آخری گروکی موت۔۔رؤف کلاسرا

ملتانی دوست اور ریڈیو پاکستان کے سینئر عہدیدار آصف کیتھران نے آٹھ جولائی کو ایک ویڈیو بھیجی جس میں ہمارے دوست اور گرو رانا اعجاز محمود اپنی وفات سے کچھ دن پہلے ڈوب کر ایک پنجابی نظم گا رہے تھے۔اس ویڈیو میں کھوئے ہوئے یاد آیا رانا اعجاز کو فوت ہوئے ایک سال گزر گیاہے۔ جہاں افسردگی نے گھیرا ڈالا وہیں حیران بھی ہوا کہ ایک سال گزر بھی گیا۔ پچھلے سال آٹھ جولائی کی ڈھلتی شام ڈی جی پی آر پنجاب کی ایک پریس ریلیز پر نظر پڑی جس پر رانا اعجاز کی فوٹو دیکھ کر دل ڈوب گیا۔ کتنی دیر ناقابلِ یقین حالت میں بیٹھا رہا۔ وہی حالت کہ کاٹو تو لہو نہیں۔ رانا اعجاز بیمار تھے اور کچھ دن پہلے ہمارے دوست سجاد جہانیہ نے ان کی بگڑتی حالت پر کالم بھی لکھا تھا جسے پڑھ کر میں نے فون کیا تو آصف کیتھران نے بات کرائی۔ صدمے سے دل بھر گیا کہ چھ فٹ کے لمبے چوڑے راجپوت سے اب بات بڑی مشکل سے ہورہی تھی۔ وہ بات بات پر قہقہے لگاتا تھا‘میں نے کبھی رانا اعجاز کو اس حالت میں نہ دیکھا تھا اور نہ سوچا تھا۔ ایک ایسا انسان جس سے میں ہمیشہ کمزور لمحوں میں سپورٹ لیتا آیا تھا۔وہ اس وقت بات کرتے ہوئے ہانپ رہا تھا۔ مجھے لگا میرا دل رک جائے گا۔ پتہ نہیں میں کیا کچھ بولتا رہا‘ شاید ہمدردی یا تسلی کے الفاظ۔ دوسری طرف رانا اعجاز نے تھک کر فون آصف کیتھران کے ہاتھ میں دے دیا تھا۔
میری زندگی کے تین ہیروز تھے‘ تین گرو جنہوں نے مجھے ہمیشہ طاقت دی‘ سپورٹ دی‘ مجھے کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔آپ کبھی یہ نہیں سوچتے کہ آپ کا ہیرو کبھی بوڑھا‘ بیمار یا کمزور پڑے گا۔ اس ہیرو کے مرنے کا تو آپ سوچ ہی نہیں سکتے۔ کبھی سمجھ نہ آئی کہ میں خوش قسمت انسان تھا یا بدقسمت۔ خوش قسمت اس لیے کہ تین ایسے لوگ ملے جنہوں نے میری زندگی بدل دی۔ تینوں میں جو بات مشترک تھی وہ ان کی سادگی ‘ درویشی اور بے پناہ علم تھا۔ یہ ممکن ہی نہ تھا کہ کوئی بندہ ان تین درویشوں سے ملتا اور ان سے نروان لیے بغیر اُٹھ جاتا۔ بدقسمت اس لیے خود کو کہتا ہوں کہ یکے بعد دیگرے تینوں درویش میری زندگی سے نکلتے گئے۔
پہلے نعیم بھائی 2013 ء میں 21فروری کی ایک ٹھنڈی لیکن اداس کردینے والی صبح کو اس جہاں سے رخصت ہوئے۔ ابھی میں اس نقصان سے سنبھل ہی رہا تھا کہ دو سال بعد پانچ دسمبر 2015 ء کی دوپہر جیسل گائوں میں بیوی کا اسلام آباد کے ایک ہسپتال سے فون آیا کہ مجھ میں یہ خبر سنانے کی ہمت نہیں‘ ذرا رافع الطاف سے بات کرو اور رافع کے وہ الفاظ عمر بھر میرا پیچھا کریں گے۔ بولے: میں نے کہا تھا کہ چاچو نہیں بچیں گے۔ میں اس وقت گائوں کے پولنگ سٹیشن پر بلدیاتی الیکشن کے ہنگامے میں شریک تھا کہ زمین مجھے گھومتی ہوئی محسوس ہوئی۔ڈاکٹر ظفر الطاف چل بسے تھے۔ پرسوں ہی ان سے فون پر بات ہوئی تھی۔ انہیں ہسپتال لے جایا گیا۔ انہوں نے اپنے ساتھ موجود نصرت کو کہا کہ رئوف سے بات کرائو۔ بولے: بھائی جان کدھر ہو۔ میں نے کہا :سر گائوں آیا ہوں۔ بولے :یار یہ مجھے ہسپتال لے آئے ہیں‘ ایسے ہی زبردستی۔ مجھے جھٹکا لگا اور کہا: سر آ جاتا ہوں۔کہنے لگے‘ نہیں آرام سے سوموار کو آجانا۔ اتوار کو لاہور میں انہیں دفن ہوتے دیکھ رہا تھا۔ ایک عظیم دوست‘ میرا گرو اور mentor اچانک رخصت ہوگیا تھا۔ اب چھ سال بعد ایک اور درویش نما گرو رانا اعجاز محمود بھی اس طرح چل دیا۔مجھے لگا کہ بس زندگی کے یہی مزے تھے۔ ان تینوں کے بغیر کبھی کبھار لگتا ہے کہ میری ذہنی گروتھ رک گئی ہے۔ زندگی کا رنگ پھیکا پڑ گیا ہے۔ کوئی اچھی خبر ملے تو بھی اداس ہوجاتا ہوں کہ نعیم بھائی ہوتے تو خوش ہوتے۔ کسی ذہنی یا نفسیاتی مسئلے میں پھنس جائوں تو ڈاکٹر ظفر الطاف یاد آتے ہیں جن کے دفتر میں ہر دوپہر گزرتی اور چائے کے دور چلتے۔ اکثر وہ کتاب میں غرق ہوتے۔ مجھے دیکھ کر گھنٹی بجا دیتے اور ملازم کو آنکھ مار کر کہتے :بھائی جان چائے لائو۔ اور پھر دنیا جہاں کے ایشوز پر گپیں لگتیں۔ مجھے اگر زندگی میں کسی کے علم وآگہی پر رشک آیا تو وہ ڈاکٹر ظفر الطاف تھے۔ ان جیسا بہادر انسان نہیں دیکھا۔ بڑے بڑے صدمے دیکھے‘ دوستوں کے ہاتھوں دھوکے کھائے‘ مقدموں کا سامنا کیا‘ لیکن جھکنے سے انکار کیا۔ اپنی زندگی میں ظفر الطاف جیسا بندہ نہ دیکھا اور نہ دیکھ پائوں گا۔
رانا اعجاز محمود کا اپنا ہی رنگ تھا۔ وہ ایک ایسا رانا تھا جس میں کسی قدیم راجپوت کی روح صدیوں کا سفر طے کر کے آئی تھی۔ نعیم بھائی‘ ڈاکٹر ظفر الطاف اور رانا اعجاز میں جو چیز کامن تھی وہ تینوں قدیم روایتوں کے امین تھے۔ کوئی پرانی روحیں۔ ان کا اپنا ایک کوڈ تھا۔ رکھ رکھائو تھا۔ رانا اعجاز محمود بھی علم کا ایک سمندر تھا۔ لیہ جیسے شہر میں سترہ برس سے زائد گزار دیے۔ میں اکثرلیہ انفارمیشن آفس میں ان کے ساتھ ملتان سے جا کر راتیں گزارتا تھا۔ میں زندگی میں جن لوگوں کو گھنٹوں چپ کر کے سن سکتا تھا ان میں سے وہ ایک تھے۔ کسی موضوع پر اس راجپوت سے بات کر لیں‘ بحث کر لیں۔ انگریزی لٹریچر پر وہ کمانڈ کہ اشیکسپیئر کے ڈراموں کے کوٹس تک زبانی یاد تھے۔ سیاست پر گفتگو کرتے تو بولتے ہی چلے جاتے۔ بنیا دی طور پر لیفٹ کے بندے تھے۔ میں انہیں اکثر کہتا آپ اسلام آباد ہوتے تو مشاہد حسین اور ملیحہ لودھی کی کلاس کے بندے تھے۔ ہنس کر کہتے: پتر اتنی ترقی کا کوئی شوق نہیں ‘ میں لیہ اور چوک اعظم میں ہی خوش ہوں۔ اگر واقعی ٹیلنٹ ضائع ہوتا ہے تو رانا اعجاز وہ واحد شخص تھے جن کا ٹیلنٹ میں نے ضائع ہوتے دیکھا۔ پھر سوچتا ہوں شاید وہ طاقتور انسان تھے جنہوں نے اپنے گھر کے حالات اور خالد بھائی کے حکم پر لیہ چوک اعظم نہ چھوڑا۔ خود کو ضائع کر دیا اور کوئی ملال تک محسوس نہ کیا۔ لیکن پھر سوچتا ہوں اگر رانا اعجاز میرے کہنے پر اسلام آباد یا لاہور ٹرانسفر ہو بھی جاتے تو کتنے نوجوان ان کی کمپنی سے محروم ہوتے جن کی زندگیوں کو انہوں نے متاثر کیا تھا۔ انہوں نے ان گنت دوستوں کی زندگیوں پر اثرات چھوڑے۔ ان میں سب سے بڑی خوبی کونسلنگ کی تھی۔ وہ کسی ڈپریس بندے کو‘ جسے زندگی کی ہر گلی بند نظر آتی تھی‘ چارج کردیتے تھے۔ رانا میں لوگوں کو نئے خواب اور نئی منزلیں دکھانے کی بڑی خوبی تھی۔ جب پروموشن ہوئی اور انہیں لیہ چھوڑنا پڑا تو مجھے فون کیا: پتر اب تبادلہ کرا دو۔ میں نے کہا: لاہور کرا دیتا ہوں۔ بولے: نہ پتر بہاولپور کرا دو‘ میں نے لاہور جا کر کیا تیر مارنے ہیں‘ دھرتی ماں کی خدمت کرتے ہیں۔ رانا اعجاز کو سرائیکی صوبے کا حامی ہونے کی وجہ سے اپنے پنجابی اور اردو دوستوں میں عجیب نظروں سے دیکھا جاتا تھا۔ ایک راجپوت پنجابی بھلا کیسے سرائیکی صوبے کا حامی ہوسکتا تھا۔ وہ صوبے کا اتنا حامی تھا کہ اکثر اپنے والد صاحب جو اُن سے بھی بڑے راجپوت تھے سے ڈانٹ ڈپٹ کھاتا تھا۔ جب میں کبھی رات گئے رانا اعجاز کے چوک اعظم گھر کھانا کھا رہا ہوتا تھا تو بڑے رانا صاحب میرا سن کر آتے اور ہنس کر طنزیہ پوچھتے: تے فیر کدوں بنڑ ریا اے تہاڈا سرائیکی صوبہ؟ رانا اعجاز مجھے آنکھ مار کر کہتا: ابو جی بس کچھ دن اور۔ بڑے رانا صاحب اس کے بعد رانا اعجاز کو صلواتیں سناتے اور وہ ہنستا رہتا۔پتہ نہیں کتنی دیر تک میں اس راجپوت کو پنجابی کی نظم سر میں گاتے سنتا رہا جو آصف کیتھران نے اپنے فون سے بنائی تھی۔
مینوں تیری یاد آندی اے/ ساری ساری رات رونواں/ ہنجو نئیں تھمدے/ کن بوہے نال لگے/ ساری رات تکدے/ سوہنڑے ا میرے آ‘/ دل دا مالکے آ/ اک واری مڑآ‘ / جگ دے تارے آ/مینوں تیری یاد آندی اے
اس ویڈیو میں جیتے جاگتے رانا اعجاز کو سُر میں یہ پنجابی نظم گاتے دیکھ کر دل پر عجیب کیفیت طاری ہوئی۔ اداسی نے گھیرا ڈال دیا۔رانا سے 27 برس کا تعلق تھا‘ پرانے زمانوں کا ایک رشتہ۔ محبت تھی۔ وہ میرا آخری گرو تھا۔

  • merkit.pk
  • merkit.pk

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply