آن لائن کلاسز اور ہماری بد بختی۔۔سعدیہ علوی

اللہ کی مہربانی سے ہمیں ایک یونیورسٹی میں پڑھانے کا شرف حاصل ہے، اب یونیورسٹی کے بچے( آپ یقین کریں میں ازراہ تفنن بچے کہہ رہی ہوں ،کہ  ان میں سے کچھ تو الحمدللہ خود کئی بچوں کے والد محترم ہیں) کیسے ہوتے ہیں اور انہیں کیسا ہونا چاہیے، اس پر سیر حاصل بحث ہوسکتی ہے، جو انشاءاللہ پھر کبھی کریں گے، آج یہ بتانا مقصود ہے کی جب ان کو آن لائن پڑھانا پڑا تو ہم پر کیا گزری( اب تک ان کو آمنے سامنے پڑھانا تھا وہ بھی بڑی لمبی داستان ہے)

صاحبو ہمارا مضمون بھی بڑا اوکھا ہے اور اسکی تدریس اس سے بھی زیادہ ، یہ ایک فیلڈ سے متعلق ہے ،اس کو تو کلاس میں سمجھانا خاصا مشکل کام ہے چہ جائیکہ آن لائن اور اس پر طرفہ تماشا یہ کہ  ہمارے شاگرد بھی بہت باکمال ہیں۔

tripako tours pakistan

آئیے آپکو اپنی ایک کلاس میں لیے چلتے ہیں ،پڑھیے اور سر دھنیے۔۔

گیارہ تیس وقت ہے کلاس کا، ہماری طے شدہ میٹنگ شروع ہوگئی ہے ،کُل ملا کر ساٹھ بچے ہیں اس کلاس میں۔

گیارہ پینتیس ہو چکے ہیں اور پانچ موجود ہیں ،باقی لاموجود ۔۔دھمکی دے چکی ہوں تڑی بھی لگا چکی ہوں، مگر۔۔

چلیے شروع کرتے ہیں ،سکرین شیئر کی اور ٹاپک پر بات کا آغاز کیا، ٹن ٹن ٹن زوم کا باجا بجنے لگا، اب دیکھا تو ایک ساتھ دس عدد تشریف لے آئے ،داخل کیا کلاس میں اور دوبارہ ٹاپک پر آئی۔۔
” میڈم آپکی آواز نہیں آرہی ہے”
“ابے اپنا مائک کھول” کسی نے شکایت کرنے والے کو ہدایت دی
” سالے کھلا ہوا ہے چریا سمجھتے ہو مجھے مسئلہ میڈم کی طرف ہے”
اب میرا بولنا بہت ضروری ہوگیا
” بیٹے ایشو آپکی طرف ہے ذرا میٹنگ سیٹنگ چیک کریں”

اللہ اللہ کرکے یہ بات ختم ہوئی ہم دوبارہ موضوع کی طرف آئے
” مس ابھی سلائڈ نہیں ہٹاؤ، ہم کو پکچر بنانا ہے”۔۔۔خان صاحب نے نیکسٹ سلائڈ پر جاتے ہی فرمائش داغ دی

” میم کیا آپ پریزنٹیشن شیئر کریں گی؟”
ہماری شاگردہ کا گنگناتا ہوا سوال آیا
” بچو( کہنا تو کچھ اور چا ہ  رہے تھے مگر ضبط کرتے ہوئے بچو ہی کہا) میں شیئر کردوں گی ،ابھی اسکو سمجھ لیں پلیز۔”

Advertisements
merkit.pk

ایک دم ایک زور دار آواز آئی
ڈھن ڈھن ڈھن کائی قبیلے کی بہادری پر آنچ آئے یہ ممکن نہیں”
” یہ کون ہے ارطغرل کا فین بند کریں اسے ”
اب سناٹا
اتنے میں زوم کی ٹن ٹن
چالیس منٹ مکمل ہونے والے ہیں ٹاپک ایسے ہی ہمارا منہ چڑا رہا ہے اور ہم بے بسی سے سوچ رہے ہیں کہ  کریں تو کیا کریں؟

  • merkit.pk
  • merkit.pk

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply