دیکھا ایک خواب۔۔رؤف کلاسرا

زندگی میں کوشش کرنا اپنی جگہ اہم ہے لیکن بعض چیزیں آپ کی قسمت میں لکھ دی جاتی ہیں یا شاید قسمت والوں ہی سے قسمت وہ کوششیں کراتی ہے‘ اور اس مقام پر لے جاتی ہے جس کا آپ نے کبھی سوچا ہی نہیں ہوتا۔
پچھلے کچھ دنوں میں تین چار ایسے انٹرویوز سنے جو سرحد پار سے تھے۔ سن کر کچھ حیران ہوا کہ تقدیر کس انداز سے اپنا کام چلاتی ہے۔کیسے بعض دفعہ گمنام لوگ سٹار بن جاتے ہیں اور آپ کی ایک تحریر آپ کو بڑا بنا دیتی ہے۔کبھی کوئی ساری عمر محنت کرتا رہے تو بھی اسے پھل نہیں لگتا اور کوئی ایسے بھی ہوتے ہیں جو ایک گانا لکھ یا گا دیں تو وہ راتوں رات شہرت کی بلندیوں پر پہنچ جاتے ہیں۔ وہ کچھ حاصل کر لیتے ہیں جس کا انہوں نے سوچا تک نہیں ہوتا۔بھارتی فلموں کے مشہور لکھاری اور شاعر جاوید اختر ہی کو لیں۔ کہتے ہیں انہوں نے زندگی کا جو پہلا گانا فلم کے لیے لکھا وہی اتنا ہٹ ہوا کہ انہیں شہرت کی بلندیوں پر لے گیا۔ وہی سلسلہ فلم کا گانا ”دیکھا ایک خواب تو یہ سلسلے ہوئے‘‘۔کہہ رہے تھے کہ وہ ایک دفعہ اپنے دوست کے ساتھ ایک گھر کے قریب سے گزرے تو اشارہ کر کے کہا کہ وہ کبھی اس گھر کے گیراج میں قیام پذیر تھے۔ فلم ہٹ نہ ہوتی تو آج بھی وہیںہوتے۔ ایک ہٹ فلم نے انہیں کہاں سے کہاں پہنچا دیا۔ جاوید اختر جو نامور شاعر جاں نثار اختر کے صاحبزادے اور شبانہ اعظمی کے خاوند ہیں‘ نہ صرف زبان سے بات کرتے ہیں بلکہ ان کی آنکھیں بھی ان کی گفتگو کے درمیان بولتی رہتی ہیں۔فلم شعلے کا مشہور کردار گبر سنگھ‘ جسے امجد خان نے ادا کیا تھا‘ کے بارے بتانے لگے کہ اس پر بھی بحث ہوئی کہ واقعی امجد خان یہ کردار نبھا پائیں گے۔ اس نوجوان پر چانس لینا چاہئے۔ حیرانی کی بات ہے کہ اس فلم کو کئی مشہور ہیروز نے سائن کرنے سے انکار کر دیا ۔ انہیں اس فلم کا سکرپٹ پسند نہیں آتا تھا۔ ان کا خیال تھا کہ سکرپٹ کمزور ہے‘ فلم نہیں چل پائے گی۔ اپنے ساتھ ساتھ ہمارا کیرئیر بھی لے ڈوبے گی۔ اس فلم کو سائن کرنے سے انکار کرنے والوں میں شتروگھن سنہابھی تھے۔ بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ امیتابھ بچن کا فلم میں رول پہلے شتروگھن سنہا کو آفر کیا گیا تھا۔ امیتابھ بچن تب اتنابڑا اداکار نہیں بنا تھا بلکہ ایک فلم میں کردار لینے گیا تو پروڈیوسر ہدایت کار نے کہا :میاں فلموں میں اتنے لمبے اداکار بھی ہوتے ہیں؟ پہلے جائو اپنی ٹانگیں چھوٹی کروا کر آؤ پھر کچھ سوچتے ہیں۔ یوں جب شترو گھن سنہا کو اس کردار کی پیش کش ہوئی تو انہوں نے انکار کر دیا جس پر امیتابھ بچن کو وہ رول آفر ہوا جس نے ان کے لیے نئی راہیں کھول دیں۔
پچھلے دنوں شترو گھن سنہا کو سنا تو وہ پچھتا رہے تھے کہ وہ شعلے فلم کا یہ کردار نہ کر سکے ۔ پوچھا گیا کہ وجہ کیا بنی کہ انہوں نے وہ کردار قبول نہ کیا؟ شترو کہنے لگے :میں ان دنوں دو تین فلموں کی شوٹنگ میں مصروف تھے اس لیے وہ نہ کر سکا یا یوں سمجھ لیں کہ میں نے اس فلم کے سکرپٹ کو اہمیت نہ دی‘ اگرچہ خوشی ہوئی کہ وہ کردار بعد میں امتیابھ بچن نے کیا جس نے ان کے لیے بھارتی سینما کے راستے کھول دیے‘ لیکن شترو گھن سنہاکا لہجہ چغلی کھا رہا تھا کہ انہیں آج تک دکھ ہے کہ ان سے یہ خوفناک error of judgementہوئی ۔
قسمت بھی بعض دفعہ عجیب کھیل کھیلتی ہے کہ جب شعلے فلم ریلیز ہوئی تو کچھ دنوں میں ہی فلاپ قرار دے دی گئی۔ اخبارات میں اس کی ریویوز اچھے نہیں چھپے۔ آمدنی وہ نہیں ہوئی جتنا خرچہ ہوا تھا۔ کئی دنوں تک اس فلم کی ناقدین کے ہاتھوں درگت بنتی رہی۔ اس وقت یقینا شترو گھن سنہا نے خود کو اپنی سمجھداری پر داد دی ہوگی کہ اچھا ہوا انہوں نے اس فلاپ فلم کو نہیں چنا ورنہ یہ ان کا کیرئیر لے بیٹھتی۔ شاید امیتابھ بچن کو بھی ایسا لگا ہو کہ فلم ڈوب گئی اور اس کے ساتھ ہی اس کا کیرئیر بھی۔ لیکن دھیرے دھیرے لوگوں کے دلوں میں اس فلم نے گھر کرنا شروع کیا اور پھر ہر طرف سے ہن برسنے لگا اور یہ فلم مسلسل کئی برسوں تک سینما ہاؤسز میں چلتی رہی۔ اس فلم کے ڈائیلاگ ایسے مشہور ہوئے کہ آج تک روز مرہ زندگی میں استعمال ہوتے ہیں۔ ”کتنے آدمی تھے؟ ‘‘ ”تیرا کیا بنے گا کالیا؟‘‘،”ارے او سانبھا سرکار ہم پر کتنا انعام رکھے ہے‘‘،”اتنا سناٹا کیوں ہے بھائی‘‘۔ وہی بات جب قسمت کی دیوی مہربان ہو تو آپ کی الٹی بازی بھی سیدھی ہوجاتی ہے۔ امجد خان اور امیتابھ بچن اس فلم سے جانے جاتے ہیں۔
دوسری طرف بھارتی رئیلٹی شو Indian Idolمیں پورے ہندوستان سے لڑکے لڑکیاں چن چن کر لائے جاتے ہیں جنہیں ایک رات پہلے کوئی نہیں جانتا لیکن دوسرے دن وہ پوری دنیا میں جانے پہچانے جاتے ہیں۔ ان سب میں سے اہم کہانی صوائی بھٹ نام کے ایک لڑکے کی ہے جو اپنے بوڑھے ماں باپ کے ساتھ گلیوں اور سڑکوں پر گاتا بجاتا تھا اور بدلے میں کچھ سکے یا روپے مل جاتے تو گزارہ ہو جاتا۔ ہمارے ہاں پاکستان میں بھی آپ کو ایسے کئی سریلے لوگ مل جاتے ہیں۔ اب وہ لڑکا پورے ہندوستان میں اپنی آواز کی وجہ سے جانا پہچانا جاتا ہے۔ پچھلے دنوں اس پروگرام میں اس کے باپ نے کہا کہ وہ سٹیج پر اپنے بیٹے سے معافی مانگنا چاہتا ہے۔ اس سے ایک بہت بڑی بھول ہوئی تھی اور وہ آج تک شرمندہ ہے۔ اس کے دل میں ایک دکھ ہے جس کا وہ ازالہ کرنا چاہتا ہے۔
سب حیران رہ گئے کہ ایک باپ کو اپنے بیٹے سے معافی کی کیوں ضرورت پڑ گئی۔ پتہ چلا کہ اس کا بیٹا کچھ نہیں کرتا تھا‘ بس کبھی کبھار گا لیا۔ آواز اچھی تھی لیکن دوپہر تک گھر پر سویا پڑا رہتا تھا۔ ایک دن باپ کو غصہ آیا اور اس نے اسے نیند سے جگا کر مارا کہ وہ کچھ کرتا کیوں نہیں۔ گھر میں فاقوں کی نوبت آگئی تھی تو کچھ کماتا کیوں نہیں۔ ایک باپ کو پریشانی تھی کہ بیٹا گلیوں میں گائے گا نہیں تو وہ کہاں سے کھائیں گے۔ اس کی بیوی اپنے بیٹے کو بچانے کے لیے آئی تو اس نے اسے بھی مارا۔ وہ جس بیٹے کو نکما اور ناکارہ سمجھ کر پیٹتا رہا وہ آج پورے ہندوستان میں جانا پہچانا جاتا ہے۔ اس شو میں بیٹھے بڑے بڑے ججز کو اس نے اپنے بیٹے کی تعریف کرتے سنا اور ہندوستان بھر سے اسے ووٹ پڑتے دیکھے تو وہ خود پر قابو نہ پاسکا اور رو پڑا۔ وہ اس بیٹے کی وجہ سے بمبئی کے عالی شان ہوٹل میں ٹھہرا ہوا تھا اور ٹی وی سکرین پر چھایا ہوا تھا۔ باپ اٹھا اور اس نے جا کر سٹیج پر اپنے اس ”نکمے‘‘ بیٹے کو گلے سے لگایا اور معافی مانگی۔
ان دو‘ تین مثالوں سے کیا سبق سیکھا جاسکتا ہے؟ ایک تو یہ ہے آپ کی judgement ضروری نہیں ہر دفعہ درست ہو۔ آپ جب ٹاپ پر ہوتے ہیں تو اس وقت آپ سے غلطیوں کے امکانات بڑھ جاتے ہیں کیونکہ خوداعتمادی عروج پر ہوتی ہے اور آپ کو لگتا ہے کہ آپ سے کبھی غلطی ہو ہی نہیں سکتی۔ جیسے شترو گھن سنہا سے ہوئی۔ چالیس سال بعد بھی وہ اپنے آپ کو معاف نہیں کرسکا کہ اس نے” شعلے‘‘ جیسی فلم مِس کر دی‘ جس نے امیتابھ بچن کو سٹار بنا دیا‘ اور جب قسمت کی دیوی مہربان ہو تو پھر آپ کی زندگی کا لکھا پہلا فلمی گانا بھی ایسا ہٹ ہوجاتا ہے کہ آپ عمر بھر اسی گیت سے پہچانے جاتے ہیں۔ لیکن ایک بات یاد رکھیں قسمت کی دیوی بھی اسی وقت مہربان ہوتی ہے جب آپ نے اپنا ہوم ورک پورا کررکھا ہو۔ جاوید اختر کی طرح لوگوں کے گھروں کے گیراج میں راتیں گزاری ہوں‘ صوائی بھٹ کی طرح گلیوں میں بنجارے کی طرح گاتے پھرتے رہے ہوں اور باپ کی مار کھائی ہو یا پھر امیتابھ بچن کی طرح ہدایت کاروں کے طعنے سنے ہوں کہ میاں جائو پہلے ٹانگیں کٹوا کر آئو۔

  • merkit.pk
  • merkit.pk

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply