زہر کی تھیلی۔۔نویدہ کوثر

کبھی پاگل خانے گئے ہیں ؟ ہزار کہانیاں گھنٹہ بھر میں مل جاتی ہیں, مگر دل پھٹ جاتا  ہے  ۔

ایک 40 سال کے قریب کی اداس آنکھوں والی نرس کے ساتھ کام کر رہی تھی ۔۔میں اسے نرس بھی کام کرنے والی سمجھی، مگر جب وہ ذرا ذرا دیر بعد ہنستی اور شکر ہے ،شکر ہے، کہتی تو مجھے شک ہوا ۔نرس نے اسے پانی لینے بھجوایا اور بتایا کہ یہ بالکل بے ضرر  ہے۔کبھی دورہ نہیں پڑا، مگر گھر والے اسے واپس نہیں لے کر  گئے۔۔ بس کبھی کبھی رونے لگتی  ہے  تو سارا دن روتی  ہے ۔

tripako tours pakistan

اس نے اپنی تین سال کی بیٹی کو گلا دبا کے مار دیا تھا، مگر جج نے اسے پاگل قرار دے کے پاگل خانہ بھجوا دیا، تب سے کوئی نہ ملنے آیا، نہ لینے آیا ۔

ایک بار ایک ہمسائی آئی تھی ،اس نے کچھ بتایااور کچھ خود بتایاکہ شوہر بہت عجب مزاج کا تھا ۔ شادی کے چاردن بعد جھگڑا  ہوا ا تو اندازہ ہوگیا کہ لچک نام کی کوئی شئے میاں کے مزاج کا حصہ نہیں ۔بیٹی پیدا  ہونے سے پہلے ہی ساس نندوں کے اعتراض پہ ہمیشہ شوہر اسے قصوروار قرار دیتا ۔اس کے ماں باپ سمیت اس کی نسلوں تک کو دس دس دن برے برے ناموں سے پکارا جاتا ۔نقل اتاری جاتی ۔وہ کڑھتی رہتی ۔۔ایک دن بیٹی کے بعد لڑائی  ہوئی تو کہا کہ طلاق لے لوں ۔جواب ملا بہت شوق سے، میں بھی بہت تنگ  ہوں ۔

مرجانے کی دھمکی پہ کہا ،شوق سے مرو ،اس جہان میں ہزار لوگ مرتے ہیں ،تم نے خود کو کوئی بہت اہم چیز سمجھ لیا ہے ۔

ذہنی اور جسمانی استحصال کی انتہا  ہوتی گئی اور برداشت ختم  ہونے لگی ۔ماں باپ کے پاس شکوہ کرتی تو کہتے صبر کرو ،شکر نہیں کرتی کہ گھر اپنا  ہے، سب کچھ  ہے۔

شوہر اور نندیں ساس بھی لڑائی کے بعد اسے ناشکری ناشکری کے طعنے  دیتیں ۔

وہ سوچ سوچ کے پاگل  ہوتی کہ شکر کیا دن میں دو روٹیاں مل جانے کا نام  ہے؟ ۔۔شوہر کی جانب سے کبھی اظہار محبت نہیں ،تعریف کا فقرہ تک نہیں ۔۔بلکہ اس کی جو خامیاں اس میں کبھی تھیں نہیں وہ بھی سارادن بیان  ہوتیں ۔

شوہر کے اس رویے کے بعد وہ بیٹی کو دیکھتی کہ اسے بھی یہی سہنا پڑے گا ۔۔سو ایک دن تلخ اور کڑوے فقروں کے بعد اس نے سوئی  ہوئی بیٹی کا گلا دبا دیا اور خوشی سے زور زور سے قہقہے لگانے لگی کہ شکر ہے ،شکر  ہے ۔۔شوہر نے پولیس بلوا لی ۔کیس چلا اور جج نے اسے پاگل قرار دے کے پاگل خانے بھجوا دیا ۔

نرس خود بھی رونے لگی ۔۔اور میں بھی شکر اور ناشکری کے اس فارمولے پہ غور کرتی باہر آگئی ۔

Advertisements
merkit.pk

کاش زبان کی جگہ زہر کی تھیلی نہ  ہو تو کتنے مسائل کم  ہوجائیں !

  • merkit.pk
  • merkit.pk

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply