بیان کچھ محبت کا۔۔سعدیہ علوی

بہت شکریہ، بڑی مہربانی
میری زندگی میں حضور آپ آئے
ہماری چھوٹی سی دنیا میں حسین رنگوں کا اضافہ کرنے والے ۔۔
ہم تو بس اتنا سمجھتے تھے، جانتے تھے کہ چاہے جانے کا خمار الگ ہوتا ہے ۔اب کیسا ہوتا ہے یہ ہمیں علم نہیں تھا۔ بڑی سرمئی سی، سفید سی یا یوں کہہ لیں بڑی مدھم رنگوں کی کائنات تھی ہماری، ہلکا زرد رنگ ،جو ہم نے لیا تو دھوپ سے تھا مگر کبھی اس میں حدت محسوس نہ ہوئی۔ بے رونق سا نیلا رنگ ،جو شاید آسمان کی جھلک تھا مگر چمکتا ہرگز نہ تھا ۔ پھیکا سا گلابی شیڈ ،جو کچھ پھولوں کا عکس تھا پر پھولوں کی طرح مہکتا نہ تھا ۔ غیر مانوس سا سبز جو بس دکھتا تھا، چمکتا نہ تھا۔
راستے آباد تو تھے مگر ہمارے لیے کوئی مانوس شکل نہیں تھی۔
ہوائیں تیز تو کبھی ہلکی چلتی تھیں ،مگر عطر بیز نہ تھیں۔
کار ہائے زندگی بھی جیسے تیسے گزر ہی رہے تھے، سخت جانی کے لمحے تھے ایک نامعلوم مصروفیت تھی جس نے ہمیں مکمل طور سے اوڑھ رکھا تھا ۔کچھ نہ بیان کی جانے والی ذمہ داریاں بھی تھیں کہ جن کے بارے بات ہم خود بھی نہ کرتے تھے۔
ایسا نہیں تھا کہ ہم بہت اداس روح تھے۔
ہنستے تھے، مسکراتے تھے، خوش رہتے،یا نظر آتے تھے۔ مگر اب جو سوچتے ہیں تو لگتا ہے سب اوپری سا تھا۔
ہماری ہنسی میں کھلکھلاہٹ نہ تھی،
ہماری خوشی میں راحت نہ تھی،
ہماری آنکھوں میں جھلملاہٹ نہ تھی،
ہم نے دنیا کو بہت قریب سے دیکھا اور جان گئے کہ یہاں ظاہری چمک ہی سب کچھ ہے ہم کچھ ماٹھے سے تھے سو اس دور سے خود کو باہر لے گئے ۔
سب کچھ رواں تھا وقت بھی دلکی چال چل رہا تھا کہ۔۔
کہ ایک بگ بینگ دھماکے کی طرح ہماری زندگی کا ایک نیا آغاز ہوگیا۔
بے رنگی، رنگوں میں ڈھل گئی۔
تیرگی ختم تو نہ ہوئی مگر روشنی کی کرنیں نظر آنے لگیں۔
ہواؤں میں مہک سی چھانے لگی۔
جانتے ہیں کیوں؟
ہمیں آپ مل گئے،
کیسے؟
یہ ہمیں نہیں پتہ،
کون جانتا تھا کہ ایک نامعلوم سی دوستی ایسے رشتے میں بدل جائے گی۔
ہم تو سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ کوئی اس طرح بھی  آسکتا ہے۔
جو دنیا سرمئی سی تھی، پھیکے رنگوں والی، وہ اب قوس و قزاح میں بدل گئی ہے۔
زرد رنگ میں سورج کی حدت اور چمک آگئی ہے،
فلک کی وسعتیں آسمانی رنگ اوڑھ کر ہم پر سایہ فگن ہیں،
سبز رنگ اپنے سارے دھانی، کاہی، رنگوں کے ساتھ ہماری مختصر سی کائنات کو مہکا رہا ہے۔
اور گلابی واللہ اسکی تو بات ہی نہ کیجیئے آتشی، ارغونی،بنفشی، سرخ سارے چمکیلے رنگ نہ صرف ارد گرد پھیل گئے ہیں بلکہ خوشبوؤں کا ایک ساز ہے جو ہمارے ساتھ گنگنا رہا ہے۔
ہم بے رنگ تھے،
آپ نے رنگ بھر دیئے ہم میں۔
اب جو ہنستے ہیں تو ذرہ ذرہ ہمارے ساتھ جگمگاتا ہے،
ہماری آنکھیں اَن دیکھے خمار سے بوجھل رہتی ہیں ان کی چمک خود ہمیں خیرہ کردیتی ہے،
ہم بے وجہ خوش رہنے لگے ہیں۔
ہماری چھوٹی سی دنیا میں آپ ایسے آئے ہیں کہ جیسے سکندر!
وہ آیا،
اس نے دیکھا،
اس نے فتح کرلیا،
بعض تصاویر کیمرہ قید کر ہی نہیں سکتا
ہماری خوشی بھی ایسی ہی ہے جسے ہم بیان کرنے کی کوشش تو کرتے ہیں مگر الفاظ کم پڑ جاتے ہیں،
ہم چاہ کر بھی وہ سب نہیں لکھ پاتے جو ہمارے دل میں ہے۔
کاش ہم دکھا سکیں کہ ہم کتنے خوش ہیں، مطمئن ہیں کہ آپ ہیں!

  • merkit.pk
  • merkit.pk

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply