دعوت دین میں مولانا وحیدالدین خان کی خدمات۔۔سلمان احمد شیخ

مولانا وحیدالدین خان کرونا کے باعث کچھ ماہ پہلے انتقال کرگئے ۔ ان کی وفات سے کم و بیش ایک صدی کا سفر تمام ہوا۔ آخرت کی منادی کرتے ہوۓ،اصلاحِ  اُمت کی تڑپ دل میں لیے ہوۓ، خلوص ایسا کہ آخر دم تک اپنے مشن سے وابستہ رہے، اس کے باوجود کہ انہیں اپنے مشن میں اپنی  طرز پر کام کرنے والوں کی کوئی ٹیم میسر نہ آسکی۔

قرآن کی آیت دشمن کی شقاوت بھی تمہیں مجبور نہ کرنے پاۓ کہ تم انصاف نہ کرو ،کی مجسم اور عملی تصویر ہر نشیب وفرازمیں۔ ان کے نصرت دین کو زیادہ خراج تحسین پیش کیا جاۓ یا مسلمانوں میں ایک آواز جس کے اندر بے انصافی اور عصبیت کی کوئی جھلک نہ ہو۔ نبی ﷺ  کے اس اسوہ کی ایک بہترین مثال۔ کاش ایسی اور مثالیں بھی مسلمانوں میں ہوتیں جن کی دیانت اورغیر جانب داری پر غیر مسلم بھی گواہی دے سکیں۔ تن تنہا ایک عظیم دعوتی لٹریچر چھوڑکر گئے۔

tripako tours pakistan

زندگی میں جو دیکھا اسے آخرت کی یاد سے جوڑا۔ ہزاروں لاکھوں لوگوں کی زندگی بدلنے کا ذریعہ بنے، جب کہ انہیں بہت سے لوگوں نے دیکھا کیا سنا تک نہیں۔ اگر علما  کا بنیادی کام آخرت کا انذار ہے تو نبیوں کی معنوی وراثت کا پوری زندگی حق ادا کرنے والی بہترین مثال۔ قرآن سے جوڑنے کی اس کا متنوع زبانوں میں ترجمہ اور پورے عالم میں اشاعت کرکےدین کی سب سے عظیم خدمت کرگئے۔

دین کی صحیح معرفت حاصل ہو تو انسان کا ہر مشاہدہ, تجربہ اور تجزیہ آخرت کی یاد سے سرشار ہوتا ہے۔ ایک علامہ اقبال کی ایمانی کیفیت پر رشک آتا تھا، جو ان پرطاری ہوتی ہوگی اپنا کچھ کلام کہتے وقت۔ مولانا کی بھی کیا ایمانی کیفیت ہوتی ہوگی جب متنوع واقعات میں انہیں خدا, خدائی حکمت اور آخرت کی یاد سب سے زیادہ متوجہ کرتی ہو۔

کچھ اصحاب ِ فکر نے مولانا کے انتقال پر بھی کچھ اس طرح کلام فرمایا جس سے ان کی شخصیت اور خدمات کا استخفاف ہو۔ کچھ نے انہیں صرف ایک موٹیویشنل اسپیکر کے طور پر دیکھا۔ افسوس کامقام ہے کہ وفات کے بعد جہاں لوگ حسنات کو یاد کرتے ہیں, ہم اس موقع   پر بھی شخصیات کے استخفاف کی روش اپناتے ہیں۔ اسلام کا بنیادی پیغام توحید اور آخرت میں جواب دہی کا تصور ہے۔ تمام انبیاو رسول اسی کی منادی کرتے آۓ ہیں۔ یہی قرآن کا بنیادی پیغام ہے۔ اس کو باور کرانے کی مولانا کی آخر دم تک کوشش رہی۔

ان سے علمی غلطیاں بھی ہوئیں اور جن کو علمی ابحاث میں ضرور بیان بھی کرنا چاہیے۔ چونکہ پہلے  تین غزوات میں کہا جاسکتا ہے کہ مسلمانوں نے پہل نہیں کی لڑنے کے لیے اور ان ہی سے لڑے جو مقابلہ کو آۓ تو یہ دفاعی جہاد ہوا۔ مگر سورہ حج میں ظلم کو روکنے کے لیے اقدامی جہاد کی بھی اجازت ہے۔ مولانا غزوات کو خدائی دینونت کے ظہورمیں نہیں دیکھ پاۓ اور پھر ایک ممکنہ تفہیم جو اپنا استدلال بھی رکھتی ہے, اس علمی موقف کی طرف مائل رہے۔ دینونت کا ظہور یہ کہ خدا کے نافرمانوں کو جو جان بوجھ کر خدا کو نہ مانیں اور نافرمانی کریں ان کو آخرت میں تو سزا ملے گی, مگر اس کے ساتھ تجرباتی شہادت اور یاددہانی کے لیے رسول کی قوم پر علمی اور براہ راست اتمام حجت کے بعد خدا نافرمانوں کو اس دنیا میں بھی سزا دیتے ہیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم پر کفار کی مسلمانوں کے ہاتھوں غزوات میں شکست کی صورت میں آیا جس سے مسلمانوں میں بھی مخلصین اور منافقین کی تفریق واضح ہوگئی۔ روایتی فکر نے بھی غزوات کو دینونت کے ظہور کے طور پر نہیں دیکھا بلکہ الٹا پورے دین کے اساسی مقصد کو غلبہ دین کی جدوجہد کے ضمن میں دیکھا۔ پہلے موقف کی علمی غلطی نے مسلمانوں کو نقصان تو نہیں پہنچایا مگر وہ سورہ حج کی ظلم کے خلاف اقدامی جہاد کو جہاد کے وسیع مفہوم میں شامل نہیں کرپائی۔ مگر دوسرے موقف کی غلطی نے مسلمان قوم, عالمی امن اور دین کی دعوت کو نقصان پہنچایا ہے۔

علمی اختلاف ہوسکتا ہے مگر ایک شخص کی تنہا آخرت کی منادی اور قرآن کی ہر زبان میں وسیع پیمانے پر اشاعت کے کام کو جو تقریبا ایک صدی پر محیط ہے محض موٹیویشنل اسپیچ کے دائرے میں بیان کرنا مناسب نہیں ہے۔

Advertisements
merkit.pk

اللہ انکی کامل مغفرت فرماۓ،آمین۔ ان کے نصرت دین میں کیے ہر کام کو قبول فرماۓ۔ ان کی قرآن سے براہ راست جوڑنے کے عظیم جہاد کو اللہ قبول فرماۓ۔ اپنے نبیﷺ  کی اپنے رویہ سے غیرجانبداری اورمنصف مزاجی کی جو جھلک انہوں نے دکھائی, ہمیں بھی اپنے رویوں میں اسوہ نبوی کو اپنانے کی توفیق عطا فرماۓ۔ اس سے بہتر نہ دین کا تعارف ہوسکتا ہے نہ نبی ﷺ  کا کہ ہم ان کے عظیم اخلاق کو اپنانے والے بن جائیں۔ ایسا ہم تھوڑی حد تک ہی کرنے میں کامیاب ہوجائیں تو نبی ﷺ  کیا ،لوگ ہم سے بھی محبت کریں۔ محمد علی کلے سے لوگوں کی والہانہ عقیدت اور محبت اس کی ایک مثال ہے۔ مولانا نے بھی اپنے عمل سے لوگوں کو نبی ﷺ   کے بارے میں متعارف کروایا۔ اللہ مولانا کو جنت میں اعلی مقام عطا فرماۓ۔ آمین۔

  • merkit.pk
  • merkit.pk

سلمان احمد شیخ
سلمان احمد شیخ تدریس کے شعبہ سے وابستہ ہیں- ملیشیا سے معاشیات میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری رکھتے ہیں- دینیات, سائنس اور سماجیات میں بھی دلچسپی رکھتے ہیں- کئی مقالوں کے مصنف اور دوکتابیں لکھ چکے ہیں- ان کا تحقیقی کام ان کے ریسرچ گیٹ کی پروفائل پر دیکھا جاسکتا ہے۔- ایک ماہنامہ ریسرچ بلیٹن کے مدیر ہیں جو اسلامک اکنامکس پراجیکٹ کی ویب سائٹ پر دیکھا جاسکتا ہے-

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply