دوسری شادی۔۔(آخری قسط،4)محمد اقبال دیوان

ہمارے دیوان صاحب کی یہ کہانی ان کے علاقے کے سنے سنائے واقعات پر مبنی ہے۔یہ ان دنوں کا ذکر ہے جب آزادی کا سورج بطن گیتی سے طلوع ہونے کو تھا اور نقل مکانی زور پکڑ رہی تھی۔امید ہے اس کا بیانیہ خاک اور خون میں لتھڑا ہونے کے باوجود ایک تلخ حقیت مان کر تسلیم کیا جائے گا۔
ایڈیٹر ان چیف

تیسری قسط کا آخری حصّہ

tripako tours pakistan

سنجیدہ نے صداقت کو لاکھ سمجھایا کہ رات کے میل ملاپ کے بعد کیشو رام کو ذرا بھی ہوش نہیں رہتا۔بچوں کی طرح منہ  کھول ننگ دھڑنگ بستر پر آڑا ھا  ترچھا پڑا رہتا ہے۔وہ نہا دھو کرعشا کی نماز پڑھ دو گھنٹے سو لیتی ہے تب کہیں منمنا کر کیشو ”سنجو دودھ دے نا کی“ آواز نکالتا۔ فرمانبردار سنجو اٹھ کر اس کے لیے باورچی خانے میں زعفران کیوڑے پستے کا دودھ کا پیالہ گرم کرکے لاتی ہے۔اس کے بعد وہ اس کو مالش کا کہتا ہے اور فجر کی آذان سے پہلے ایک دفعہ پھر بستر پر جنگ ہوتی ہے۔

اس کے بعد کا معمول صداقت کو پتہ تھا ،کیوں کہ وہ بھی بھاگلپور سے پاکستان آنے کے بعد ہوتی مارکیٹ کے کمیلے میں جانور ذبح کرنے پہنچ جاتا تھا اور کیشو، شری سوامی نرائن مندر اپنی پوجا پاٹ کے لیے روانہ ہوجاتا ہے۔

چیتومل ڈسپنسری

چوتھی قسط

سنجیدہ نے کہا جب وہ اطمینان کرلے گی کہ کیشو رام نیند میں غلطاں  ہے تو لال دوپٹہ کے برابر ہرا دوپٹہ بھی لٹکا دے گی  اور دروازے کی کنڈی کھول کے خود غسل خانے میں چھپ جائے گی ،گویا معمول کا بعد از وصال غسل پاکیزگی کرتی ہے۔صداقت آن کے چھرا کیشو کے سینے میں گھونپ دے۔صداقت کا منصوبہ اب کی دفعہ چھرا استعمال کرنے کا نہ تھا بلکہ کلورو فارم سے بے ہوش کیشو کے  گلے میں پھندا ڈال کے مارنے کا تھا۔ چھرے سے خون خرابے کا امکان تھا۔ پولیس آتی تو گڑبڑ ہوتی۔
مسئلہ کلوروفارم کے حصول کا تھا۔دس روپے کی گڈی کا مطلب تھا ہزار روپے۔ صداقت کو  یقین تھا دس روپے  کا ایک نوٹ کام دکھادے گا ۔اس کا مطلب ہے کملا بائی کے تین مہینے کا راشن ۔اس نے نے کملا بائی کی مدد لینے کی سوچی۔اس کے شاگرد صابر لمبو قصائی کا یارانہ تھا اس کی مدد لینے کی سوچی۔دونوں اس نئے فلیٹ میں جس پر لمبو قصائی نے قبضہ کیا ،کملا زچہ خانے کی ڈیوٹی ختم کرکے اس کے پاس آجاتی تھیں ۔

بُلٹ برا
بُلٹ برا
بُلٹ برا

کملا بائی چیتومل ڈسپنسری کی ملازمہ تھی۔ لمبو بتاتا تھا سالی  آدھی دائی ہے۔  سٹاف کم ہووے تو خود کھڑی ہوجاوے۔زچہ سے انعام بھی پکڑتی ہے۔کیشو رام کی آمد سے دو گھنٹے پہلے اس سنجو نے جگایا تو وہ اس کا فیلٹ چھوڑ گھر جا کپڑے بدل کمیلے کی طرف نکل لیا۔ گائے کاٹتے وقت اس نے دس کا ایک نوٹ جب صابر لمبو کو دیا تو اسے یقین نہ آیا۔یہ سن سنتالیس میں بڑی رقم تھی۔ قربانی سے فارغ ہوکر جب کیشو سنجو سے بستر میں محبت کے دریا بہاتی تھی، اس نے بتایا کہ اس نے چپ چاپ سنجو سے شادی کرلی ہے۔اپنی مسلمان چھوکری ہے۔بنیا سالا اسے میرپور خاص سے اسکے  ماں باپ کو دھوکا دے کر اغوا کرکے لے آیا ہے۔ کملا اتفاق سے گھر سے ڈسپنسری جانے کو نکل رہی تھی۔اسے دس کا دوسرا نوٹ صابر نے صداقت سے لے کر دیا تو اس کی بھی باچھیں کھل گئیں ۔صداقت نے جھوٹ بولا کہ اس کی بہن کی گھر پرزچگی ہے اور دائی کا کہنا ہے کہ بچہ پیٹ میں آڑھا ہے۔کلوروفارم کے بغیر کام نہیں چلے گا۔کملا گئی اور ڈسپنسری سےکلوروفارم کی چھوٹی سی بوتل اٹھا لائی۔اس کی چھوٹی سی ٹرائی ان دونوں نے صابر قصائی پر کی ،ایک بوند رومال پر ڈال کر سونگھائی تو اس کے تو ہوش و حواس  ڈھیلے پڑ گئے۔دونوں پانی کی چھینٹے مار کافی دیر اس کے ساتھ بیٹھے رہے۔منصوبہ یہ بنا کہ ایک رکشہ لے کر صابر لمبو تیار رہے گا۔جب کیشو کا کام تمام ہوجائے گا تو اسے پیچھے بٹھا کر جیسے کوئی عورت بیمار ہے ،سنجو اور صداقت تھام کر بیٹھیں گے اور پارسی کمپاؤنڈ کے پیچھے جو ویرانہ ہے اس میں پھینک کر آجائیں گے۔ دو دن سنجو صداقت کے فلیٹ پر۔صابر لمبو انیل موٹوانی کے فلیٹ پر ،صداقت کیشو والے فلیٹ پر قبضہ رکھے گا اور وہاں کا مال چپ چاپ صداقت والے فلیٹ پر منتقل کرلے گا۔رشید کھتری اور اس کی ماں انیل والے گھر پر رہیں گے اور کیشو والا فلیٹ بدستور صداقت کے قبضے میں رہے گا، مگر ملکیت سنجو کی ہوگا ۔کلیم وغیرہ کے سلسلے ابھی شروع نہیں ہوئے تھے مگر نقل مکانی کا غلغلہ تھا۔

آٹھ اگست کی رات انتقام اور غارت گری کی رات تھی۔کیشو سر ِشام ہی گھر آگیا۔ ایک دو پھیرے اس نے اور بھی تجوری خالی کرکے اپنے فلیٹ کے کیے۔ایک دفعہ برقعہ ڈال سنجو بھی ساتھ گئی۔چپ چاپ دیکھ لیا کہ فلیٹ میں وہ چابیاں کہاں چھپاتا ہے ۔طے یہ ہوا کہ جب سنجو یہ اطمینان کرلے گی کہ کیشو رام نیند میں غلطان ہے تو وہ اس کے منہ  پر کلو رو فارم والا رومال ڈال دے گی۔

لال دوپٹہ تو سرِ شام سے ہی لٹک رہا تھا۔صابر لمبو اور صداقت ادھر اُدھر منڈلاتے رہے۔کلو رو فارم کے کے کارگر ہونے کی اطلاع اسے اس وقت ملی جب سبز رنگ کا دوپٹہ اس نے الگنی پر لٹکایا۔

اسڑیٹ لمپ کی روشنی میں صداقت نے دیکھ لیا کہ پندرہ برس کی سنجیدہ نے اپنے مغرور و بھرپور سینے پر بلٹ برا اور شلوار پر یہی دوپٹہ ڈال رکھا تھا۔سبز دوپٹہ الگنی پر لٹکا دورازہ کھول کر سنجو نے اسے بتایا کہ ہلا جلا کر دیکھ لیا ہے کیشو رام بے سدھ پڑا ہے توسنجو نے کیشو کے منہ  پر تکیہ رکھا اور بیٹھ گئی۔صداقت نے گلے میں لال دوپٹے سے پھندہ اس زور سے کھینچا کہ کیشو پانچ منٹ میں ٹھنڈا ہوگیا۔

مہاجر
مہاجر

صداقت کی مرضی تھی کیشو رام کا بقیہ شبینہ وظیفہ وہ ادا کرے مگر سنجیدہ نہ مانی کہ شادی سے پہلے وہ نامحرم مرد کے ساتھ یہ کام نہیں کرے گی ،ورنہ دوپٹہ موجود ہے اس کا گلہ بھی گھونٹ دے اور فلیٹ پر قبضہ کرلے۔۔ نیچے لمبو رکشہ لے آیا تھا۔بمشکل سنجو والا گھاگھرا عورت کا روپ دینے اور نماز والا بڑ ا سا موٹا سوتی دوپٹہ لمبا گھو نگھٹ کاڑھ کے اور بستر والی چادر اوڑھا کر اسے سنجو کی گود میں لٹایا اور خود بھی ساتھ ہی بیٹھ گیا۔پارسی کمپاؤنڈ کے پیچھے جو ویرانہ وہ بمشکل دو منٹ کی چال تھا۔ وہاں پھینکتے وقت صابر نے تین چار چھریاں پیٹ میں ماریں۔

نو کی رات گئے ایک دستک ہوئی۔یہ موہن رام گردھاری لال تھا۔کیشو کے جانے کے بعد ان دونوں فکیٹوں کی نگرانی اور دیکھ بھال اس کا ذمہ تھی۔سپداکت سنائی دی تو صداقت نے بڑی والی چھری پکڑ کر اندر سے جالی والا دروازہ کھولا ۔ایک دو اور ساتھی بھی آج رات صداقت نے اپنے ساتھ دونوں فلیٹوں پر ٹھہرالیے تھے۔چھری دیکھی تو اس نے صرف اتنا پوچھا کہ کیشو رام جی یہاں رہتے تھے۔اس پر صداقت نے دورازہ کھولا اور کہنے لگا، ایک ہفتے سے تو ہم نواب صداقت علی خان آف مانگرول یہاں مقیم ہیں۔وہاں محل چھوڑ کر آئے تو یہاں یہ کھولی ملی، اس پر بھی آپ اپنے پرکھوں کو ڈھونڈنے ہمارے گھر چلے آئے۔اب آپ انہیں ہندوستان میں جاکر تلاش کریں ،زمانہ خراب ہے۔فسادات کا زور ہے۔رات گئے یوں آگ اور خون کی ہولی سے جھلسے ہوئے مہاجرین کے دورازے نہ کھٹکھٹایا کریں۔سرحد کے اُس پار چلنے والی چھریوں نے عمر اور مرتبہ، عورت مرد بچے کا لحاظ نہیں کیا۔ایسا نہ ہو کہ ہماری چھری بھی آپ کو دیکھ کر بے قرار ہوجائے۔موہن کمارنے کہا اچھا شمے کیجیے، شاید وہ انیل ماموں والے گھر پر ہوں۔موہن وہاں گیا تو یہ ٹولہ بھی چھریاں لے کر پیچھے پیچھے پہنچ  گیا۔کملا نے دروازہ کھولا مگر صابر لمبو  نے اسے پیچھے دھکیل دیا۔یہ سین دیکھ کر موہن کا رنگ اُڑگیا۔بھاگم بھاگ نیچے اترا اور جس بگھی میں کیشورام کو لینے آیا تھا چلاگیا۔

صداقت کی مرضی تھی کہ وہ جلد ہی سنجو سے بیاہ کرلے مگر سنجو نے کہا۔۔کوئی بھروسہ نہیں ،کیا پتہ پیٹ میں کچھ ہو۔میں چھوٹی عدت کرلوں۔معاملہ صاف ہوا تو میں سدا کے لیے تمہاری۔

Advertisements
merkit.pk

معاملہ صاف تھا۔فٹا فٹ شادی ہوگئی ۔تین بچے بھی ہیں۔ کیشو والا کیمیکل کا کام اب صداقت انصاری اینڈ کو کے نام سے رواں دواں ہے۔۔ شروع میں کاروبار میں دقت ہوئی ۔کیشو رام نے سب کچھ اتنا چھوڑا تھا کہ اچھے دن گزرے۔دس سال بعد جاکر کچھ دھندے کی سمجھ آئی۔ بقرعید پرصداقت انصاری گائے خود کاٹتے ہیں ،جیسا تیسا ہی سہی پیار بھی کرتے ہیں۔ سنجیدہ انہیں اکثر چھیڑتی ہے کہ موئے فراڈیئے قریشی  سے انصاری بنے ،بہتر ہو تا سید بن جاتے۔

  • merkit.pk
  • merkit.pk

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply