• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • آزادی صحافت کی تحریک اورمیڈیا سٹار۔۔اسلم اعوان

آزادی صحافت کی تحریک اورمیڈیا سٹار۔۔اسلم اعوان

سنہ 1988 میں پریس اینڈ پبلی کیشن آرڈیننس ختم ہونے کے بعد ملک کے طول و ارض میں سینکڑوں اخبارات اور جرائد کو نئے ڈیکلریشن اوربعدازاں نجی ٹی وی چینلز کو لائسنس ملے تو چہار سو معلومات کا سیلاب اُمڈ آیا،جس نے معاشرے کی ہیت ترکیبی بدل ڈالی،اِسی تغیر کے نتیجہ میں پچھلے تیس سالوں کے دوران پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا سے وابستہ کارکن بڑی حد تک تراشیدہ صحافتی آزادیوں سے مستفید ہوئے،ایک دو اداروںکو چھوڑ کے ہر شعبہ زندگی کی جُزیات بارے میڈیا میں گونج سنائی دینے لگی۔

بظاہر ذرائع ابلاغ یہاں ایک قوت بن کے اُ بھرتے نظر آئے اور دیکھتے ہی دیکھتے الیکٹرانک میڈیا کے نفسیاتی غلبہ نے پوری سوسائٹی کو مسحور کر لیا خاص کر عدلیہ بحالی کے لئے برپا ہونے والی وکلاءتحریک،جسے میڈیا نے قوت وثبات بخشی،عہد کُہن کے خاتمہ اور نئی صحافتی تہذیب کی نوید بن کے اُبھری،اسی سرگرمی کی بدولت ہماری ریاستی مقتدرہ اور جمودپرور سماج میں سوچنے کے انداز بدلتے گئے،اسی الٹ پھیر کے دوران غیر روایتی تحریکوں کی کوکھ سے وکلاءاور صحافیوں کے ایسے توانا پریشر گروپ نمودار ہوئے جنہیں سنبھالنا قدرے دشوار ہوتا گیا،وکلاءتو اپنی پیشہ وارانہ مہارت،حدود عمل،کثرتِ تعداد اور تنظیمی ڈھانچہ کی بدولت کافی حد تک منظم اورقانونی دائروں میں مورچہ زن ہو گئے لیکن بڑے اخبارات اور میڈیا ہا ؤسز اپنے نازک معاشی تقاضوں کے اسیر بن کے منقسم اور کارکن صحافیوں کی روایتی دھڑے بندیوں نے آزادی صحافت کے خواب کو شرمندہ تعبیر ہونے سے روک دیا۔

tripako tours pakistan

الیکٹرانک میڈیا کی گلیمر نے صحافتی دنیا میں ٹی وی انیکرز کی صورت میں ایک نئی کلاس کو جنم دیا جنہوں نے اپنی غیرمعمولی شہرت کے بل بوتے صحافیوں کی روایتی لیڈرشپ کو پیچھے دھکیل کے ازخود صحافتی تحریکوں کی عنان پکڑ لی،یہ ایسی صورت حال تھی جس کے لئے صحافتی تنظیمیں تیار تھیں نہ انہیں اس قسم کے حالات سے نمٹنے کا تجربہ تھا۔چنانچہ اس نئی ذہنی فضا میں صحافیوں اور ریاستی مقتدرہ کے درمیان تناؤ بڑھنے لگا،میڈیا ہاوسز پہ دباؤ بڑھا تو کئی نامور صحافی بے روزگار ہو گئے،کچھ بیباک کارکن تشدد کی زد میں آئے اور کئی سرفروش صحافیوں کو زندگیوں سے ہاتھ دھونا پڑے۔

جدلیات کی اسی لہر کے دوران 26 مئی کی شب اسلام آباد میں ایک یوٹیوبر صحافی کو گھر میں گھس کے تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس کے ردعمل میں 28 مئی کو پی ایف یو جے کے مظاہرہ سے خطاب کے دوران نامور اینکر حامد میر نے ہماری ہیت مقتدرہ کے کسی آفیسر کا نام لئے بغیر ان کے خانگی تنازع  کو طشت از بام کرنے کی دھمکی دے ڈالی،جس کے بعد سوشل میڈیا پہ ان کے حامیوں نے وہ ساری کہانی کھول دی ،جسے میر صاحب محفوظ رکھ کے اپنا ڈیٹرنٹ بنانا چاہتے تھے،ان کی تقریر کو حیرت انگیز پذیرائی ملنے کی وجہ سے جنگ گروپ سمیت صحافتی تنظمیں دبا ؤ میں  آ گئیں،چنانچہ جیو نے حامد میر کو ٹاک شو سے روک دیا،صورت حال مزید پیچیدہ ہوئی تو پی ایف یو جے کے عہدیداروں نے حامد میر سے ملاقات کر کے انہیں اپنے لب و لہجہ پہ معذرت کرنے پہ آمادہ کر لیا لیکن معذرت کی اشاعت کے باوجود تنا میں کمی  نہیں آئی،اب اسی ڈیڈلاک نے جہاں آزادی صحافت کی ہموار جدوجہدکو بریک لگا دی وہاں کئی صحافتی اداروں کے مفادات اور کارکن صحافیوں کی زندگیاں خطرات سے دوچار ہو گئیں۔

اگر ہم ماضی پہ نظر ڈالیں تو ہماری صحافتی تاریخ میں کئی ایسے ستارے جگمگاتے نظر آئیں گے،جنہوں نے آزدی اظہار کے حق کو پانے کی خاطر لازوال قربانیاں دیں،جن میں منہاج محمد برنا،نثار عثمانی اور آئی اے رحمن کے علاوہ وہ درجنوں کارکن شامل ہیں،جنہوں نے ضیاءالحق کے مارشل لاءکے دوران قید و بند کی صعوبتیں جھلیں۔1978 میں آزادی صحافت کی تحریک چلی تو اس میں سینکڑوں کے روزگار سے ہاتھ دھونے کے علاوہ کم و بیش ساڑھے تین سو صحافی جیلوں میں سڑتے رہے،ان میں آل پاکستان نیوز پیرز ایمپلائی کنفڈریشن کے صدر حفیظ راکب جیسے مرد درویش بھی شامل تھے،جنہوں نے عمیق عسرت کے باوجود آزادی صحافت کی تحریک کے دوران ناقابل برداشت دکھ جھیلے۔کراچی سے تعلق رکھنے والے صحافی احفاظ الرحمن کی ہزار صفحات پہ مشتمل کتاب”آزادی صحافت کی آخری جنگ“اسی گداز تحریک کے عظیم کارکن کی لازوال قربانیوں کی انمول داستان ہے۔جنرل ضیاءالحق نے روزنامہ،مساوات، لاہور،صداقت اور ہلال پاکستان کو بند کیا توصحافیوں نے مظاہرے کرکے مساوات کو بحال کرا لیا،مساوات ،کراچی کی بندش کے خلاف مظاہروں کی پاداش میں منہاج محمد برنا تین بار جیل گئے۔

جنرل ضیا الحق مرحوم نے لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران مجلس شوری کے قیام کا اعلان کیا تو نثار عثمانی نے ان سے سوال پوچھا کہ جنرل صاحب آپ نے تو نوے دن میں انتخابات کرانے کے وعدہ پہ اقتدار سنبھالا تھا اب یہ مجلس شوری ٰ کہاں سے نکل آئی؟اگر جمہوریت بحال نہ ہوئی تو مجھے سڑکوں پہ کئی سر لٹکتے نظر آتے ہیں؟عثمانی صاحب کے سوال پہ ضیا الحق کی گھگھی بند گئی۔چنانچہ آزادی اظہار کی تحریک کا زور توڑنے کی خاطرمقتدرہ نے پی ایف یو جے کے مقابلہ میں رشید صدیق کی قیادت میں صحافیوں کی متوازی تنظیم کھڑی کر دی،جسے زیادہ تر حامی خیبر پختون خوا اور بلوچستان سے مل گئے لیکن اس وقت پنجاب اور سندھ کے صحافیوں نے آزادی صحافت کی تحریکوں میں زندگیاں کھپا دیںِ،نثارعثمانی نے طویل قید و بند اور بے روزگاری کی اذیتیں برداشت کیں،انہوں نے گورنمنٹ سے پلاٹ لئے نہ ملک ریاض جیسے کسی مخیر کی امداد قبول کی،افلاس کی وجہ سے اسکی بیوی آنکھوں کی بینائی کھو بیٹھی اور بچے تعلیم و تربیت سے محروم رہ گئے،ان عظیم لوگوں نے پوری متاع حیات لٹا دینے کے باوجود اپنی اصولی جدوجہد ترک کی نہ کبھی قربانیوں کا صلہ مانگا،اسی زمانہ میں ناصر زیدی کو پانچ کوڑے مارے گئے،حمید چھاپرا،حبیب غوری،آئی ایم راشد،قیصر بٹ،محمود شام،عباس اطہر،غوثی اور ان جیسے کئی عظیم صحافیوں نے ناقابل بیان ریاستی جبر کو برادشت کیا۔

ابتداءمیں تو ضیاءرجیم نے بات چیت سے انکار کر دیا لیکن بعد میں جب عالمی تنظیموں کا دباو بڑھا تو پی ایف یو جے کے ساتھ مذاکرات پہ آمادگی ظاہر کر دی،ایک مرحلہ پہ جب جنرل ضیاءالحق کے پرسنل سیکریٹری جنرل مجیب سے مذاکرات ہو رہے تھے تو انہوں نے نثارعثمانی کو مخاطب کر کے کہا کہ عثمانی صاحب ہم آپ کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالیں گے،نثار عثمانی نے انہیں جواب دیا،ہاں یہ تو ٹھیک ہے میں کوئی جنرل اروڑہ تھوڑی ہوں! ۔مارشل لاءکی حرارکی اس زمانہ میں پی ایف یو جے کی تحریک کو بھٹو بچاو تحریک کہتی رہی لیکن امر وقعہ یہ تھا کہ ذولفقارعلی بھٹو نے اپنی انتخابی مہم کے دوران وعدہ کیا کہ وہ اقتدار میں آ کر پریس اینڈ پبلیکشن آرڈننس ختم کر دیں گے لیکن جب انہیں اقتدار ملا تو وہ اپنا وعدہ وفا نہ کر پائے چنانچہ پی ایف یو جے نے فیصلہ کیا کہ وہ وزیراعظم،چیف منسٹرز اور وزراءکے کھانوں میں شرکت نہیں کریں گے، زیڈ اے بھٹو کی آرزو تھی کہ انہیں کراچی پریس کلب میں دعوت دی جائے لیکن اس وقت پی ایف یو جے نے یہ کہہ کر وزیراعظم کو دعوت دینے سے انکار کر دیا تھا کہ پہلے وہ پریس انیڈ پبلکیکشن آرڈننس ختم کرنے کا وعدہ پورا کریں۔ اسی پس منظر میں جب ہم آزادی صحافت کی تحریک کا ماضی سے موازنہ کرتے ہیں تو ہمیں ماضی و حال میں بنیادی فرق یہ نظر آتا ہے کہ اس وقت کی لیڈرشپ اپنی ذات کی نفی کرکے مقصد کو فوقیت دیتی تھی اور اپنی جدوجہد کو ذاتی تلخیوں سے بچا کے صرف اصولی لڑائی پہ مرتکز رکھتی تھی لیکن اب یہ کشمکش اصولی دائروں سے نکل کے ذاتی زندگیوں تک پھیل گئی ہے،جس سے اصولی مقصد کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ بڑھ گیا۔

Advertisements
merkit.pk

حامد میر کہتے ہیں کہ انہوں نے جو بھی کہا وہ پی ایف یو جے کے پلیٹ فارم سے کہا،اس لئے جنگ گروپ کو اس تنازع میں پڑنے کی ضرورت نہیں تھی تاہم بادی النظر میں ان کا موقف کمزور دکھائی دیتا ہے کیونکہ میر صاحب کی شناخت،نیوسینس ویلیو اور محفوظ پناہ گاہ جیو اور کیپیٹل ٹاک ہے،جب کسی بھی فرد یا ادارے پہ وار کر کے وہ اپنی حتمی پناہ گاہ کی طرف لوٹیں گے تو لامحالہ متاثرہ فریق اس پناہ گاہ کے مالک کو یہ ضرور کہے گا کہ وہ ہمارے مخالف کو باہر نکالیں یا پھر جوابی ردعمل جھیلنے کے لئے تیار ہو جائیں چنانچہ جیو کی مینجمنٹ  نے حامد میر کو آف ایئر کرکے درست فیصلہ کیا۔میر صاحب اس مہم جوئی سے قبل اگر جنگ گروپ کواعتماد میں لے لیتے تو شاید انہیں اس جدلیات کا سارا بوجھ تنہا نہ اٹھانا پڑتا،اس سے قبل دوہزار چودہ میں جب کراچی میں حامد میر پہ فائرنگ ہوئی تو اس وقت جیو کی  مینجمنٹ  نے ان کے بھائی عامر میر کی طرف سے ایک حساس ادارے کے سربراہ کو حملہ کا ذمہ دار ٹھہرانے کا بوجھ اٹھایا،جس کے مضمرات وہ آج تک بھگت رہے ہیں۔ہمیں یہاں کسی کے ماضی کو کریدنے کی ضرورت نہیں تاہم عام خیال یہی ہے کہ بعض میڈیا اسٹارز کی بے مقصد مہم جوئی اگرچہ ان کے شخصی وقار کا زینہ اور ذاتی شہرت کا وسیلہ ضرور بنی لیکن اسی تعلّی نے ذرائع ابلاغ کے اداروں اور آزادی صحافت کی گراں قدر جدوجہد کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔

  • merkit.pk
  • merkit.pk

Aslam Awan
اس وقت یبوروچیف دنیا نیوز ہوں قبل ازیں پندرہ سال تک مشرق کا بیوروچیف اور آرٹیکل رائٹر رہاں ہوں،سترہ سال سے تکبیر میں مستقل رپوٹ لکھتا ہوں اور07 اکتوبر 2001 سے بالعموم اور 16مارچ 2003 سے بالخصوص جنگ دہشتگردی کو براہ راست کور کر رہاں ہوں،تہذیب و ثقافت اور تاریخ و فلسفہ دلچسپی کے موضوعات ہیں،

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply