دنیا کی سب سے کامیاب سیاسی جماعت۔۔زبیر بشیر

گزشتہ 100 برس کے دوران عالمی افق پر بہت سی تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ بڑی عالمی جنگیں لڑی گئیں، بہت سی مملکتوں کا شیرازہ بکھر گیا اور بہت سے ملک دنیا کے نقشے پر ابھرے، کئی سیاسی تحریکوں نے جنم لیا، حکمرانی کے بہت سے نظام قائم ہوئےاور ختم ہوگئے۔ اس سارے شور اور ہنگامہ خیزی میں ایک جماعت اصلاحات اور کھلے پن کی راہ پر گامزن رہتے ہوئے اپنے عوام کی خدمت کرتی رہی۔ یہ جماعت چینی کمیونسٹ پارٹی ہے۔ اس جماعت نے 100 برس میں نہ صرف عوام کے دلوں میں اپنے گھر کو مزید مضبوط کیا بلکہ عوامی جمہوریہ چین کو ایک عالمی طاقت کے طور پر متعارف کروایا۔

نئے چین کی آج کی ترقی چینی خصوصیات کے حامل سوشلزم کی کامیابی ہے۔ چینی کمیونسٹ پارٹی نے عوام کو مرکزی اہمیت دیتے ہوئے ملک کی نئی ترقیاتی راہ متعارف کروائی۔ اس جماعت کی قیادت میں عوامی جمہوریہ چین مشکلات پر قابو پاتے ہوئے ترقی کی نئی منزلیں طے کرتا رہا۔ چین کا موجودہ مقام جہد مسلسل کا مرہون منت ہے۔ چین کی ترقی کی راہ کو سمجھنے کے لئے چینی کمیونسٹ پارٹی کو سمجھنا ضروری ہے۔ چینی کمیونسٹ پارٹی نے ہمیشہ عوام کی خدمت کو اپنا اولین شعائر بنایا ہے۔ اس جماعت نے وقت کے بدلتے ہوئے تقاضوں سے ہم آہنگ رہنے کے لئے مسلسل اصلاحات متعارف کروائی ہیں۔ آج یہی وجہ ہے کہ عوامی جمہوریہ چین جدت سے ہم آہنگ معاشرہ ہے۔ یہاں محبت و رواداری کی ایسی فضا قائم ہے کہ تمام قومیتیں اتحاد و اتفاق کے ساتھ مل کر رہتی ہیں۔ چینی قوم ملکی ترقی کو اپنی ترقی سے تعبیر کرتی ہے۔

tripako tours pakistan

حالیہ برسوں میں چینی کمیونسٹ پارٹی نے ملکی عوام کو انتہائی غربت سے نجات دلا کر زندگی کی بہترین سہولتیں فراہم کیں۔ چین  میں لوگوں کے پاس روزگار کے بے شمار مواقع موجود ہیں۔ یہاں ہنر مند افراد کی کثیر تعداد موجود ہے جو ملکی ترقی میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔ چینی لوگوں کا معیار زندگی روز بروز بلند ہورہا ہے۔

دنیا بھر کے ماہرین سو برسوں میں چینی کمیونسٹ پارٹی کی کامیابیوں کو تحسین کی نظر سے دیکھتے ہیں۔حال ہی میں کیمبرج یونیورسٹی کے سینٹر فار ریسرچ کے فیلو مارٹن جیکسن نے چینی کمیونسٹ پارٹی کے حوالے سے ایک مضمون لکھا ہے ۔ مضمون میں کہا گیا ہے کہ چینی کمیونسٹ پارٹی دنیا کی باقی جماعتوں سے مختلف ہے ۔ چینی کمیونسٹ پارٹی نے گزشتہ سو سالوں میں اصلاحات اور چینی سماج وثقافت کے ملاپ کا طریقہ تلاش کر لیا ہے ۔ چینی کمیونسٹ پارٹی کی خصوصیت کو سمجھنے  سے مغربی ممالک قاصر رہےہیں۔ لا علمی کی یہ صورت حال ۲۰۱۶ کے بعد نئی بلندی تک پہنچ گئی ہے ۔ انہوں نے چینی کمیونسٹ پارٹی اور سویت یونین کی کمیونسٹ پارٹی کو ایک جیسا سمجھا ہے ۔لیکن دراصل  دونوں کے درمیان زیادہ مماثلت نہیں ہے۔ روایتی ماکسزم کی تفہیم سے چینی کمیونسٹ پارٹی کو نہیں سمجھا جا سکتا۔ کیونکہ چینی کمیونسٹ پارٹی چینی خصوصیت کی حامل ہے ۔ اس کی بنیاد مقامی کنفیوشزم پر ہے ۔ مغربی ممالک نے محض اس بات پر یقین رکھا ہے کہ ایک پارٹی کا نظام پائیدار نہیں ہوسکتا کیونکہ اس کے اندر   اصلاحات کی قوت نہیں ہوتی۔ لیکن چینی کمیونسٹ پارٹی کی کاردکردگی اس نظریے کی نفی کرتی ہے ۔ چینی کمیونسٹ پارٹی نے اصلاحات کی عظیم صلاحت دکھائی ہے جس سے چین کامیابی سے دنیا کی معیشت میں شامل ہوا ہے ۔ مغربی ممالک نے ملک کی طرز حکمرانی میں انتخابات کو زیادہ اہمیت دی ہے جبکہ چین نے ملک کی انتظامی صلاحیت کو سب سے زیادہ اہمیت دی ہے ۔

گزشتہ چالیس سالوں میں چینی معیشت کی ترقی اور انسداد وبا میں چین کی کامیابی سے چین نے ملک کی انتظامی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے ۔ اس کے علاوہ چین، امریکہ، برطانیہ اور سویت یونین سے مختلف ہے کیونکہ اس نے کبھی ان ممالک کی طرح دوسرے ممالک سے اپنےطریقہ کار کی تقلید کرنے کا مطالبہ نہیں کیا ہے ۔ چینی کمیونسٹ پارٹی نے کبھی نہیں سوچا کہ اس کا سیاسی نظام دوسرے ممالک کے لئے ماڈل بنے گا۔

Advertisements
merkit.pk

حالیہ وبا کے دوران چینی کمیونسٹ پارٹی کی قیادت میں چینی عوام نے بے مثال نظم و ضبط کا مظاہرہ کیا۔ یہی وجہ ہے کہ چین سب سے پہلے اور سب سے مؤثر انداز میں وبا کو شکست دینے میں کامیاب رہا۔ وبا کے بعد معاشی بحالی اور اب ویکسی نیشن میں بھی چین عالمی افق پر ایک ستارے کی مانند چمک رہا ہے۔ چینی کمیونسٹ پارٹی کے قیادت میں چینی عوام یہ سمجھتے ہیں کہ وہ آنے والے وقت میں مزید کامیابیاں اپنے نام کریں گے۔ چینی عوام کا چینی کمیونسٹ پارٹی پر اعتماد ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھ رہا ہے۔

  • merkit.pk
  • merkit.pk

Zubair Bashir
چوہدری محمد زبیر بشیر(سینئر پروڈیوسر ریڈیو پاکستان) مصنف ریڈیو پاکستان لاہور میں سینئر پروڈیوسر ہیں۔ ان دنوں ڈیپوٹیشن پر بیجنگ میں چائنا میڈیا گروپ کی اردو سروس سے وابستہ ہیں۔ اسے قبل ڈوئچے ویلے بون جرمنی کی اردو سروس سے وابستہ رہ چکے ہیں۔ چین میں اپنے قیام کے دوران رپورٹنگ کے شعبے میں سن 2019 اور سن 2020 میں دو ایوارڈ جیت چکے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply