اکثر میں سوچتی ہوں۔۔سعدیہ علوی

جیسے  میں  تمہیں ہر  وقت یاد کرتی ہوں، تمہاری  آواز، تمہاری ہنسی، تمہاری  آنکھیں، تمہاری باتیں، تمہاری خوشبو، جیسے ہر وقت مجھے گھیرے رہتی ہے کیا تم بھی مجھےایسے ہی محسوس کرتے ہو؟
ہمارے خواب، ہماری مشترکہ امیدیں کیا تم کو بھی ایسے ہی شاد کرتی ہیں جیسے مجھے؟

کیا میری طرح تم بھی صرف میرا خیال آنے سے ایسے خوشی محسوس کرتے ہو کہ جیسے عید ہوگئی؟

tripako tours pakistan

مجھے یہ خوف بھی ڈراتا ہے کہ یہ فاصلہ جس کی مدت بھی معین نہیں ہے ۔ہمارے تعلق کو جو جسم کو چھونے کی خواہش سے اوپر ہے ،کم تو نہیں کرے گا؟

ہمارے درمیان وقت بہت بڑی رکاوٹ بن رہا ہے، یہ کہیں کوئی نہ ختم ہونے والا فاصلہ تو پیدا نہیں کردے گا؟

آج میں نے خواب دیکھا۔۔ ویسے تو خواب میں صورتیں صاف نظر نہیں آتیں ،ایک دھندلکا سا پھیلا ہوتا ہے ،پر کمال یہ ہے کہ اس دھندلے منظر میں بھی تم اپنی شفاف آنکھوں اور دلپذیر مسکراہٹ لیے بالکل واضح تھے ،تم کچھ لکھ رہے تھے ،شاید کوئی نئی کہانی یا شاید کچھ مجھ پر ۔۔میں تم سے بات کرنا چاہ رہی تھی، پر تمہاری توجہ اپنے کام پر تھی، مجھے تمہارا نظر انداز کرنا تکلیف دے رہا تھا، خواب میں بہنے والے آنسو میری آنکھوں سے حقیقت میں بہہ رہے تھے، مجھے غصہ آگیا ۔۔کیوں کہ میں خواب میں بھی یہ نہیں دیکھنا چاہتی کہ تم نظر انداز کرو  مجھے ،مجھ سے بے رخی برتو، یا مجھے گمان ہو کہ تم مجھ سے دور جا رہے ہو۔۔۔

ہے نا  عجیب سی بات؟۔۔ میں خواب میں بھی تمہاری بے رخی سے ڈرتی ہوں، دل میں سوچا خواب ہی تو ہے ، اُٹھ جاتی ہوں، مگر آنکھیں موند کے پڑی رہی، کہ اسی بہانے تم کو دیکھ تو رہی ہوں۔۔ جاگ جاؤں گی تو اس دیدار سے محروم ہوجاؤں گی ناں۔

سوچتی ہوں تم خواب میں آئے ہی کیوں؟
رابطہ ہے ناں
مجھے نہیں پتہ میں تم کو دکھتی ہوں سپنوں میں کہ نہیں پر میرا یقین ہے کہ محبت استوار ہے ہمارے درمیاں۔۔

مجھے یقین ہے کہ یہ وقتی دوری جلد ختم ہوگی، مجھے تم پر، تمہاری محبت پر، تمہاری وفا پر مکمل بھروسہ ہے۔ میں جانتی ہوں کہ ہم ایک بار پھر ایک ساتھ ہوں گے، اور اس بار یہ ساتھ نہ ختم ہونے والا ہوگا ،ہم اپنی زندگی کو نئے طور پر شروع کریں گے۔

Advertisements
merkit.pk

اگر جنموں کا کوئی وجود ہے تو میں اقرار کرتی ہوں کہ پچھلے سارے جنموں اور آنے والے بھی سارے  جنم  میں صرف تمہاری ہوں!

  • merkit.pk
  • merkit.pk

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply