ہم “پی ایچ ڈی”کر رہے ہیں۔۔سعدیہ علوی

دوستو، عمر کے اس حصے میں جب سیکھنے کی صلاحیتیں نہ صرف کم بلکہ کسی حد تک خاتمے کی طرف گامزن ہوتی ہیں، ہمیں نہ جانے کیوں مزید علم حاصل کرنے کا ناگفتنی خیال آیا۔ اسکی وجوہات اگر بیان کرنا شروع کریں تو دفتر بھر جائیں مگر چیدہ چیدہ بیان کردیتے ہیں۔

نمبر ایک، ہم یونیورسٹی کے استاد ہیں جہاں کے طلبا، ہمارے بھی استاد ہیں ۔ یہاں علمی قابلیت ڈگری سے ماپی جاتی  ہے اور ترقی بھی، ہم کیوں کہ سادہ ایم ایس سی ہیں تو ہمیں  ذرا الگ زاویے سے دیکھا جاتا ہے، یہ تقسیم ہماری طبع نازک پر گراں گزرتی ہے۔

tripako tours pakistan

نمبر دو، ہماری لائق و فائق چھوٹی بہنیں ہم سے عمر میں بہت کم ہونے کے باوجود تعلیمی قابلیت میں ہم سے آگے ہیں، گرچہ انہوں نے زبان سے کبھی نہ کہا مگر ہم کیا کریں کہ، زود رنج ہیں تو نہ جانے کیوں محسوس کرتے ہیں کہ، وہ ہمیں ہلکا لیتی ہیں، جبکہ الحمدللہ ہم اس قدر وزنی ہیں کہ مشین بھی اکثر کہتی ہے باجی، باری باری تول لیجیے ،کیا ضروری کہ آپ سب ایک ساتھ ہم پر سوار ہوں۔

نمبر تین، ہمیں لگتا ہے کہ ہماری بھاری بھرکم شخصیت مزید نکھر جائے گی جو ہم نے آگے پڑھ لیا۔

نمبر چار، اور سب سے اہم یہ کہ ہم پیدائشی پھرے ہوئے دماغ کے مالک ہیں تو کیا ہی اچھا ہو کہ ڈگری یافتہ بھی ہوجائیں۔

تو بس مذکورہ بالا وجوہات کو ذہن میں رکھتے ہوئے ہم نے علم کے سفر کو آگے بڑھانے کا مصمم ارادہ کرلیا ویسے تو گزشتہ کئی سالوں سے ہم

“ارادے باندھتا ہوں سوچتا ہوں توڑ دیتا ہوں
کہیں ایسا نہ ہوجائے کہیں ویسا نہ ہوجائے”

کے مصداق فیصلہ کرتے تھے کہ اب کی بار داخلہ لینا ہی لینا مگر ہر بار۔۔
“ہمیشہ دیر کردیتا ہوں”
والی صورتحال کا شکار ہوجاتے تھے۔

ایک سیمینار میں شرکت کے دوران باتوں باتوں میں طے پایا کہ اس بار داخلہ لینا ہی ہے، سو ٹیسٹ میں بیٹھے اور کمال کی بات یہ کہ پاس بھی ہوگئے اور دوستو علم کا سفر دوبارہ شروع ہوا۔ اب اس راستے کی کھٹنائیاں اور ہم کیا بتائیں کیا نہ بتائیں۔

کورس ورک کا آغاز، ہمیں  عمر بیت چکی تھی طلباء کی کرسی پر بیٹھے مگر اب پھر ہم تھے اور وہ کرسیاں، سچ بتائیں تو اپنا آپ بڑا اچھا محسوس ہوا ہمارے ساتھیوں میں سب ہم سے چھوٹے اور ایک تو ہمارے اپنے شاگرد تھے، اب اس صورتحال میں ہمارے لیے بڑا مشکل تھا کہ ہم اپنی شرارتوں پر قابو پاتے اور زبان دانتوں تلے چپکی رہتی، سو ہم نے کچھ وقت کے لیے یہ بھلا دیا کہ ہم کسی جگہ استاد ہیں اور صرف شاگرد بن گئے۔

یہ دریا بھی پار کرلیا، ہوگئے پاس اور اب تھیسس۔
اسکے آگے کی داستاں ہم سے سنیے ہماری آنکھیں اسقدر ڈبڈا جاتی ہیں، ہمیں وہ جانگسل دن یاد آتے ہیں جب ہماری معصوم کھوپڑی یہ سمجھنے سے قاصر تھی کہ ہمارے استاد محترم ہم سے چاہ کیا رہے ہیں اس قدر علمی گفتگو ،اُف۔۔

وہ تو اللہ ہماری دوست کا بھلا کریں ( جو اب ہماری سپروائزر بھی ہیں) انھوں نے یہ کار مشکل اپنے سر لے لیا اور” سر” کو کسی طرح راضی کرلیا کہ وہ زیادہ مشکل عنوان نہ دیں ورنہ ابھی ہم یہ سطور لکھنے کی جگہ کسی دوردراز پہاڑی علاقے میں پتھروں سے سر پھوڑ رہے ہوتے۔
ہم ارضیات کے استاد ہیں اور یقینی سی بات ہے اسی کے طالبعلم بھی تو ہمارا کوئی بھی کام فیلڈ کے بغیر نہیں ہوتا، ہم نے بھی فیلڈ ارینج کی، نمونے( دیکھیے یہاں نمونے سے مراد ہم ہرگز نہیں ہیں، گو ہم ہیں) اکھٹے کیے اور کام شروع ہوا۔۔

اب جبکہ گاڑی کچھ آگے بڑھی تو “سر” نے سر پر بم گرایا کہ یہ سب نمونے( بشمول ہمارے) ٹھیک نہیں ہیں ہم نے فریاد بھری نظروں سے دوست کو دیکھا اور اس کے کہنے پر خاموش اور خوش ہوگئے کہ تم کام کرو میں دیکھ لوں گی۔

اب کام دلکی چال سے چل رہا ہے اور ہم رینگ رہے ہیں کہ ہم کو عادت ہی نہیں رہی ہے ناں۔
اچھا ہم میں موضوع سے ہٹنے اور دوسروں کو بھی ہٹا نے کی صلاحیت بدرجہ اتم موجود ہے تو ہم اکثر اپنے “سر” کو تنگ کردیتے ہیں اور وہ کام کی بات بھول کر ہماری بےتکی بات پر غور کرنے لگتے ہیں

اگلے دن کی بات ہے ہم نے انتہائی سنجیدگی سے ان کو گانے سننے کا مشورہ دے دیا اور مزے کی بات “سر” بھی ہمارے ساتھ اس موضوع پر بات کرنے لگے ہم نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ کچھ دیر تو خشک گفتگو رکی مگر جناب محض پونے دو منٹ میں “سر” کو یاد آگیا کہ وہ ہمیں پڑھا رہے تھے اور انھوں نے تاریخی جملہ بول کر ہمیں شرمندہ کرنے کی کوشش کی” دیکھیے میں  آپ کا استاد ہوں آپ میری استاد نہیں ہیں” مگر وہ ہم ہی کیا جو چپ ہوجائیں، بولے” اللہ نہ کرے جو ہمیں ایسے شاگرد ملیں۔”

Advertisements
merkit.pk

ہم خوش قسمت ہیں کہ ہمارے ساتھ موجود دوست اور ساتھی ہماری حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور یہ دیکھتے ہوئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ
یہ نیا بھی پار لگے گی
اور
ہم دیکھیں گے
بلکہ
سب دیکھیں گے
کہ ہم نے پی ایچ ڈی کرلیا ہے
“اب اس میں وقت کتنا لگے گا اس سلسلے میں راوی خاموش ہے۔”

  • merkit.pk
  • merkit.pk

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply