• صفحہ اول
  • /
  • خبریں
  • /
  • کوہ پیما محمد علی سدپارہ کی موت کے اسباب جاننے کیلیے ساجد سدپارہ کی کے ٹو روانگی

کوہ پیما محمد علی سدپارہ کی موت کے اسباب جاننے کیلیے ساجد سدپارہ کی کے ٹو روانگی

اسلام آباد: عالمی شہرت یافتہ کوہ پیما محمد علی سدپارہ کے بیٹے ساجد سدپارہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے والد کی موت کی وجوہات جاننے کے لیے آج (بروز جمعہ) کے ٹو کے لیے روانہ ہوں گے۔ انہوں نے یہ اعلان وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں گزشتہ روز ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

پاکستان کے معروف کوہ پیما محمد علی سدپارہ رواں برس پانچ فروری کو دیگر دو غیر ملکی کوہ پیماؤں آئس لینڈ کے جان سنوری اور چلی کے ہوان پابلو موہر کے ہمراہ کے ٹو سر کرنے کی مہم کے دوران لاپتہ ہوگئے تھے۔

tripako tours pakistan

ممتاز کوہ پیما علی سدپارہ اور ان کے دو دیگر ساتھیوں کی تلاش کے لیے طویل ریسکیو آپریشن کیا گیا تھا لیکن ان کی نعشیں تک نہیں مل سکی تھیں جس کے بعد 18 فروری 2021 کو گلگت بلتستان کے وزیر سیاحت راجہ ناصر علی خان نے علی سدپارہ کے بیٹے ساجد علی سد پارہ کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کردی تھی۔

ساجد سدپارہ کی جانب سے کیے جانے والے اعلان کے تحت وہ آج وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے اسکردو جائیں گے جہاں سے کے ٹو کے لیے روانہ ہو جائیں گے۔ اس حوالے سے انہوں ںے کہا کہ وہ اپنے والد علی سدپارہ کی موت کی وجوہات جاننے کے لیے یہ سفر اختیار کر رہے ہیں۔

انہوں نے اس حوالے سے کہا کہ بیٹا ہونے کی حیثیت سے میری ذمہ داری ہے کہ اپنے والد کے ساتھ پیش آنے والے حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے خطرہ مول لوں۔

اس ضمن میں ساجد سدپارہ کا کہنا تھا کہ وہ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ان کے والد تیز ہواؤں کا شکار ہوئے اور یا پھر وہ کسی برفانی تودے کی زد میں آئے تھے۔ انہوں ںے کہا کہ وہ اس حوالے سے اپنی والدہ اور بھائیوں کو بھی اعتماد میں لے چکے ہیں۔

ساجد علی سدپارہ گذشتہ سال موسم سرما میں کے ٹو سر کرنے کی مہم میں اپنے والد علی سدپارہ کے ہمراہ تھے لیکن آکسیجن سلنڈر میں پیدا ہونے والی خرابی کے باعث وہ اپنا سفر جاری نہیں رکھ سکے تھے۔

پریس کانفرنس میں ساجد سدپارہ نے بتایا کہ وہ اپنے والد کے قدموں کے نشانات پر چلتے ہوئے ان کی میت اور ان کے زیر استعمال اشیا کو تلاش کرنے کی کوشش کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ یہ بات بخوبی جانتے ہیں کہ ان کے والد اب اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ ان کی نعش کا ملنا بھی بہت مشکل ہے لیکن اگر وہ نہ بھی ملی اور میرا سمٹ مکمل ہوا تو اپنے والد کی خواہش کے مطابق ان کا جھنڈا ضرور کے ٹو پر لہراؤں گا۔

Advertisements
merkit.pk

ساجد سدپارہ نے کہا کہ وہ اس سفر کے دوران اپنے والد محمد علی سدپارہ، جان سنوری اور اپنی زندگی پر ڈاکومنٹری بھی بنائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ایک پیشہ ور کوہ پیما ہیں اور انہیں ڈر نہیں لگتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایڈونچر میں خطرہ ہوتا ہے اور رسک بھی لینا پڑتا ہے۔

  • merkit.pk
  • merkit.pk

خبریں
مکالمہ پر لگنے والی خبریں دیگر زرائع سے لی جاتی ہیں اور مکمل غیرجانبداری سے شائع کی جاتی ہیں۔ کسی خبر کی غلطی کی نشاندہی فورا ایڈیٹر سے کیجئے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply