• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • کیا کمیونسٹ سیاست بھی شناختی سیاست ہے؟۔۔ شاداب مرتضی

کیا کمیونسٹ سیاست بھی شناختی سیاست ہے؟۔۔ شاداب مرتضی

شناختی سیاست (Identity Politics) کے حامیوں کی جانب سے ان کمیونسٹوں پر جو شناختی سیاست کو تنقیدی نظر سے دیکھتے ہیں یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ خود ان کی سیاست بھی شناختی سیاست ہی ہے کیونکہ مزدور طبقہ بھی ایک مخصوص سماجی شناخت ہے۔ لیکن وہ یہ بات مدنظر نہیں رکھتے کہ شناختی سیاست اور سیاسی شناخت دو مختلف با تیں  ہیں۔ شناختی سیاست کرنے والے گروہوں کی جدوجہد اپنی سماجی شناخت کو برابری کی سطح پر تسلیم کروانے پر مبنی ہوتی ہے جبکہ کمیونسٹ اپنی شناخت کے تحفظ کے لیے نہیں بلکہ مزدور طبقے کے استحصال کے خاتمے کے لیے سیاست کرتے ہیں۔

میریم ویبسٹر ڈکشنری، آکسفورڈ ڈکشنری اور اسٹین فورڈ انسائیکلو پیڈیا آف فلاسفی وغیرہ میں شناختی سیاست کی تعریف، تاریخ اور نظریات بیان کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ شناختی سیاست ایسا سیاسی رجحان ہے جس میں کسی مذہب، قوم، نسل، صنف، علاقے وغیرہ سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے مخصوص گروہ اپنے مخصوص مفادات کے فروغ اور حصول کی جدوجہد کرتے ہیں۔ وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ان کے مسائل باقی لوگوں سے بالکل مختلف ہیں اس لیے عام طور پر وہ سیاسی تنظیموں یا عوامی تحریکوں میں شامل نہیں ہوتے کیونکہ ان کا سیاسی پروگرام عمومی سماجی مسائل کا، سماج کے مختلف گروہوں کے مسائل کا، احاطہ کرتا ہے۔ وہ سرمایہ داری، سامراجیت، ثقافتی سامراجیت یا استعماری نظام (کالونیل ازم) کو اپنے مسائل کا ذمہ دار سمجھتے ہیں۔ ان کا خیال ہوتا ہے کہ ان کے ساتھ ناآنصافی کا سبب ان کی مخصوص شناخت ہے اس لیے وہ سماج میں اپنی شناخت کو تسلیم کروانے اور اس شناخت کی بنیاد پر ان کے ساتھ ہونے والے امتیازی سلوک کے خاتمے کا نصب العین رکھتے ہیں۔

tripako tours pakistan

شناختی سیاست کا رجحان گزشتہ صدی کے نصف میں سامنے آیا لیکن 1970ء کی دہائی سے اسے خصوصا امریکہ میں فروغ حاصل ہوا۔ اس سلسلے میں سب سے اہم کردار فیمنسٹ تحریک کے دانشوروں نے ادا کیا۔ اس رجحان کے حامل گروہوں کی جدوجہد کا مقصد سامراجیت، سرمایہ داری یا نوآبادیاتی نظام کو ختم کرنا نہیں ہے بلکہ یہ موجودہ سماجی نظام میں رہتے ہوئے اپنے گروہ کی شناخت کو تسلیم کروانا اور اپنے مسائل حل کروانا چاہتے ہیں۔ اس لحاظ سے ان کی جدوجہد اصلاح پسند جدوجہد کے دائرے میں آتی ہے۔

ان حقائق  کی روشنی میں کمیونسٹوں کی سیاست کو جو مزدوروں کی طبقاتی جدوجہد کرتے ہیں شناختی سیاست سے منسوب کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ اس حوالے سے ایک اور اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ کمیونسٹ سیاسی تحریکوں کو بنیادی اور ضمنی میں تقسیم کیوں کرتے ہیں۔ ہر سماجی و سیاسی تحریک اہم ہے۔ جس قدر مزدوروں کے حقوق اہم ہیں اسی قدر خواتین کے یا نوجوانوں کے یا طلباء کے یا اقلیتوں کے یا قوموں کے حقوق اہم ہیں۔ اس لیے سیاسی و سماجی تحریکوں میں بنیادی اور ضمنی کی تقسیم کرنا درست نہیں ہے۔

ان معترضین کا خیال یہ ہے کہ سماجی و سیاسی تحریکوں کو بنیادی اور ضمنی میں تقسیم کرنے کا مطلب یہ ہے کہ کمیونسٹوں کے نزدیک ضمنی چیزیں، شناختیں یا سیاسی تحریکیں غیر اہم اور فضول ہیں۔ لیکن یہ بات غلط ہے اور کمیونسٹ فلسفے سے ناواقفیت کو ظاہر کرتی ہے۔

سماجی اور سیاسی تحریکوں میں اور ان کی شناختوں میں بنیادی اور ضمنی کی تفریق کمیونسٹوں کا کوئی ایسا من گھڑت فارمولا نہیں ہے جس کے  ذریعے وہ کسی نہ کسی طرح بس اپنا نکتہِ نظر درست ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ یہ فطرت کا قانون ہے۔ کائنات کے ہر مظہر میں نظام اور اس کے عناصر کے درمیان ضمنی اور بنیادی کی تفریق پائی جاتی ہے۔

نظام شمسی کی مثال لیں جس میں تمام عناصر اہم ہیں لیکن ان کی اہمیت میں فرق ہے۔ کسی نظام شمسی کا کوئی سیارہ  یا ستارہ  معدوم ہو جائے تو اس سے نظام شمسی پر کوئی بنیادی فرق نہیں پڑتا۔ لیکن سورج کو نظام شمسی میں بنیادی، مرکزی اہمیت حاصل ہے کیونکہ نظام شمسی کے تمام عناصر اس کے گرد گھومتے ہیں۔ زمین کے نظام شمسی میں سورج کے بغیر زمین اور چاند کی گردش رک جائے گی، موسمیاتی تغیر ختم ہوجائے گا اور حرارت ختم ہوجانے سے زمین پر زندگی کا وجود خطرے میں پڑ جائے گا۔

انسانی جسم کی مثال لیں۔ انسان کے جسمانی نظام میں ٹانگ جسم کا نہاہت اہم عضو ہے لیکن اس کی وہ اہمیت نہیں جو دل یا دماغ کی ہے۔ ٹانگ کٹ جائے تو انسان زندہ رہ سکتا ہے۔ دل یا دماغ کام کرنا چھوڑ دیں تو انسان کی موت واقع ہوجاتی ہے۔ اس طرح ریاست بھی ایک نظام ہے جس میں تمام ریاستی ادارے، خواہ وہ مستقل ہوں یا عارضی، اہم ہوتے ہیں لیکن پارلیمنٹ کو بنیادی اہمیت حاصل ہوتی ہے کیونکہ وہی قانون اور پالیسیاں بناتی ہے۔ صحت، تعلیم، معیشت، کوئی بھی سماجی شعبے لیں اس میں آپ کو بنیادی اور ضمنی پر مشتمل ایک ترتیب اور نظم و ضبط ملے گا۔

کائنات نظاموں کا ایک سلسلہ ہے اور ہر نظام میں عناصر کے درمیان ایک ترتیب، ایک درجہ بندی (Hierarchy) موجود ہوتی ہے جس میں سب عناصر اہم ہوتے ہیں لیکن کچھ بنیادی اہمیت رکھتے ہیں کچھ ضمنی۔ فطرت اور سماج میں اس فطری قانون کی عملداری کی بہت سی مثالیں دی جا سکتی ہیں۔

پوسٹ ماڈرنزم اور فیمینزم نے سماج کے مختلف شعبوں میں اور خصوصاً  سیاسی و سماجی تحریکوں میں تنظیمی درجہ بندی کو ایک بنیادی مسٰئلہ قرار دیا ہے لیکن انسانوں کے درمیان درجہ بندی بھی ایسا فطری عمل ہے جس سے فرار ممکن نہیں۔ زندگی کے کسی بھی شعبے میں درجہ بندی، ترتیب، محنت کی تقسیم کے بغیر کوئی کام ممکن نہیں۔ انسانوں کے درمیان درجہ بندی زندگی کے لیے لازم و ملزوم ہے بس اسے اس طرح سے منظم و مرتب ہونا چاہیے کہ یہ انسان کے ہاتھوں انسان کے استحصال کا  ذریعہ نہ بنے۔ چنانچہ، درجہ بندی بذاتِ خود کوئی بری چیز نہیں۔ درجہ بندی کو انسان کے استحصال کے لیے استعمال کرنا بری چیز ہے۔

کمیونسٹ تحریک میں بھی وقتا فوقتا ضمنی اور بنیادی کی تفریق، ان کی اہمیت، ترجیح اور درجہ بندی کے حوالے سے تنازعات سامنے آتے رہتے ہیں۔ مثلاً  یہ کہ مادہ بنیادی ہے یا شعور؟ سماج کا زیریں ڈھانچہ (معاشی نظام) بنیادی اہمیت رکھتا ہے یا بالائی ڈھانچہ (کلچر)؟ کمیونسٹوں کے نزدیک طبقاتی جدوجہد بنیادی ہے یا قومی جدوجہد؟ کسے ترجیح دینا چاہیے؟ یا پھر یہ کہ پارٹی اہم ہے یا طبقہ، لیڈرشپ اہم ہے یا پارٹی کی ممبرشپ وغیرہ وغیرہ۔

کائنات اور سماج کی طرح سماجی و سیاسی تحریکوں میں بھی ضمنی اور بنیادی کی تفریق، درجہ بندی، ترتیب ہوتی ہے۔ وہ تحریکیں جو سماج میں موجود استحصال کی بنیاد کو نشانہ بناتی ہیں بنیادی اہمیت کی حامل ہوتی ہیں اور جو استحصال کی بنیاد کو نشانہ بنانے کے بجائے استحصال کے کسی ایک یا دوسرے پہلو کو، کسی ایک یا دوسری شکل کو اپنا ہدف بناتی ہیں وہ ضمنی اہمیت رکھتی ہیں۔

سرمایہ دارانہ سماج میں مزدوروں کی طبقاتی تحریک بنیادی اہمیت رکھتی ہے کیونکہ اس کا ہدف موجودہ سماج میں استحصال کی بنیاد کو، زرائع پیداوار پر، معیشت پر، ریاست پر، سرمایہ دار طبقے کے اقتدار کو ختم کرنا ہوتا ہے۔ اس کے برعکس، طلباء، خواتین، قومی حقوق، انسانی حقوق وغیرہ کی تحریکیں سرمایہ دارانہ نظام سے پیدا ہونے والے استحصال کی مختلف شکلوں کو اپنا ہدف بناتی ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ سماجی تبدیلی کے عمل میں ان تحریکوں کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔ تاہم، چونکہ یہ استحصالی نظام کی بنیاد کو نشانہ نہیں بناتیں، ان کا نصب العین سرمایہ دارانہ نظام کو ختم کرنا نہیں ہوتا، اس لیے ان تحریکوں سے سماج کی استحصالی بنیاد کو، استحصالی طبقے کے اقتدار کو کوئی خطرہ نہیں ہوتا۔ اسی سبب سے انہیں ضمنی سمجھا جاتا ہے۔

اگر یہ سماجی و سیاسی تحریکیں سرمایہ دارانہ نظام کے استحصال کے خاتمے کو اپنے حقوق کی جدوجہد کا محور بنائیں تو یہ کام مزدوروں کی طبقاتی جدوجہد کے ساتھ اشتراک کے بغیر انجام نہیں دیا جا سکتا کیونکہ طبقاتی نظام کا خاتمہ طبقاتی جدوجہد کے بغیر ممکن نہیں اور شناختی سیاست کرنے والے گروہ کوئی طبقہ نہیں ہوتے۔ یقینا ً ان کا تعلق کسی ایک یا ایک سے زیادہ طبقوں کی پرتوں سے ہوسکتا ہے لیکن چونکہ ان کا نصب العین طبقاتی جدوجہد کرنا نہیں ہوتا اس لیے ان کی سیاست طبقاتی جدوجہد کا کردار نہیں رکھتی۔ اس لیے سماجی تبدیلی کے اعتبار سے، سماج سے ظلم و جبر کے خاتمے کی جدوجہد کے اعتبار سے، یہ تحریکیں بنیادی اہمیت نہیں رکھتیں۔ تاہم، اگر یہ تحریکیں سرمایہ دارانہ نظام کے خاتمے کی جدوجہد کا مقصد اپنا لیں اور مزدور طبقے کی قیادت میں ان کی طبقاتی جدوجہد کا حصہ بن جائیں تو یہ سماجی تبدیلی میں بہت اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔

سماجی نظام میں بھی کچھ عنصر بنیادی اور کچھ ضمنی حیثیت رکھتے ہیں حالانکہ سب ہی اہم ہوتے ہیں۔ معیشت سماج کا وہ عنصر ہے جسے بنیادی اہمیت حاصل ہے کیونکہ سماج کا وجود اس پر منحصر ہے۔ اگر ہم خوراک پیدا نہ کریں، پیداوار کے لیے درکار آلات نہ بنائیں، ان اَلات کو چلانے کے لیے توانائی کا بندوبست نہ کریں تو تمام پیداوار، یعنی پوری معیشت رک جائے گی اور سماج کا وجود خطرے میں پڑ جائے گا۔ کوئی بھی سماج صرف خیالات اور کلچر کے سہارے زندہ نہیں رہ سکتا۔ انسان کے کلچر کے وجود اور ارتقاء کے لیے انسان کا زندہ رہنا ضروری ہے۔ اور زندہ رہنے کے لیے خوراک اور ضروریات زندگی کی تسکین کرنے والی دوسری چیزوں کی پیداوار ضروری ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ کلچر کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی یا وہ سماج پر اثر انداز نہیں ہوتا۔ تاہم، سماج کے وجود اور اس کے ارتقاء میں بنیادی اہمیت کا حامل عنصر معیشت ہے۔ کلچر کی اہمیت اس میں ضمنی ہے۔

شناخت کی سیاست کرنے والے گروہوں کے برعکس کمیومسٹ مزدوروں کی شناخت برقرار نہیں رکھنا چاہتے بلکہ اسے ہمیشہ کے لیے ختم کر دینا چاہتے ہیں۔ مزدور طبقے کی جدوجہد کا لازمی نتیجہ مزدور طبقے کی شناخت کے خاتمے کی صورت میں نکلتا ہے۔ طبقاتی نظام کے خاتمے کے ساتھ مزدوروں کی طبقاتی شناخت بھی ختم ہوجاتی ہے۔ لیکن شناخت کی سیاست کرنے والے دوسرے گروہوں یا تحریکوں کے ساتھ یہ معاملہ نہیں ہے۔ مثلاً ، قومی تحریک کی کامیابی کے نتیجے میں قومی شناخت ختم نہیں ہوتی۔ تحریکِ نسواں کی کامیابی شہریوں کی صنفی شناخت کو نہیں مٹاتی۔ ہم جنس پرستی کی تحریک کی کامیابی ہم جنسیت کی شناخت کو معاشرے میں مستحکم کرے گی۔ مذہبی اقلیتوں کی برابری کی تحریک کی کامیابی ان کی مذہبی شناخت کو ختم نہیں کرے گی۔ طلباء تحریک کی کامیابی کے باوجود طلباء ہمیشہ طلباء کے طور پر ہی شناخت کیے جائیں گے۔

کمیونسٹوں کی طبقاتی تحریک کی سیاسی شناخت، شناخت کی سیاست کرنے والے دیگر گروہوں سے اس لیے بھی منفرد و مختلف ہے کہ شناخت کی سیاست کرنے والے تمام دیگر گروہوں اور سماجی ہرتوں کے برعکس یہ واحد تحریک ہے جس کی سیاست طبقاتی جدوجہد پر مبنی ہے۔ ان کے سوا کوئی بھی سیاسی و سماجی تحریک طبقاتی سیاسی جدوجہد نہیں کرتی۔ طبقاتی سیاست کمیونسٹوں کی سیاسی شناخت کو دوسری سماجی و سیاسی تحریکوں سے اور ان کی شناخت سے منفرد بناتی ہے۔

Advertisements
merkit.pk

لہذا، یہ نکتہ نظر کہ مزدور طبقہ بھی ایک شناخت ہے اور اس لیے کمیونسٹوں کی سیاست بھی شناختی سیاست ہے درست نہیں۔۔ مزدوروں کی طبقاتی سیاست ہونے کے سبب کمیونسٹ سیاست بنیادی اہمیت کی حامل سیاست ہے اور شناختی سیاست کرنے والی قوتوں کے برعکس اس کی سیاسی جدوجہد مزدور طبقے کی طبقاتی شناخت کے خاتمے کی جانب لے جاتی ہے۔

  • merkit.pk
  • merkit.pk

شاداب مرتضی
قاری اور لکھاری

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply