جو چلے تو جاں سے گزر گئے(قسط4)۔۔محمد اقبال دیوان

تعارف:زیرِ  مطالعہ کہانی دیوان صاحب کی پہلی کتاب ”جسے رات لے اڑی ہوا“(چوتھا ایڈیشن زیر گردش) میں شامل ہے۔اسے پڑھ کر رات گئے ایک افسر عالی مقام کا فون یہ معلوم کرنے کے لیے آیا کہ مصنف کو یہ حقائق جو ہر چند ایک قصے کی صورت میں بیان ہوئے ہیں، کہاں سے دستیاب ہوئے۔ ؟کیا یہ ان کے ادارے کے کسی افسر نے بتائے۔ہمارے دیوان صاحب کا جواب تھا کہ دنیا بھر کی مرغیاں کتنی کوشش بھی کرلیں ایک ماہر شیف سے اچھا آملیٹ نہیں بناسکتیں۔ہمیں آپ شیف کا درجہ دیں اور اپنے افسروں کو مرغیاں مان لیں۔ان کی پیشکش تھی کہ دیوان صاحب سے ملاقات ہوگی  ، اور آئندہ کے کچھ پروگرام بنیں گے۔ افسر عالی مقام حالات کی گردش کی وجہ سے اپنے عہدے پر برقرار نہ رہ پائے اور 

ع ،ان کہی ہی رہ گئی وہ بات سب باتوں کے بعد

tripako tours pakistan

والا حساب رہا 

ادارہ ”مکالمہ“ چودہ اقساط کی اس طویل کہانی کو شائع کررہا ہے اور ممکن ہوا تو اسے ویب سیریز کی صورت میں ڈھالے گا۔کوشش جاری ہے۔
ایڈیٹر ان چیف

next year in Jerusalem
next year in Jerusalem

تیسری قسط کا آخری حصہ
اس تمام سازش سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس کے اندر بہت اہم لیول کے افراد شامل تھے۔تاملوں کے کئی گروپ براہ راست اسرائیل کی مدد اور رہنمائی حاصل کرتے تھے۔سب سے بڑھ کر یہ کہ فلسطینی رہنما یاسر عرفات نے صرف پانچ ہفتے قبل ہی راجیو گاندھی کو اس طرح کے حملے سے باخبر کیا تھا۔انہیں اس حملے کی سن گن کہاں سے ملی، یہ لمحہء فکریہ ہے۔کیا جنوب اور شمال کی جوعلاقائی اور لسانی تقسیم ہندوستان کی اہم ایجنسیوں تھی اس نے جان بوجھ کر اس حملے کی تیاریوں سے مرلی بالاسنگھم جیسے لوگوں نے مرکز کو بے خبربھی رکھا اوران کی یعنی راجیو گاندھی جی کی جان بچانے کی خاطر خواہ کوئی احتیاطی تدبیر بھی عملی جامہ نہ پہن سکی۔فارسی میں کہتے ہیں “دید و باز دید” یعنی دیکھتا چلا گیا۔ مہاتما بدھا کہا کرتے تھے “جو میں دیکھتا ہوں تم نہیں دیکھتے”

چوتھی قسط
کوئینی پر لاگو اس ساری احتیاط کی وجہ یہ تھی کہ بمبئی، کلکتہ، دہلی جیسے شہروں میں متعین ان کے سارے افسران اپنے مخالفین اداروں کی نگاہوں میں اور دیگر ورودھی (تخریب کار)لوگوں کی ہٹ لسٹ پر ہوتے ہیں۔ گو اب تک کوئی ایسی واردات نہیں ہوئی کہ ان میں سے کسی نے کسی کو مارا ہو، اس لئے کہ یہ ادارے اور ورودھی بھی Honor Among Thieves (انگریزی کا محاورہ جس کا مطلب وہ غیر تحریری ضوابط جسکی رو سے دشمنی کو ایک خاص مقام سے آگے نہیں بڑھنے دیا جاتا) کے سنہری اصول پر عمل کرتے ہیں، مگر اس کا اس ادارے کے کسی فرد کے ساتھ رابطے میں ہونا خودان کی اپنی کاروائیوں کے لئے بلاوجہ پیچیدگیاں پیدا کرسکتا تھا۔

violin player
shay
Taj hotel Mumbai
Taj Gym
dabby wala
k-house
cheetah on prowl

یوں کوئینی اور مرلی کی ملاقاتیں، مرلی والوں کے سیف ہاؤسز پر ہی ہوتی تھی۔ ایسی ہر ملاقات میں جب مرلی کو تعلقات آگے بڑھا کر بستر تک دھکیلنے میں دشواری ہوتی تو وہ کوئینی کو وقت ِ رخصت ایک ہی بات کہتا تھا۔ Next year in Jerusalem (اگلا سال یروشیلم میں) یہ دراصل یہودیوں کا ساری دنیا میں اس وقت تک وداعیہ کلمہ تھا، جب تک اسرائیل وجود میں نہیں آیا تھا، بالکل اسی طرح جیسے ایران میں ہر جمعے کی نماز میں سلام پھیرنے کے بعد نمازی نعرہ لگا تے ہیں، “مرگ بر امریکہ، مرگ بر اسرائیل”۔

وہ ملاقات کے اختتام پر رخصت ہوکر جارہی ہوتی تو مرلی بالاسنگھم اپنے موٹے موٹے ہونٹوں سے سیٹی بجاتے ہوئے اس گانے کے بول نکالتا تھا کہ
سیکھا نہیں ہمارے دل نے
پیار میں دھیرج (امید) کھونا
آگ میں جل کر بھی جونکھرے
وہی ہے سچا سونا
چھوٹی سی یہ دنیا،کبھی تو ملو گے، کہیں تو ملو گے
تو پوچھیں گے حال

سیٹی وہ بہت اچھی بجاتا تھا، اس میں جب امید وصل کے سُر لگ جاتے تو نغمگی اور بھی بڑھ جاتی، کوئینی مسکراتے ہوئے اسے کہتی “Well Murli! that’s a good note. I must learn to play it on my violin(مرلی یہ بہت اچھا سُر ہے مجھے اسے اپنے وائلن پر بجانا سیکھنا چاہیے۔)

جس کے جواب میں مرلی اسے کہتا “Queenie Baby! you better do it soon.Men have no patience”(کوئینی بے بی تم اسے جلدی بجاؤ، مردوں میں صبر نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی)۔

کوئینی اسے جاتے جاتے ہاتھ ہلا کر اور ہنستے ہنستے کہتی” You, yourself have just said Next year in Jerusalem. Why do you Tamils have such a short memory” (تم نے خود ہی تو مرلی ابھی کہا تھا کہ اگلے برس یروشیلم میں، تم تامل لوگوں کی یاداشت اتنی کمزور کیوں ہوتی ہے)۔

ایسا نہ تھا کہ اپنے فرائض اور شوق میں غلطاں و پیچاں، کوئینی کو مردوں میں کوئی دل چسپی نہ تھی۔
اس کا دل، مگر شایان پر آیا ہوا تھا جسے وہ پیار سے “شے” کہتی تھی۔ شایان ایک مسلمان ویٹ ٹرینر Weight Trainer تھا۔ تاج محل ہوٹل کے جم Gym کا ملازم۔ ایک ٹفن پیٹی والے کا بیٹا۔
بمبئی کے ان ٹفن پیٹی والوں کی ایک عجب دنیا تھی۔ ایک کروڑ سے اوپر کی آبادی والے اس شہر میں گھروں کا کھانا یہ دفتروں ملوں اور دیگر مقامات پر ملازمین کو پہنچاتے تھے۔بمبئی کار انہیں پیار سے ڈبہ  والا یاٹفن والا کہہ کر پکارتے تھے۔ وقت پر گرما گرم، گھر کا کھانا دفتر کی میز پر بغیر کسی غلطی کے پہنچا نا اُن کی تنظیمی صلاحیتوں اور فرض شناسی کا مظہر تھا۔

 

queenie jesay

شایان روز اپنی بس سے ٹھیک اس بس سٹاپ پر اترتا تھا ،جو کانتا نواس یعنی “کے-ہاؤس” کے عین مقابل واقع تھا۔لگاؤ کے ابتدائی دنوں میں کوئینی اسے اپنی کھڑکی سے دیکھا کرتی تھی۔ ایسا لگتا تھا کہ وہ مرد،شیروں اور لکڑ بھگوں Hyenas سے آباد ایک جنگل میں شکار پر نکلا ہوا چیتا ہو، وہی تمکنت، وہی پھرتی، شکار کے وقت وہی گھبرایا ہوا  انداز۔

وہ سوچتی رہتی تھی کہ یہ اگر فلموں کا رخ کرلے تو وہاں موجود بہت سے خان صاحبان کو کام کے لالے پڑ جائیں۔ کبھی کبھار وہ سوچتی تھی کہ خاموشی سے  وہ اس کے لئے کسی فلم ڈائریکٹر سے بات کرے۔ محبت اور لگاؤ کا یہ کیسا عجب کھیل ہو ، کہ اُسے پتہ بھی نہ چلے کہ فلموں میں اُسے بریک دینے والی شخصیت وہ ہے جو اُسے دیکھ دیکھ کر کھڑکی کے پیچھے ایک آتش ِگمنام میں سُلگتی رہی ہے۔ فلموں کے میوزک میں وائلن بجانے کی وجہ سے اس کے تعلقات کئی ڈائریکٹروں سے بھی ہوگئے تھے۔

ابھی معاملہ دید اور پسند کی حدود میں ہی غوطے کھارہا تھا کہ دونوں کی ملاقات ایک عجب انداز میں ہوئی۔
ہوا یوں کہ کسی مالدار یہودی بڑھیا نے فون کرکے تاج محل ہوٹل سے اپنے لئے ناشتہ منگوایا، ناشتہ لے جانے والا دستیاب نہ تھا۔ چائے کی طلب میں البتہ شایان کچن کے پاس منڈلا رہا تھا۔ شایان کو کچن منیجر نے ناشتہ لے جانے کا فریضہ سونپ دیا۔

کے- ہاؤس کے سکیورٹی والوں کو شایان کے اندر ناشتہ لے جانے پر اعتراض تھا، وہ اس کا ہوٹل کی ملازمت والا کارڈ دیکھ کر بھی اسے اندر جانے کی اجازت نہیں دے رہے تھے۔ اس تکرار کی آوازیں کوئینی کے کانوں میں پہنچیں تو اس نے کھڑکی سے باہر جھانکا۔ وہ کالج جانے کے لئے نہا کر نکلی تھی۔ٹھیک سے ساڑھی بھی نہ لپیٹی تھی۔ سامنے سے بند ہونے والے بلاوؤز کے ہکس بھی ٹھیک سے نہ لگائے تھے۔وہ تولیہ پکڑے بھاگتی ہوئی گیٹ پر آئی۔ گیلے سیاہ بال سے پانی بھی ٹپک رہا تھا اور اسکے گورے ایک شانے کی اوٹ سے اس کی سیاہ برا Bra کا اسٹریپ بھی جھانک رہا تھا۔ڈورئیے کا گہرا سبزبغیر آستین کا بلاؤز اور کالی وائل کی سبز پھولوں والی ساڑھی میں اس کی دھلی دھلی اجلی رنگت صبح کے اجالے میں خوب چمک رہی تھی۔ کچھ قصور  اس کی بڑی بڑی آنکھوں کا بھی تھا جن کا ساتھ رات کو لگائے ہوئے کاجل نے نہ چھوڑا تھا۔دوران تکرار جب کوئینی نے اپنا عریاں سڈول بازو اپنے گیلے بال کمر پر ڈالنے کے لئے کچھ بلند کیا تواسکی تندرست بغل میں شایان کوملگجے اجالوں میں خوشبودار ٹیلکم پاؤڈر کے سفید بادل تیرتے دکھائی دیئے۔کچھ خوشبو شاید تازہ لگائے ہوئے ڈیوڈرنٹ کی بھی تھی جو ناشتے سے اُٹھنے والی بھاپ کی لپیٹوں سے ہٹ کر بڑی تیزی سے اس کی ناک میں سماگئی، پھر یوں ہوا کہ رنگ باتیں کرنے لگے اور باتوں سے خوشبو آنے لگی۔ وہ شاعر نہ تھا ورنہ گیلے بالوں کو پیچھے جھٹکتے ہوئے جو قطرے اس کے چہرے پر پڑے ان کی تراوٹ محسوس کرتے ہوئے وہ کہتا کہ ع
کس نے بھیگے ہوئے بالوں سے یہ جھٹکا،پانی
جھوم کے آئی گھٹا، ٹوٹ کے برسا ،پانی

جب تک سکیورٹی والے اُسے کوئینی کی مداخلت پر اندر آنے دیتے، دونوں کی نگاہیں ایک دوسرے سے الجھتی رہیں۔ نینوں کی اس گٹھ جوڑ میں اجنبیت کا سمندربیچ سے پھٹ گیا اور پیار کا ایک راستہ بن گیا۔

بہت دن بعد جب وصل کے ایک والہانہ لمحے میں جب برستا ساون ہو اور مہکتا آنگن ہو،کبھی دل دولہا ہو،کبھی دل دلہن ہو ،والا معاملہ ہوتا ہے، کوئینی نے اس سے پوچھا (اور اکثر عورتیں یہ سوال ضرور کرتی ہیں لہذا طالبانِ وصل تیاری پکڑیں) کہ” اسے کس لمحے کوئینی سے پیار ہوا؟” تو شایان نے کہا “جب اس نے اپنا بازو بال جھٹکنے کیلئے بلند کیا اور اس نے یہ یہ کچھ دیکھا” تو کوئینی نے اس سے کہا کہ” تم مسلمانوں کی نظریں بہت خراب ہوتی ہیں “۔ جس پر شایان نے ایک گہرے بوسے کے ساتھ جواب دیا کہ ” نظریں، خراب نہ ہوتیں تو،توُکیوں اچھی لگتی؟ “۔اُس کے اِس جواب سے خوش ہوکر کوئینی کی مدہوش جوانی نے بڑی عنائتیں کیں اور اُسے سپردگی کے بہت سے بونس مارکس دیئے، ساری رات وہ گنگناتی رہی۔۔ٹوٹ گئی، ٹوٹ کے میں چُور ہوگئی، تیری ضد سے مجبور ہوگئی، تیرا جادو چل گیا او جادوگر۔۔ٹوٹ گئی، ٹوٹ کے میں چُور ہوگئی۔۔۔جب کبھی اس بات کے بعد انہیں لمحاتِ وصل بہم ہوئے۔آغازِ رفاقت کوئینی ہی کے اصرار پر، اسکے اپنے گورے تندرست شانے کے نیچے واقع رعنائی کے یہی ملگجے اجالے اور ان میں الجھی مسکتی ہوئی خوشبو بنتے رہے ۔

dimple in Bobby

ایسا ہی کچھ معاملہ مشہور اداکار راج کپور اور اداکارہ نرگس کے درمیان ہوا ۔جس سے ہندوستان کی فلمی دنیا کے  ایک بڑے رومانس نے  جنم  لیا،1947میں راج کپور کی فلم آگ کی فلمبندی کا آغاز ہونے جارہا تھا۔راج کپور کو ایک اچھے اسٹوڈیو کی تلاش تھی نرگس کی والدہ جدن بائی کی ایک فلم ان دنوں فیمس اسٹوڈیو میں شوٹ ہورہی تھی۔
راج جی ان سے اس اسٹوڈیو کے بارے میں معلومات لینے پہنچے توپتہ چلا کہ وہ کچھ دیر پہلے ہی اسٹوڈیو سے جاچکی تھیں۔ وہ ان کی تلاش میں میرین ڈرائیو پر ان کے گھر پہنچ گئے۔گھنٹی بجائی تو کچن میں پکوڑے تلتی ہوئی اٹھارہ برس کی نرگس دروازے پر آئی ،گھبراہٹ میں اس نے جب اپنے ماتھے سے لٹیں ہٹانے کے لئے ہاتھ ماتھے تک بلند کیا تو ہاتھ میں لگا بیسن اس کے بالوں سے چپک گیا۔یہ منظر راجکپور کے دل میں یوں گھر کر گیا کہ نرگس ان کی محبوبہ بن گئی۔یہ سین راج کپور نے اپنے بیٹے رشی کپور کی فلم بوبی میں اداکارہ ڈمپل کپاڈیا پر فلمایا۔

یوں پہلی دفعہ کوئینی کو پتہ چلا کہ مرد کے دل کا راستہ اس کی آنکھ  سے ہو کر   گزرتا ہے۔۔

عورت پیار پر اتر آئے تو کیا نہیں کرتی۔ اسی لئے پرانی دہلی کی عورتیں کہا کرتی تھیں کہ “عورت کی محبت اُسے آنسو رُلائے۔مرد کی محبت اسے راج کرائے”۔ کالج سے واپسی پر وہ سیدھی ہوٹل پہنچی۔ہوٹل کے اہم لوگ اسے جانتے تھے کیوں کہ وہ یہاں اکثر فلم انڈسٹری والوں کے ساتھ آتی تھی۔ فلم والوں سے ہوٹل کے لوگوں کو خصوصی اُنسیت تھی۔ اس نے انہیں باور کرایا کہ سکیورٹی کے سبب ہر ایک ویٹر کو کانتانواس میں نہیں آنے دیا جاسکتا،شایان کی سکیورٹی چیک ہوگئی ہے، اب صرٖف اسے ہی وہاں بھیجا جائے۔اب کھانا پہنچانے کا اضافی کام شایان میاں کو مل گیا۔وہاں سے ملنے والی ٹپ سے اس کی آمدنی میں خاطر خواہ اضافہ ہوا۔

بھوپال سے تعلق رکھنے والاشایان کوئینی سے عمر میں پورے سات سال چھوٹا تھا، ماں اور باپ دونوں مسلمان تھے۔ چار نفوس کے اس خاندان میں اسکی بہن روحی سب سے چھوٹی تھی مگر پھر بھی بیس برس کی۔ان کے اس عشق کی خبریں جب تیسری منزل پر کوئینی کے افسران کو ملیں تو انہوں نے یہ رعائیت دے دی کہ وہ اس سے صرف کے۔ہاؤس میں واقع ادارے کے مہمان  خانے میں بصد احتیاط مل سکتی ہے۔ بس وہ یہ اہتمام کرلے کہ شایان کسی خفیہ ادارے کے پئے رول پر تو نہیں۔

اس کلیئرنس کے بعد اسے ملاقاتوں میں کوئی دشواری نہ ہوئی۔ان دونوں کی گیسٹ ہاؤس کی ملاقاتوں میں پیار کی کئی منازل طے ہوئیں۔جسم و جاں کے کئی عذاب دُھلے۔

شایان کو کوئینی کے حوالے سے بس دو باتیں سمجھ میں نہ آتی تھیں۔ایک تو یہ کہ وہ دیگر لڑکیوں کی طرح اس کے ساتھ کبھی باہر جانے پر کیوں نہ رضامند ہوتی تھی ،اس کی بڑی آرزو تھی کہ کسی ڈسکو میں جائیں، کسی ہوٹل میں کھائیں مگر کوئینی ہر دفعہ اس کی ایسی دعوت پر خرابیء طبعیت کا بہانہ کرتی جو رفاقتوں کے طوفان میں بہتے ہوئے شایان کو بالکل بے معنی لگتا۔دوسری وہ اس کی شادی کے مطالبے پر ہر دفعہ لتا منگیشکر کا یہ قول کیوں دہراتی تھی کہ “پیدا ہونا، مرنا اور شادی کرنا قسمت کے سنجوگ ہیں “۔”شے جانو ہمارے ہاتھ میں ویاہ(شادی) کی ریکھا ہی نہیں۔تم اپنے اللہ میاں سے دعا کرو،ہم اپنے یہوا سے پرارتھنا کرتے ہیں کہ ایسا ہوجائے۔ کون مورکھ ناری ہے جو گھر گھرہستی نہ چاہتی ہو۔ میرا تو من کرتا ہے اپنا چھوٹا سا گھر ہو دو چھوٹے بچّے ہوں۔ تم بھی خوش رہو میں بھی۔”

جب وہ اپنے ادارے میں اپنے بڑوں سے شادی کا معاملہ اٹھاتی تو وہ اُسے چند برس رک جانے کو کہتے تھے اس لئے کہ وہ تامل ایلام والوں کے معاملات کی نگران تھی۔ اور اس طرح کے مشن درمیان میں کسی نئے نگران کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ وہ اُن کی ہر رگ سے واقف ہے اور یہ ہماری بڑی Support base ہے۔ اس سے تمھارے ہمارے سب خرچے چلتے ہیں ورنہ یہ ہم کو یہاں کیوں بیٹھنے دیں۔

جب شایان  نے اسے جتلایا کہ اس کے گھروالوں کا اس پر شادی کے لئے بہت دباؤ ہے تو وہ چڑ کر کہتی “جاؤ کرلو شادی،میں تمہاری پسندیدہ ساڑھی کا پھندہ بنا کر پنکھے سے لٹک جاؤں گی اور تمہاری پسندیدہ شفون کی کالی پینٹی Panty بھی اپنے منہ پر لپیٹ لوں گی تاکہ میرے Suicide Note اور پینٹی سے تمہاری پتنی کو پتہ چل جائے کہ تم کس یہودن کے ساتھ نتھی تھے۔ ساری زندگی میری بے چین آتما تمہارا پیچھا کرے گی۔ تم کو شادی کرکے بھی سکھ نہیں ملے گا”۔

شایان اس طرح کی دھمکی کے بعد کئی دن تک اس سے شادی کرنے کا مطالبہ اپنے لبوں پر نہ لاتا۔پیار کا یہ وقفہ دونوں کے لئے سب سے نشاط انگیز اور والہانہ ہوتا، کوئینی کواس دوران یہ احساس ہر وقت دامن گیر رہتا کہ اس نے جو شایان کے ارمانوں پر دسمبر کی سرد صبح میں ٹھنڈا ٹھار  پانی کا مٹکا انڈیلا ہے۔ اَب اُسکے جذبات کی اس آگ کو دوران رفاقت کیوں کر سلگانا ہے۔ عورتوں میں Sense of Timing (لمحوں کی نزاکت کا احساس) بہت عمدہ ہوتا ہے۔ کیمسٹری چاہے پیار کے جذبات کی ہو کہ کالج کی کتابوں کی ،بہرحال بات تو میل ملاپ سے ہی عبارت ہوتی ہے۔

جب اسکے ادارے والے بھی شایان کے معاملے میں کچھ مطمئن ہوگئے اور وہ خود بھی پیار کرتے کرتے کافی فاصلہ طے کرچکی تو وہ اسے فلموں کے مہورت اور ایوارڈز کی تقریبات پر اپنے ساتھ لے جانے لگی وہ اسکا تعارف بطور اپنے کزن کے کراتی تھی اور دعوت ناموں پر اس کا نام انگریزی میں Shayan کی بجائے Shawn Cohen لکھا ہوتا جس سے سب یہ سمجھتے تھے کہ وہ بھی یہودی
ہے۔شایان جب دبے دبے اپنے نام کے اس بگاڑ پر معترض ہوتا تو وہ اس سے کہتی کہ” جنگ اور پیار میں سب جائز ہے، اگر کزن نہیں کہوں گی تو کوئی اس کو دعوت نہیں دے گا وہ سب کو یہ بتاتی ہے کہ رات کو اس کو گھر کے مرد کے بغیر باہر نکلنے کی اجازت نہیں “۔

ایسی ہی ایک تقریب میں اتفاق یوں ہوا کہ ایوارڈز کی کوئی تقریب تھی۔ وہ کچھ دیر کے لئے اُٹھ کر میوزک ڈائریکٹر کے آرکسٹرا میں وائلن بجانے گئی، یہ موقع غنیمت جان کرایک منجھی ہوئی مشہور ماڈل اور اداکارہ توانائی اور مردانگی کے پیکر شایان سے فری ہوگئی اور پھر اس کا اس حد تک پیچھا کرنے لگی کہ ہوٹل کے جم سے لے کر   گھر تک آن پہنچی۔ کوئینی نے اسے سبق سکھانے کے لئے کچھ مرتبہ تو رسالوں اور اخبارات میں اسکے سیکس اسکینڈل اچھالے اور اپنے فلمی دوستوں کے ذریعے اسے اشاروں کنایوں سے باز رکھنے کی کوشش کی۔ وہ اداکارہ کوئینی کو محض ایک لیکچرر اور وائلن بجانے والی سمجھتی تھی۔اسے نہ تو شایان سے تعلقات کی گہرائی کا علم تھا نہ دیگر سرگرمیوں کا۔کوئینی کے جذبہء انتقام کی اسے کوئی خبر نہ تھی۔ وہ سمجھتی تھی کہ ایک معمولی ویٹ ٹرینر کے لئے اس کی شہرت، قربت اور توجہ بہت کافی ہے۔ وہ بچ کر کہاں جائے گا۔ ایک دن تو اسکے من کی مراد پوری کرے گا۔

Advertisements
merkit.pk

جاری ہے

  • merkit.pk
  • merkit.pk

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply