• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • قومی سیاست اور عالمی حالات کا تناظر۔۔اسلم اعوان

قومی سیاست اور عالمی حالات کا تناظر۔۔اسلم اعوان

پیپلزپارٹی کی علیحدگی کے باعث اپوزیشن کی حکومت مخالف تحریک کی رفتار عمل کو لگنے والی بریک سے جس قسم کا سیاسی خلاءپیدا ہوا،اسے پُرکرنے کی کوشش ابھی تک باآور نہیں ہو سکی اوراپنی تمام تر مساعی کے باوجود فی الحال سویلین بالادستی کی خاطر جاری سول سوسائٹی کی وہ خاموش مزاحمت بھی جمود کا شکار ہے جس کا بنیادی مقصد قومی سیاست میں مقتدرہ کا کردار محدود کرنا تھا،بظاہر یہی لگتا ہے کہ ذہنی تھکاٹ کی وجہ سے اس کشمکش کے سارے اسٹیک ہولڈرز کنفیوژن کی طرف بڑھ رہے ہیں،فریقین کے پاس کلیئریٹی ہے نہ وقت،حالات اور فطرت کے ساتھ ہم آہنگ رہنے والی وہ زندہ و توانا سوچیں جس سے سیاست کے افسانے میں رنگ بھرا جا سکے۔

پچھلے تین سالوں کے دوران گورننس کے بحران کے باعث قومی معشت روبہ زوال رہی،بنیادی پیداواری یونٹس،جیسے بجلی،تیل اور پانی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ نے زرعی و صنعتی شعبہ کو مضمحل کر دیا،اسی کساد بازاری نے پیدواری عمل میں حصہ لینے والے مزدورکی زندگی اجیرن بنا دی۔وسیع پیراڈائم شفٹ کے بدولت خارجہ پالیسی اپنے روایتی محور سے باہر نکلی تو ہماری ہیت مقتدرہ بھی نئے افق تلاش کرنے میں سرگرداں ہو گئی۔

tripako tours pakistan

دوسری جانب اپوزیشن میں بھی گورنمنٹ کی ناقص کارکردگی کے خلاف ابھرنے والی ناراضگی کی لہرکو کسی مربوط سیاسی بیانیہ میں ڈھالنے کی صلاحیت مفقود نظر آئی،گویا قوم کا مجموعی فکری رجحان بھٹکے ہوئے کارواں کی طرح نامعلوم منزلوں کی جانب محو خرام ہے۔اب لمبے وقفہ کے بعد پی ڈی ایم میں شامل دو بڑی جماعتیں چار جولائی کو سوات میں احتجاجی جلسہ کا انعقاد کرنے جا رہی ہیں جس میں جے یو آئی اور نواز لیگ پوری تنظیمی قوت کو بروکار لا کر حکومت مخالف تحریک میں پھر سے جان پیدا کرنے کی کوشش کریں گی لیکن جنوبی ایشیا کی تیزی سے بدلتی صورت حال میں اپوزیشن کے روایتی نعروں کی گونج اور حکومتی مساعی دونوں رائیگاں ہوتی نظر آتی ہیں،خاص کر امریکی انخلاءکے بعد افغانستان میں طالبان کے سیاسی غلبہ کے نتیجہ میں پیدا ہونے والا ممکنہ بحران ایک بار پھر خطہ میں سکیورٹی فورسز کے اثر و رسوخ کو بڑھا سکتا ہے۔چنانچہ حالیہ بجٹ کی منظوری کے بعد سیاسی ڈھانچہ میں بنیادی نوعیت کی چند تبدیلیوں کے علاوہ قبل از وقت انتخابات کے امکان کو ردّ نہیں کیا جا سکتا۔

راز ہائے نہاں خانہ سے آگاہ حلقوں کے مطابق ارباب بست و کشاد تو سنہ 2022میں عام انتخابات کرانے پہ متفق ہیں لیکن اپوزیشن اسی سال 2021 کے آخر میں جنرل الیکشن کرانے پہ اصرار کر رہی ہے۔یہ تجویز اس لئے بھی قرین قیاس لگتی ہے کہ سنہ 2023  میں جب عام انتخابات کرانے کا وقت آئے گا اس وقت جسٹس قاضی فائز عیسی چیف جسٹس آف پاکستان ہوں گے اس لئے ہمارے پالیسی ساز ان کے چیف جسٹس بننے سے قبل انتخابات کے انعقاد کو زیادہ سودمند سمجھتے ہوں گے۔

اس حقیقت سے اغماض ممکن نہیں کہ پچھلی دو دہائیوں میں پہلی بار پاکستان نئی امریکی خارجہ پالیسی کی ترجیحات میں شامل نہیں رہا۔7 اکتوبر 2001  سے پاکستان دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ کا مرکز بنا رہا،تب پاکستان آرمی افغانستان میں برسرپیکار امریکی فوج کی کوارڈینٹنگ فورس تھی لیکن اب خطہ میں سکڑتی امریکی فورسز کا وجود واشنگٹن کی اسٹریٹجک سوچ کو نئی شکل دینے والا ہے،غالب امکان یہی ہے کہ انخلاءکے بعد پاکستانی سکیورٹی فورسز امریکی خارجہ پالیسی کو آگے بڑھانے کا ذریعہ نہیں بنیں گی،اگرچہ بظاہر ہنگامی نوعیت کی موسمیاتی تبدیلیوں کے علاوہ کورونا وباءاور امریکہ کے معاشی مسائل پاکستان کو امریکی ترجیحات کی فہرست سے نکالنے کا جواز بتائے جا رہے ہیں تاہم اس وقت امریکہ کے لئے سب سے اہم مسلہ چین کے ساتھ اپنے تعلقات میں توازن لانا ہے اور اسی نئی حقیقت نے پھر یہ سوال کھڑا کر دیا کہ امریکہ کو پاکستان سے تعلقات بارے ازسر نو سوچنا چاہiے؟۔

200 ملین سے زیادہ آبادی کا حامل،پاکستان،جغرافیائی لحاظ سے خلیج فارس کے دہانے پہ واقع ہونے کے علاوہ زمینی طور پہ ایران،ہندوستان اور چین سے مربوط ہونے کی وجہ سے پڑوسی ممالک کے استحکام اور وسطی ایشیائی مارکیٹ تک ان کی رسائی کا اہم وسیلہ ہے،یہی زمینی حقائق مغربی اور جنوبی ایشیاءمیں وسیع تر امریکی مفادات کے تحفظ کی خاطر پاکستان کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں،اس لئے بائیڈن انتظامیہ کو قومی سلامتی کی حکمت عملی تیار کرتے وقت مغربی ایشیاءمیں وسیع تر اسٹریٹجک مفادات کے اندر نئی پاکستان پالیسی ضرور مرتب کرنا پڑے گی،شاید اسی لئے صدرجوبائیڈن نے اپنی انتظامیہ کو اسلام آباد کو سفارتی طور پہ انگیج رکھنے کی اجازت دے دی،جو جغرافیائی سیاسی حقائق اور نئے اقتصادی امکانات پر دوطرفہ تعاون کے راستے تلاش کرے گی۔

علی ہذالقیاس،یہاں اگرچہ واشنگٹن کے لئے پاکستان کو انگیج رکھنے کے وسیع مواقع موجود رہیں گے لیکن اب پاکستان کا اسٹریٹجک رجحان بدل رہا ہے،معاشی دباؤ  اورمغربی اتحادیوں کے نامہرباں روّیوں نے پاکستانی سوچ میں تبدیلی کے عمل کو مہمیز دی۔اس وقت مغربی طاقتوں کا مخمصہ یہ ہے کہ امریکہ نے پچھلی دو دہائیوں میں براعظم ایشیا میں جنگ و جدل کو ترجیح دیکر تلخیوں کی ناقابل برداشت فصل کاشت کی لیکن اس کے برعکس چین نے ایشیاءمیں منظم طریقے سے کاروبار اور اپنے سفارتی تعلقات کو گہرا کر کے مغربی قوتوں کے نفسیاتی اثر و رسوخ کو کند کر دیا۔

پاکستان کئی ایسے چینی منصوبوں کے لئے اہمیت کا حامل ہے جو وسطی ایشیاءاور مشرق وسطی میں توانائی کے ذخائر اور خاص کر نئی منڈیوں تک چین کی رسائی کا موثر ذریعہ بن سکتا ہے۔اب تک چین نے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (بی آر آئی) کے تحت پاکستان میں بنیادی ڈھانچے،بجلی اور بندرگاہ کی ترقی میں اربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے،چین نے پاکستان کو مراعاتی قرضے بھی دیئے،حتی کہ تین ارب ڈالر کے ان قرضوں کی جگہ بھی لی جو گذشتہ سال سعودی عرب نے اچانک منسوخ کردیئے تھے۔چین کی پاکستان میں سرمایہ کاری دونوں ممالک کے درمیان کئی دہائیوں پر محیط اسٹریٹجک شراکت داری کا تسلسل تھی لیکن اب یہ چین کو بندرگاہوں اور سڑکوں تک رسائی دینے کی اُس اضافی جغرافیائی جہت کو بھی نمایاں کرتی ہے جو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے لے کر مغربی چین ، وسطی ایشیا اور افغانستان تک پھیلی ہوئی ہے،جسے پاکستان اورخطہ کے وسیع ترمفادات بارے امریکی نقطہ نظرسے جانچنا درست نہیں ہو گا۔

چنانچہ پاکستان نے معاشی تحفظ پر مبنی ایک نیا نقطہ نظر پیش کیا ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں، ٹیکنالوجی اور دیگر غیر سکیورٹی امور کے سلسلے میں امریکہ کے ساتھ تعاون پہ مشتمل ہو گا،جس کی تفہیم وزیراعظم عمران خان کے مغربی میڈیا کو دیئے گئے انٹرویوز اور حالیہ ٹویٹس میں کی گئی۔اس نئے تصورکو حقیقت بنانے کی خاطر دونوں ممالک کو بہت زیادہ کام کی ضرورت پڑے گی کیونکہ یہی نئی سوچ بنیادی نوعیت کی کئی دیگر تبدیلی سے بھی منسلک ہے۔خلیج تعاون کونسل کی معیشتوں کے خاتمہ کے باعث غیرملکی امداد میں کمی،بیرون ممالک سے ترسیلات میں کمی اور پاکستان کی ٹیکسٹائل کی برآمدات گھٹ جانے سے ملک اقتصادی مشکلات میں گِھر گیا،پاکستان موجودہ قرضوں کو ریگولیٹ کرنے کی خاطر طویل عرصے سے ادھار لے رہا ہے لیکن اب یہ ممکن نہیں کہ مختصر سی درمیانی مدت کے قرضوں کے ذریعے ادائیگیوں کا سلسلہ بحال رکھا جائے۔

بلاشبہ پاکستان کو بین الاقوامی امداد کی ضرورت ہے لیکن اسکی ترجیحات میں قرضوں اور معاشی امداد کے ذریعے اپنی معیشت کو بڑھانے کے لئے اپنی برآمدات میں اضافہ کرنا زیادہ اہم ہوگا۔اسی لئے امریکی اب بھی یہی سمجھتے ہیں کہ حالات کا جبر پاکستان کو ان ممالک سے پالیسی سمجھوتوں پر قائل کر لے گا جو معاشی محاذوں پر انہیں ریلیف دے سکتے ہیں۔بظاہر یہی لگتا ہے کہ سعودی عرب اب پاکستان کی اسٹریٹجک گہرائی کے طور پر کام نہیں کرے گا،تقریباً پانچ دہائیوں پہ محیط قریبی تعلقات کے بعد سعودی عرب بوجوہ فیصلہ کن طور پر خود کو پاکستان سے دور کررہا ہے۔

گزشتہ سال اس نے اسلام آباد کی طرف سے کشمیر میں بھارتی جارحیت پر سعودی عرب کی حمایت نہ ملنے کی شکایت کرنے پر تین ارب ڈالر کا قرض منسوخ کردیا تھا اور مجموعی اسلامی خارجہ پالیسی کا اختتام،جس نے پاکستان کو سعودی عرب اور خلیج فارس کی ریاستوں کا پابند بنا رکھا تھا،بھی اس تفریق کا سبب بن گیا۔یہ واضح ہے کہ سعودی عرب اپنی روایتی مذہبی خارجہ پالیسی سے پیچھے ہٹ رہا ہے جیسا کہ ولی عہد کے تحت عربوں کے ہندوستان کے ساتھ بڑھتے تعلقات سے ظاہر ہوتا ہے،جو مسلم ممالک کی بجائے بھارت اور اسرائیل سے زیادہ وسیع معاشی اور تزویراتی تعلقات استوار کرنے کے خواہ ہیں،اس لئے سعودی حکمراں بھارت کے ساتھ مسئلہ کشمیر پر پاکستان کی حمایت نہیں کر سکتے۔شاید وہ اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات نہ رکھنے کے حامی پاکستان کو الگ تھلگ کرنا چاہتے ہوں کیونکہ خلیجی ممالک اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات معمول پر لانے کے لئے بیتاب ہیں۔

Advertisements
merkit.pk

چنانچہ ان حالات میں امریکی پالیسی پاکستان یا خطہ میں چین کی معاشی سرمایہ کاری سے ہم آہنگ نہیں ہو پائے گی لیکن وہ پاکستان کی سمت بدلنے کی کوشش ضرور کریں گے،ماضی کے مقابلے میں اس تغیر وتبدل کو ممکن بنانے کے لئے دباو کے حربے استعمال کرنے کا امکان کہیں زیادہ ہے کیونکہ امریکی خارجہ پالیسی کے بنیادی اصولوں میں اہم تبدیلیاں ہورہی ہیں جنہوں نے طویل عرصے سے پاکستان کے اسٹریٹجک تعاون کی تعریف کی ہے۔

  • merkit.pk
  • merkit.pk

Aslam Awan
اس وقت یبوروچیف دنیا نیوز ہوں قبل ازیں پندرہ سال تک مشرق کا بیوروچیف اور آرٹیکل رائٹر رہاں ہوں،سترہ سال سے تکبیر میں مستقل رپوٹ لکھتا ہوں اور07 اکتوبر 2001 سے بالعموم اور 16مارچ 2003 سے بالخصوص جنگ دہشتگردی کو براہ راست کور کر رہاں ہوں،تہذیب و ثقافت اور تاریخ و فلسفہ دلچسپی کے موضوعات ہیں،

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply