اللہ کا جواب۔راجہ محمد احسان

وہ کبھی نماز کے معاملے میں مستقل مزاج نہ رہاتھا، نہ ہی کبھی دیگر شرعی معاملات میں زیادہ بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، غصے کا بھی بہت تیز تھا مگر جب سے ایک اللہ والے سے ملاقات ہوئی ۔ اس کا پتھر دل موم کی طرح نرم ہوتا چلا گیا ۔وہ کثرت سے درود شریف پڑھنے لگا ،نماز پنجگانہ کا اہتمام کرتا، اس نے بہت ساری دینی کتب کا مطالعہ کر رکھا تھا ۔

اس کی زندگی کا ایک سال شاندار گزرا، پھر وہ بزرگ اس دنیا سے پردہ فرما گئے اور وہ اپنی عاصیانہ پرواز میں مست ہو گیا مگر اس کے دل کی نرمی روز بروز بڑھتی گئی ، نبی ﷺ کے ساتھ اس کی محبت بڑھتی گئی،لیکن مسئلہ یہ تھا کہ وہ دل سے تو بہت محبت کرتا جبکہ عمل کے میدان میں قدم رکھنے سے گریزاں تھا ۔ایک دن وہ کسی کام کے سلسلے میں ملک کے دور دراز علاقے میں گیا وہاں اسے خلوت میسر آئی تو اس نے وقت گزاری کے لیے پٹھانے خاں کا گایا ہوا صوفیانہ کلام ” مینڈا عشق وی توں ” لگایا ،اور موبائل کو ٹیبل پر رکھ کر وہ صوفے پر جا بیٹھا گانے کے بولوں کے ساتھ وہ خیال کی دنیا میں پرواز کرنے لگا، اچانک اس کا خیال اپنے گناہوں اور یومِ حشر کی طرف چلا گیا جہاں اس کی محبوب ہستیوں کے سامنے اس سے حساب لیا جائے گا، اپنے گناہوں پر جب نظر کی تو جسم میں جھرجھری پیدا ہوگئی اور وہ اس خیال سے زار و قطار رونے لگا کہ اس کے گناہوں کو دیکھ کر حضورﷺ کیا کہیں گے کہ یہ ہے میرا امتی۔۔۔

وہ روتا گیا اور اللہ کے آگے التجا کرتا گیا کہ یااللہ بیشک اگر انصاف کا ترازو مجھے دے دیا جائے تو اپنے گناہوں کی وجہ سے جہنم ہی میرا ٹھکانا ہونا چاہیے مگر تیری رحمت میرے گناہوں سے کہیں بڑی ہے تو چاہے تو اپنے فضل سے مجھے بخش بھی سکتا ہے اے میرے رب اب تو چاہے تو مجھے جہنم میں ڈال دے یا اپنے فضل سے مجھے بخش دے مگر مجھ سے حساب نہ لینا کہ مجھے بہت شرمندگی ہو گی اور میں ان گناہوں کے ساتھ اپنے نبیﷺ اور اپنے مرشد کا سامنا نہ کر پاؤں گا ۔

آنسوؤں کی جھڑی آنکھوں سے جاری تھی۔۔۔ اور دل ہی دل میں اللہ سے التجائیں بھی۔ تقریباً آدھا گھنٹہ اس کی یہی کیفیت رہی، اور یہ کیفیت اس وقت ٹوٹی جب موبائل پر میسج ٹون بجی۔ اس وقت اس کے اندر ایک آواز ابھری کہ میسج چیک کرو ۔اللہ کی طرف سے تمھارے سوال کا جواب آیا ہے ،اس کا یقین و ایمان اس بات پر پختہ ہو گیا کہ میسج میں میرے لیے اللہ کا جواب آیا ہے حالانکہ وہ جانتا تھا کہ اسے دوست لطیفے وغیرہ میسج کرتے رہتے ہیں مگر اس وقت جیسے اسے یقین تھاکہ میسج دوست کی جانب سے ہی ہے لیکن پیغام اللہ کا ہے۔۔ موبائل اٹھایا، میسج پڑھا، جو کہ وارث شاہ کی ایک کافی تھی۔۔۔

پتھر ذہن گلاب نئیں ہوندے
کورے ورق کتاب نیئں ہوندے
جے کر لائیے یاری سجناں
فیر یاراں نال حساب نیئں ہوندے!

راجہ محمد احسان
راجہ محمد احسان
ہم ساده لوح زنده دل جذباتی سے انسان ہیں پیار کرتے ہیں آدمیت اور خدا کی خدائی سے،چھیڑتے ہیں نہ چھوڑتے