتوں کی کوئی کمی نہ تھی۔ کانتا کی بات ہی کچھ اور تھی۔ وہ اسکی قربت کا شدت سے خواہشمند تھا اور بار بار ٹھکرائے جانے کی وجہ سے اس کے دل میں کانتا سے قربت کی خواہش اور انتقام کے شعلے لپٹ لپٹ کر جلتے تھے۔محرومی کی ایک آگ ہر وقت اس کے سینے میں جلتی رہتی تھی۔

navel ring

جوگیندر، سے کہہ دیا گیا کہ وہ بلاتکار میں ہرگز شریک نہ ہو، پھرکبھی کانتا کی مہربانیوں کا بادل اس پر برس پڑے تو وہ پیار کی اس رم جھم میں جتنا نہائے انہیں کوئی اعتراض نہیں۔ اسکے ہینڈلر نے اسے
سمجھایا کہ زندگی کے کچھ انمول مواقع موجودگی اور جغرافیائی قربت کی وجہ سے ملتے ہیں۔ کچھ عورتوں سے تعلق اور ان کا لطف و کرم، سلپ کا کیچ ہوتے ہیں، فیلڈر صحیح جگہ پر کھڑا ہو اور الرٹ ہو تو کیچ ضرور ہاتھ میں آجاتا ہے۔ اسے سمجھایا گیا کہ کانتا چونکہ بے ہوش ہوگی۔ اسے پتہ بھی نہ چلے گا کہ اس کے ساتھ کیا زیادتی ہوئی ہے۔ جوگیندر کے پاس چونکہ تعاون کے علاوہ کوئی اور راستہ نہ تھا اور یوں بھی وہ ایک ایسا Geek (وہ لڑکا یا لڑکی جو اپنی بلند ذہنی سطح اور غیر دلچسپ شخصیت کی بنیاد پر پہچانا جاتا ہو) جس کو دیگر لڑکیاں در خور اعتناء نہ سمجھتی تھیں۔ یہ البتہ اسکے مشن کا حصہ ہے کہ وہ سکھبیر پانڈے کو بلاتکار یعنی زنابالجبرکی ترغیب ضرور دے گا۔ ان کا ارادہ سکھبیرپانڈے کو پکڑنے کا ہے کیوں کہ وہ انڈر ورلڈ کے ذریعے جرنیل سنگھ بھنڈراں والے کی مدد کرتا ہے اور اس کے عوض وہ خوب مال بٹورتا ہے۔ اس کی نئی کار بھی اسی کمائی سے آئی ہے۔جوگیندر کا یہ کام چاہے کتنا بھی انائتک اور پرتکارک (غیر اخلاقی اور نفرت انگیز) ہو، بہر حال، دیش ماتا بھارت کی سیوا ہے۔ تو چک دے پھٹّے، اس سے دو دیش دشمن ایک ہی تیر سے گھائل ہوں گے۔ رہا سکھبیر پانڈے، کانتا کے والد کے اثر و رسوخ کی وجہ سے ہرگز بچ نہ پائے گا۔

جوگیندر کئی دن تک سکھبیر پانڈے کا ذہن اس جرم کے ارتکاب کے لئے تیار کرتا رہا۔ پکنک والے دن کانتا اپنی حشر سامانیوں کے ساتھ آئی، چپکی چپکی سی سیاہ جینز جو گھٹنوں کو چوم کرواپس اوپر لوٹ جاتی تھی،عریاں کاندھوں پر ڈوریوں والا نارنجی ہالٹر، جو گاہے بہ گاہے اوپر ہو کر اسکی ناف کا حسن ظاہر کرتا تھا۔ جس میں اس نے اپنی والدہ کے اعتراض کے باوجود پیئرسنگ (چھدوانا) کروائی تھی اور اب اس میں ایک لال لال پتھروں والا، چھوٹا سا چھلا ڈالا ہوا تھا۔گلے میں ایک پتلا سا ہیرے والا لاکٹ جو اسکی نانی کی نشانی تھا سب کے منہ سے اسے دیکھ کر ایک زور کی “واؤ ” نکلی۔

پکنک کے دوران جوگیندر نے کمال چالاکی سے اس کی کولا میں اس دوائی کے چند قطرے ملا دیے۔ جب اس کی طبیعت خراب ہونے لگی تو جوگیندر نے اسے سکھبیر پانڈے کی کار میں ڈالا۔ راستے میں منصوبے کے تحت وہ اسے بے ہوشی کے عالم میں سیف ہاؤس میں لے گیا۔ سیف ہاؤس میں پہلے سے موجود،ایک ٹیم نے جوگیندر کے اغوا کا سوانگ رچایا، یہ وہ تفصیلات تھیں جو اسے نہیں بتائی گئی تھیں۔ اس ٹیم نے سکھبیر پانڈے کی گاڑی میں جوگیندر کو بٹھایا اور اسے لے کر چل پڑے۔راستے میں کار ہی میں پیٹ میں گولی مار کر اسے زخمی کردیا اور اسی حالت میں کسی ایسی جگہ ڈال دیا جہاں سے وہ پہلے ہسپتال اور پھر تھانے پہنچا دیا گیا۔ سیف ہاؤس میں نصب خفیہ کیمرے کی مدد سے پہلے تو سکھبیر پانڈے کے کانتا سے ریپ کی کاروائی کی فلم بنائی گئی۔ ارتکاب جرم کے دوران کانتا کو ہوش آگیا اور اس نے شور مچانے کی کوشش کی۔ اس اچانک ہوش مندی سے سکھبیرپانڈے نے گھبراکراس کا گلا گھونٹ کر اسے چپ کرانے کی کوشش کی۔ اسی کشمکش میں کانتا کا دم گھٹ گیا اور وہ مرگئی۔

سکھبیر پانڈے، کانتا کی اچانک موت پر اوسان خطا کربیٹھا ،وہاں سے فرار ہونے کی ٹھانی، جب باہر نکلا تو نہ اس کی کار وہاں تھی نہ جوگیندر۔ اسکی کار اور پستول مقام ِ  واردات سے بہت دور ایک پہاڑی کی اوٹ میں جنگل میں پکنک کے مقام سے کچھ دور پولیس کو مل گئے۔ کار کی پچھلی سیٹ پر کانتا اگروال مردہ حالت میں پائی گئی ،کانتا کے گلے پر اس کی انگلیوں کے نشان تھے۔ اسی کے پستول سے جوگیندر کو گولی ماری گئی۔ یہ سب کچھ پولیس ریکارڈ اور عدالت کے  لئے تھا۔ خفیہ ادارے نے البتہ اپنے مقصد کے لئے اس کے خلاف وہ ناقابلِ تردید شواہد اکھٹے کرلئے تھے جس سے اسے بلیک میل کرنے میں آسانی ہو۔ اب اس ادارے کے پاس اسکی تصاویر، اس کی آواز اور وہاں ہونے والی مجرمانہ کشمکش کا ہر ثبوت موجود تھا۔

ایسا لگتا تھا کہ گویا یہ کسی ڈرامے کا اسکرپٹ تھا جس کی عکس بندی عین اسکرپٹ کے مطابق ہوئی ہو۔

سکھبیر پانڈے مکمل طور پر ان کی گرفت میں آگیا تھا۔ اسکے خلاف، اغوا، اقدامِ قتل،ریپ اور قتل کے مقدمات قائم ہوئے۔ جن سے اس کا بچنا ناممکن تھا۔

پولیس کے ہاں جو مقدمہ درج ہوا وہ صرف سکھبیر پانڈے کے خلاف ہوا۔ جوگیندر اور سکھبیر پانڈے پریشان تھے۔ جوگیندر یوں پریشان تھا کہ کانتا کو وہ لے کر گیا تھا۔ سکھبیر پانڈے سے اب اس کا کوئی رابطہ نہ تھا البتہ ادارے کے جو انڈر ورلڈ سے اپنے روابط تھے ان کے ذریعے سکھبیر پانڈے کو یہ یقین دہانی کرائی گئی کہ کچھ طاقتور دوست جو دہلی کی انڈر ورلڈ کے ہیں اگر وہ ان کے لئے کام کرے تو وہ اسے پناہ دے کر پولیس اور جیل سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ یہاں بمبئی میں رہنا اسکے لئے غیر محفوظ ہے۔ اس کی وجہ سے انڈر ورلڈ کے ساتھیوں کی بھی پولیس غیر ضروری نگرانی کررہی ہے۔ بہتر یہی ہے  کہ وہ بمبئی چھوڑ دے۔ حکومت سیاسی طور پر لڑکھڑا رہی ہے جوں ہی وزیر اعظم ادھر اُدھر ہوئے، کانتا کے والد کا زور بھی ٹوٹ جائے گا۔ یہ تبدیلی آتے ہی وہ اسے پاکستانی پاسپورٹ دے کر دوبئی یا موزمبیق بھجودیں گے جہاں وہ ان کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔ سکھبیر پانڈے کو یہ باور کرادیا گیا کہ بصورت دیگر کانتا کے والد کی طرف سے اس کی گرفتاری کے لئے بہت دباؤ ہے اور اس کا بچنا ناممکن ہے۔ اس بات کا بھی امکان ہے کہ خود اسکے جرائم پیشہ ساتھیوں میں سے انعام یا خوف کی وجہ سے کوئی مخبری کردے اور وہ پولیس کے ہتھے چڑھ جائے ،یا یہ کہ شاید  اوپر سے ہدایات ہوں کہ اس کا کام پولیس مقابلہ دکھا کر پورا کردیاجائے۔

بمبئی کے علاقے اندھیری کا ڈان موہن دودھیا (جسے گوری رنگت کی بنیاد پر دودھیا کہا جاتا تھا) اسے سمجھانے لگا کہ اس کی اس حرکت کی وجہ سے پولیس کی آوک جاوک دھندے کے ٹھکانوں پر بہت بڑھ گئی ہے جس سے سب کو بہت چنتا ہے۔ کوئی اس لفڑے سے تنگ آکر کام اتار دے گا اس کی سپاری(سپاری انڈر ورلڈ کے محاورے میں بمبئی میں قتل کی پیشگی اجرت کو کہتے ہیں)کی باتیں ہو رہی ہیں یہ اسکے لئے بہتر ہے کہ وہ جتنا جلد ممکن ہو بمبئی سے شارٹ ہوجائے۔

خود سکھبیر پانڈے کو بھی برابر خبریں مل رہی تھیں کہ پولیس نے کئی دفعہ اسکے ملنے کے متوقع ٹھکانوں پر چھاپہ بھ ی مارا ،حتی کہ وہ اسکی تلاش میں اسکے والدین کے گھر چندی گڑھ اور یونیورسٹی کے ہاسٹل تک پہنچے اور جوگیندر کو بھی گرفتار کرکے لے گئے مگر یہ سب ایک سوچی سمجھی کارروائی اور میڈیا کا منہ بند رکھنے کے لئے تھا چونکہ وہ خود زخمی حالت میں ملا تھا اور پولیس اس کے پاس ہسپتال بھی خود ہی بغیر کسی دِقّت کے پہنچی تھا جب کہ سکھبیر پانڈے کی کار اس کے زخمی حالت میں پائے جانے والے مقام سے بیس کلو میٹر دور ایک پہاڑی کی اوٹ میں پائی گئی۔اس کا بیان تھا کہ سکھبیر پانڈے نے اسے گولی ماری جب اسے اس نے کانتا سے زیادتی کرنے سے روکا، کار میں اسکے خون کے دھبے بھی موجود تھے۔یہ سب اس کی بے گناہی اور مظلومیت کا بین ثبوت تھا۔

یہ کہانی خود کانتا کے والدین کے لئے قابل قبول تھی، گھر میں یونیورسٹی کے حوالے سے کانتا کافی باتیں کرتی تھی، اس نے کبھی بھی اپنے ساتھی جوگیندر کی کوئی برائی نہ کی تھی وہ ان کے گھر بھی آتا جاتا تھا۔ لہذا کسی کو جرم کی اس واردات میں ملوث ہونے کا شائبہ تک نہ ہوا بالخصوص پوسٹ مارٹم، اور سکھبیر پانڈے کے پستول کی برآمدگی اور اسلحہ کے ماہر کی تصدیق سے کہ اسے گولی بھی سکھبیر پانڈے کے پستول سے ہی ماری گئی ہے۔ سب یہ سمجھتے رہے کہ بے چارہ جوگیندر، کانتا کو بچانے میں اپنی جان سے جاتے جاتے بچا ہے۔

Kachi khajoori ma academy k bahir

دو دن بعد موہن دودھیا نے اس کی ملاقات خفیہ ادارے کے ایک ایسے افسر سے کرائی جس نے خود کو دہلی کی انڈر ورلڈ کا نمائندہ ظاہر کیا۔ اس ملاقات کے بعد وہ سکھبیر پانڈے کو اکیلے میں،
وہ ہینڈلر ایک سیف ہاؤس میں لے گیا۔ جہاں سے اسے دہلی بھیج دیا گیا۔ وہاں ایک نئی کہانی موجود تھی اسے بتایا گیا کہ دہلی میں وزیر اعظم کی وجہ سے وہ اس کی مدد کرنے سے قاصر ہیں۔ ان پر کانتا کے والد کا بہت پریشر ہے کہ ان کی بیٹی کے قاتل کو جلد از جلد گرفتار کیا جائے۔ اسکی وہاں کی انڈر ورلڈ سے تعلق داری اور موجودگی سے ان کے لئے خطرات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ البتہ وہ چاہے تو اسے ایک خفیہ ادارے کے افسر سے ملوایا جاسکتا ہے جو اس کی شاید  کچھ مدد کرسکے۔ اب اسکے پاس کوئی چارہ نہ تھا بجز اسکے کہ وہ ان کی ہدایات پر عمل کرے۔

ملاقات کا بندوبست ہوا اور وہاں موجود افسر نے بتایا کہ کانتا کے والد کی موجودگی میں ان کے اثر و رسوخ کے  باعث اس کا ہندوستان میں رہنا خطرے سے خالی نہیں۔ وہ اگر اتفاق کرے تو اسے ٹریننگ دے کر کہیں باہر بھیجا جاسکتا ہے۔ اس کی شناخت تبدیل کردی جائے گی۔ سکھبیر پانڈے اس بات پر قائل ہوگیا کہ اس کے لئے ہندوستان  میں پولیس اور جیل اور مقدمات سے بچنا ممکن نہیں۔ اب اس کے پاس ایک ہی راستہ ہے کہ وہ جان بچانے کے لئے ان کے ساتھ اپنا جوڑ بنالے۔

driver abdul baqi jesay log
sunedhi bawa jesay log
bahwana banerji jesay log

 

اب سکھبیرپانڈے کی ٹریننگ شروع ہوگئی۔ یہ ٹریننگ دہلی کے علاقے کچی کھجورّی کے پاس ان کی ایک ٹریننگ اکیڈیمی میں کرائی گئی۔ یہ اکیڈیمی ایک بڑی سی حویلی میں واقع تھی سننے میں یہ آتا تھا کہ قیام پاکستان سے بہت پہلے یہ کسی مسلمان جاگیردار کی ملکیت تھی مگر امتداد زمانہ کی وجہ سے جب اس جاگیردار خاندان کے برے دن آئے تو اس کے اندر قرض خواہ اور موقع پرست آباد ہوتے چلے گئے۔پاکستان بنا تو اس جگہ پر رہائش پذیر مسلمان خاندان تو پاکستان ہجرت کرگئے۔چونکہ اس کی ملکیت کے مقدمات مختلف جگہوں پر چلتے رہے لہذا اسکی ملکیت کا مکمل دعویٰ کسی کے پاس نہ تھا بعد میں یہ حویلی لینڈ مافیا نے خالی کرائی تھی مگر مافیا باس سے توڑ جوڑ کرکے اس پر ادارے نے اپنی تحویل میں لے لیاتھا، حویلی اور اسکے  ملحقہ مکانات کو بھی انہوں نے قبضہ کرکے اپنے احاطے میں شامل کرلیا تھا۔ ابتداء میں چند چھوٹے مکانات آتے تھے جن میں ان کے وہ نچلے درجے کے ملازمین رہا کرتے تھے جن کے گھر کے افراد قریب واقع جوتوں کے چھوٹے چھوٹے کارخانوں میں ملازم تھے۔ یہ گلی میں داخل ہونے والے ہر فرد پر نظر رکھتے تھے۔ کارخانوں کے ختم ہوتے ہی ایک راہداری تھی۔ اس راہداری سے بمشکل ایک کار گزر سکتی تھی۔ راہداری کے خاتمے پر ایک پرانا گیٹ تھا جس پر ان کے گارڈز بیٹھے رہتے تھے۔ جب تک اندر سے حکم نہ آتاکسی کو گیٹ سے گذرنے نہ دیا جاتا۔

Advertisements
merkit.pk

گیٹ کے ساتھ کچھ علاقہ گاڑیوں کی پارکنگ کے لئے چھوڑدیا گیا تھا۔ یہاں پر دو تین سے زیادہ کاریں کبھی بھی موجود نہ ہوتیں جو اندر کام کرنے والے ملازمین کی ہوتیں۔ یہاں کے انچارج ایک مولانا سلطان احمد تھے۔ جو خال خال ہی دکھائی دیتے۔ مولانا سلطان کے بارے میں وہاں مشہور تھا کہ وہ حیدرآباد دکن کے ہیں اپنی دو عدد بیویوں کے ساتھ اس مکان کے اندر ہی رہتے ہیں۔ جب بھی یہ باہر جاتے ہیں ان کی  دونوں بیویاں برقعے میں انکے ہمراہ کار کی پچھلی سیٹ پر بیٹھی ہوتی تھیں۔ وہ خود اپنے ایک مسلمان ڈرائیورعبدالباقی کے ساتھ آگے بیٹھے ہوتے ہیں۔ ڈرائیور عبدالباقی چونکہ گونگا تھا۔ لہذا گیٹ پر موجود چوکیداروں سے ہی اشاروں سے بات کرتا تھا اور ضرورت کی چیزیں وہی اندر پہنچاتے تھے۔ مولانا سلطان دراصل اندر کمار شرما تھا۔ جس نے حیدرآباد کے کسی مدرسے سے بطور مسلمان اپنی دینی تعلیم حاصل کی تھی۔ اس کی یہ دونوں بیویاں دراصل اکیڈیمی کی انسٹرکٹرز تھیں۔ ان کے نام سنیدھی باوا اور بھاؤنا بینرجی تھے۔ سنیدھی باوا بم بنانے اور انہیں نصب کرنے کی ماہر تھی اور بھاؤنا بینرجی کے ذمے ایجنٹوں کی نفسیاتی تربیت کی ذمہ داری تھی۔

  • merkit.pk
  • merkit.pk

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply