بیتال پچیسی

بیتال پچیسی ٓ
اعجازالحق اعجاز

بیتال پچیسی ایک سنسکرت الاصل کہانیوں کا مجموعہ ہے جسے مظہر علی خاں ولا نے فورٹ ولیم کالج کے ڈاکٹر گلکرسٹ کے ایما پر برج بھاشا میں منتقل کیا تھا اور اس کی اشاعت ڈاکٹر گلکرسٹ کے فورٹ ولیم کالج سے جانے کے بعد ان کے جانشین جیمز مویت (James Mouat)کی زیر نگرانی 1805 میں عمل میں آئی۔سنسکرت میں یہ کہانیاں برھت کتھا منجری اور کتھا سرت ساگر کے نام سے موجود ہیں۔ ڈاکٹر گوہر نوشاہی نے اس کتاب کی تدوین کی جو 1965میں مجلس ترقی ادب لاہور سے شائع ہوئی۔بیتال پچیسی میں پچیس کہانیاں ہیں جو ایک بیتال (بھوت)راجا بکر ماجیت کو سناتا ہے۔بیتال کی لاش ایک پیڑ پر لٹکی ہے اور بکر ماجیت ا س لاش کو اتار کر ایک جوگی کے پاس لے جانا چاہتا ہے۔بیتال اس سے یہ شرط رکھتا ہے کہ اگر رستے میں بکرماجیت ایک لفظ بھی بولا تو وہ خود کو چھڑا کر دوبارہ پیڑ پر چلا جائے گا۔اس کے بعد بیتال چوبیس کہانیاں سناتا ہے جن کے دوران بکر ماجیت بول اٹھتا ہے اور بیتال ہر بار درخت پر جا لٹکتا ہے۔پچیسویں کہانی کا جواب بکر ماجیت کو نہیں آتا اس لیے وہ خاموش رہتا ہے۔یہ کہانیاں نہایت دلچسپ اور سبق آموز کہاوتوں (Aphorisms)پر مشتمل ہیں اوران میں ہندوستانی دیو مالاکے آثار ملتے ہیں۔ مثلاً چھٹی کہانی میں دو انسانوں کے سروں کے آپس میں بدل جانے کو موضوع بنایا گیا ہے۔جرمن ناول نگار تھامس مان (Thomas Mann) نے اسی ہندوستانی کہانی سے متاثر ہو کر ایک ناول The Transposed Headsلکھا تھا جس میں اس نے فلسفے کے ایک اہم مسئلے جسم اور ذہن کی ثنویت Body Mind Problemکو موضوع بنایا تھا۔انتظار حسین نے بھی اپنے افسانے ”نر ناری“ میں اسی موضوع کو پیش کیا ہے اور اس کا ماخذ بھی یہی کہانی ہے۔یہ کہانیاں پڑھنے کے لائق ہیں مگر ان کا ایک مسئلہ یہ ہے کہ ان کی زبان بے حد مشکل اور پیچیدہ ہے۔اس کی قرات اور تفہیم عام قاری کے لیے کیا اچھے خاصے زبان دان کے لیے بھی مشکل ہے۔املا اور قواعد میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ آنے والی تبدیلیوں کی وجہ سے ان کو سمجھنا اور بھی مشکل ہو گیا تھا مگر اب یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ پنجاب یونی ورسٹی کی ایسوسی ایٹ پروفیسرمحترمہ بصیرہ عنبرین صاحبہ نے اس کی تفہیم و تسہیل کا کارنامہ انجام دیا ہے اور یہ کتاب دارالنوادر سے چھپ کر نئے سال کے آغاز کے ساتھ ہی منظر عام پر آئی ہے۔ یہ ایک دشواراور پیچیدہ کام تھا جسے ڈاکٹر صاحبہ نے بہت دقت نظری اور عرق ریزی سے انجام دیا ہے۔انھوں نے تفہیم متن کے تقاضوں کو ناگزیر جانتے ہوئے اسے آج کی سہل زبان میں ڈھالا ہے۔اس کتاب کو اس نئی صورت دینے میں ان کا مطمح نظر یہ رہا ہے کہ ہندی اصطلاحات اور ہندی کلچر سے وابستہ لفظیات و اشارات اور تلمیحات تو بدستور رہیں مگر وہ ڈکشن جو آج کے اردو محاورے سے دور ہے یا بالکل متروک ہو چکی ہے اس کی جگہ ایک عام فہم ڈکشن سامنے لائی جائے مگر اس طرح کہ قصوں کی روانی میں کوئی فرق نہ آئے اور ان کی مجموعی فضا ویسی ہی رہے۔اس تفہیم و تسہیل سے یہ مقصود نہیں کہ اصل متن کو بگاڑ دیا جائے بلکہ مطالعے میں آسانی پیدا کرکے اسے آج کے قارئین کے لیے قابل قرات بنانا ہے اور جہاں تک ممکن ہو سکے اصل متن کو بحال رکھنا ہے۔اس کوشش میں ڈاکٹر صاحبہ کامیاب رہی ہیں اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وہ ہندی زبان،دیومالا اور تہذیب وثقافت سے کماحقہ آگاہی رکھتی ہیں۔ان کی اس سے پیشتر ایک کتاب”نیپالی کہانیاں“ کے نام سے بھی شائع ہو چکی ہے جس میں انھوں نے ہندی زبان میں لکھی گئی نیپالی کہانیوں کا ترجمہ اتنی عمدگی سے کیا ہے کہ یہ کہانیاں ان کی اپنی تخلیق معلوم ہوتی ہیں۔بیتال پچیسی کی تسہیل کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر صاحبہ نے تحشیہ نگاری کی صورت میں اہم نکات کی وضاحت بھی کر دی ہے۔ کتاب کے آخر میں ان کا ایک تحقیقی مقالہ بعنوان ”اردو کے دو حکمت آموز داستانوی قصے“ بھی ضمیمے کی صورت میں موجود ہے جس میں انھوں نے بیتال پچیسی کے علاوہ کاظم علی جواں کی داستان سنگھاسن بتیسی کے اہم پہلووں پر روشنی ڈالی ہے۔امید ہے کہ قارئین بیتال کی ان کہانیوں کے ساتھ ساتھ اس تحقیقی مقالے سے بھی لطف اندوز ہوں گے اور اس کتاب سے بھر پور استفادہ کریں گے۔

Avatar
اعجازالحق اعجاز
PhD Scholar at Punjab University,Writer

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *