مرعوب ہونا منع ہے۔۔سعدیہ علوی

ہم  بہت خوش قسمت سمجھتے ہیں خود کو ، موصوف ہماری ساری شاندار حرکتوں کے باوجود واپس ہمارے پاس ہی آتے ہیں ( اس کی ایک وجہ ہماری دوست یہ بیان کرتی ہیں کہ ان کو کوئی دوسری جُڑ  ہی نہیں سکتی، سو وہ سوچتے ہیں ایک اور ایک گیارہ ہی بہتر ہے ،ویسے ہم اس سے متفق نہیں ہیں)۔

ہم اکثر اپنی گفتگو سے ان کو حیران کرتے رہتے ہیں مگر نہ جانے کیوں وہ حیران سے زیادہ پریشان لگتے ہیں۔ اب اگلے دن کی بات ہے فون پر کہنے لگے کہ کیا خیال ہے سمندر پر چلیں؟ اب ہم نے سوچنا شروع کردیا کہ یقیناً ان کو کوئی جادو آگیا ہے اور پوچھ بیٹھے کہ چلیں گے کیسے پانی پر؟ اور ہم کشتی پر نہیں بیٹھیں گے ہاں۔

tripako tours pakistan

ان کی خاموشی نے ہمیں بتلا دیا کہ لاجواب ہو چکے ہیں۔ خیر اب اس میں ان کا کیا دوش کہ ہم سے تو اچھے اچھے ہار جاتے ہیں ۔

ہمیں اچھے لباس ِجوتوں ، خوشبوؤں  کا بہت شوق ہے۔ ہم گاہے بگاہے ان کو بتاتے رہتے ہیں اور ہمیں لگتا ہے ان کو یقین نہیں ہے اس بات پر۔۔کل بولے ملنے آجاؤ۔۔  ہمیں بھی بہترین موقع ملا اپنی خوش لباسی اور سلیقے کا رعب ڈالنے کا۔

Advertisements
merkit.pk

ہم نے اپنا بہترین “ثنا سفینہ” کا جوڑا زیب تن کیا، گوچی کا “رش” پرفیوم لگایا، اور “ای بی ایچ” کا جوتا پہن کر ان سے ملنے پہنچ گئے- وہ ہمیں ستائشی   نظروں سے دیکھنے لگے اور ہم دونوں ایک ساتھ چلنے لگے اچانک بولے جوتا تو اٹھا کر چلو۔ہم ہکا بکا رہ گئے کہ پبلک پلیس پر یہ کیا فرمائش ہوئی۔ پوچھا، “کیا کہہ رہے ہیں” بولے،” بابا جوتا تو اٹھا کر چلو پلیز”
ہم نے کچھ دیر سوچا پھر صرف اس خیال سے کہ ہم کبھی بات نہیں مانتے ہیں آج مان لیتے ہیں، جھکے اور جوتا اتار کر ہاتھ میں لے لیا اور چلنے لگے
اللہ جانے وہ اپنی جگہ جم کیوں گئے
شاید  ہماری اس ادا سے مرعوب ہوگئے!

  • merkit.pk
  • merkit.pk

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply