ایک محبت ایک ہی افسانہ۔۔سعدیہ علوی

ابا کے جانے کے بعد ہم نے یقین کر لیا تھا کہ اب کوئی دوسرا انسان دنیا میں نہیں ہے جو ہمیں اپنی شہزادی سمجھے۔
ابا نے دامن میں اتنے پھول اتنے ستارے بھر دیے تھے کہ لگتا تھا اب کون ہوگا جو پھر اس دامن کو بھر سکے گا۔
ابا رخصت ہوگئے تو توقعات کا خواہشات کا دروازہ جیسے خود ہی بند کرلیا۔ انھوں نے کچھ ایسے پالا تھا کہ کون سی بات تھی جو ان کو نہ بتائی ہو۔
ایک بار ڈرامہ دیکھتے ہوئے بے ساختہ منہ سے نکلا
” ابا ہیرو کی آنکھیں کتنی حسین ہیں ناں”
ابا ہنس پڑے اور بولے
” سنتی ہیں ہماری بٹیا بڑی ہوگئی ہیں” اماں بے بسی سے دیکھ کر رہ گئیں کہ ان کا ماننا تھا ہمارے لونڈے پن میں ابا کا کمال ہے اور جو اب ہم نے لڑکیوں والی بات بھی کی تو کیا غیر مناسب۔
ابا تھے تو ساری فرمائشیں سارے دکھڑے ان کے آگے ہی بیان ہوتے تھے۔ یاد ہے ہمیں کہ ہمارے عید کے جوتے، کپڑے، زیور، سب ابا ہی لاتے تھے۔ کبھی ساتھ لےجاتے، ورنہ خود ہی اور وہ سب ہمیں دل و جان سے پیارا ہوتا۔ وہ سبز سلک کا لباس ہم نے نہ جانے کتنے لمبے عرصے پہنا اور پھر بجائے کسی کو دینے کے سینت کر رکھ دیا اور جب اماں نے دیدیا تو آج تک اس کی جدائی کے دکھ میں ہیں۔

ہماری سالگرہ  پر ابا شہر میں نہ تھے اور اس سال ان کی مصروفیت کچھ ایسی تھی کہ امکان تھا نہیں آسکیں گے۔ ہماری عمر پانچ سال تھی نزاکتوں کو جانتے نہ تھے بس صبح سے ابا، ابا ،کی رٹ لگائی تھی اماں سمجھا سمجھا کر تھک گئی تھیں، کہ اچانک ٹیکسی رکی اور ابا سامنے، ہم تو دیوانے سے ہوگئے اور ابا سے لپٹ گئے،اماں کے پوچھنے پر ابا بولے کہ ارادہ تو نہ تھا مگر دو دن سے یہ خواب میں آرہی تھی بس ضبط نہ ہوا اور آگیا۔ اماں مسکراتی رہیں، ایسا رشتہ تھا ہمارا ابا سے۔
مگر ابا چلے گئے اور ہم اکیلے سے ہو گئے اور شاید اکیلے ہی ہوتے کہ،
کہ ،
آپ آگئے۔

tripako tours pakistan

اتنے قلیل وقت میں آپ نے ہمیں بتایا کہ ہم اب بھی چاہے اور سراہے جاسکتے ہیں، ہماری بیوقوفانہ باتیں ابھی بھی کوئی انہماک سے سن سکتا ہے، ہماری فضول سی خواہشات کو پورا کرنا کسی کے لئے اس قدر اہم بھی ہوسکتا ہے، ہمارے روزوشب کے معمولات کسی کے لئے خاص بھی ہوسکتے ہیں

ہم جب چائے کی فرمائش کرتے ہیں اور ناپسندیدہ ہونے کے باوجود آپ دو کپ منگوا کر ،ایک گھونٹ خود پی کر ہمیں وہ چائے دیتے ہیں، تو ایسے میں ساری تلخیاں غائب ہوجاتی ہیں ، اور چائے میں گھلی آپکی محبت کی مٹھاس ہمارے چار سو پھیل جاتی ہے۔

جب آپ ہمارے سامنے روتے ہیں تو ہمیں اپنی خوش قسمتی پر رشک آنے لگتا ہے کہ ہم اتنے قابل بھروسہ ہیں کہ آپ جیسا بہادر انسان اپنا دکھ ہمیں سنائے۔
ہم نہیں جانتے کہ ہمارا اور اپکا رشتہ کیا کہلاتا ہے مگر ہم یہ ضرور جانتے ہیں اگر اس کا کوئی نام نہیں ہے، تو پھر کسی رشتے کسی تعلق کا کوئی نام نہیں ہے۔
اگر یہ محبت سوالیہ نشان ہے تو ہمیں یقین ہے کہ پھر دنیا کی ہر محبت بے نام نشان ہے۔
ہم نے آپکو اپنا سب کچھ مان لیا ہے۔

ہم آپ کی ذمہ داری ہیں ،آپ کے دم سے ہی ہماری دنیا ہے، آپکی اطاعت اور آپ سے وفا ہمارا دین ہے اگر اللہ اجازت دیتے تو روئے زمین پر اللہ کے بعد ہم اپکو سجدہ کرتے۔

آپ جب ہم سے کہتے ہیں کہ آپ ہمیں جھمکے بنوا کر دیں گے تو یقین مانیں ہمارے کان ان جھمکوں کی گنگناہٹ سننے لگتے ہیں۔ ہمارا عید کا جوڑا جو آپ ہمیں دلوائیں  گے وہ آنے سے پہلے ہی کئی بار ہمیں اپنے وجود پر محسوس ہوچکا ہے۔ ہم آپ سے کوئی فرمائش کیسے کریں جان حیات آپ تو ہمارے منہ سے لفظ نکلنے سے پہلے ہی ہمارے دل کی بات جان لیتے ہیں۔

Advertisements
merkit.pk

آپ کی زندگی کے دکھ، تکالیف، پریشانیاں، مصائب، الم ،رنج ،مشکل وقت، ہم سب میں آپ کے ساتھ ہیں۔ آپ کے کندھے سے کندھا ملا کر، آپ صرف اشارہ کیجیئے ۔
آپکی ہر خوشی، ہر راحت، ہر کامیابی، ہماری ہے ۔ ہم اس کے حق دار ہیں کہ آپ ہمارے ہیں۔
ہم سے کبھی جدا ہونے کا سوچیئے گا بھی نہیں آپ ہماری رگوں میں خون بن کر دوڑتے ہیں، ہماری سینے میں آپ دھڑکتے ہیں ہماری سانس سانس آپکی ہے،
ہم رب سے ہر لمحہ یہ ہی دعا کرتے ہیں کہ وہ  آپ کو اپنی حفظ و امان میں رکھیں

  • merkit.pk
  • merkit.pk

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply