ناگاساکی کے ’’ پوشیدہ مسیحی‘‘(2,آخری حصّہ)۔۔۔انیس رئیس

جاپانی زبان میں اس معمول کے لئے Fumieیعنی پاؤں تلے روندنے کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے ۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق :۔

ناگاساکی کے ہر باسی پر ایسا کرنا فرض تھا ، خواہ وہ  عام شخص ہو ، یاکوئی سامُورائی ہو ، یہاں تک کہ بدھ مت کےراہب اوربیمار ولاچار افراد بھی اس سے  مستثنیٰ  نہ تھے ۔اگر ان تختوں کابغور مشاہدہ کریں تو لا تعداد مرتبہ روندے جانے کی وجہ سے کنندہ شدہ چہرے کے ابھار مٹ چکے تھے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ا ن پر کتنے پاؤں پڑے ہوں گے ۔

tripako tours pakistan

بی بی سی نے ناگاساکی میں مقیم پروفیسر سائمن ہل کے حوالہ سے لکھا ہے کہ :۔

جن مسیحیوں نے مسیح علیہ السلام کی شبیہ والے کتبوں کی توہین سے انکار کیا انہیں قتل کر دیا جاتا ، بسا اوقات انہیں صلیب کی طرح لٹکا کر ایذا  رسانی کی جاتی   ۔(4)

ناگاساکی شہر میں ایسی متعدد یادگاریں اور عجائب گھر آج بھی موجود ہیں جو جاپان کے ’’ پوشیدہ مسیحیوں‘‘ کی عزم و ہمت اور اپنے دین پر ثابت قدمی کی داستان بیان کرتے ہیں ۔ مذہب کی پاداش میں جان قربان کرنے والے ابتدائی چھبیس افراد کے اسماء اور مجسموں پر مشتمل ایک دیواریاد گار کے طور پر تعمیر کی گئی ہے۔ ناگاساکی شہر کے عجائب گھروں میں مسیحیت قبول کرنے والوں پر جورو ستم کی ایک جھلک مشاہدہ کی جاسکتی ہے ۔   پاؤں تلے روندے جانے والے تختے ،اپنے دین کو چھپانے کی خاطر حضرت گوتم بدھ کی شکل میں ڈھالے گئے حضرت مسیح اور حضرت مریم کے مجسمے دو سو سالہ مظالم کا نقشہ پیش کر رہے ہیں۔

ان  ایذا رسانیوں کی شدت  کا اندازہ اس ایک واقعہ سے  لگایا جا سکتا ہے :۔

’’7اکتوبر1613ء کو آٹھ مسیحیوں کو ’’کیُو شُو‘‘ جزیرہ میں جلا کر ہلاک کر دیا گیا ۔ جب ناگاساکی کے گورنر نے ان آٹھ مسیحیوں کو زندہ جلانے کا حکم دیا تو ڈیوٹی پر مامور تین  جاپانی Samuri اس حکم کو ماننے سے انکاری ہوگئے ۔ لہذا ان تینوں کو بھی  ان کے اہل خانہ سمیت موت کے گھاٹ اُتار دیا گیا ۔’’(5)

بعض محققین حضرت مسیح اور حضرت مریم علیہم السلام کی توہین کرکے اپنا مذہبی وجود برقرار رکھنے کی کوشش کو ’’ پوشیدہ مسیحیوں ‘‘ کی ایمانی کمزوری کی علامت قرار دیتے ہیں ۔لیکن   یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ناگاساکی شہر کے سیکڑوں باسیوں نے مسیح کی توہین گوارا نہ کرتے ہوئے موت کو قبول کر لیااور ہزاروں مسیحی  ایسے تھے جو  ظلم وستم کی تاب نہ لاتے ہوئے ان مظالم کے آگے سرنگوں ہوگئے اوربادلِ نخواستہ حضرت مسیح اور حضرت مریم علیہم السلام کی توہین کے ظاہری عمل سے گزر کر مسیحیت کو اپنے دلوں میں پوشیدہ اور محفوظ رکھتے ہوئے اچھے وقتوں کا انتظار کرنے لگے    ۔بی بی سی انگریزی سروس کے مطابق :۔

اگرتمام جاپانی مسیحی مسیح کی شبیہ والے کتبوں کو  پاؤں تلے روندنے سے انکار کردیتے تو نتیجتاً  سب کے سب قتل کر دیے  جاتے اور یوں جاپان سے مسیحیت کا نام و نشان مٹ جاتا ۔ لیکن  گناہ خیال کرنے کے باوجود انہیں مسیح کی شبیہ کو روندنا پڑا ۔ یہی وجہ ہے کہ  مسیحیت جاپان میں اپنا وجود برقرار رکھنے کے قابل ہوسکی ۔(6)

جاپانی مسیحیوں پر اصحابِ کہف سے حالات

جورو جفا برداشت کرتے ، صلیبوں پر جھولتے اور مسیح علیہ السلام کی توہین پر مجبور کردئیے جانے   والے جاپانی مسیحیوں کے لئے عرصہ حیات مزید تنگ ہوتا گیا یہاں تک کہ یہ لوگ  نہاں  ہوتے ہوتے  پوشیدگی میں چلے گئے ۔1650ء میں شروع ہونے والے اس دور کو جاپانی زبان میں kakure kirishitan (隠れキリシタン)یعنی ’’پوشیدہ مسیحی‘‘ کہا جاتا ہے ۔

پوشیدہ زندگی کا یہ دور آئندہ آنے والے اڑھائی سو سال پر مشتمل تھا ۔ اس اڑھائی سوسالہ دور میں ایک نئے مسیحی معاشرہ کا جنم ہوا ۔ مسیحیت روایتی انداز سے ہٹ کر چرچ سے گھروں کو منتقل ہوگئی ۔حکام کے قہر وغضب سے بچنے کے لئے گھروں میں حضرت مسیح اور حضرت مریم کے مجسمے حضرت بدھ کی شکل میں متشکل کرکے رکھے جانے لگے ۔ اجتماعی عبادات ممکن نہ رہیں تو پانچ پانچ اور دس دس مسیحیوں پر مشتمل احزاب تشکیل دیے  گئے جو نہایت احتیاط سے خفیہ طریقوں سے باہم میل جول اور تہواروں کا اہتمام کرتے ۔مسیحی اصطلاحات اور مذہبی رسومات کی ممانعت کے بعد متبادل الفاظ کے ذریعہ مسیحیت کو زندگی رکھنے کی کوششیں کی جانے لگیں۔ ناگاساکی میں مسیحیت قبول کرنے والے ابتدائی لوگ جاگیردار اور زمیندار تھے لہذا نواحی دیہات  میں مسیحیت کے لئے پہلے سے قدرےنرم گوشہ موجود تھا لہذابعض لوگ ناگاساکی شہر کو چھوڑ کر دیہات میں بودو باش اِختیار کرنے لگے ۔

پوشیدگی کے دور کی بعض اصطلاحات اور رسوم

پوشیدگی کے اس دور میں مسیحی آبادیاں بڑے شہروں سے دیہات کی طرف منتقل ہوگئیں ۔ لیکن دیہات میں بھی  محتاط طرزِ زندگی کو برقرار رکھا گیا ۔ دیہاتوں میں مسیحی باشندوں کے لئے ایک پوشیدہ لیکن باقاعدہ نظام تشکیل دیا گیا ۔ پانچ پانچ یا دس دس افراد پر مشتمل حزب تشکیل دے کرہر حزب کا ایک نگران مقررکر دیا جاتا۔اس دور کی بعض مذہبی اصطلاحات کے حوالہ سے ایک محقق لکھتے ہیں:۔

’’ دیہاتوں میں چھوٹی چھوٹی جماعتوں کا ایک لیڈر مقرر ہوتا ۔ ایک شخص اس بات پر مامور ہوتا کہ عبادات او ر تہوار وں کا کیلنڈر تشکیل دے ۔ اس نگران کو جاپانی زبان میں 帳方  (Chokata) یعنی صاحبِ رجسٹر کہا جاتا ۔ پادریوں کی عدم موجودگی میں ایک شخص بپتسمہ دینے پر مامور ہوتا جس جاپانی زبان میں 水方 (Mizukata)یعنی صاحب الماء یا پانی والے صاحب کہا جاتا ۔  (7)’’اسی طرح اطلاعات اور رابطہ کے انچارج کو 聞き役  یعنی  صاحب الاذن ( کانوں والا)کےنام سے موسوم کیا جاتا ۔(8)

اجتماعی عبادات کی مناہی کے باعث پوشیدہ مسیحیوں نے ربطِ بہم برقرار رکھنے کے لئے ایک نیا طریق اختیار کیا ۔ نئی فصل پکنے پر شنتو مت کے لوگ شکرانے کے طور پر دعوتوں کا اہتمام کرتے تھے ۔ اپنے دین کو چھپائے بیٹھے جاپانی مسیحیوں نے بھی اس سے ملتی جلتی دعوتوں کا اہتمام شروع کردیا ۔ اس تہوار کوجاپانی زبان میں  お初穂あげیعنی Ohatsuhoage کہا جاتا ۔اس کا لفظی مطلب ہے پہلا رزق یا پہلی عطا ۔ اس لفظ سے کسی مذہبی عبادت یا مسیحیت کا شائبہ نہ ہوسکتا تھا بلکہ سننے والے اسے فصل پکنے پر شکرانے کااظہارخیال کرتے ۔یہ  دعوتیں عموما ً اتوار کو منعقد ہوتیں ۔ بظاہر فصلوں کی پیداوار سے منسلک یہ لنگر دراصل پوشیدہ مسیحیوں کے اجتماع اور مذہبی عبادات کی خاطر منعقد وہوتے ۔(9)

’’پوشیدہ مسیحیوں‘‘کے نام سے نئے فرقہ کا جنم

جبری پابندیوں کے باعث  خفیہ زندگی گزارنے پر مجبورپوشیدہ مسیحی دلی طور پر اپنے مذہب  مسیحیت پر قائم رہتے ہوئے بظاہر بدھ مت اور شنتو معابد سے منسلک ہوگئے ۔ پادریوں کے جلا وطن ہوجانے کی وجہ سے بپتسمہ سے محروم رہ جانے والوں کو گھروں میں  ہی بپتسمہ دینے کی روایت قائم ہوگئی ۔ مصائب و آلام سے بچنے کی خاطر بدھ مت اور شنتو مذہب کے عقائد سے ملتی جلتی بعض رسمیں ’’پوشیدو مسیحیت ‘‘ میں در آنے لگیں۔

پوشیدگی کے اڑھائی سو سالہ دور کے بعد جب جاپان میں مذہبی آزادیوں  کا اعلانِ عام ہو گیا تو ان پوشیدہ مسیحیوں کی اکثریت نے رومن کیتھولک مذہب اختیار کر لیا تو  بعض ایسے بھی تھے جو  اپنے آباء کے دین اور رسوم و رواج کو چھوڑنے پر متذبذب ہوگئے۔ حتی کہ آج بھی ناگاساکی کے نواح میں ’’ پوشیدہ مسیحی‘‘ فرقہ اپنا وجود برقرار رکھے ہوئے ہے ۔(10)

مذہبی آزادیوں کے با وصف  پوشیدگی کے دور کے رسوم و رواج پر کاربند رہنے والے ان مسیحیوں کو بسا اوقات دیگر مسیحی فرقوں کی طرف سے تعصب کا نشانہ بناتے ہوئے مسیحیت سے الگ مذہب تصور کیا جانے لگا۔۔لیکن پابندیوں کے خاتمے کے بعد کچھ ہی سالوں میں ان مسیحیوں کی اکثریت رومن کیتھولک فرقہ سے وابستہ ہوگئی ۔ پوپ جان پال دوم اور پوپ فرانسس جاپان کے دوروں میں ’’ پوشیدہ مسیحیوں ‘‘ کی یادگاروں کا وزٹ کرکے انہیں خراج تحسین پیش کرچکے ہیں ۔ مسیحیت کے رسم و رواج کے مطابق قربانیاں دینے والے کئی  ابتدائی مسیحیوں کو سینٹ کا خطاب دیا جاچکا ہے ۔ پوشیدہ مسیحیوں کی کئی یادگاریں جاپان کا قومی ورثہ قرار پاچکی ہیں جبکہ کئی مقامات یونیسکو کی طرف سے عالمی ورثہ قرار دئیے جاچکے ہیں ۔

مظالم کے دور کا اختتام اور پوشیدہ مسیحیوں کی دریافت

1853ء میں امریکہ اور جاپان کے مابین ہونے والے ایک معاہدہ کے نتیجہ میں جاپان کی خود ساختہ تنہائی اور ’’ مقفل ریاست‘‘ کی پالیسی اپنے اختتام کو پہنچی۔نیزجاپان میں وحدت و احترام کی علامت  سمجھے جانے والے شہنشائے جاپان کے مقام و مرتبہ کی بحالی کی کاوشیں کامیاب ٹھہریں اور  1868ء سے  Meijiشہنشاہ کے تاریخی عہد کا آغاز ہوا ۔اس زبردست تبدیلی سے اہل جاپان ایک مرتبہ پھر انتشار و افتراق سے اتحاد و یگانگت کی طرف لوٹنے لگے ۔’’ مقفل ریاست‘‘ کی پالیسی کے خاتمہ سے جاپان کی بین الاقوامی تنہائی  کا طویل دوربھی اپنے اختتام کو پہنچا اور بیرونی ممالک سے تعلقات بحال ہونے پر مغربی تاجروں اور سفارتکاروں کی آمدو روفت دوبارہ شروع ہوگئی۔

فضا سازگار ہونے پر ’’ پوشیدہ مسیحی ‘‘ غول در غول ظاہر ہونے لگے ، ناگاساکی کے گرد و نواح اور جنوبی جاپان میں ہزارہا کی تعداد میں مسیحیوں کی دریافت محیر العقول تھی۔ ان مسیحیوں کے لئے ایک لمبی اور تاریک رات چھٹ چکی تھی ۔ ایک روشن صبح طلوع ہورہی تھی اور اس واقعہ میں عالمِ مسیحیت کے لئے ایک  پیغام پوشیدہ تھا کہ طویل انتظار ختم ہونے کو ہے اور مسیح کی آمد ثانی قریب تر ہے۔

Bibliography

  1. Surat-ul-Kahf verse 25

2.https://www.bbc.com/news/world-asia-50414472

3.The Triumph of Perseverance: Kakure Kirisitan in Japan and Its Inscription on the World Heritage list page 168, 2018 by Joanes Da Silva Rocha

4.https://www.bbc.com/news/world-asia-50414472

5. Full sail with the wind of grace, Peter Kibe and 187 martyrs: Don Bosco, Japan 2008, pg.51-52

6.https://www.bbc.com/news/world-asia-50414472

7.The Triumph of Perseverance: Kakure Kirisitan in Japan and Its Inscription on the World Heritage list page 168, 2018 by Joanes Da Silva Rocha

8.The Age-Old Ritual Practice of Ohatsuhoage among the Kakure Kirishtan Survivors page 5 by Roger Vanzila Munsi

9.The Age-Old Ritual Practice of Ohatsuhoage among the Kakure Kirishtan Survivors page 5 by Roger Vanzila Munsi

Advertisements
merkit.pk

10. https://www.japantimes.co.jp/news/2019/11/20/national/history/japan-hidden-christians-religion-last-generation/

  • merkit.pk
  • merkit.pk

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply