جو چلے تو جاں سے گزر گئے(قسط1)۔۔محمد اقبال دیوان

تعارف:زیرِ  مطالعہ کہانی دیوان صاحب کی پہلی کتاب ”جسے رات لے اڑی ہوا“(چوتھا ایڈیشن زیر گردش) میں شامل ہے۔اسے پڑھ کر رات گئے ایک افسر عالی مقام کا فون یہ معلوم کرنے کے لیے آیا کہ مصنف کو یہ حقائق جو ہر چند ایک قصے کی صورت میں بیان ہوئے ہیں، کہاں سے دستیاب ہوئے۔ ؟کیا یہ ان کے ادارے کے کسی افسر نے بتائے۔ہمارے دیوان صاحب کا جواب تھا کہ دنیا بھر کی مرغیاں کتنی کوشش بھی کرلیں ایک ماہر شیف سے اچھا آملیٹ نہیں بناسکتیں۔ہمیں آپ شیف کا درجہ دیں اور اپنے افسروں کو مرغیاں مان لیں۔ان کی پیشکش تھی کہ دیوان صاحب سے ملاقات ہوگی  ، اور آئندہ کے کچھ پروگرام بنیں گے۔ افسر عالی مقام حالات کی گردش کی وجہ سے اپنے عہدے پر برقرار نہ رہ پائے اور

ع ،ان کہی ہی رہ گئی وہ بات سب باتوں کے بعد
والا حساب رہا۔

tripako tours pakistan
book title JRLUH
کراچی کے لڑکے
کراچی میں ہنگامے
ہنگامے کے دوران جلنے والا رکشہ
مرنے والی بچی
پولیس سٹیشن

ادارہ ”مکالمہ“ چودہ اقساط کی اس طویل کہانی کو شائع کررہا ہے اور ممکن ہوا تو اسے ویب سیریز کی صورت میں ڈھالے گا۔کوشش جاری ہے۔
ایڈیٹر ان چیف

چودہ اقساط کی پہلی قسط

علاقے کے ہنگاموں میں آج کچھ افاقہ تھا۔ لوگوں کا موقف تھا کہ بچی جو ہلاک ہوئی ہے وہ پولیس کی فائرنگ سے ہوئی ہے، جب کہ پویس کا کہنا تھا کہ مرنے والی بچی جو اپنی ماں کے ساتھ رکشے میں جارہی تھی,وہ پستول کی گولی سے ہلاک ہوئی ہے اور یہ گولی اسے لڑکوں کی فائرنگ کے نتیجے میں لگی، جو گلی کی  نکڑ پر کھڑے فائرنگ کر رہے تھے۔۔لڑکے پولیس پر فائرنگ کر رہے تھے کہ اس دوران یہ رکشہ بیچ میں آگیا۔

بارہ بور
303 رائفل
پوائنٹ ٹو ٹو ٹیلی سکوپ رائفل

اب کی دفعہ ہنگاموں میں فائرنگ کا بہت زور تھا۔ ان ہنگاموں میں اب کی بار ایک نیا عنصرشامل تھا۔ پہلے یہاں پتھراؤ ہوتا تھا، آتش زنی کی وارداتیں اور کچھ لوٹ مار۔اب کی دفعہ اسلحہ کا استعمال پولیس کے لئے پریشان کُن بات تھی اور اہل ِ علاقہ کے لئے حیرانی کا سبب۔سب یہ کہہ رہے تھے کہ یہ باہر سے آیا ہوا  کوئی گروپ ہے، جو ہنگامہ آرائی میں شامل ہوگیا ہے۔پہلے یہاں ایسے نہیں ہوتا تھا۔ لڑکوں کی ٹولیوں میں کئی ایسے لوگ دکھائی دیتے تھے، جو اپنے انداز اورعمر کے حساب سے بہت مختلف  نظر آتے    تھے۔تین دن سے وہ ایک ایسے ہی شخص کو دیکھ رہے تھے۔اس نے چیک کی کالی قمیص اور سیاہ کارڈرائے کی پتلون پہنی ہوئی تھی۔اس کے ہاتھ میں ایک پستول ہوتا تھا اور وہ فائرنگ کرکے،بے دریغ پولیس کو نشانہ بناتا تھا۔

سندھ پولیس کے پاس ان دنوں دو طرح کا اسلحہ ہوتا تھا۔ یا تو چھوٹی نالی کی بارہ بور کی چھرے والے کارتوس کی بندوق یا وہ لمبی چائنیز تھری ناٹ تھری کی رائفل۔ تب تک انہیں کلاشنکوف نہیں دی گئی تھی۔ اس وقت تک اس کو جنگ کا ہتھیار سمجھا جاتا تھا۔لمبی چائنیز تھری ناٹ تھری کی رائفل کو بہت خال خال استعمال کیا جاتا تھا۔ اس سے فائر کی جانے والی گولی سے مضروب کی فوراًہلاکت ہوجاتی تھی اس لئے طے یہ ہوا ۔۔کہ یہ دونوں ہتھیار،پتھراؤ اور دیگر نوعیت کی ہنگامہ آرائی کو روکنے کے لئے ناموزوں ہیں۔فیصلہ ہوا کہ یہ فائرنگ کرنے والے لوگوں میں سے ایک آدھ کو زخمی کرکے تفتیش کی جائے کہ یہ کون سا گروہ ہے، جو ان میں شامل ہوکر فسادات کو ہوا دے رہا ہے ،اور لوگوں کی جان کا دشمن بن گیا ہے۔کہیں سے ٹوٹو کی چھوٹی گولی والی پرئیویٹ رائفل بمع دوربین منگوائی گئی۔

اس دن بلوؤں، لوٹ مار جلاؤ گھیراؤ میں کچھ زیادہ ہی شدت تھی اور یہ شخص جگہ جگہ فائرنگ کرتا دکھائی دے رہا تھا۔ بلا آخر یہ ایک جگہ پولیس کو نظر آگیا۔ہاتھ میں وہی پستول،وہی دیدہ دلیری سے فائرنگ کرنا۔ بہت احتیاط سے ایک بلڈنگ میں چھپ کر اس کو نشانہ بنایا گیا ،ارادہ یہ تھا کہ گولی اس کے نچلے دھڑ پر کہیں پیروں کی طرف ماری جائے۔ جب یہ زخمی ہو کر گر جائے تو اسے گرفتار کر کے تفتیش کی جائے۔مگر پولیس کی ایک پارٹی کو جو موقعے پر موجود تھی اور جسے اس کو نشانہ بنانے کے بارے میں پتہ نہ تھا، جب فائرنگ کرتایہ دکھائی دیا ، تو کسی بے صبرے پولیس افسر نے اپنے پستول سے دفاع میں فائر کیا ،یہ جانتے ہوئے بھی کہ اس کے پستول کی گولی اتنی دور سڑک کے کونے پر آڑ لے کر کھڑے ہوئے اس بدبخت کو نہ لگ پائے گی۔ پولیس افسر کے اس فائر کے جواب میں یہ جھکا اور عین اس وقت بلڈنگ سے باندھے گئے ٹو ٹو رائفل کے نشانے کی گولی اس کی پیشانی پر لگی اور وہ دھڑ سے زمیں پر گرا اور درد کے مارے تڑپنے لگا ،پیشانی کے پاس گولی اس کے بھیجے میں اُتر گئی تھی اور خون کا ایک فوارہ اس کی پیشانی سے بلند ہورہا تھا۔ جب اس کا یہ حال دیکھا تو باقی ماندہ لوگ وہاں سے اسے سڑک پر تڑپتا چھوڑ کر بھاگ لئے۔ اسے پولیس موبائل میں ڈال کر قریبی ہسپتال لے جایا گیا۔ یہ کوئی چالیس سال کا شخص تھا۔ کسرتی بدن، چہرے کے خدوخال علاقے کے ہنگامہ کرنے والے والے لڑکوں سے بالکل مختلف جو زیادہ تر 14-25برس کی عمر کے نوجوان تھے۔ہسپتال کو ہدایت کی گئی کہ اس کو سنبھال کر ابتدائی طبی امداد دیں، جب تک ایمبولینس اور اس کے دماغ کے آپریشن کا  بندوبست کیا جائے ،اس لئے کہ گولی اس کے سر میں لگی ہے۔

کالج میلہ
میلے میں موج
مہندی

بیس منٹ بعد جب عدنان جو اس علاقے کا ایس۔ڈی۔ایم تھا اور ڈی ایس پی وہاں ہسپتال پہنچے، تو وہ غائب تھا۔ ڈاکٹروں نے بتایا کہ اسے وہاں چھوڑ کے جانے کچھ دیر بعد ہی ایک کار میں بندوقوں سے لیس کچھ لوگ آگئے اور اسے زبردستی لے گئے۔تمام سرکاری  ہسپتالوں کو پیغام دیا گیا کہ اس طرح کا کوئی بھی زخمی آئے تو فوراً تھانے اطلاع کی جائے۔سارا دن اس طرح کی اطلاع کا انتظار رہا مگر کہیں سے ایسے کسی زخمی کے ہسپتال لائے جانے کی کوئی خبر نہ آئی۔ اس واقعے کے بعد ہنگامے بھی سرد پڑنا شروع ہوگئے۔

ڈی۔ایس۔پی صاحب نے اسے لنچ کی پیشکش کی، ہنگاموں والے علاقے سے چند میل دور ایک پر سکون علاقے کے چھوٹے سے ریستوراں میں کھانا کھایا ۔ راستے میں انہوں نے بتلایا کہ فائرنگ سے جو بچی ہلاک ہوئی ہے ، اُن  فائرنگ کرنے والے لڑکوں کے نام مل گئے ہیں۔ چار کا نام تو مصدقہ ہے پانچویں پر پولیس کو کچھ شبہ ہے۔پانچواں نام ایک میڈیکل کے طالب علم کا ہے اور یہ نام ہے نبیل ہارون کا۔ عدنان اس نام پر کچھ چونکا اور اس نے ڈی۔ایس۔پی صاحب سے کہا کہ ایک دن بعد وہ انہیں یہ نام کنفرم کردے گا۔ وہ اسے جانتا ہے۔فی الحال اس کا نام ایف۔آئی۔آر میں نہ ڈالا جائے۔ نبیل ہارون اس کے جاننے والوں کا بیٹا تھا۔ اس کی  امی عدنان کی والدہ کے پاس اکثر آتی رہتی تھیں۔ شام کو دفتر سے لوٹتے ہوئے عدنان ان کے گھر پر رک گیا۔ وہ اپنی دو بہنوں والدہ اور والد کے ساتھ رہا کرتا تھا۔ وہ بھی گھر ہی پر تھا۔ پوچھ گچھ کرنے پر اس نے بتایا کہ جن لوگوں کے نام عدنان لے رہا ہے، ان میں سے دو لڑکوں سے اس کی دوستی ضرور ہے مگر فائرنگ والے دن وہ اپنے کالج کے فن میلے میں اپنی کلاس کے  سٹال پر موجود تھا اور اس کی تصدیق کالج سے بھی کی جاسکتی ہے۔ وہ فائنل ایئر کا اسٹوڈنٹ ہے اور ایسی کسی کارروائی میں شریک ہونے کا وہ سوچ بھی نہیں سکتا۔ عدنان کے اس دورے سے البتہ اس کے گھرانے میں کھلبلی مچ گئی۔ یہ ایک امن پسند میمن گھرانہ تھا۔ کاروباری گھرانوں میں ایسے کوئی بھونچال آنے پر یوں ہوتا ہے  ،کہ  شر پسند کی شادی کردی جائے۔ آنے والی خود ہی اس کے کس بل نکال دے گی۔ بیوی بچوں کا بوجھ پڑے گا تو اس کی دوستیاں خود ہی ایسے لوگوں سے ختم ہوجائیں گی۔

نبیل ہارون کو شادی کرنے پر کوئی اعتراض نہ تھا مگر اس نے شرط رکھی کہ وہ برادری یا خاندان میں شادی نہیں کرے گا اور اسے کوئی لڑکی اپنے طور پر پسند بھی نہیں۔ والدین اس کے لئے کوئی باہر کی لڑکی تلاش کریں اگر وہ اسے پسند آئی تو وہ ہاں کردے گا۔

کانونٹ ان فرنچ ریمس
ننز
ایف آئی ایس الجیریا
ایف آئی ایس سپورٹرز
فلپائن میں چرچ پروٹیسٹ
جہادی
جہادی

ایک شام یوں ہوا کہ عدنان کے پڑوس میں کسی کی اس دن مہندی تھی۔اس کی والدہ سے اس دن نبیل ہارون کی امی ملنے آئیں تھیں۔ عدنان کی والدہ مہندی میں شرکت سے یہ کہہ کر معذرت کرتی رہیں کہ مہندی ویسے بھی نوجوانوں کی تقریب ہوتی ہے اور ان سے ملنے  کوئی آیا ہوا بھی ہے۔ اچھا نہیں لگتا کہ گھر آئے مہمان کو چھوڑ کر آپ کسی تقریب میں جا دھمکیں۔ شادی والے گھر سے البتہ کچھ لوگ عدنان کی والدہ کو زبردستی لینے آگئے کہ کھانا شروع ہونے کو ہے وہ آن کر دعا کریں تاکہ کھانا شروع کیا جاسکے ،ان کی مہمان جو ان سے ملنے آئی ہیں وہ انہیں بھی ساتھ لے آئیں تو اور بھی خوشی کی بات ہوگی۔ عدنان کی والدہ مان گئیں۔ جس وقت وہاں وہ پہنچیں ایک لڑکی جو برطانیہ سے بطور مہمان آئی تھی۔ اور بڑی سر خوشی سے ناچ رہی تھی۔ لمبا اسکرٹ، ننگے بازو اور دلفریب نقوش، اسے جب، نبیل ہارون نے،جو اپنی والدہ کو لینے آیا ہوا تھا، دیکھا، تو پہلی نظر میں ہی اس پر دل ہار گیا اور دوسرے دن اپنی امی کو بھیج دیا کہ اس سے رشتے کی بات کریں۔ نبیل ہارون کی میمن ماں کو تو بڑا دھچکا لگا مگر جب عدنان کی والدہ نے سمجھایا کہ لڑکی اچھی ہے بس باہر کی ہے تو لباس اور وضع قطع کے حساب سے ذرا بے باک سی لگتی ہے، والدین بھی شریف ہیں۔ ان کے بیٹے کو پسند آگئی ہے تو اچھا ہے۔

بوسینیا کے جہادی
کشمیری مجاہدین

عدنان کی امی کی مداخلت اور دیگر عوامل کی سازگاری کی وجہ سے لڑکی کے والدین کو کوئی اعتراض نہ ہوا۔ مگر انہوں نے ایک شرط رکھی کہ لڑکا، برطانیہ میں رہے گا۔ نبیل کے گھروالوں کے لئے یہ ایک سنہری موقع  تھا کہ وہ اپنے اس ہونہار کو اس ناپسندیدہ صحبت کے برے اثرات سے محفوظ رکھیں۔ شادی کے چند دن بعد ہی نبیل برطانیہ سدھار گیا۔

برطانیہ میں عدنان کی بیوی کی ایک بڑی بہن طوبیٰ بھی تھی ،جو ایک جرمن لڑکے کے عشق میں بری طرح گرفتار تھی اور اس کی اس دل لگی سے نبیل کے سسرال والے پریشان تھے۔ انہوں نے اس کا ایک علاج یہ تلاش کیا کہ اسے ریمس Reims  فرانس میں بھجوادیا یہاں ایک کونوینٹ اسکول تھا۔ جہاں کی کیتھولک ننزNuns کچھ زیادہ ہی سخت تھیں۔ لڑکی کے  ماں باپ کا یہ خیال تھا کہ ان کی وجہ سے وہ اس جرمن لڑکے سے ملنے جلنے سے باز رہے گی۔

قسمت کے کارنامے بھی عجب ہوتے ہیں۔ طوبیٰ بیگم کو وہاں ہاسٹل میں رہنے کے لئے جو روم میٹ ملی اس کا تعلق الجزائر سے تھا۔ اسکے گھرانے کے کچھ افراد وہاں ایف۔آئی۔ایس(Islamic Salvation Front) کے بڑے سرگرم رکن تھے اور یہ بھی بہت ہی کٹر مذہبی لڑکی تھی۔ اس نے طوبیٰ پر نہ جانے کیاجادو کیا کہ وہ بھی اسی کے رنگ میں ڈھل گئی۔ آزاد خیالی ہوا ہوئی ،لباس اور طور اطوار بالکل اسلامی ہوگئے۔ دل کا معاملہ بھی کچھ قیدِ  شریعت میں آگیا۔ لیکن پھر ہوا یوں کہ کچھ دنوں بعد وہ جرمن لڑکا وہاں بھی اس کی تلاش میں پہنچ گیا۔ طوبیٰ نے اپنی اس دوست کی رفاقت میں اس سے ملاقات کی اور اس سے کہا کہ اب وہ اس سے ایک شرط پر تعلق رکھ سکتی ہے اور وہ یہ کہ وہ اس سے شادی کرلے لیکن شادی کے لئے تین شرائط ہیں، ایک یہ کہ وہ مسلمان ہو جائے، دوم شریعت کی پابندی کرے اور
سوم یہ کہ وہ جہاد میں حصہ لے۔

لڑکے نے مہلت مانگی اوروعدہ کیا کہ اگر وہ ان شرائط پر راضی ہوگیا تو وہ اس  کے گھر دسمبر میں کرسمس کی چھٹیوں میں لندن آئے گا۔ دسمبر کی چھٹیوں میں لکاس کیون Lucas Kevin صاحب لندن پہنچے ہوئے تھے۔ طوبیٰ بیگم سے ان کا نکاح سادگی سے مسجد میں ہواء جس میں اسکی  والدہ بھی دل پر پتھر رکھ کر شریک ہوئیں، شادی کے بعد ان کا نام حماد کیون رکھ دیا گیا۔

ساری بات کو چند برس گزر گئے، افغانستان کے مجاہدین جنگ ختم ہونے کے بعد بکھر گئے کچھ تو بوسنیا پہنچ گئے اور کچھ کشمیر۔ ایک رات عدنان کے فلیٹ پر دو بجے دستک ہوئی۔ عدنان نے شیشے کی چھوٹی آنکھ سے دروازے کے باہر جھانکا تو اسے سفید کپڑوں میں ملبوس داڑھیوں والے چند نوجوان دکھائی دیے۔ پہلے تو اسے خیال آیا کہ یہ شاید  کوئی تبلیغی گروپ ہے مگر اس نے سوچا کہ وہ ایسے بے وقت نہیں آتے۔آپ ان کی کئی باتوں سے اختلاف کرسکتے ہیں مگر وہ کبھی بھی شائستگی اور نرمی کا دامن نہیں چھوڑتے۔ دروازہ کھولنے پر عدنان بھائی کا نعرہ بلند ہوا اور نبیل ہارون اس سے لپٹ گیا۔ ہم نے سوچا کہ آپ سے ملتے چلیں۔ میں نے اپنے ساتھیوں سے آپ کا تفصیلی تعارف کرادیا ہے کہ اس شخص یعنی عدنان بھائی کی مداخلت کی وجہ سے مجھے یہ راہ ہدائیت ملی۔بس اب اچھی سی کافی پلوائیں۔ عدنان نے ان چھ نوجوانوں کو اندر بلایا، دو تو ان میں عرب تھے اور ایک گورا تھا، باقی دو شاید  پاکستانی یا بنگالی لگتے تھے۔ سب کے سب تنومند اور اسلامی جذبات سے سرشار۔ بتلانے لگے کہ ” وہ کچھ دن افغانستان میں تھے اور پھر کشمیر میں، افغانستان وہ بوسنیا  سے  پہنچے  تھے۔  مستار جو بوسنیا ہرزگوینا کا حصہ تھا ،وہاں کی مسلمان خواتین کو انہی  لوگوں نے سربیائی افواج کے مظالم سے بچایا تھا”۔

عدنان نے پوچھا کہ “اس کی بیگم کہاں ہے؟” تو کہنے لگا کہ ” وہ تزلا بوسنیا میں پھنسی ہوئی ہے، وہاں میڈیکل سپلائز لے کر گئی تھی۔ اب پتہ نہیں وہ کہاں ہے۔ اللہ سب کا نگہبان ہے۔ ہم کسی کی جان کے نگران نہیں جان و مال کی حفاظت اسی کا ذمہ ہے”۔

عدنان کو نبیل ہارون کی سوچ کچھ بے رحم سی لگی، مگر اسے معلوم تھا کہ یہ لوگ سوچ کے ایک ایسے درجے پر ہیں ،جہاں اس کی شاید  رسائی نہیں۔ دورانِ گفتگو ایک موقع پر عدنان نے ان سے پوچھا کہ” کیا یہ ان کے نزدیک واقعی تہذیبوں کا تصادم ہے؟ “ان میں سے ایک عرب کہنے لگا کہ “اگر آپ بائبل کو موجودہ شکل میں بھی تسلیم کرلیں تو وہ بھی ان تمام برائیوں سے روکتی ہے جس کی ممانعت اسلام میں ہے۔ مثلاًشراب نوشی، سود خوری، قمار بازی اور اسی قبیل کی تمام برائیاں اس میں بھی بری قرار دی گئی ہیں۔

مغرب میں لوگ بہت اچھے ہیں۔ ان کی کئی خوبیاں ایسی ہیں جن کو مسلم معاشروں میں تلاش کرنا مشکل ہوگا۔ مگر ان کا کاروباری نظام ان کی  معاشرتی زندگی کو اس بری طرح جکڑ کر بیٹھا ہے۔ اسکے کرتا دھرتا ہر جگہ و سائل پر قبضہ کرنے کے لئے اور اپنی دولت میں اضافے کے لئے   جنگیں برپا کرتے ہیں اور اس سے بہت ظلم ہوتا ہے۔ دنیا بھر میں بارہ بڑی تہذیبیں اب تک منظر عام پر آئی ہیں “۔چھ مٹ گئی ہیں یا اب ان میں وہ سکت نہیں۔ چھ تہذیبیں جن میں اسلام، عیسائیت، یہودییت، بدھ مت، ہندو مت اور لادینی یعنی کمیونزم ہیں، جو اپنا وجود منوانے پر تلی ہوئی ہیں۔

عدنان نے ان سے پوچھا کہ کیا وجہ ہے کہ اسلام اور مسلمان ہر جگہ پر تصادم کی کیفیت میں ہیں۔ کہیں ایسا کیوں نہیں سننے میں آتا کہ بدھ مت کے ماننے والوں میں اور عیسائیوں میں تصادم ہو یا اور ایسے مذاہب آپس میں بر سرپیکار ہوں؟

اس پر وہ گورا کہنے لگا کہ کیا اس نے مسلمان ہونے کے باوجود کبھی اس بات پر غور کیا کہ سورۃ العلق کی ابتدائی پانچ آیات جو پہلی وحی کے طور پر نازل ہوئیں۔ اس سے سارا مکہ کا معاشرہ رسول اکرمﷺ  کی جان کا دشمن کیوں ہوگیا؟حتیٰ کہ آپﷺ کا چچا ابو لہب تک آپ کی جان کے درپے ہوگیا اور اس کے دو بیٹوں نے آپ ﷺکی دو عدد صاحبزادیاں جو ان کے نکاح میں تھیں ان کو طلاق دے دی۔ اس کی دشمنی مسلم تھی، سورۃالمدثر کے مطابق جب آپ ﷺ   نے پہلی دعوت دین اپنے عزا و اقربا کو دی تو پہلا پتھر اس کمبخت نے آپﷺ کو مارا تھا۔

پورا قرآن کریم نبی ﷺ کے کسی عزیز کا ذکر نام لے کر نہیں کرتا۔ سوائے اس کے اور اس کی بیوی ارویٰ،ام جمیل کے جو ابو سفیان کی بہن تھی اور ان کو بھی معتوب ٹھہرایا گیا۔ یہ قرآن کے Impersonal ہونے کا اعجاز ہے۔

سورۃالعلق کی اس وحی میں نہ تو نماز کا ذکر ہے نہ کسی اور فرض عبادت کا۔ پھر اس پیغام میں وہ کیا خطرہ تھا جو انہیں لاحق ہوگیا تھا۔ اس وقت کا مکہ تو ایک دوسرے کو مذہبی طور پر   برداشت کرنے میں بہت مشہور تھا۔ خانہ کعبہ جو بمشکل ایک چالیس بائی چالیس فیٹ کا کمرہ ہے اس میں ہر قبیلے کا ایک بت رکھا تھا جو ان کی آپس میں مذہبی رواداری کا ثبوت ہے۔اسکے علاوہ بھی وہاں پانچ بڑے مذہبی گروہ تھے۔ مشرک، آتش پرست، عیسائی، یہودی اور بت پرست، یہ سب ایک دوسرے کو تو خوشی خوشی برداشت کرتے تھے۔ اس ایک پیغام کے ساتھ ہی ایسی کیا با ت ہوئی کہ یہ سب اللہ کے رسول کے مشترکہ دشمن ہوگئے۔

پوپ اپنے دوست کلگر کے ساتھ

عدنان نے کہا کہ وہ بتلائے کہ ایسی کیا بات ہوئی کہ وہ سب آپؐ کے دشمن ہوگئے۔ اور اسلام کی مخالفت پریک جان ہوکرکمر بستہ ہوگئے۔

اس عرب نے کہا کہ سورۃ البقرہ اور سورۃالمائدہ میں اس مخالفت کی وجہ بیان کی گئی ہے اگر مسلمان اسے سمجھ پائیں تو، جب آپ کو حکم دیا جاتا ہے کہ نشے، جوئے، سود اور دیگر برائیوں سے بچو تو آپ ان کی بڑی تجارتی اجارہ داریوں کی جڑ کاٹ دیتے ہو۔ان کی شراب کی انڈسٹری، ان کے جواخانے،   لاٹریاں، ان کا مالیاتی نظام سب کے سب تباہ ہوجاتے ہیں۔
اسلام شادی کو آسان اور بے راہ روی کو مشکل بناتا ہے۔ اس سے ان کی گلیمر انڈسٹری اور ہالی ووڈ ختم ہوجاتے ہیں۔ جب آپ توحید کا پیغام عام کرتے ہو،تو   پاپائیت کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔ بہت کم
مسلمانوں کو پتہ ہے کہ پوپ دنیا کا سب سے طاقتور اور با اثر عہدہ ہے۔ جن دنوں یہ روس کو نیچا دکھانا چاہتے تھے انہوں نے جان پال کو پہلے پولش پوپ کے طور پر منتخب کیا۔ 1520؁ء کے بعد وہ پہلے غیر اطالوی پوپ تھے۔ مغرب میں یہ بات بھی عام ہے کہ ان کی والدہ ایک یہودی خاتون تھیں۔ انہوں نے آتے ہی جو فرمان جاری کیے، جنہیں کیتھولک چرچ کی اصطلاح میں Bull کہا جاتا ہے وہ  ،ان کی ریاست ویٹیکن میں یہودیوں کو داخلہ دینے کا تھا، پانچ سو برس سے یہ داخلہ ممنوع تھا دوسرا اہم فرمان جو انہوں نے جاری کیا وہ یہ تھا کہ عیسائیوں کا عقیدہ تھا کہ حضرت عیسیٰؑ کو مصلوب کرنے میں یہودی پیش پیش تھے، پوپ جان پال جن کا بچپن پولینڈ کے یہودی دوستوں میں گزرا تھا۔ انہوں نے یہودیوں کو معافی دی، اسرائیل کو بطور ملک تسلیم کیا اوراٹلی میں تعینات اسرائیلی سفیر جو ان کا دیرینہ دوست تھا اسے پہلے مہمان کے طور پر رات کے کھانے پر بلایا۔ ان کی پوپ کے عہدے پر تعیناتی سے یہودیوں کے اثرات کیتھولک چرچ پر بہت گہرے ہوگئے۔

Advertisements
merkit.pk

ویٹکن کے کئی ملکوں کی سیاست پر اس عہدے کے بہت گہرے اثرات ہیں فلپائن میں جب صدر مارکوس کے خلاف تحریک چلی تو یہی پادری حضرات اس کے سرخیل تھے پھر ان کے ہاں جمہوریت کے نام پر ہر چیز عوام کی مرضی کی تابع ہے تو یہ جان لیجیے کہ اسلام میں جمہور کا ہر فیصلہ اللہ کے احکامات کا تابع ہے۔ یہ ہے وہ چیلنج جس سے یہ پریشان ہیں۔
جاری ہے!

  • merkit.pk
  • merkit.pk

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply