اعلیٰ تعلیم یا بازیچہ اطفال؟۔۔اسلم اعوان

گزشتہ چند دنوں کے دوران گورنر شاہ فرمان نے صوبائی گورنمنٹ کی ایڈوائز پر خیبرپختون خوا کی تین سرکاری یونیورسٹیز کے وائس چانسلر کو جبری رخصت پہ بھیج کے اعلی تعلیمی اداروں میں ایسی نئی روایت قائم کی جس کے مضمرات کا وسیع تناظر میں جائزہ لینا تو یہاں مشکل ہو گا لیکن اِسی پیش دستی نے تعلیمی پالیسی بارے حکمراں اشرافیہ کی تہی دامنی کا پردہ چاک کرکے مستقبل کے خدشات کی نشاندہی ضرور کر دی،اگرچہ وویمن یونیورسٹی صوابی کی ڈاکٹرشاہینہ عروج کاظمی،سوات یونیورسٹی کے ڈاکٹرمحمد جمال اور گومل یونیورسٹی کے ڈاکٹرافتخار احمد سمیت تینوں وائس چانسلرز نے عدالت عالیہ سے رجوع کرکے عارضی ریلیف حاصل کر لی لیکن اسی مہمل کارروائی نے اعلی تعلیمی اداروںکی ساکھ اور نفسیاتی وجود پہ جو مہلک اثرات مرتب کئے اسکی تلافی نہیں ہو سکے گی۔

دراصل تعلیمی نظام کسی بھی معاشرے کے اُس اجتماعی شعورکا عکاس ہوتا ہے جو اپنی نوخیز نسلوں کے لئے مستقبل کے دبستانوں کو منور بنانے کا خاکہ تیار کرتا ہے،بلاشبہ صرف تعلیم ہی انسانیت کی سائنسی،ذہنی،اخلاقی اور فنی میراث کو اگلی نسلوں تک پہنچانے کا وسیلہ بنتی ہے لیکن ہمارے صاحبان اختیار اپنے ذہنی رویوں سے اُنہی راہوں میں کانٹے بچھانے میں مشغول ہیں،جن پہ چل کے ہماری آئندہ نسلوں نے اس کھوئے ہوئے نصب العین کو پانا تھا جس کی جھلک ہمیں پیغمبر اسلام کے ارشادات عالیہ میں ملتی ہے۔بہرحال،ہمیشہ کی طرح اب بھی اس کتربیونت میں زیادہ خسارہ اس گومل یونیورسٹی کے حصہ میں آیا جسے ہر عہد کے حکمراں تختہ مشق بنانے میں آسودگی پاتے رہے۔

tripako tours pakistan

ستم ظریفی کی انتہا دیکھیے،بظاہر تو صوبائی گورنمنٹ ڈیرہ اسماعیل خان کے لئے نئی زرعی یونیورسٹی کے قیام چاہتی ہے لیکن عملاً پہلے سے موجودگومل یونیورسٹی کو منقسم کرنے کی راہ نکال کے اِس نظرانداز کردہ خطہ کی رہی سہی تعلیمی سہولیات کو بھی پراگندہ بنا دیا۔تفصیل اس اجمال کی کچھ یوں ہے کہ ڈیرہ اسماعیل خان کے مکینوں نے جامع گومل کے قیام سے قبل یہاں دامان زرعی یونیورسٹی بنانے کا مطالبہ کیا تھا لیکن پشاور میں بیٹھے ارباب اختیار نے ڈی آئی خان کی بجائے پشاور جیسے نان ایگریکلچر ایریا میں زرعی یونیورستی بنا کے جنوبی اضلاع کے لوگوں کا احساس محرومی بڑھا دیا۔سنہ1974 میں ذولفقارعلی بھٹو نے بھی یہاں گومل یونیورسٹی کا سنگ بنیاد رکھتے وقت امید دلائی تھی کہ وسیع زرعی اراضی کے حامل اس زرخیزخطہ میں زرعی یونیورسٹی ضرور بنائی جائے گی لیکن تقدیر نے انہیں مہلت نہ دی،بعدازان گومل یونیورسٹی نے اپنے وسائل پہ یہاں زرعی فیکلٹی قائم کی جسے کئی بار پشاور منتقل کرنے کا فیصلہ ہوا تاہم عوامی غیض و غضب ہمیشہ راہ میں حائل ہو گیا۔

سنہ2016 میں مولانا فضل الرحمن کی دعوت پہ وزیراعظم نواز شریف یہاں تشریف لائے تو انہوں نے دیگر ترقیاتی منصوبوں کے علاوہ یہاں مفتی محمود زرعی یونیورسٹی بنانے کی نوید بھی سنائی،جسے اس وقت کی پی ٹی آئی حکومت نے پراسس میں ڈال دیا،ابتداءمیں ڈاکٹر اعجاز اعوان کو مجوزہ زرعی یونیورسٹی کا ڈائریکٹر مقرر کر کے ابتدائی انتظامی ڈھانچہ استوار کرایا گیا،پھر ہائرایجوکیشن کمشن سے این او سی ملنے کے بعد زرعی یونیورسٹی ڈیرہ اسماعیل خان کا باقاعدہ ایکٹ بناکے ڈاکٹر مسرورالہی کی بطور وی سی تعینات کردی گئی،پچھلے تین سالوں کے دوران متذکرہ زرعی یونیورسٹی کی دو بار آڈٹ اور سنڈیکیٹ کا ایک باضابطہ اجلاس منعقد ہو چکا ہے لیکن تین سال بعد پہلے سے قائم شدہ ایک استوار زرعی یونیورسٹی کو ترک کرکے صوبائی گورنمنٹ نے گومل یونیورستی کی زرعی فیکلٹی کو اپ گریڈ کر کے ایک دوسری ایگریکلچر یونیورسٹی بنانے کا فیصلہ کر لیا،گویا عملاً یہاں بیک وقت دو زرعی یونیورسٹیز وجود میں آ چکی ہیں،ایک وہ جس کا اعلان میاں نوازشریف نے کیا،جس کا ایکٹ،سنڈیکیٹ اور آڈٹ کا نظام تین سال سے فعال ہے اور دوسری گومل یونویرسٹی کی وہ زرعی فیکلٹی جسے اپ گریڈ کرنے کی منظوری صوبائی کابینہ نے دی۔اعلیٰ  تعلیمی اداروں میں اسی غیرحکیمانہ سیاسی مداخلت بارے وی سی گومل یونیورسٹی ڈاکٹر افتخار احمد نے وزیراعظم کو خط لکھ کے بتایا تو گورنر نے انہیں جبری رخصت پہ بھیج کے زرعی یونیورسٹی کے وی سی ڈاکٹر مسرورالہی کو معمول کی دیکھ بھال کا چارج حوالے کر دیا لیکن عبوری وائس چانسلر نے صوبائی گورنمنٹ کی ایما پر گومل یونیورسٹی سنڈیکیٹ کا 107 واں اجلاس طلب کر کے جامعہ گومل کے اثاثہ جات کی تقسیم کا تہیہ کر لیا تاہم جبری رخصت کے حامل وائس چانسلر ڈاکٹرافتخار نے اپنے اختیارات استعمال کر کے سنڈیکیٹ کا مجوزہ اجلاس ملتوی کرا دیا۔اب جب یونیورسٹی سکنڈیکیٹ کے اجلاس سے قبل پشاور میں منعقد ہونے والی خفیہ میٹنگ کے منٹس سامنے آئے تو ان سے ڈاکٹر افتخار احمد کے خدشات کی توثیق ہو گئی۔کچھ عرصہ قبل گورنمنٹ نے وی سی کو یہ تجویز دی تھی کہ گومل یونیورسٹی سے زرعی یونیورسٹی کو 1000 کنال اراضی منتقلی کے بدلے 30کروڑ دیئے جائیں گے لیکن متذکرہ میٹنگ کے منٹس سے پتہ چلتا ہے کہ جامعہ گومل کے مین کیمپس میں سے 1300کنال اراضی کے علاوہ سٹی کیمپس کی 400کنال زمین اربوں روپے کی عمارات سمیت بغیر کسی معاوضہ کے زرعی یونیورسٹی کے حوالے کی جانی تھی، گومل یونیورسٹی کے بائیوکمسٹری کے سب سے بڑے ریسرچ سنٹر(GCB)سمیت چار بڑے ڈیپارٹمنٹس کے علاوہ فیکلٹی آف ویٹرنری سائنسسز اورایگریکلچر فیکلٹی مجوزہ زرعی یونیورسٹی کے حوالے کر کے جامعہ گومل کے ساڑھے چارہزار طلبہ بھی ایگریکلچر یونیورسٹی شفٹ ہونے تھے۔

Advertisements
merkit.pk

ذرائع کے مطابق سنہ2017میں سنڈیکیٹ نے ویٹرنری کالج کوخود مختار فیکلٹی کا درجہ دیدیا جسے کسی بھی دوسری یونیورسٹی میں ضم نہیں کیا جا سکتا۔گومل یونیورسٹی کے ٹیچنگ اور نان ٹیچنگ سٹاف میں سے 91 پروفیسرز اور 108نان ٹیچنگ سٹاف سمیت گاڑیاں ،جانور،کتابیں ،ہاسٹلز ،زمین ،لائبریری،فارم مشینری اور لیبارٹریز تک مجوزہ زرعی یونیورسٹی کو منتقل کرنے کی سکیم بنائی گئی تھی۔اگر جامع گومل کے 80 فیصد آثاثہ جات اور ساڑھے چار ہزار سے زیادہ طلبہ مجوزہ زرعی یونیورسٹی کو منتقل ہوئے تو جامع گومل اندر سے کھوکھلی ہو جائے گی۔ تاہم اپنے منصب کے تقاضوں کے عین مطابق ڈاکٹر افتخار نے نوکری دا ﺅپر لگا کر اس مہلک سکیم کو طشت ازبام کیا۔اگر صوبائی حکومت اور ہماری منتخب قیادت خطہ کی بھلائی چاہتی ہے تو یہاں زرعی تحقیقاتی مرکز کی وسیع و عریض زمین پہ ایگریکلچر یونیورسٹی بنا کے اس اجڑے ہوئے تحقیقاتی مرکز کی حیات نوبخش سکتی ہے،اسی طرح پندرہ سال سے بند پڑی ایگریکلچرانجنئرنگ ورکشاپ کی سینکڑوں کنال اراضی اور بلڈنگز کے علاوہ زراعت کے شبعہ توسیع کے زیر قبضہ ہزراوں کنال اراضی بھی مجوزہ زرعی یونیورسٹی کے موزوں ترین جگہ تھی لیکن ہمارے پالیسی ساز شاید نئے تعلیمی ادارے بنانے کی بجائے پہلے سے موجود اداروں کی توڑپھوڑ سے رہے سہے تعلیمی نظام کو تباہ کرنے پہ تل گئے ہیں۔چنانچہ بدقسمتی سے اب یہ جنگ عدالتوں میں پہنچ گئی، وائس چانسلر نے اپنی جبری رخصت اور صوبائی حکومت کی اسی غیر غیرفطری فیصلہ کو پشاور ہائی کورٹ میں چلیج کرکے مزاحمت کی راہ اختیار کی تو گورنر نے وی سی ڈاکٹر افتخار احمد کا ملازمت سے برطرفی کا حکمنامہ جاری کر دیا حالانکہ 14 مئی کی ابتدائی سماعت کے دوران جب وائس چانسلر کے وکیل قاضی انور نے گورنر ہاوس کی طرف سے کسی ممکنہ انتقامی کاروائی کا خدشہ ظاہر کیا تو ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل نے عدالت کو لکھ کر دیا کہ اس ضمن میں مزید کوئی کاروائی نہیں ہو گی لیکن ہمارے گورنر شاہ فرمان صاحب نے لاءافیسر کی تحریری یقین دہانی اور عدالت میں زیرسماعت معاملہ کی پراوہ کئے بغیر وی سی افتخاراحمد کی برطرفی کا پروانہ جاری کرکے اپنی آئینی حدود سے تجاوز میں جھجھک محسوس نہ کی تاہم 27 مئی کی دوسری سماعت کے موقعہ پر پشاور ہائی کورٹ نے وائس چانسلر ڈاکٹر افتخار کی برطرفی کے حکم نامہ کو معطل کرکے جبری رخصت کی درخواست نمٹانے کے لئے 10جون کی تاریخ مقررہ کر دی۔قانونی جنگ سے قطع نظر گورنمنٹ کی اجتماعی دانش جس طفلانہ انداز میں اعلی تعلیمی اداروں کی توڑپھوڑ میں مشغول ہے اس سے ان لوگوں کے موقف کی تائید ہوئی جو اعلی تعلیمی نظام کو صوبوں کے حوالے کرنے کی مخالفت کرتے تھے،بلاشبہ وقت نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اٹھارویں ترمیم کے ذریعے صوبوں کوملنے والی لامحدود خود مختاری سے زیادہ نقصان ہائرایجوکیشن سسٹم کو پہنچا۔لاریب تعلیم ہی روح اثر کی نمائندہ ہوتی ہے اگر ہمارے پالیسی ساز اعلی تعلیمی اداروںکو احمقانہ سیاسی مداخلت سے آزاد کر دیں تو یہی درسگاہیں ایک ایسے نیر رخشاں کے طلوع کا باعث بنتیں جس کی ضیاءسے ہم علم انسانی کی حدود معلوم کر سکتے،پاورپالیٹیکس کے بے ثمر تخیلات،غلط قدردانیاں اورمن مانیاں ہی غلطیوں کے وہ بادل ہیں جو روح اثر میں اضطراب کا سامان پیدا کرتی ہیں۔بلاشبہ سیاست کے عارضی مفادات کے نتیجہ میں لوگ بوقت ضرورت تمھیں محترم تصور کرتے ہیں لیکن تمھارے ہاتھوں سے اس سعادت کی تقسیم نہیں ہو سکتی جو اس فانی انسان کو سب سے زیادہ عزیر ہے۔

  • merkit.pk
  • merkit.pk

Aslam Awan
اس وقت یبوروچیف دنیا نیوز ہوں قبل ازیں پندرہ سال تک مشرق کا بیوروچیف اور آرٹیکل رائٹر رہاں ہوں،سترہ سال سے تکبیر میں مستقل رپوٹ لکھتا ہوں اور07 اکتوبر 2001 سے بالعموم اور 16مارچ 2003 سے بالخصوص جنگ دہشتگردی کو براہ راست کور کر رہاں ہوں،تہذیب و ثقافت اور تاریخ و فلسفہ دلچسپی کے موضوعات ہیں،

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply