غیرت کا خمیازہ ۔۔ ماسٹر محمد فہیم امتیاز

پاکستان کے سربراہ کی طرف سے مغرب کے اسلاموفوبیا کے بخیے ادھیڑتے ہوئے اسلام کا مقدمہ لڑنا، ناموسِ رسالتﷺ  کی اقوام ِ متحدہ میں کھڑے ہو کر پہرے داری کرنا اور ہولوکاسٹ جیسی دُکھتی رگ پر پاؤں رکھنا۔کشمیر مسئلے کو تاریخی اور مثالی انداز میں ہر ہر ممکن فورم پر اٹھانا، اسے  یہودیوں کی قید کی تمثیل جیسے کھلے طمانچے رسید کرتے ہوئے اپنا دوٹوک موقف واضح کرنا۔

پاکستان وزیر خارجہ کی طرف سے سی این این کے انٹرویو میں متعصب راتب خور عالمی میڈیا کو آئنہ دکھاتے ہوئے واضح طور پر “ڈیپ پاکٹس” ڈکلیئر کرنا۔

tripako tours pakistan

وزیراعظم پاکستان کی طرف سے ایچ بی او کے انٹرویو میں امریکہ کو اڈے دینے کے جواب میں “ابسلوٹلی ناٹ” کہتے ہوئے مڈل فنگر دکھانا۔

پرائم منسٹر آف پاکستان کا سی آئی اے چیف سے ملاقات سے انکار کرنا(کہ میں وزیر اعظم ہوں اپنے ملک کی پولیٹیکل لیڈر شپ کو کہیں مجھ سے بات کرے ،آپ نے ملنا ہے تو جنرل فیض حمید سے ملیے)۔

پاکستان میں امریکی سفارت خانے اور سفارتکاروں پر پابندیاں عائد کرنا۔

قومی اسمبلی میں کھڑے ہو  کر وزیراعظم پاکستان کی طرف سے پاکستان کا سٹانس واضح کرنا کہ پاکستان “لا الہ الااللہ” پر چلے گا،کسی پرائی جنگ میں نہیں گھسے گا،کسی کے سامنے نہیں جھکے گا اور تعلقات برابری کی سطح پر ہوں گے وغیرہ وغیرہ

ان سب کے تناظر میں یہ واضح ہو جاتا ہے کہ ہاں اب پاکستان دنیا کی  آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بحیثیت ایک آزاد ملک بات کر رہا ہے۔پاکستان مزید کسی سے استعمال ہونے والا نہیں  اور نہ ہی آگے اپنی ملی حمیت پر سمجھوتہ کرے گا۔

اور اس سب کے بعد۔۔۔

گلگت بلتستان میں دہشگردوں کی فائرنگ سے جوانوں کی شہادت۔

بن قاسم پورٹ ریل کی پٹڑی پر آئی ای ڈی(بم) کا نصب ہونا۔

بلوچستان میں نام نہاد مسنگ پرسنز کی طرف سے سکیورٹی فورسز پر حملہ کر کے جوانوں کو شہید کرنے سمیت تین دہشتگردانہ کارروائیاں۔

ایف اے ٹی ایف کا پاکستان کو بدستور گرے لسٹ میں رکھنا۔

لاہور جوہر ٹاؤن کا دھماکہ

اور پھر کوئٹہ دھماکہ

اس سب سے واضح ہو رہا ہے   کہ  عالمی باسز کو نہ کہنے کا خمیازہ پاکستان  نے بھگتنا شروع کر دیا  ہے،کہ دشمنانِ  پاکستان کے نزدیک پاکستان کی ملی غیر و حمیت کا بحال ہونا ہرگز قابل قبول نہیں۔اور یہ ہونا ہی تھا کوئی غیر متوقع چیز نہیں تھی، غیرت کی ،خوداری کی قیمت چکانا پڑتی ہے کہیں نا کہیں ۔ اب جب کہ پاکستان سر اٹھا رہا ہے،اور مزید سپائن لیس رہنے پر تیار نہیں ،تو ہر طرح سے دشمنان پاکستان ٹوٹ پڑیں گے،جسں کے چند مظاہر کا اوپر ذکر بھی کیا گیا جو سامنے آنے لگ گئے ہیں،مزید پاکستان میں پھر سے دہشتگردی کی آگ بھڑکانے،قوم پرست تنظیموں اور جماعتوں کو  ایکٹیو کرنے، مذہبی بنیادوں پر فرقہ واریت کو ہوا دینے، سیاسی بنیادوں پر پاکستان کو ڈی اسٹیبلائز کرنے سمیت عالمی سطح پر مختلف ہتھکنڈوں سے پاکستان پر دباؤ بڑھانے سے لے کر میڈیا اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے ریاست و ریاستی اداروں کے خلاف ڈس انفارمیشن و پروپیگنڈا تک ہر ہر ہتھکنڈا آزمایا جانے لگے گا، ملکی و عالمی سطح پر تمام تر پاکستان مخالف مہروں کو حرکت دی جانے لگی ہے اور مزید دی جائے گی۔

Advertisements
merkit.pk

اس ساری صورتحال میں یہ ذہن میں رہے  کہ اسی غیرت و حمیت کے لیے دہائیوں سے دہائیاں دے رہی ہے یہ قوم، اب اگر اس طرف قدم بڑھایا ہے دنیا سے ٹکر لے ہی لی تو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا ہر ہر فرد کو۔جو جو،  جس جس شعبے سے بھی وابستہ ہے، اس صورتحال میں ریاست اور ریاستی اداروں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہو جائے۔ آنکھیں کان کھلے رکھے کسی قسم کے پروپیگنڈے کا ،کسی قسم کی ڈس انفارمیشن کا شکار نہ ہو۔ ریاستی بیانیے کے ساتھ مکمل طور پر کھڑے ہوں اور اس کو سپورٹ کریں۔سوشل میڈیا پر ریاست مخالف عناصر کی بیخ کنی کریں اور پاکستان کے اس غیرت و حمیت کی طرف بڑھتے ہوئے قدموں کو مضبوط سے مضبوط تر بنانے کی کوشش کریں۔بہت کچھ ہوگا،بہت پریشر بھی ہوگا اور پروپیگنڈا بھی،فرقہ واریت بھی، سیاسی،لسانی،تنظیمیں بھی پنکھ پھیلائیں گی۔آپ کے قدم نہیں ڈگمگانے چاہییں کسی بھی صورت میں ،ذہن میں رہے آپکی ریاست اپنی خودداری،خودمختاری،اور مِلی حمیت کی بحالی کے لیے کوشاں ہے اور آپ نے ریاست کا دست و بازو بننا ہے۔ریاست کے ساتھ کھڑے ہونا ہے۔یہ آپکی بقاء اور آپکی عزت و وقار کی جنگ  ہے !

  • merkit.pk
  • merkit.pk

ماسٹر محمد فہیم امتیاز
پورا نام ماسٹر محمد فہیم امتیاز،،ماسٹر مارشل آرٹ کے جنون کا دیا ہوا ہے۔معروف سوشل میڈیا ایکٹوسٹ،سائبر ٹرینر،بلاگر اور ایک سائبر ٹیم سی ڈی سی کے کمانڈر ہیں،مطالعہ کا شوق بچپن سے،پرو اسلام،پرو پاکستان ہیں،مکالمہ سمیت بہت سی ویب سائٹس اور بلاگز کے مستقل لکھاری ہیں،اسلام و پاکستان کے لیے مسلسل علمی و قلمی اور ہر ممکن حد تک عملی جدوجہد بھی جاری رکھے ہوئے ہیں،

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply