جنت سے ابو کا خط۔۔سعدیہ علوی

سعدو!
کیسی ہو میری بٹیا?
ہم تو مزے میں ہیں اللہ نے ہم پر خوب کرم کیا ہے دنیا میں تم سب نے ہمیں خوش رکھا اور یہاں تم سب کی دعاؤں نے۔

ہماراموجودہ گھر بڑا خوبصورت   ہے   ،   پہلے والے سے کشادہ اور بارونق ہے، تمہاری اماں کے آنے کے بعد یہ والا گھر ملا ہے، سنا ہے ان کی وجہ سے ہم  اَپ گریڈ ہوگئے ہیں، بیٹی زندگی میں بھی اس نیک بخت نے ہمیں ہمیشہ  اَپ گریڈ ہی رکھا اور یہاں بھی ان کے آتے ہی عنایتوں کی بارش بڑھ گئی۔ واقعی اچھا ساتھی دین اور دنیا کے ساتھ ساتھ جنت میں بھی سکون اور راحت کا باعث ہوتا ہے۔
ہم بہت خوش اور مطمئن ہیں کوئی خلش نہیں ہے اس دل میں، اللہ سے راضی رہے  وہاں بھی اور یہاں تو سمجھ نہیں آتا کہ کیسے حمد بیان کریں۔

tripako tours pakistan

بھئی تم سب مل کر جب ہمیں یاد کرتے ہو تو باخدا بہت مزہ آتا ہے ،جب تم بچپن کی باتیں کرتے ہو ،ہمارا ذکر کرتے ہو، ہمارے پیار کا ذکر کرتے ہو، تو ہمیں خود پر رشک آتا ہے کہ اللہ نے ہمیں کتنی اچھی اولاد سے سرفراز کیا ،اور ہاں جب تم لوگ ہمارے پسند کے گانے سناتے ہو ایک دوسرے کو  دیکھ کر  ہمارے چہرے پر مسکراہٹ آجاتی ہے شرارتی سی جیسے ہم ہونٹ دبا کر ہنستے تھے یہاں کوئی ہم سے اس بارے با ز پرس نہیں کرتا بلکہ ہم تو یہاں خود بھی ان سب کو انجوائے کرتے ہیں۔

موسم بہت اچھا رہتا ہے بالکل ہماری مرضی کے مطابق ،جب ہمارا بنیان پہن کر بیٹھنے کا موڈ ہوتا ہے تو گرمی ہوجاتی ہے ورنہ معتدل ویسے ہم تو بنیان والے حلیہ کو زیادہ پسند کرتے ہیں۔
یہاں ہماری پیپسی کوئی نہیں چپکے سے اٹھاتا ،اس بات کو ہم مس کرتے ہیں جیسے تم رات کو خاموشی سے ہمارے سرہانے سے اٹھایا کرتی تھیں اور ہم جاگ جانے کے باوجود خاموش لیٹے رہتے تھے کہ ہمیں تمہاری یہ معصوم سی چوری بہت بھاتی تھی۔
سعدو!
تم بڑی ہو ہمیں پتہ ہے کہ تم خود بھی سب کا خیال رکھتی ہو مگر بیٹی دل چاہ رہا ہے تو کہہ رہے ہیں تینوں چھوٹی بہنوں کا بہت خیال رکھنا۔
صائمہ میں ہماری جان ہے تم کو علم ہے ،اس کو دل کے قریب رکھنا، اسکی شرارتیں اور حاضر جوابی کے قصے ہم یہاں اپنے ساتھیوں کو سناتے ہیں، سب ہی اس سے بے تحاشا متاثر ہیں کہ علوی صاحب کی بیٹی کیسی باکمال بچی ہے۔

صوفی،بہت سمجھدار اور دل کی بات دل میں رکھنے والی ہے اس کی خاموشی کو ضرور پڑھنا ،ویسے تو وہ بہت زیڑی ہے لیکن بہت معاملہ فہم اور حساس بچی ہے اب تو تم اس کے ساتھ ہو اس کو اپنے ساتھ ایسے رکھو کہ جیسے تم اس کا سایہ ہو۔

یاگڑ،تو میرا چیتا ہے اس نے جس طرح ہماری اور تمہاری اماں کی خدمت کی ہے ہمارا رواں رواں اس کے لیے دعا کرتا ہے وہ ابھی تک ویسی ہی ہے ذرا سی دیر میں تیر و تفنگ غصہ کرنے والی اور اتنی ہی جلدی پیار کرنے والی، اس گڑیا کو، اور اسکی ساری باتوں کو ہماری طرح محبت کی نظر سے دیکھنا۔

بیٹی جنید کی طرف سے تمہاری اماں بالکل فکر مند نہیں ہیں کہتی ہیں میں چاروں کے ہاتھ میں اسے دے کر آئی ہوں اور یہ چاروں ہم دونوں کی خوبیاں رکھتی ہیں لہذا جنید کی طرف سے آپ بھی پریشان نہ ہوں مگر بیٹی کاش ہم بتا سکتے کہ ہمارے دل پر کیا گزرتی ہے ،اس کا بہت زیادہ خیال رکھنا۔

اور تم سب کے بھیجے تحائف روزانہ ہمیں پہنچائے جاتے ہیں یقین کرو دل بہت خوش ہوتا ہے۔

سعدو بہت کچھ لکھنا اور کہنا چاہ رہے ہیں مگر آنسو بار بار  آجاتے ہیں اور لکھنا دشوار ہوجاتا ہے ،ہم کو تم سب بہت یاد آتے ہو اور جب تمہاری کامیابیوں کی خوشیوں کی اطلاع ہم کو دی جاتی ہے تو دل سے تم سب کی درازی عمر کی دعا نکلتی ہے۔

ابوزر کو تو خیر ہم گود میں کھلا کر آئے ہیں مگر شاذرخ، حرا ، ماریہ، ایان، خضر، عائشہ اور نور بھی ہم کو نظر آتے ہیں ہنستے کھیلتے ان کو نانا اور نانی کا بہت پیار۔

Advertisements
merkit.pk

چلو بٹیا تمہاری اماں آواز دے رہی ہیں آج بڑے دنوں کے بعد ہم نے ترئی پکوائی اور شرارت بھی کی، کہا کہ صحیح پکانا پنیائی ہوئی نہ ہو۔۔ تو دیکھوں کہ  کیسی پکائی ہے
تم سب کو پیار
تمہارا ابو!

  • merkit.pk
  • merkit.pk

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply