جو چلے تو جاں سے گزر گئے(قسط2)۔۔محمد اقبال دیوان

تعارف:زیرِ  مطالعہ کہانی دیوان صاحب کی پہلی کتاب ”جسے رات لے اڑی ہوا“(چوتھا ایڈیشن زیر گردش) میں شامل ہے۔اسے پڑھ کر رات گئے ایک افسر عالی مقام کا فون یہ معلوم کرنے کے لیے آیا کہ مصنف کو یہ حقائق جو ہر چند ایک قصے کی صورت میں بیان ہوئے ہیں، کہاں سے دستیاب ہوئے۔ ؟کیا یہ ان کے ادارے کے کسی افسر نے بتائے۔ہمارے دیوان صاحب کا جواب تھا کہ دنیا بھر کی مرغیاں کتنی کوشش بھی کرلیں ایک ماہر شیف سے اچھا آملیٹ نہیں بناسکتیں۔ہمیں آپ شیف کا درجہ دیں اور اپنے افسروں کو مرغیاں مان لیں۔ان کی پیشکش تھی کہ دیوان صاحب سے ملاقات ہوگی  ، اور آئندہ کے کچھ پروگرام بنیں گے۔ افسر عالی مقام حالات کی گردش کی وجہ سے اپنے عہدے پر برقرار نہ رہ پائے اور

book title JRLUH

ع ،ان کہی ہی رہ گئی وہ بات سب باتوں کے بعد

tripako tours pakistan

والا حساب رہا۔

ادارہ ”مکالمہ“ چودہ اقساط کی اس طویل کہانی کو شائع کررہا ہے اور ممکن ہوا تو اسے ویب سیریز کی صورت میں ڈھالے گا۔کوشش جاری ہے۔
ایڈیٹر ان چیف

قسط نمبر ایک کا آخری حصہ
اسلام شادی کو آسان اور بے راہ روی کو مشکل بناتا ہے۔ اس سے ان کی گلیمر انڈسٹری اور ہالی ووڈ ختم ہوجاتے ہیں۔ جب آپ توحید کا پیغام عام کرتے ہو۔ تو پاپائیت کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔ بہت کم مسلمانوں کو پتہ ہے کہ پوپ دنیا کا سب سے طاقتور اور با اثر عہدہ ہے۔ جن دنوں یہ روس کو نیچا دکھانا چاہتے تھے انہوں نے جان پال کو پہلے پولش پوپ کے طور پر منتخب کیا۔ 1520؁ء کے بعد وہ پہلے غیر اطالوی پوپ تھے۔ مغرب میں یہ بات بھی عام ہے کہ ان کی والدہ ایک یہودی خاتون تھیں۔ انہوں نے آتے ہی جو فرمان جاری کئے جہنیں کیتھولک چرچ کی اصطلاح میں Bull کہا جاتا ہے وہ یہ تھا کہ ان کی ریاست ویٹکن میں یہودیوں کو داخلہ دینے کا تھا، پانچ سو برس سے یہ داخلہ ممنوع تھا دوسرا اہم فرمان جو انہوں نے جاری کیا وہ یہ تھا کہ عیسائیوں کا عقیدہ تھا کہ حضرت عیسیٰؑ کو مصلوب کرنے میں یہودی پیش پیش تھے، پوپ جان پال جن کا بچپن پولینڈ کے یہودی دوستوں میں گزرا تھا۔ انہوں نے یہودیوں کو معافی دی، اسرائیل کو بطور ملک تسلیم کیا اوراٹلی میں تعینات اسرائیلی سفیر جو ان کا دیرینہ دوست تھا اسے پہلے مہمان کے طور پر رات کے کھانے پر بلایا۔ ان کی پوپ کے عہدے پر تعیناتی سے یہودیوں کے اثرات کیتھولک چرچ پر بہت گہرے ہوگئے۔
ویٹکن کے کئی ملکوں کی سیاست پر اس عہدے کے بہت گہرے اثرات ہیں فلپائن میں جب صدر مارکوس کے خلاف تحریک چلی تو یہی پادری حضرات اس کے سرخیل تھے پھر ان کے ہاں جمہوریت کے نام پر ہر چیز عوام کی مرضی کی تابع ہے تو یہ جان لیجئے کہ اسلام میں جمہور کا ہر فیصلہ اللہ کے احکامات کا تابع ہے۔ یہ ہے وہ چیلنج جس سے یہ پریشان ہیں۔

کانتا اگروال جیسے لوگ
دھیرو بھائی اور مکیش امبانی
جنرل ضیا اور سیٹھ داؤد

قسط نمبر دو
اس کی گفتگو سن کر عدنان کو لگا کہ وہ اپنے خیالات میں بہت پختہ اور واضح ہے۔
کافی وغیرہ پی کر اور دیر تک وہ مختلف موضوعات پربات کرکے چلے گئے۔
عدنان نے محسوس کیا کہ نبیل ہارون اور وہ ایک بنگالی نوجوان تمام گفتگو کے دوران بہت چپ تھے۔ لگتا تھا جیسے کسی گہری سوچ میں گم ہوں۔
چلتے وقت نبیل نے عدنان کو درخواست کی کہ وہ ان کے لئے دعا کرے کہ انہیں ان کے مشن میں کامیابی ہو۔ عدنان نے پوچھا کہ اب ان کا اگلا پڑاؤ کہاں   ہے؟تو وہ کہنے لگا کہ ان میں سے تین ساتھی تو واپس بوسنیا جارہے ہیں۔  ایک عرب اور بنگالی بھائی مسیح الرحمان کا قصد فیصل آباد جانے کا ہے۔ جہاں ان کا ایک مشن ہے۔ کامیابی کی دعا اسی مشن کے لئے ہے۔ عدنان نے بہت پوچھا کہ مشن کیا ہے مگر نبیل نے جواب دیا کہ وہ یہ تفصیلات مشن میں کامیابی کے بعد ہی بتانے کی پوزیشن میں ہوگا۔

اہلِ جنوں بے باک ہوئے۔
موسم بدلا رُت گدرائی، اہلِ جنوں بے باک ہوئے(ظہیر کاشمیری)

جوگندر جیسے لوگ
سکھبیر جیسے لوگ

بمبئی کی کانتا اگروال بہت خوبصورت تھی۔ سندرتا اور کو ملتا کی ایک چلتی پھرتی تصویر۔۔فلم انڈسٹری میں جانے کا خیال میں  دل ٹھان لیتی تو کامیابی راستے میں ہی اسے تھام لیتی۔ اسکے والد کا
ہندوستان کے مقتدر حلقوں میں بڑا اثر و رسوخ تھا۔ ان دنوں وزیر اعظم کے قریبی ساتھیوں میں سے تھے۔ گو ان کے پاس کوئی عہدہ نہ تھا۔ کاروبار کی مصروفیتیں انہیں سیاست میں آنے سے بھی روکتی تھیں پھر بھی کچن کیبنٹ کا حصہ سمجھے جاتے تھے۔ ہر ملک کا کاروباری طبقہ اہل ِ سیاست کو مٹھی میں رکھتا ہے۔ تجارتی پالیساں بنتے وقت ان کے مفادات کا خصوصی خیال رکھا جاتا ہے چاہے وہ کوئی امریکی کارپوریشن ہو یا جاپانی، یا ہندوستان کے دھیرو بھائی امبانی (مکیش اور انیل انبانی کے والد اور رلائینس گروپ کے مالک) یا اطالوی کاروں کے بنانے والے وہ سب کے سب سیاست دانوں کے بہت قریب ہوتے ہیں۔ خود ہمارے ایوب خان صاحب اور ضیاالحق صاحب یا شوکت عزیز بینکروں، تاجروں اوراسمگلروں کو اپنے حلقہء خصوصی میں رکھتے تھے۔

بھنڈراں والے
آپریشن بلیو سٹار

کانتا، بمبئی کی ایک مشہور یونیورسٹی میں جہاں وہ زیرِتعلیم تھی، کئی لڑکے اس پر جان چھڑکتے تھے مگر وہ تھی کہ کسی کو خاطر میں نہ لاتی تھی۔ وہ بلا کی حسین لڑکی تھی۔بے باک،آزاد خیال اور اپنی فیملی کی طاقت سے بخوبی آگاہ ،اس کی دوستی بس ایک جوگیندرسنگھ سے تھی جس سے وہ بچپن سے واقف تھی۔ وہ کالج کے زمانے کے ساتھی تھے۔ جوگیندر پڑھائی لکھائی میں بہت اچھا تھا۔
غریب گھرانے کا لڑکا تھا اور سرکاری وظیفے سے اپنی تعلیم کا خرچہ چلاتا تھا۔ یونیورسٹی میں داخلے کے وقت ایک پرچے میں اسکے نمبر کچھ زیادہ اچھے نہ تھے مگر کانتا کے والد کی مدد سے اسے داخلہ مل گیا البتہ اسے اسکالر شپ ملنے میں بہت دقت ہوئی۔ کانتا کو اگر کوئی بات جوگیندرکی بری لگتی تھی تو وہ وہاں کی اسٹوڈنٹ پالیٹکس میں بدنام اور بدمعاشی میں پورے سکھبیر پانڈے سے اسکی دوستی تھی۔

جوگیندر گو اس دوستی کے اثرات اپنی اور کانتا کی دوستی پر نہ آنے دیتا اور تعلقات کی یہ مثلث بہت احتیاط سے نبھاتا مگر کانتا اسے جتلانے سے باز نہ رہتی کہ یہ تعلق اسے ناگوار گزرتا ہے۔ کئی دفعہ کانتا یہ سوچ کر بھی اس کو معاف کردیتی کہ وہ خود ایک کمزور اور بے آسرا نوجوان ہے۔ ہوسکتا ہے سکھبیر پانڈے کے ساتھ دوستی رکھ کر اس کی کئی ضرورتیں پوری ہوجاتی ہوں۔

چندی گڑھ کے ایک تاجر گھرانے سے تعلق رکھنے والے سکھبیر پانڈے کے بارے میں مشہور تھا کہ اسکے تعلقات بمبئی کی انڈر ورلڈ سے بھی ہیں۔ یونیورسٹی میں اس کی بدمعاشی کا بھی خاصا چرچا تھا۔ کانتا کو البتہ اس سے کوئی ڈر نہیں لگتا تھا۔ جوگیندر جن دنوں اپنی اسکالرشپ کے معاملے میں بہت پریشان تھا اور سرکاری دفتروں کے چکر بھی لگاتا تھا۔ کانتا کے والد نے اسکی سفارش بڑی خاموشی سے مہارشٹرا کے وزیر تعلیم سے کردی تھی۔ مسئلہ محکمے کے سیکرٹری صاحب کا تھا۔ جوگیندر سنگھ کا سکھ ہونا انہیں پسند نہ تھا۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ ان کے بارے میں کوئی غلط رائے قائم کرے۔ لہذا جوگیندر کے کیس کی فائل کو انہوں نے خوب رگڑا دیا ،جس کی وجہ سے بے چارے کے ان کے دفتر کے مسلسل پھیرے لگتے تھے۔ اس کی فائل پر ہر دفعہ کوئی نہ کوئی اعتراض لگ جاتا تھا۔ جسے دور کرنے کے لئے اسے بڑی تگ و دو کرنی پڑرہی تھی۔

بالا سنگھم جیسے لوگ
تامل ایلام
کوئینی جیسے لوگ

اڈلی

اس طرح کے دفاتر کے باہر جو خفیہ ایجنسیوں کے کارندے منڈلاتے ہیں ان میں سے ایک نے اس کی یہ پریشانی بھانپ لی اور اسکی اس شرط پر مدد کی کہ وہ ان کے لئے کام کرے گا۔ مالی محرومیاں،جوانی میں بہت تکلیف دیتی ہیں، وہ پیسوں کے لالچ میں ان سے جڑ گیا اور بعد میں اسکی خدمات کے نتیجے میں ایک معمولی مشاہرے پر اسے اپنے باقاعدہ ایجنٹ کے طور پر بھرتی کرلیا۔ ابتداء  میں اسے یہ کام سونپا گیا کہ وہ انہیں سکھبیر پانڈے سے مل کر یونیورسٹی کی سیاست اور ایسے لڑکے لڑکیوں کے بارے میں معلومات فراہم کرے گا جو اس کے نزدیک اس ادارے کے مطلب کے ہوں۔ جوگیندر کو بالخصوص سکھ لڑکے لڑکیوں پر نظر رکھنے کا خصوصی فریضہ بھی سونپا گیا تھا۔ اس لیے کہ مشرقی پنجاب میں ان دنوں سکھوں کی شورش برپا تھی۔ بمبئی میں سکھ بہت تھے اور یہ لڑکے لڑکیاں سنت جرنیل سنگھ بھنڈراں والے کو بھی اپنا ہیرو مانتے تھے جو ان دنوں سکھوں کے ایک مذہبی گروپ دمدمی ٹکسال کا لیڈر تھا۔
اسے بعد میں اندرا گاندھی کے حکم پر گولڈن ٹیمپل میں امرتسر میں  آپریشن بلیو اسٹار میں ماردیا گیا۔

ان دنوں، ہندوستان میں یہ خیال عام تھا کہ سکھوں کی اس شورش میں جو سکھوں کے لئے ایک آزاد ریاست خالصتان کے لئے برپا ہے اس کی مدد پاکستان سے آتی ہے۔

کوئینی

ادارے کی بمبئی برانچ کے سربراہ مدراس کا مرلی بالاسنگھم تھا جس کے دل میں ایک تو یوپی کے لوگوں سے شدید نفرت تھی۔ وہ ان کے احساسِ برتری اور ہندوستان کی طاقت ور بیوروکریسی میں ان کے اثر و رسوخ سے بھی خائف تھا۔ مرلی کبھی سی بی آئی (کریمنل بیورو آف انوسٹی گیشن) میں انسپکٹر ہوتا تھا مگر جب ہندوستان میں تامل ایلام کی تحریک کی حمائیت کا فیصلہ ہوا تو ان کی خفیہ ایجنسی میں موجود اس شعبے میں کام کرنے والے ایک اہم افسر نے اسے اپنے پاس بلالیا۔

یہ افسر ایک کشمیری ہندو تھا۔ جسے بریانی بہت پسند تھی مگر وہ یہ جانتا تھا کہ مچھلی پکڑنی ہو تو بریانی کو ڈوری کے کانٹے پر لٹکانا سود مند نہیں ہوتا کیوں کہ مچھلی کو بریانی پسند نہیں،مچھلی کو کینچوے پسند ہوتے ہیں۔لہذا تاملوں کی مدد کرنے اور سری لنکا میں گڑبڑ پھیلانے کے پروگرام پر عمل درآمد کرنے کی خاطر اس نے معلومات جمع کیں اور مرلی بالاسنگھم پراسکی نگاہ انتخاب پڑی اور چند دنوں میں ہی اس کا تبادلہ CBI سے اس اہم خفیہ ایجنسی میں ہوگیا۔وہ جانتا تھا کہ اس کے تعلقات سری لنکا میں موجود تامل آزادی کی تحریک تامل ایلام کے اہم افراد سے تھے۔

پلایٹس
جوزف  پلایٹس

اسی نے سری لنکا کے باغی گروپ لبریشن ٹایئگرز آف تامل ایلام (L.T.T.E) کے کچھ دہشت گردوں کو کوچین کے قصبے کدونگلور کی زارا کوہن سے ملایا تھا جو ہندوستانی یہودی تھی اور اسرائیل کی خفیہ ایجنسی کے لئے کام کرتی تھی۔ یہ بمبئی میں لڑکیوں کے ایک کالج میں کیمسٹری پڑھاتی تھی اور دونوں خفیہ ایجنسی کے افراد میں اسے کوئینی (Queenie)کے شاہانہ لقب سے پکارا جاتا تھا۔
ہندوستان میں یہودی ڈھائی ہزار سال سے آباد تھے۔ ان کی اکثریت میزو رام، منی پور، کیرالہ اور کو چین میں آباد تھی۔ اسرائیل بننے کے بعد بہت سے یہودی تو وہاں نقل مکانی کرگئے تھے۔ خود کوئینی کے کئی رشتہ دارافراد، ایلات اور تل ابیب میں رہتے تھے۔ کوئینی کو البتہ ہندوستان بہت پسند تھا۔ اڈلی ڈوسا،سامبھر کی چٹنی اور پاؤ وڑے کے بغیر اُسے ہر طعام ادھورا لگتا تھا۔
پانچ فیٹ دو انچ کی کوئینی ہر وقت پھنسے پھنسے تنگ بلاوؤز، گہری رنگت کی کاٹن کی ساڑھیاں اور کولہا پوری چپل پہنے رہتی تھی۔اسکے چہرے میں تو کوئی ایسی بات نہ تھی کہ کسی کے دل میں بلا وجہ جلترنگ بجے۔ پر بدن بہت تراشیدہ تھا۔ کچھ عورتیں اپنی سادگی میں بھی مردوں کو گھائل کرنے کا بڑا اہتمام رکھتی ہیں۔ یوں کوئینی کو بھی چاہنے والے پلکوں پر بٹھاتے تھے۔

کوئینی کا چہرہ گو بہت پُرکشش نہ تھا پر اداکارہ کاجول جیسی بڑی بڑی آنکھیں بڑا ستم ڈھاتی تھیں۔ اُن میں ہر وقت کنول کے پتوں کی آگ پر تپائے ہوئے کاجل کے ہلکے ڈورے لہراتے رہتے تھے جو اس کی آنکھوں کی مقناطیسیت کو اور بھی سحر انگیز کردیتے تھے۔

پہلے وہ چشمہ نہیں لگاتی تھی جس کی وجہ سے اس کی آنکھیں، اور اس کے چہرے کا سب سے نوٹ کیا جانے والا فیچر بن جاتی تھیں، آنکھوں کا یہ حُسن اسکے خفیہ کام کی راہ میں اس وقت رکاوٹ گردانا گیا جب وہ موساد کے ہتھے چڑھی، وہاں موجود ایک خاتون افسر نے جو اُس کی تربیت پر مامور تھی اسے سمجھایا کہ وہ چشمہ لگایا کرے،وہ بھی فریم بدل بدل کر۔ جیسا موقع ویسا فریم۔ اب اسکا ایک اور شوق بڑھ گیا،
وہ تھا قیمتی فریموں والے آنکھوں کے چشمے۔ چہرے پر موقع محل کی مناسبت سے سجائے ہوئے فریموں کے پیچھے سے ساری دنیا کو ایک بے اعتبار نگاہوں سے دیکھتی تھی۔ اس پر طرہ یہ کہ وہ اپنی خوب صورت ستواں ناک اور بھرے بھرے لبوں پر احتیاط سے ایک تبسم بھی سجائے رکھتی تھی۔

دنیا میں وہ اُن چند نادر الوجود خواتین میں سے تھی جو بولتی بہت کم ہیں۔ایسے لوگ جو کم گفتار ہوں،اپنی ذات کا اظہار اپنی آنکھوں میں سمیٹ لیتے ہیں۔اردو کے کسی شاعر نے کہا
ہے کہ ع
کام کرجاتی ہیں تیری آنکھیں
چپکے چپکے، ہزار آنکھوں میں

کوئینی کے معاملے میں ایسا نہ تھا، وہ جب چاہتی اس کی آنکھیں ریت کا سمندر بن جاتی تھیں جو دن رات کی مختلف روشنیوں میں چمکتا ضرور تھا پر جس کے دلفریب جزیروں میں کسی قسم کے جذبات کی کاشت نہ ہوتی تھی۔اس کے چہرے مہرے، اس کے پیشے اور اس کے وائلن بجانے کے شوق نے اس کی خفیہ کاروائیوں پر ایک دبیز پردہ ڈال رکھا تھا۔

انڈٰین یہودی

اس کا آئی۔کیو لیول بہت اونچا تھا۔اگر سنجیدگی سے کمیسٹری میں ریسرچ کے میدان میں کود جاتی تو بڑا نام کماتی مگر اس کے صرف تین شوق تھے، موساد کی کاروائیوں میں شریک ہونا یا وائلن بجانا یا پلایٹس،وائلن وہ بہت اچھا بجاتی تھی، کئی آرکیسٹرا اسے اپنے ساتھ رکھتے تھے اور وہ فلموں کے گانوں میں بھی یہ ساز بجایا کرتی تھی۔Pilates کی تربیت اس نے اپنے دورہء اسرائیل میں موساد والوں سے حاصل کی تھی، پہلے وہ ذرا فربہی مائل تھی پر پلاسٹیں نے خیر ضروری چربی کو چھانٹ کر علیحدہ کر دیا اور مردوں کے من بھاؤنے خطوط کو یوں اُجاگر کیا کہ بدن کی تراش دیکھ کر بقول فراز ع
پھول بھی اپنی قبائیں کتر کے دیکھتے ہیں۔

Advertisements
merkit.pk

یہ جوزف پلایٹس کا جسمانی ورزش کا آرٹ تھا جو اس نے اپنی بیوی کلارا کے ساتھ مل کر امریکہ میں مقبول کیا، خود وہ اپنے بچپن میں گٹھیا اور دمے کا مریض تھا، مگر طبیعت میں چونکہ بڑی جولانی تھی لہذا پہلے تو باکسر بنا اور پھر جسمانی تربیت کا ماہر۔اس کا یہ طریقہ ساری دنیا میں بہت مقبول ہوا ۔موساد جس کا پورا نام
Ha-Mossad le-Modiin ule-Tafkidim Meyuhadim (The Institute for Intelligence and Special Tasks).. تھا اسی ادارے نے سہولت کی خاطر اسے
کانتا نواس (جسے یہ مختصراً کے۔ ہاؤس کہتے تھے) نریمان سینٹر میں جو میرین ڈرائیو پر تاج محل ہوٹل کے قریب واقع تھا وہاں دو کمرے دیئے ہوئے تھے۔ جہاں وہ اپنی خالہ کے ساتھ رہتی تھی، یہ خالہ ایک بوڑھی بیوہ تھی اور نریمان سینٹرکا کانتا نواس، بمبئی میں اولڈ ہوم سینٹر کے طور پر مشہور تھا۔بہت کم لوگوں کو علم تھا کہ اس کی  تیسری منزل کس کے پاس تھی۔یہاں موساد کے تین افسر بیٹھتے تھے۔جن کا دائرہ کار باکو (آذر بائی جان)سے لے کر سوئل(جنوبی کوریا) تک تھا۔ نیپال پاکستان، بنگلہ دیش، تبت، ایران، خلیج عرب کی ریاستیں اور افغانستان ان کی توجہ کا خاص مرکز تھے۔چین کا وہ علاقہ جو پاکستان سے ملتا ہے اور کشمیر میں بھی ان کا بڑا کام تھا۔
جاری ہے

 

  • merkit.pk
  • merkit.pk

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply