زندگی ہم تیرے داغوں سے رہے شرمندہ۔اسلم اعوان

کوہ سلیمان کے دامن میں واقع درابن تحصیل کے مضافاتی گاؤں گرہ مٹ میں لگ بھگ دس مسلح افراد نے ذاتی دشمنی کی بنیاد پر 16 سالہ دوشیزہ کو برہنہ کر کے گاؤں کی گلیوں میں گھوما کر شرف آدمیت کی تذلیل کی مگر پولیس کی جانب سے بربریت کے اس رقص ابلیس کی پردہ پوشی اس سے بھی زیادہ کربناک عمل نظر آئی،اعلی پولیس افسران کی پوری مساعی سچائی کو طشت ازبام ہونے سے روکنے اور حقائق کو جھٹلانے کے گرد گھومتی رہی،یہ سب کچھ اس نئے پولیس ایکٹ کو جسٹیفائی کرنے کی کوشش تھی جس میں پولیس فورس کو چیک اینڈ بیلنس اور جوابدہی کے ہر نظام سے ماوراء کر کے بے لگام کر دیا گیا،پولیس پہلے بھی سوسائٹی پہ حاوی تھی لیکن ضلعی انتظامیہ کی تحلیل اور ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کا کور ہٹنے کے بعد تو پولیس کمانڈ مطلق العنان اتھارٹی بن کے ابھری ہے،خاص کر ان دورافتادہ علاقوں میں جہاں عام آدمی کو حکام بالا تک رسائی نہیں ملتی وہاں ایس ایچ اوز وائسرائے کی طرح سوچتے ہیں۔

اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ پولیس اہلکاروں کے ذہنی رویّے معاشرے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اس لئے پولیس فورس کو مادر پدر آزادی کی بجائے جوابدہی اور قانون کے فریم ورک میں لانا ازبس لازم ہے،اب تو یہ واضح ہو گیا کہ نئے پولیس ایکٹ کے ذریعے سروسز فراہم کرنے کی بجائے پولیس والے شہریوں کو آداب غلامی سکھانے میں مشغول ہے تاکہ فرد کے روح کی رفعت مرجھا کے ذلت و خواری میں بدل جائے،غلامی خواہ کتنی ہی منصافانہ کیوں نہ ہو وہ روح کے لئے پنجرے کی حیثیت رکھتی ہے۔

تفصیل اس اجمال کی کچھ یوں ہے کہ گزشتہ سال دسمبر میں تحصیل داربن کے تھانہ چودہوان کی حدود میں واقع گرہ مٹ کی کومب برادری نے ساجد سیال نامی بائیس سالہ نوجوان پر اپنے خاندان کی کسی لڑکی سے خفیہ محبت کا الزام لگایا،جس کے بعد دونوں خاندانوں میں کشیدگی پیدا ہو گئی،اس تنازعہ کو حل کرانے کے لئے تحصیل ناظم ہمایون خان نے مداخلت کر کے فریقین کو ثالثی پر راضی کر لیا،دونوں پارٹیوں کا موقف سننے کے بعد پنچائت  نے کومب برادری کی بدنامی کے ازالہ کی خاطر ساجد سیال پر دو لاکھ روپے جرمانہ عائد کرنے کا فیصلہ سنایا،زر تاوان کی ادائیگی کے بعد بظاہر تو فریقین میں صلح ہو گئی لیکن ثالثی فیصلہ کے باوجود دِلوں کی کدورتیں کم نہ ہوئیں،

چنانچہ اپنی مبینہ بے عزتی کا بدلہ چکانے کی خاطر کومب خاندان کے دس مسلح افراد نے جمعہ کی صبح ساجد سیال کی سولہ سالہ بہن شریفاں بی بی کو اس وقت پکڑ کے بے لباس کر دیا جب وہ بارشی جوہڑ سے پانی بھر کے گھر واپس لوٹ رہی تھی،کلاشنکوفوں سے مسلح افراد نے معصوم شریفاں بی بی کو برہنہ کرنے کے بعد گاؤں کی گلیوں میں گھمایا،چیختی چلاتی معصوم بچی پناہ کی خاطر بھاگ کے جب بھی کسی گھر میں داخل ہوتی،مسلح حملہ آور زبردستی اسے باہر نکلوا لیتے،خوف و دہشت سے لرزتی معصوم بچی کی آہ و فغاں سے زمین و آسمان تو لرزتے رہے لیکن ظالم حملہ آوروں کو رحم آیا نہ کسی شہری نے بے بس بچی کی مدد کرنے کی زحمت گواراکی،عینی شایدین کے مطابق کم و بیش ایک گھنٹے تک گاؤں کی گلیوں میں کلاشنکوفوں کی تڑتڑاہٹ میں ایک معصوم بچی کو ہراساں اور بے آبرو کیاگیا لیکن اس بے یار ومدد گار بچی کی فریاد کسی نے نہ سنی۔

ذرائع کے مطابق معصوم بچی کو بے لباس کرنے والے ملزمان نے مقامی پولیس سے مبینہ سازباز کر کے وارادت سے قبل تھانہ میں شریفاں بی بی کے اکلوتے بھائی ساجد سیال کے خلاف اپنی خاتوں(متّو بی بی) سے چھیڑ خانی کی جھوٹی رپوٹ درج کرانے کے فوری بعد موبائل فون پر گھات میں بیٹھے اپنے مسلح افراد کو کاروائی کا اشارہ دیکر ستم گری کا بازار گرم کرایا،جسکے بعد نہایت بیباکی کے ساتھ ظالموں نے بے گناہ بچی کو بے لباس کر کے اس کی ویڈیو بنا کر اپنی آتش انتقام کو ٹھنڈا کیا،ستم ظریفی کی انتہا دیکھیے  کہ مظلومہ کے ورثاء جب متاثرہ لڑکی کو ساتھ لے کر مقدمہ درج کرانے تھانہ پہنچے تو ایس ایچ او نے ستم رسیدہ لڑکی کی داد رسی کی بجائے پہلے شریفاں بی بی کے بھائی کے خلاف جھوٹی ایف آر نمبر 209درج کی، بعد میں شریفاں کی اصل رپوٹ لکھنے کی بجائے ایف آئی آر نمبر210 میں اپنی طرف سے من گھڑت کہانی لکھ کر ملزمان کو بچانے کی کوشش کر کے عدل و انصاف اور احترام انسانیت کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔

راقم نے جب رابطہ کر کے چودہوان پولیس سے صورت حال جاننے کی کوشش کی تو پہلے پولیس والے سرے سے سانحہ کے وقوع پذیر ہونے کا انکار کرتے رہے، ایس ایچ او نے بتایا کہ یہ دو گروپوں کے درمیان معمولی تنازعہ تھا، جس میں ایک بچی کے کپڑے پھٹ گئے لیکن جب ٹی وی چینل پر خبریں چلیں تو چودہوان پولیس نے چار و ناچار وقوع کو تسلیم کر کے 9 ملزمان کے خلاف زیر دفعہ148۔149،354 کے تحت مقدمہ درج کر کے ضابطہ کی کارروائی مکمل کر لی۔میڈیا کے شور و غوغا پر پولیس نے دو دن بعد صرف تین ملزمان کو گرفتار کیا،بعدازاں آئی جی پی کے حکم پر چوتھے روز پولیس نے آٹھ ملزمان پکڑ کے مقدمہ کی باقاعدہ تفتیش شروع کی لیکن مقامی پولیس اب بھی مرکزی ملزم سجاول کو پکڑنے سے گریز کر رہی ہے،

جس ہولناک سانحہ میں چند وحشیوں نے ایک معصوم کی زندگی برباد کر ڈالی پولیس نہایت سفاکی کے ساتھ اسے کنفیوژ کر کے مظلوم لڑکی کے اکلوتے بھائی پر جوابی مقدمہ درج کے ذریعے متاثرہ خاندان کو مقدمہ سے دستبرداری اور صلح کی راہ اپنانے پہ مجبور کرتی رہی،اس معاملہ میں اعلی پولیس اہلکاروں کی طرف سے ظلم کی پردہ پوشی کی کوشش نے پولیس کی ساکھ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا،سوموار کے روز متاثرہ لڑکی کی والدہ نے صوبائی حکومت سے اپیل کی کہ وہ ایس ایچ او چودہوان کے جانبداری اور ظلم سے نجات دلانے کی خاطر سانحہ گرہ مٹ کی جوڈیشل انکوائری یا پھر جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم کے ذریعے تحقیقات کرائے لیکن اس اپیل کو درخور اعتنا نہیں سمجھا گیا۔

دریں اثنا انسپیکٹر جنرل آف پولیس صلاح الدین محسود نے ڈی آئی جی ڈیرہ اسماعیل خان رینج سید فدا حسین شاہ کو چودہوان تھانہ کی حدود میں لڑکی کو برہنہ کرنے کے کیس کی براہ راست نگرانی کا حکم دیا تو انہوں نے ایس پی انوسٹی گیشن ثناء اللہ مروت کو موقع  پر بھیج کر گاؤں کے لوگوں کی شہادتیں ریکارڈ کرائیں،ایس پی صاحب نہایت نیک اور دین دار انسان ہیں چنانچہ انہوں نے انوسٹی گیشن سے زیادہ وقت مقامی آبادی کو تبلیغ کرنے میں گزارا،اس موقع  پر کھلی کہچری میں لوگوں نے ایس ایچ او اور تفتشی عملہ کی جانبداری پہ سوال اٹھائے تو برہنگی کے جرم سے انکار کرنے والے ایس ایچ او نے مجمع عام میں اعتراف کیا کہ بچی کو برہنہ کر کے ظلم کیا گیا،انہوں نے یہ بھی کہا کہ پولیس نے متاثرہ لڑکی کے بھائی کے خلاف درج جھوٹی ایف آئی آر منسوخ کر کے ستم رسیدہ بچی کی ایف آئی آر میں دفعہ 354-A شامل کر کے برہنہ پریڈ کرانے کی دفعات شامل کر دیں ہیں،

تاہم پولیس نے ملزمان پر 7-ATA جیسی دفعات لگانے سے گریز کیا،حیرت انگیز بات یہ ہے کہ جب یہ ثابت ہو گیا کہ مظلوم لڑکی کے بھائی ساجد کے خلاف درج ایف آئی آر جھوٹی تھی تو پولیس افسران غلط مقدمہ درج کرنے والے ایس ایچ او کے خلاف کاروائی کیوں نہیں کر رہی۔بدقسمتی سے ہمارے ارباب بست و کشاد لاشعوری طور پہ زیست کی تفہیم کی بجائے ایک ایسے طبقاتی معاشرے کے قیام کے لئے کوشاں ہیں جو زندگی کے اعلی ترین مقاصد سے نا آشنا اور سوز آرزو سے خالی ہو،بلاشبہ یہی بے مقصدیت انہیں فطرت سے انحراف کی راہ دیکھاتی ہے،سرکاری ادارے عام شہریوں کے جان و مال اور عزت کی حفاظت کرنے کی بجائے اپنی پوری توانائی کو سیاستدانوں،وڈیروں اور اعلی افسران کی حفاظت پہ مرتکز رکھتے ہیں،

حالانکہ جب تک معاشرہ پرامن نہیں ہو گا حیات اجتماعی توازن نہیں پا سکے گی،تفریق پہ مبنی یہ رویہ کبھی انہیں چین کی نیند سونے نہیں دے گا،روسی شاعر ترگنیف نے کہا تھا کہ فطرت کو ایک پسو کی ٹانگ میں اتنی ہی دلچسپی ہے جتنی ایک طباع کے عمل تخلیق میں ہوتی ہے،جو معاشرے انسانوں میں تفریق کرتے ہیں وہ زیادہ دیر تک زندہ نہیں رہ سکتے،ہمارے نظم اجتماعی نے فانی و ناپائیدار دلچسپیوں کی لذتوں میں کھو کر لافانی قوتوں کی نشو ونما کو بالائے طاق رکھ دیا اس لئے وہ حق کی خاطر برضا و رغبت سوچنے کی صلاحیت سے عاری ہوتے گئے،انہیں صحیح راستہ پہ لانے کی خاطر میڈیا کے تازیانوں اور حکام بالا کے دباؤ  کی ضرورت پڑتی ہے،اس لئے معاشرے ظلم و بربریت لبریز ہوتے گئے،نامعلوم درجنوں ایسے واقعات میڈیا کی نظر سے اوجھل ہو کر وقت کی دھند میں گم ہو جاتے ہوں گے۔

Aslam Awan
Aslam Awan
اس وقت یبوروچیف دنیا نیوز ہوں قبل ازیں پندرہ سال تک مشرق کا بیوروچیف اور آرٹیکل رائٹر رہاں ہوں،سترہ سال سے تکبیر میں مستقل رپوٹ لکھتا ہوں اور07 اکتوبر 2001 سے بالعموم اور 16مارچ 2003 سے بالخصوص جنگ دہشتگردی کو براہ راست کور کر رہاں ہوں،تہذیب و ثقافت اور تاریخ و فلسفہ دلچسپی کے موضوعات ہیں،

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *