شوق کی تکمیل۔محمد اظہار الحق

ہاں تو داستاں یہا ں تک پہنچی تھی کہ دہلی برباد ہوگئی،دہلی اجڑ گئی، کوچے ویران ہوگئے،گلیاں سنسان ہوگئیں ، مکان خراب ہوگئے، مسجدوں میں اذان دینے والا کوئی نہ رہا، مندروں کی گھنٹیاں خاموش ہوگئیں، قافلوں کے قافلے چالیس دن کی مسافت پر دولت آباد روانہ ہوگئے،کچھ راستے میں لقمئہ اجل بن گئے، کچھ نئے شہر پہنچ کر  تبدیلی برداشت نہ کرسکے۔

آٹھ سال گزرے تھےکہ حکم ہوا  واپس دلی چلو، کم ہی تھے جو پہنچ سکے دہلی اس طرح  آباد نہ  ہو سکا جیسا پہلے کبھی تھا۔

مگر محمد تغلق کے خونخوار اورخونریز تجربے کم نہ ہوئے۔ جلد اس نے ایک اور فیصلہ کیا کہ ساہیوال میں کوئلے سے بجلی پیدا  کرنے کا سیٹ اپ لگایا جائے دوسری طرف دنیا کوئلے سے پیچھے ہٹ رہی تھی۔چین نے ایک سو تین ایسے منصوبوں  پر خطِ تنسیخ  پھیر دیا تھا۔ جن میں کوئلہ استعمال ہورہا تھا۔بھارت بھی کوئلہ سے بجلی بنانے کے منصوبے ترک کررہا تھا، اس کی ساری توجہ شمسی توانائی پر تھی۔

شہنشاہ کو بتایا کہ آدھا پنجاب ٹی بی اور سانس کی بیماریوں میں مبتلا ہو جائے گا، مگر اس نے کسی اعتراض پر کان نہ دھرے ،درخت لاہور شہر میں پہلے ہی کاٹ دئیے  گئے تھے، کچھ پلوں ،انڈر پاسوں  اور شاہراہوں  کی توسیع کی نذر ہوگئے۔ جو بچ گئے وہ اورنج ٹرین کو خوش آمدید کہنے کے لیے کلہاڑوں کی نذر ہوگئے، شہر پھر اسموگ میں چھپ گیا۔ خلقِ خدا کی آنکھیں جلنے لگیں ، سانس لینا دوبھر ہوگیا، پھیپھڑوں  میں ورم آنے لگے۔ سینکڑوں  افراد  مریض بن گئے۔ ہسپتالوں میں جاپہنچے۔

 پہلے ہی ایک  ایک بستر پر  دو دو مریض  تھے۔ اب مریض برآمدوں  میں فرش پر پڑ گئے۔ مرغیوں  پر برڈ فلو نے حملہ کیا۔ ہزارووں  مر گئیں ، ریستورانوں  میں پہلے ہی مردہ جانوروں کا گوشت استعمال ہورہا تھا ،اب جو مرغیاں  ہزاروں کی تعداد میں مریں تو  ہوٹلوں  کی ،کیا فائیو سٹار اور عام منجی بسترہ ہوٹل  سب کی چاندی ہوگئی۔

 درخت کٹنے سے  بارش پہلے ہی  بے حد کم ہوچکی  تھی، آکسیجن مہیا کرنے والے ٹہنیوں کے پتے محمد تغلق  کے لوہے کی نذر ہوگئے۔ یوں شہنشاہ  کے نزدیک حکومت صرف سڑکیں  بنانے کا نام تھا۔ طویل دور حکومت میں اس نے ٹریفک پر  کوئی توجہ نہ دی ،خود باہر نکلتا ،یا حرم سرا سے کسی ملکہ نے سفر  کرنا ہوتا تو  عام ٹریفک بندی کردی، سڑکیں پہلے ویران کی جاتیں ، پھر بادشاہ کو  وہاں سے گزارا جاتا،اسے کوئی ادراک ہی نہ تھا، کہ جو گاڑیاں سڑک پر لانے کے قابل نہیں وہ لاکھوں  کی تعداد میں چل رہی ہیں ، اس لیے کہ  اسے تو شاہراہیں خالی  ملتیں ، عام ٹریفک  کی حالت دگر گوں  تھی۔ رکشے ٹرک ،بسیں ، ویگنیں ، دھوئیں کے مہیب گہرے  بادل فضا میں بکھیرتی گزرتیں ۔گاڑیوں کی فٹنس چیک کرنے کا کوئی نظارہ ہی نہ تھا۔ پھر لوگ ٹائر جلاتے تھے، اس سے بھی آلودگی بڑھی۔

 محمد تغلق نے اس اسموگ زدہ شہر  کی مسموم فضا سے بچنے کے لیے  اپنے محلات پہلے ہی شہر  سے کوسوں دور  رائے ونڈ  کے قریب تعمیر کرلیے، یہاں  ماحول کا  خؤب خیال رکھا  گیا، شاہی خاندان کے اپنے کھیت تھےاور باغات بھی۔ درخت بھی تھے اور سبزہ و گل بھی۔

پھر دقتاً فوقتاً بادشاہ  صاف ستھری فضا سے استفادہ کرنے اکثر  و بیشتر  برطانیہ  چلاجاتا  تھا ۔شاہی خاندان کے ہر فرد کا علاج انگلستان میں ہوتا تھا۔ کسی مقامی ہسپتال میں انہیں کبھی کسی نے نہیں دیکھا ۔ چشمِ فلک نے یہ  مذاق  بھی دیکھا کہ بادشاہ علاج کروانےلندن گیا، اور وہاں  بیٹھ کر پنجاب کی صحت  کی سہولیات کے بارے میں ویڈیو  تقریریں کیں ،کسی کو پوچھنے کی ہمت یا توفیق  نہ ہوئی کہ جہاں پناہ! اگر پنجاب کو صحت کے حوالے سے آپ نے اتنا  ہی جنت نظیر بنا دیا  ہے تو  خود بار بار علاج کے لیے لندن کیوں آتے ہیں ؟

 دہلی کے عوام کی طرح شہنشاہ کو لاہور کے عوام پر بھی غصہ تھا ،سردار ایاز صادق کے مخالف کو اہل لاہور  نے 74 ہزار ووٹ دئیے تھے۔ سردار صاحب دو اڑھائی ہزار کے فرق سے جیت سکے۔ شاہی خاندان اہل لاہور  کو سبق سکھانا  چاہتا تھا۔ بڑی ملکہ کو بھی کم ووٹ پڑے تھے، چنانچہ طے ہوا کہ  پرپل اور بلیو لائن میٹرو ٹرینوں کا اجرا کیا جائے، بلیو لائن کی لاگت کا تخمینہ ایک کھرب 25 ارب روپے لگایا گیا،پرپل لائن ٹرین کی متوقع لاگت ایک کھرب پچاس  ارب روپے تھے

سارے شہر  سے پودے ،درخت، جھاڑیاں ہر سبز شے ختم کردی گئی، شہر کو  اوپر سے نیچے  تک لوہے میں غرق کردیا گیا۔ راستے میں  آئے ہوئے مکان منہدم کردئیے گئے۫، قبریں ہموار ہوگئیں

،سکول کالج ہسپتال جو رکاوٹ راستے میں پڑی،ہٹا دی گئی، بازار کدالوں کی نذر ہوگئے، کرینوں نے دکانوں کی دکانیں  اٹھائیں اور پٹخ دیں ، زمین کے سینے پر لوہے کی پٹریاں بچھ گئیں ۔

 دوسری طرف  لوگ بیمار ہوتے گئے، سانس ناک کان گلے کی بیماریوں نے کسی کو تندرست نہ چھوڑا ۔، ہسپتالوں میں ڈاکٹرز نرسیں کمپاؤنڈ ر خؤد بیمار پڑ گئے۔ سرخت سبزہ روئیدگی نہ  ہونے سے  شہر رہنے کے قابل نہ رہا، ماحولیات کے ماہرین نے وارننگ جاری کی کہ شہر خالی کردیا جائے اب لوگوں نے اپنے مریضؤں کی چارپائیاں  اپنے کاندھوں  پر رکھیں  سامان چھکڑوں ریڑھوں ۔سوزوکیوں  ،ویگنوں  ،ٹرکوں ،پر لادا ،کوئی اپنے آبائی  گاؤں  کو جارہا تھا، کوئی کسی قبصے میں اپنے رشتہ داروں  کے پاس، جن کاکوئی نہ تھا۔انہوں نے دوسرے شہروں قصبوں بستیوں اور قریوں میں جاکر خیمے تان لیے ،صوبہ مہاجرستان بن گیا۔

  جس دن پرپل اور بلیو لائن ٹرینوں  کے منصوبے مکمل ہوئے ۔اس دن شہر میں ہُو کا عالم تھا۔ ہر طرف چمگادڑوں ،ابابیلوں  ،الوؤں ،کوؤں  اور چیلوں کا ڈیرہ تھا۔ گلیوں میں آوارہ کتے تھے،یا بھاگتے ہوئے خؤفزدہ چوہے۔

 شہنشاہ حسبِ معمول اس دن بھی لندن میں تھا۔ منصوبے کی تکمیل سے دو دن پہلے جہاں پناہ کو دو تین چھینکیں  مسلسل آئیں  اسی وقت چیک اپ کے لیے لندن چلے گئے، فیصلہ کیا کہ افتتاح وہیں سے کریں گے، چنانچہ یہ ویڈیو افتتاح ٹرین کے انجن کے پاس صرف چند انجینئر تھے جنہوں نے ناک پر ماسک باندھے ہوئے تھے،آنکھوں پر بھاری موٹی عینکیں ، کانوں میں روئی کے گولے دھنسے تھے، ویڈیو پر شہنشاہ نے پوچھا عوام کہاں ہیں ؟

بتایا گیا کہ شہر خالی ہے،بہت سے بیماریوں کی نذر ہوگئے۔، جو بچے وہ ہجرت کرگئے۔ شہنشاہ نے قہقہہ لگایا ،اسے دلی یاد آئی۔

 دلی کے لوگوں سے انتقام لینے کے لیے اس نے بزور شمشیر خالی کرایا تھا، مگر اب کے گزشتہ تجربوں کی روشنی میں ایسا کچھ نہ کرنا پڑا۔ شہر کو جو باغوں کا شہر تھا، درختوں سے محروم کرکے لوہے اور سہمنٹ کا جنگل بنا دیا گیا۔تو عوام خؤد ہی شہر چھوڑ گئے۔

 یہ لندن کی روشن، پر رونق دوپہر تھی۔ گرمیوں کا مزا شاہی خاندان کے افراد  نے مل کر نعرہ لگایا، ہم نہیں تو کوئی بھی نہیں ۔ مگر اذیت رسانی کی رگ پوری طرح  کہاں مطمئن ہوئی تھی۔ شہنشاہ واپس آیا شہر پر ایک طائرانہ نظر ڈالی ،پورا شہر خالی تھا۔، اچانک ااس کی آنکھوں میں چمک آئی۔ تکمیل  شوق کا ساماں کیا ہی انوکھا اور زبردست تھا  او رسامنے قدموں میں پڑا تھا

شہنشاہ نے حکم دیا کہ باقی ماندہ مکانات بھی گرا دئیے جائیں ، بازار ڈھا دئیے جائیں ، سکول ہسپتال مسمار اور  ان کی زمینیں  ہموار کردی جائیں ۔ پورے شہر پر ہل چلا دیاجائے، اس کے بعد  ہرطرف سڑکوں  انڈر پاسوں  اور پلوں  کا جال بچھا دیاجائے۔

یہ تاریخ کا پہلا شہر تھا، جس میں ذی نفس کوئی نہ تھا۔ پورا شہر شاہراہوں پر مشتمل تھا۔   

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *