جاوید ہاشمی اور پرویز رشید۔۔خورشید ندیم

ہماراسیاسی کلچر‘کیاجاوید ہاشمی اور پرویز رشید کو اپنے دامن میں جگہ دے سکتا ہے؟
جس نے کہا تھا کہ ”سارتر ہی فرانس ہے‘‘ اس نے اس بڑی حقیقت کے چہرے سے نقاب الٹ دیا تھا کہ اقتدار کی حریفانہ کشمکش میں شب و روز کرنے والے نہیں‘یہ در اصل سارتر جیسے لوگ ہیں جو سیاست کی آبرو ہوتے ہیں۔سیاست اپنے جوہر سے محروم ہو جا تی ہے جب ایسے کرداروں کو کھو دیتی ہے۔جاویدہاشمی اور پرویز رشید تو علامتیں ہیں۔ صدیق الفاروق اورسعد رفیق سمیت ‘کچھ اوربھی ہوں گے جن کے بارے میں سوچیں تو منیرنیازی یاد آتے ہیں:
اک چیل ایک ممٹی پہ بیٹھی ہے دھوپ میں
گلیاں اجڑ گئی ہیں مگر پاسباں تو ہے
جاوید ہاشمی کے لب و لہجے میں تلخی کا غلبہ ہے۔اتنا غلبہ کہ الفاظ بعض اوقات ان کے دماغ کی گرفت سے نکلتے اور تنہادل کے ترجمان بن جاتے ہیں۔وہی جنوں جس کے بارے میں اقبالؔ نے کہا تھا کہ ‘یااپنا گریباں چاک یا دامنِ یزداں چاک‘۔ اس جنون کی ایک قیمت ہے۔باون لاکھ روپے؟ایک شادی گھر؟ یہ تو بہت کم ہے۔جنون میں تو کبھی جاں سے گزرنا پڑتاہے۔
پرویز رشید آتش زیرِپا نہیں رہتے۔یہ الگ بات کہ ان کے اندر بھی ایک آتش فشاں دھک رہاہے۔ایک شہرِ خواب ابھی تک آباد ہے جو بارہا لوٹا گیا۔اس لوٹ مار نے ان کی حسرتِ تعمیر کو مرنے نہیں دیا۔لوگ کہتے ہیں یہ وہ دلی ہے جو اب شاہد احمد دہلوی جیسوں کی تحریروں ہی میں پایا جا تا ہے مگر وہ ہار ماننے کو تیار نہیں۔ان کو یقین ہے کہ ووٹ کو عزت ملے گی اور یہ شہرِ آرزو آباد ہوگا۔
جاوید ہاشمی اور پرویز رشید مختلف بلکہ متضاد پس منظر رکھتے ہیں۔ایک مذہبی ہے اوردوسرا غیر مذہبی۔فیض صاحب نے کہا تھا ‘ہم پہ مشترکہ ہیں احسان غمِ الفت کے‘۔اس غمِ الفت نے دونوں کو یک جا کر دیا ہے۔ہاشمی صاحب اپنے پس منظر سے بلند ہوئے اور ‘مخدوم جاوید ہاشمی‘ سے محض جاوید ہاشمی بن گئے۔انہیں اندازہ ہوگیا کہ جمہوریت میں مخدوم نہیں ہوتے۔ پرویز رشید تو خیر پہلے ہی طبقات پر یقین نہیں رکھتے تھے۔ایک غیر طبقاتی معاشرہ ان کا خواب تھا۔خواب آج بھی زندہ ہے‘یہ الگ بات کہ ان کے اکثر ہم سفر خواب فروش بن چکے۔
یہ دونوں ایک ایسے دور کی یادگار ہیں جب سیاست نظریاتی ہوا کرتی تھی۔ سیاسی کارکن خودکوکسی نظریے سے وابستہ سمجھتے تھے۔سیاسی جماعتوں سے اُن کے تعلق کی اساس کوئی نظریہ تھا۔اُس دور میں سیاسی لغت اور طرح کی تھی۔’اسلامی انقلاب‘، ‘اسلامی نظام ‘، ‘اشتراکیت‘، ‘مساوات‘، ‘ غیرطبقاتی سماج‘، ‘سوشلزم‘،’اسلامی سوشلزم‘۔ یہ اصطلاحات اور تراکیب ایک عام سیاسی کارکن کے لیے اجنبی نہیں تھیں۔1977 ء اس نظریاتی سیاست کا آخری سال تھا۔اسلامی انقلاب کو قومی اتحاد اور سوشلزم کو بھٹو صاحب نے زوال کی راہ پر ڈال دیا۔ایک کا آخری باب جنرل ضیا الحق صاحب نے لکھا اور دوسرے کا زرداری صاحب نے۔عالمی سطح پر بھی نظریاتی سیاست ختم ہوئی جب سوویت یونین قصۂ پارینہ ہوا۔چین یک قطبی(unipolar) دنیا کو دو قطبی دنیا میں بدلنے کی کوشش میں ہے مگر نظریاتی بنیادوں پر نہیں۔ یہ نئی دنیا جو پردہ ٔ تقدیرمیں ہے‘اس کی اساس نظریاتی نہیں‘مفاداتی ہے۔
اس نئی دنیا کے ٹکسال میں ‘اب جاوید ہاشمی اور پرویز رشید جیسے سکے نہیں ڈھلتے۔سکہ رائج الو قت کچھ اور ہے۔اس کے مظاہر ہمارے چاروں طرف پھیلے ہوئے ہیں۔ اب لوگوں کی تجوری جب بھر جاتی اورتنگ دامنی کی شکایت کرنے لگتی ہے تووہ بازارِ سیاست کا رخ کرتے ہیں۔سیاست کی منڈی میں تو ظاہر ہے کہ صرف اقتدارکاکاروبار ہوتا ہے۔ یوں سیاست‘ سرمایہ داروں‘ پراپرٹی ڈیلرز اور دیگر تجارتی پس منظر رکھنے والوں کی آماجگاہ بن گئی۔اب کون سا نظر یہ اور کہاں کے نظریاتی؟جاوید ہاشمی اور پرویز رشید کے پاس جو سکے ہیں‘کب کے متروک ہو چکے۔
یہ تو خدا کی کرنی ہے کہ نوازشریف صاحب کو پہنچنے والے ذاتی صدموں نے انہیں نظریاتی بنا دیا۔انہوں نے قومی وجود کو لاحق ام الامراض کو پہچانا اور اقتدار کے کھیل کو ایک اصولی معرکے میں بدل دیا۔اب افراد نہیں‘ تصورات کی بات ہو رہی ہے۔چہروں کے بجائے‘نظام کی تبدیلی قومی ایجنڈے میں شامل ہو گئی ہے۔یوں جاوید ہاشمی اور پرویز رشید کو پاؤں رکھنے کی جگہ مل گئی۔ان کی جماعت نے کسی حد تک انہیں قبول کیا مگر نظام نے نہیں۔پرویز رشید سینیٹر نہیں بن سکے اور جاوید ہاشمی اب شاید ہی کسی اسمبلی تک پہنچ پائیں۔
پرویز رشید میں یہ جرأت ہے کہ وہ اپنی پارٹی کی کسی کج ادائی پر آواز اٹھا سکتے ہیں۔دو دن پہلے بھی انہوں نے آواز بلند کی جب سینیٹ میں انسانی حقوق کمیٹی کی سربراہی نون لیگ نے حکمران جماعت کے حوالے کر دی۔ جاوید ہاشمی نے بھی جب اپنا بیان جاری کیا تو ساتھ ہی وضاحت کر دی کہ یہ ان کی ذاتی رائے ہے۔وہ جانتے ہیں کہ ان کی جماعت ان کے خیالات کا بوجھ نہیں اٹھا سکے گی۔
یہ دونوں اب عمر کی ساتویں دہائی میں قدم رکھ چکے۔خدا انہیں عمرِ خضر دے مگرقانونِ فطرت کے تحت اب ‘وہ عناصر میں اعتدال کہاں‘ ؟یہ وہ مرحلہ ہے جب توقع ہوتی ہے کہ اگلی نسل ذمہ داریاں اپنے ہاتھ میں لے لے۔ گھر ہی نہیں‘ ملک بھی چاہتے ہیں کہ بارِ امانت نئی نسل اٹھا لے؟کیا ہم نے وہ نسل تیار کی ہے جو جاو یدہاشمی اور پرویز رشید کی جگہ لے سکے؟ اس سوال کااصل مخاطب سیاسی جماعتوں کی قیادت ہے؟کیا انہوں نے اپنی جماعت کو ایسے لوگوں کی تربیت گاہ بنایا؟کیا انہوں نے اصولوں کی سیاست کو فروغ دیا؟ کیا انہوں نے کردار سازی کو اپنے سیاسی ایجنڈے کا حصہ بنایا؟افسوس کہ کسی سوال کا جواب اثبات میں نہیں۔ نواز شریف کا وجود ہماری سیاست میں غنیمت ہے کہ انہوں نے ایک ایسے مرحلے پر ووٹ کی عزت کا عَلم اٹھایا جب سیاست اقتدار کا بے رنگ و بے بو عمل بن کے رہ گئی تھی۔آپ اسے ذاتی دکھوں کا نتیجہ قرار دے سکتے ہیں لیکن اس سے چمنِ سیاست میں رنگ و بو پیدا ہوئے۔
‘سٹیٹس کو‘ کی کسی قوت سے یہ توقع عبث ہے کہ وہ سیاست کو اصول و ضابطے کا پابند بنائے۔یہ سیاسی جماعتیں ہیں جو ان قوتوں کو مجبور کرتی ہیں کہ سیاست کو آئین اوراقدار کے تابع رکھیں۔جب سے سیاسی جماعتیں خود ‘سٹیٹس کو‘ کا حصہ بنی ہیں‘یہ تصورات اور خواب مرنے لگے ہیں۔اس کا نتیجہ ہے کہ مستقبل میں جاوید ہاشمی اور پرویز رشید کی مسند خالی دکھائی دیتی ہے۔مریم نواز نے کوشش کی کہ وہ صدا بلندہوتی رہے جسے سن کر کسی نوجوان کے دل میں جاوید ہاشمی اور پرویز رشید بننے کی خواہش جنم لیتی ہے۔ اب اس آواز کو مدہم کرنے کی کوشش خود پارٹی کے اندر سے اٹھنے لگی ہے۔
سارتراصلاً سیاست دان نہیں ایک دانشور تھا۔یہ دانش ہے جو خبردار کرتی ہے کہ چراغِ سیاست کا روغن کم ہو رہا ہے۔اس کی لو اب تھر تھرانے لگی ہے۔شاہراہِ سیاست کوروشن رکھناہے تو نئے چراغ جلاؤ۔ سیاست کے بیدار مغز اس آواز کی قدر وقیمت کو سمجھتے اور سارتر کی آواز کو نوائے سروش قرار دیتے ہیں۔اب کوئی سارتر ہے اور نہ کوئی قدر دان۔ ایک سحر نا آشنا رات ہے اور کہیں دور سے فیض ؔکی آواز آرہی ہے:
گل کرو شمعیں‘ بڑھا دو مے و مینا و ایاغ
اپنے بے خواب کواڑوں کو مقفل کر لو
اب یہاں کوئی نہیں‘ کوئی نہیں آئے گا

  • merkit.pk
  • merkit.pk

مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply