جو چلے تو جاں سے گزر گئے(قسط5)۔۔محمد اقبال دیوان

تعارف:زیرِ  مطالعہ کہانی دیوان صاحب کی پہلی کتاب ”جسے رات لے اڑی ہوا“(چوتھا ایڈیشن زیر گردش) میں شامل ہے۔اسے پڑھ کر رات گئے ایک افسر عالی مقام کا فون یہ معلوم کرنے کے لیے آیا کہ مصنف کو یہ حقائق جو ہر چند ایک قصے کی صورت میں بیان ہوئے ہیں، کہاں سے دستیاب ہوئے۔ ؟کیا یہ ان کے ادارے کے کسی افسر نے بتائے۔ہمارے دیوان صاحب کا جواب تھا کہ دنیا بھر کی مرغیاں کتنی کوشش بھی کرلیں ایک ماہر شیف سے اچھا آملیٹ نہیں بناسکتیں۔ہمیں آپ شیف کا درجہ دیں اور اپنے افسروں کو مرغیاں مان لیں۔ان کی پیشکش تھی کہ دیوان صاحب سے ملاقات ہوگی  ، اور آئندہ کے کچھ پروگرام بنیں گے۔ افسر عالی مقام حالات کی گردش کی وجہ سے اپنے عہدے پر برقرار نہ رہ پائے اور 

ع ،ان کہی ہی رہ گئی وہ بات سب باتوں کے بعد

tripako tours pakistan
book title JRLUH
chota rajan
_Mahabaleshwar
yousuf-bachkana

والا حساب رہا۔
ادارہ ”مکالمہ“ چودہ اقساط کی اس طویل کہانی کو شائع کررہا ہے اور ممکن ہوا تو اسے ویب سیریز کی صورت میں ڈھالے گا۔کوشش جاری ہے۔

انعام رانا

چوتھی قسط کا آخری حصہ
ایسی ہی ایک تقریب میں اتفاق یوں ہوا کہ ایوراڈز کی کوئی تقریب تھی۔ وہ کچھ دیر کے لئے اُٹھ کر میوزک ڈائریکٹر کے آرکسٹرا میں وائلن بجانے گئی، یہ موقع غنیمت جان کرایک منجھی ہوئی مشہور ماڈل اور اداکارہ توانائی اور مرادنگی کے پیکر شایان سے فری ہوگئی اور پھر اس کا اس حد تک پیچھا کرنے لگی کہ ہوٹل کے جم سے لے کر تو گھر تک آن پہنچی۔ کوئینی نے اسے سبق سکھانے کے لئے کچھ مرتبہ تو رسالوں اور اخبارات میں اسکے سیکس اسکینڈل اچھالے اور اپنے فلمی دوستوں کے ذریعے اسے اشاروں کنایوں سے باز رکھنے کی کوشش کی۔ وہ اداکارہ کوئینی کو محض ایک لیکچرر اور وائلن بجانے والی سمجھتی تھی۔اسے نہ تو شایان سے تعلقات کی گہرائی کا علم تھا نہ دیگر سرگرمیوں کا۔کوئینی کے جذبہء انتقام کی اسے کوئی خبر نہ تھی۔ وہ سمجھتی تھی کہ ایک معمولی ویٹ ٹرینر کے لئے اس کی شہرت، قربت اور توجہ بہت کافی ہے۔ وہ بچ کر کہاں جائے گا۔ ایک دن تو اسکے من کی مراد پوری کرے گا۔

dharvi

پانچویں قسط کا آغاز

بالآخرتنگ آکر کوئینی نے کچھ تامل ساتھیوں سے کہا کہ اس حسینہ دل ربا کو سبق سکھائیں۔ان ساتھیوں میں سے ایک کے تعلقات چھوٹا راجن کی گینگ کے کچھ ممبروں سے بہت گہرے تھے۔
یہ ایک دن اس کو اسٹوڈیو کے باہر سے اُس وقت اٹھا کر لے گئے جب وہ شوٹنگ ختم کرکے اپنی کار میں بیٹھنے کے لئے پارکنگ لاٹ کی جانب رواں دواں تھی۔ رات کی وجہ سے ارد گرد روشنی بھی بہت کم تھی۔ایک آدھ پیگ کا سرور بھی تھا اوراپنے ارادوں کی شدت اسکی نگاہوں اور چال سے بھی عیاں تھی۔ اس کا منصوبہ تھا کہ وہ سیدھی تاج محل ہوٹل جائے گی اور شایان کو لے کر بمبئی سے کچھ فاصلے پر واقع ایک تفریحی مقام مہابلیشور نکل جائے گی, یوں “جاگیں تمام رات اور ان کو جگائیں گے تمام رات “والا معاملہ ہوگا, پھر شایان کہیں اور نہیں جائے گا۔

اس گروپ نے پہلے تواسے اغوا کیا اور تین چار گھنٹے   بمبئی کی سڑکوں پر لئے گھومتے رہے ,اس کی انکھوں پر وہ سیاہ چشمہ چڑھا دیا جس کے پار کچھ دکھائی نہ دیتا تھا۔

tamil elam rubber boats
indira gandhi slained
saree sandals purse which were on indira gandhi the day she was killed
dhanu

اس دوران انہوں نے اس سے خوب دست درازی بھی کی اور بار بار جتلاتے رہے کہ “شایان بھائی نے بولا ہے کہ وہ اسے مہابلیشور لے کر آجائیں۔یہاں سالی کوئینی چین نہیں لینے دے گی۔تیرے کو تو پتہ ہے نا وہ تیرا آئٹم شایان، اپنے بھائی یوسف بچکانہ کا جگری یار ہے۔اپن لوگ یوسف بھائی کے غلام ہیں “۔

جب وہ ذ ہنی طور پر نڈھال ہوگئی تو وہ سیدھے بمبئی کی ایک ایسی آبادی جو بہت گنجان آباد تھی۔غربت اور جرائم کا گڑھ سمجھی جاتی تھی یعنی دھاروی وہاں واقع ایک بڑے سے گودام میں لے گئے۔رسیوں سے اسکے ہاتھ پیچھے باندھے اورمیوزک بہ آواز بلند چلا دیا۔ پھر انہوں نے اسکے کپڑے اتارے۔منہ پر اسی کی برا کس کر باندھ دی۔آنکھیں البتہ کھلی چھوڑ دیں کہ وہ یہ ساری کارروائی دیکھتی رہے۔اس کے بعد انہوں نے اس کی ساڑھی کے پیٹی کوٹ کو قینچی سے درمیان سے کاٹ کر اسے نیچے سے ڈوریوں سے پاجامے کے انداز میں پائنچوں کی طرح باندھ دیا اوراوپر سے کھول کر اس میں کئی چھوٹے چوہے چھوڑ دیے۔وہ بہت چیخی، چلائی کوئی مدد کے لئے نہ آیا تو سمجھ گئی کہ معاملہ بہت گھمبیر ہے۔جب اس نے بھگوان کے واسطے دیے اور وشواس دلایا کہ اب وہ شایان کا نام بھی نہیں لے گی، اسے پتہ نہیں تھا کہ وہ ان کا بھائی لوگ ہے تو ان لوگوں نے اس پر واضح کردیا کہ” اب اگر وہ اس لڑکے کے قریب پھٹکی تو اسکی لاش جھونپڑ پٹی کے کسی سنڈاس(ٹوائلٹ)میں ملے گی۔

sant jarnail singh and damdami taksal
kamal son of sheikh mujeeb
major farooq
Sheikh_Mujibur_Rahman_after_he_had_been_killed_by_the_majors

تیرااگر پولیس میں کوئی یار ہے تو جاکر بتادے کہ متھوپا رائے،یوسف بچکانااور بالو ڈوکرے (چھوٹا راجن کی گینگ سے وابستہ تین اہم بھائی لوگ) کے آدمی میرے کو اُٹھا کے لے گئے تھے اور میرے ساتھ یہ سب کچھ کیا اور آگے یہ کرنے کی چیتاونی دی ہے۔ دیکھتے ہیں سالی،چھنال، بچے باز!کون تیری مدد کو آتا ہے “؟

کہاں کا پریم،کیسا شایان، کیسی فلمیں، وہ اداکارہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر،اپنی بہن کے پاس پہلی فلائٹ سے زنجبار چلی گئی۔

ذکر تھا کوئینی کا,، جس نے تامل لیڈروں کو باور کرایا کہ ان کی کامیابی کا امکان ابتداء  میں ایک تاثر قائم کرنے کے لئے خودکش حملوں میں اور ربڑ کی چھوٹی کشتیوں سے تیز رفتار حملوں میں ہے۔جب وہ قائل ہوگئے تو موساد کے ایجنٹوں نے ان باغیوں کی تربیت کی جس نے سری لنکا میں بڑی تباہی پھیلائی۔ حتی کے ان کے ایک ہردلعزیز صدر پریماداسا کی بھی ہلاکت اسی طرح کے حملے میں ہوئی اور پھر اُسی طرح اندرا گاندھی جیسی زیرک وزیر اعظم کو سکھوں کے اسی گروپ کے ہاتھوں جان سے ہاتھ دھونا پڑا جس کی وہ خود سب سے بڑی سرپرست تھیں۔ ایسے ہی ان کے صاحب زادے راجیو گاندھی کی ہلاکت بھی اسی گروپ کے ہاتھوں “گائی تری” نام کی خود کش بمبار کے ہاتھوں ہوئی اسے سب پیار سے “دھانو” کہتے تھے۔ یہ ورادات تامل ناڈو کے قصبے سری پرم بودر میں 21مئی1991؁ ء ہوئی۔ یہ اسی گروپ کی رکن تھی جسے انہوں نے پال پوس کرایسا خوف ناک بنادیا تھا یعنی لبریشن ٹایئگرز آف تامل ایلام۔

عجب بات یہ ہے کہ اندرا گاندھی جیسی نفیس خاتون نے تین، دہشت پسند تنظیموں کی سرپرستی میں خصوصی دل چسپی لی یعنی بنگلہ دیش میں مجیب الرّحمان کی مکتی باہنی، مشرقی پنجاب میں سنت جرنیل سنگھ بھنڈراں والے کی دمدمی ٹکسال اور ویلوپلائے پربھاکرن کی لبریشن ٹایئگرز آف تامل ایلام، پہلی سے ہمدردی رکھنے والے میجر فاروق نے مکتی باہنی کے سب سے بڑے سرپرست شیخ مجیب الّرحمان کو قتل کیا، اندرا گاندھی صاحبہ کے باڈی گارڈز ستونت سنگھ اور بینت سنگھ نے انہیں موت کے گھاٹ اتارا اور تامل ایلام والوں نے ان کے صاحبزادے راجیو گاندھی کی جان لی۔
اس نے اپنا بنا کر چھوڑ دیا
کیا اسیری ہے، کیا رہائی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ان اسباب پر غور کیا جائے جو بنگ بندھو شیخ مجیب الّرحمان کی درد ناک وفات کا سبب بنے تو بظاہر کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آتی کہ حاضر سروس اور ریٹائرڈ میجر صاحبان کا یہ گروپ اسقدر بھیانک اقدام پر اتر آتا،اس سازش میں شامل ہونے والے تین یا چار ریٹائرڈ افسران کو یقیناً عوامی لیگ کے کچھ لیڈروں سے ضرور داتی رنجش تھی جس کی وجہ سے انہیں اپنی نوکری سے ہاتھ دھونا پڑا تھا مگر یہ افسران اس سازش میں بہت بعد میں آن کر  شامل ہوئے تھے۔ان سب کے درمیان اگر کسی مشترکہ قدر کو تلاش کرنے کی کوشش کی جائے تو صرف ایک نکتہ مشترک دکھائی دیتا ہے کہ شیخ مجیب الرحمان فوج کو بہت اچھی نظر سے نہیں دیکھتے تھے۔ اس کے بہت گہرے نفسیاتی عوامل تھے ۔وہ ایک قومی ملیشیا کے حامی تھے اور فوج کو کمزور اور بے توقیر رکھنا چاہتے تھے۔اس شکایت کواگر شیخ مجیب الرحمان کے خلاف اہم ترین نکتہء نفرت مان لیں تو فوج کے بڑے افسران اس معاملے میں کسی بے چینی کا واضح اظہار نہیں کرتے تھے۔
میجر فاروق الرحمن کو بنگ بندھو (فادر آف بنگلہ دیش)سے بہت عقیدت تھی۔ کیوں نہ ہو وہ اسکے نزدیک بنگلہ دیش کی آزادی کے سب سے بڑے رہنما تھے۔
یہ عقیدت بعد میں تین بڑی شکایات اور بالآخر ایک ایسی نفرت میں تبدیل ہوگئی جو شیخ مجیب الرحمان، اور انکے تمام اہلِ خانہ کے بھیانک قتل پر متنج ہوئی۔
اکہرے بدن،درمیانہ قد، بڑی بڑی آکٹوپس جیسی گول، گہری آنکھیں جن سے ذہن میں مچلنے والے طوفانوں اور دل میں سازشوں کے پلنے والے اژدھوں کا ہرگز علم نہ ہوتا تھا۔پاکستان سے فرار ہوکر بنگلہ دیش پہنچنے والے  میجر فاروق کو آپ اگر دیکھتے تو لگتا کہ ان آنکھوں کو خواب دیکھنے کی بہت عادت ہے۔ کتابیں پڑھنے اور فلمیں دیکھنے کا بے حد شوق تھا۔اپنے جذبات کا بہت کم اظہار کرتا تھا۔اسکا ذہن خالصتاً ایک فوجی ذہن تھا۔ایک ایسا ذہن جو انگریزی کی اصطلاح میں Tunnel Vision رکھتا ہے۔ جو اپنے مقصد کے حصول کی دھن میں حدود سود و زیاں سے بے نیاز رہ کر انجام سے بے خبر ہوکر سوچنے کا عادی ہوتا ہے۔

سرنگ سے منظر دیکھنے کی عادت اور فوجی ذہن جرمنی کے ہٹلر کا بھی تھا۔اپنے کمانڈرز کے ساتھ بیٹھا روس پر حملے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا کہ کسی نے اسے مشورہ دیا کہ حملے کے لئے سردی کا موسم اس لئے نامناسب ہے کہ شدید سردی اور برسات کی وجہ سے ہمارا مشن شدید مشکلات اور شکست کا باعث بن سکتا ہے جس کے جواب میں اس نے یہ توجہیہ پیش کی کہ یہ برساتیں اور برفباری روسی افواج کے اوپر بھی یکساں اثرانداز ہوں گی۔وہ یہ بات بھول گیا کہ اس کی افواج دشمن کے علاقے میں پیش قدمی کرتی ہوئی اندر تک جائیں گی اور ان کی روسی افواج اگر حربی پسپائیTactical Withdrawal کے تحت پیچھے ہٹتی گئیں تو نازی افواج بری طرح ان کے نرغے میں آجائیں گی۔تاریخ گواہ ہے کہ اسکا یہ ایک غلط فیصلہ جنگ کا پانسا پلٹنے کا سبب بنا۔جرمن افواج کا بے تحاشا نقصان ہوا۔تصدیق نہیں ہوپائی مگر غالباً ایسے ہی موقع پر کہا گیا تھا کہ “جنگ ایک ایسا خوفناک اور سنجیدہ اقدام ہے کہ اس کا معاملہ آپ تنہا جرنیلوں پر نہیں چھوڑ سکتے”۔

sarinibat, Moni, Jamal

میجر فاروق کا خود پر کنٹرول کا یہ عالم تھا کہ جس رات اس نے اپنے منصوبہ کو عملی جامہ پہنانا تھا۔اس سہ پہر وہ اطمینان سے اپنے گھر پر سورہا تھا جب کہ چٹاگانگ میں اس کی بیوی فریدہ،اندھے حافظ سے ملنے والے پیغام کو اس تک پہنچانے میں سرگرداں تھی۔گو اس پیغام کے ملنے میں پورے چار گھنٹے کی تاخیر ہوئی مگر اس نے کوئی بے چینی کا اظہار نہیں کیا۔اس نکتے کو یاد رکھیے، اس کی تفصیلات آپ کو آگے ملیں گی۔

میجر فاروق کو شیخ مجیب الرحمان سے پہلی شکایت تو یہ تھی کہ وہ ہندوستان سے بہت لگاؤ رکھتے تھے، جس کی وجہ سے بنگلہ دیش، ہندوستان کی ایک کالونی لگتا تھا۔دوسری شکایت یہ تھی کہ شیخ مجیب الرحمان فوج سے اپنے مخصوص پس منظر کی بنیاد پر شدید نفرت رکھتے تھے اور ان کو آپس میں لڑاتے رہتے تھے اور تیسری شکایت یہ تھی کہ ان کی وجہ سے ان کے رشتہ داروں اور قریبی ساتھیوں نے لوٹ مار اور کرپشن کا ایک بازار گرم کر رکھا تھا۔اس کی شکایت کا اہم پہلو یہ بھی تھا کہ شیخ مجیب الرحمان نے اپنے لئے صدر کی بجائے وزیر اعظم کا عہدہ کیوں چنا۔بہتر ہوتا کہ وہ اپنے لئے گاندھی کی طرز اپناتے مگر یہاں تو معاملہ الٹ تھا، ان کا بہنوئی عبدالرّب سنرنیبت، بھتیجا شیخ فضل الحق مونی، بھائی شیخ ناصر، بیٹے کمال اور جمال سب کے سب لوٹ مار کے الزامات کی زد میں تھے۔ان شکایات پر غور کریں اور ان دنوں وہاں موجود عوامی جذبات کا جائزہ لیں تو یہ شکایات اپنی سچائی میں بہت ثابت قدم تھیں ہر چند کہ بنگ بندھو عوام میں بے حد مقبول بھی تھے۔ انہوں نے ایک واضح اکثریت سے نہ صرف انتخاب جیتا تھا بلکہ بنگلہ دیش کو اسی سال ایک متفقہ آئین بھی دیا جس سال بھٹو صاحب نے پاکستان کو آئین دیا تھا۔
ان تمام عوامل کی وجہ سے،جن میں اقربا پروری اور کرپشن سب سے سرِفہرست تھے۔ شیخ مجیب الرحمان کی مقبولیت کا گراف تیزی سے نیچے آگیا تھا اور اس میں پہلی دراڑ اسوقت پڑی جب 1972  میں ستمبر کے مہینے میں ڈھاکہ کے تاریخی پلٹن میدان میں عبدالّرب جو مشہور طالب علم رہنما اور مکتی باہنی کا لیڈر تھا نے کھل کر ان کی حکومت پر تنقید کی۔الزامات کی فہرست تقریباً وہ ہی تھی جو بنگ بندھو پاکستان کے لیڈروں پر لگاتے تھے۔اگلا حملہ بائیں بازو کے طالب علموں نے نئے سال کے دن کیا اور ان کا احتجاج بری طرح کچل دیا گیا۔طالب علموں کا یہ احتجاج شروع تو ویت نام کی حمایت میں ہوا تھا مگر اس احتجاج کو سختی سے کچلنے کا شاخسانہ یہ نکلا کہ طالب علموں کی ہلاکت کی وجہ سے شیخ مجیب الرحمان اسی حلقے میں اپنی حمایت کھوبیٹھے جہاں سے انہوں نے اپنی سیاست کا آغاز کیا تھا۔اسی اثنا میں ان کے دونوں بیٹوں جمال اور کمال کی وجہ سے اور بھی خرابی ہوئی۔مسلمان حکمرانوں کا تاریخ کا جائزہ لیں تو یہ دردناک حقیقت کا انکشاف ہوتا ہے کہ حضرت امیر معاویہؓ سے لے کر انڈونیشیا کے صدر سوہارتو،عراق کے صدر صدام حسین اور پھر شیخ مجیب الرحمان،ا کثر  حکمرانوں کے زوال کا سبب ان کے لختِ جگر بنے۔

شیخ مجیب الرحمان کا چھوٹا بیٹا جمال جو فوج میں بھیجا گیا تھا۔انہیں اس سے بہت امید تھی وہ چاہتے تھے کہ وہ کسی اہم مقام تک پہنچے۔سب سے پہلے اسے یوگوسلاویہ کی ایک فوجی اکیڈیمی میں بھیجا گیا جہاں سے وہ کورس درمیان میں چھوڑ کر آگیا اور شفقتِ پدری سے مجبور شیخ مجیب الرحمان نے فیصلہ کیا کہ اسے برطانیہ کی مشہور ملٹری اکیڈیمی سینڈہرسٹ میں بھیجا جائے۔ اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لئے فوج میں چیف آف اسٹاف جنرل شفیع اللہ پر دباؤ ڈالا گیا مگرانہوں نے یہ کہہ کر وزیر اعظم کی بات ماننے سے انکار کردیا کہ اس انتخاب کے لئے ایک مربوط اور با ضابطہ طریقہ کار ہے اور وہاں بھیجے جانے والے کیڈٹس کا انتخاب پہلے ہی ہوچکا ہے اگر وہ چاہیں تو پرائیویٹ کیڈٹ کے طور پر خصوصی فیس ادا کرکے اسے بھیجا جاسکتا ہے۔فوج جسے یہ شکایت تھی کہ اسے سہولتوں اور ملازمت کے حوالے سے خصوصی طور پر نظر انداز کیا جارہا ہے وہ اس اقربا پروری پر بہت ناخوش ہوئی اور انتخابات میں اسی فیصد فوجیوں نے شیخ مجیب الرحمان کی عوامی لیگ کے خلاف ووٹ ڈالا۔

Siraj_Sikder
32 Dhanmandi

شیخ مجیب الرحمان ایک سادہ لوح انسان تھے۔طاقت کے معاملے میں ان کا ذہن بڑا یک طرفہ سوچ رکھتا تھا۔ان کے دل میں یہ خیال بڑی بُری طرح گھر کرگیا تھا کہ بنگلہ دیش میں ان کی مقبولیت کو دور دور تک کوئی چیلنج نہیں کرسکتا ۔انسان جوں جوں بلندیوں پر جاتا ہے آکسیجن کم ہوتی جاتی ہے،جس سے تنفس میں بڑی دشواری ہوتی جاتی ہے دماغ بھی چکراتا رہتا ہے۔کچھ ایسا ہی معاملہ طاقت اوراقتدار کی بلندیوں کا ہے اس میں صحیح وقت پر صحیح فیصلے کرنا تقریباً ناممکن سا ہوجاتا ہے۔صاحب اقتدار ہر وقت اس غلط فہمی کا شکار رہتا ہے کہ اس کا اقتدار،اس کی یہ پوزیشن عارضی ہے۔اپنے سے پہلے اس مسند پر فائز رہنے والے افراد اسے اپنے سے کم عقل لگتے ہیں اور بعد میں آنے والے کمزور اور بے آسرا۔چین کے ایک مفکر نے کہا تھا “میری بڑی خواہش تھی کہ میں ہمیشہ اقتدار سے وابستہ رہوں، ایسا نہ ہوسکا یہ وقت کی متلون مزاجی کا منہ بولتا ثبوت ہے” اور فرانس کے عظیم بادشاہ،نپولین نے اپنے ایام اسیری میں سینٹ ہلینا میں کہا تھا کہ “میرے ایام بادشاہت میں چھ دن بھی میری خوشی کے میسر نہ ہو پائے”،مجیب اگر سوچتے تو پہلے عام انتخابات میں اسی فیصد فوجیوں کا ان کے خلاف ووٹ دینا ایک طرح کی Wake -up Callتھی مگر ایسا انہوں نے سوچنے کی زحمت گوارا نہ کی۔

بڑے بیٹے کمال کا معاملہ اور بھی بھیانک ہوا۔وہ بہت جھگڑالو اور گرم مزاج کا تھا۔اسے سراج شکدر سے بہت گلہ تھا۔ یہ ایک کمیونسٹ لیڈر تھا جس نے بنگلہ دیش کی آزادی میں شانہ بشانہ حصہ لیا تھا مگر اسے شکایت یہ تھی کہ آزادی کے بعد بھی ہندوستان کو بنگلہ دیش میں اتنا عمل دخل کیوں ہے۔ سولہ دسمبر 1973 جو بنگلہ دیش میں بطور یوم آزادی کے منایا جاتا تھا اس دن سراج شکدر اور اس کی پارٹی نے یوم سیاہ کے طور پر منانے کا ٖفیصلہ کیا تھا۔ شہر میں جابجا ایسے نعرے اور پوسٹر ٓاویزاں تھے جو عوامی لیگ کو پسند نہ تھے۔کمال نے اپنے مسلح رضاکاروں کی ایک ویگن بھری، خود بندوق تھامی اور سراج شکدر کو ٹھکانے لگانے اس کی تلاش میں رات کے اندھیرے میں نکل کھڑا ہوا ۔اسے علم نہ تھا کہ پولیس کی اسپیشل برانچ بھی سراج شکدر کو ڈھونڈ رہی ہے۔ان کی ایک مسلح پارٹی انسپکٹر کبریا کی سربراہی میں ایک سادہ کار میں اس کی تلاش میں سرگرداں تھی۔

Advertisements
merkit.pk

موتی جھیل ڈھاکہ کے چوک میں جب اس پولیس پارٹی نے مسلح لوگوں کی   یہ ویگن دیکھی تو سمجھے کہ ملزمان ہاتھ لگ گئے ہیں۔انہوں نے آؤ دیکھا نہ تاؤ اور فائرنگ کی اور گولی سیدھی کمال کی گردن پر لگی۔ خون کا ایک فوارہ بلند ہوا۔جب وہ کود کر ویگن سے باہر آیا اور اپنی شناخت کرائی تو پولیس پارٹی کو اس خوفناک حقیقت کا علم ہوا کہ مجروح کون ہے۔ علاقے کا ڈپٹی کمشنر نیند سے جگایا گیا اور وہ سیدھا بنگ بندھو کی رہائش گاہ۲۳۔ دھان منڈی پہنچ گیا کہ وزیر اعظم کو اصل  حقیقت  سے آگاہ کردے۔شیخ مجیب الرحمان نے ٹھنڈے دل سے ساری واردات سنی اور آہستہ سے کہا۔” مرنے دو اس کو”۔ہسپتال میں شیخ مجیب الرحمان اپنے صاحبزادے کو دیکھنے تک نہیں گئے۔ وہ اس کی رسوائی اور حرکات سے پہلے ہی پریشان تھے۔ان کی اس سرد مہری کا بیگم مجیب کو بہت قلق تھا۔
جاری ہے

  • merkit.pk
  • merkit.pk

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply