جماعت اوّل اور ہم۔۔سعدیہ علوی

اماں کے استاد ہونے کا ایک نقصان یہ بھی تھا کہ ہمارے لیے اسکول جانا ضروری تھا۔
اصل میں اوپر تلے کے تین بچوں اور جن میں ایک ہم کہ جو فتنہ انگیزی میں نمبر ون تھے ( فتنوں کی فہرست طویل ہے کبھی اس پر بھی روشنی ڈالیں گے)، نے اماں کے چودہ طبق روشن کردیئے تھے۔
تو صاحبو! طے یہ پایا کہ ہمیں اسکول میں بٹھا دیا جائے آپ سوچیں گے کہ صرف ہم ہی کیوں؟ تو جناب اس لیے  کہ ہم ہی اس قابل تھے کہ بیٹھ جاتے باقی دونوں تو لیٹنے کے مراحل میں تھے۔
پونے چار سال کی عمر اور سرکاری اسکول، پہنچا دیئے گئے کلاس میں۔

کوئی ہزار دو ہزار کا مجمع( اب دیکھئے پونے چار سال کی عمر میں گنتی سے ناواقفیت تو بنتی ہے ناں، یہ ہزار دو ہزار بھی اس لیئے کہا کہ  نانی ہمیشہ یہ ہی کہتی تھیں کہ “اللہ جھوٹ نہ  بلوائے ہزار دوہزار لوگ تو ہوں گے ہی “)
اور ہم خیر ایسے سیدھے تو نہ  تھے کہ ان کو سنبھال نہ  پاتے۔

tripako tours pakistan

اب ذرا استانی صاحبہ کا بھی حال سن لیں۔ وہ غریب بھی بے حال ہی تھیں کہ کلاس میں طلبہ کی تعداد ا ور عمر کا کوئی حساب نہ  تھا ۔ کچھ غریب ہماری طرح کم سن اور کچھ ماشاءاللہ خوب سمجھدار، اب ایسے میں ان کے لیئے یہ فیصلہ کرنا بہت مشکل تھا کہ کس جتھے پر توجہ کی جائے تو فیض کی طرح انھوں نے بھی۔۔
“دونوں کو اکیلا چھوڑ دیا”

ہمارے برابر جو حضرت تشریف فرما تھے وہ شائد دو دن سے بھوکے تھے سو ان کا راگ صرف یہ تھا کہ” مکو بھوت لدی ہے تچھ دو” (ترجمہ بھی بتا دیتے ہیں ” مجھ کو بھوک لگی ہے کچھ دو” بتانے کی وجہ تسمیہ یہ ہی کہ کہیں آپ سب ہمیں بھوت نہ سمجھ لیں )،اور ہم اپنے کھانے کی تھیلی پر اس طرح سوار تھے کہ ہمت ہے تو لیکر دکھاؤ ، ان کی تکرار پر تنگ آکر ہم نے ان کو دو ہاتھ بھی لگا دیئے کہ یہ تو ہمارے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا۔

مس تک شکایت گئی پوچھا بیٹے کیوں مارا ؟؟ ہمارا جواب، تو اور کیا کرتے اماں کے ہاتھ کا پراٹھا اسکو کھلا دیتے کیا ؟ وہ بے چاری بھی خاموش ہوگئیں کہ بات میں وزن تھا۔

ایک شدید مشکل وقت کے بعد کسی طرح کلاس قابو آئی تو مس نے کچھ سکھانے کی ناکام کوشش شروع کی لیکن یہ وقفہ خاموشی، دنیا کی زندگی کی طرح عارضی تھا کیوں کہ  ہاف ٹائم ہوگیا تھا۔
سارے بچے کچھ ایسے بھاگے کہ لگا آج کے بعد باہر جانے کا موقع نہیں ملے گا

ہم کیوں پیچھے رہتے ہم بھی کلاس سے باہر پندرہ منٹ کیسے گزرے پتا ہی نہ  چلا اور دوبارہ قید کا وقت شروع ہوگیا ۔
ایک بار پھر استانی صاحبہ اور شاگردوں کے درمیان مقابلہ شروع مگر اس بار استانی جیت ہی گئیں اور انھوں نے سبق شروع کیا
الف انار
ب بکری
پ پتہ
یہاں تک تو صحیح رہا مگر جب پنجرے میں بند طوطے کا نمبر آیا تو تو ہم اکھڑ گئے کہ نظر پنجرہ زیادہ آرہا ہے تو ہم طوطا کیوں پڑھیں
اسی کشمکش میں چھٹی کا وقت ہوگیا اور ہم گھر آگئے۔

گھر آکر رو رو کر دہائیاں دیں کہ اب نہیں جائیں گے اسکول ہمارا تاریخی جملہ آج بھی ہمیں سنایا جاتا ہے،

” نانی اماں میری اکیلی کے شور سے اماں کو اختلاج( معنی تو نہیں پتہ تھے مگر استعمال بالکل درست کیا تھا) ہوتا اور وہاں ہزار دو ہزار بچوں کے شور سے سوچیں میرا کیا حال ہوگا”۔

Advertisements
merkit.pk

وائے ری قسمت کوئی فائدہ نہ  ہوا اور روز اسکول جانا ہی پڑا!

  • merkit.pk
  • merkit.pk

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply