دوسری شادی۔۔( قسط3)محمد اقبال دیوان

ہمارے دیوان صاحب کی یہ کہانی ان کے علاقے کے سنے سنائے واقعات پر مبنی ہے۔یہ ان دنوں کا ذکر ہے جب آزادی کا سورج بطن گیتی سے طلوع ہونے کو تھا اور نقل مکانی زور پکڑ رہی تھی۔امید ہے اس کا بیانیہ خاک اور خون میں لتھڑا ہونے کے باوجود ایک تلخ حقیت مان کر تسلیم کیا جائے گا۔
ایڈیٹر ان چیف

دوسری قسط کا آخری حصہ
اس بات پر کچھ دیر تو خاموشی رہی۔سنجو نے جب جتایا کہ میں تو تمہاری ہر بات کا جواب دیتی ہوں تم نے کچھ بتایا نہیں کہ میں ساتھ نہ چلوں تو کیا کروگے۔کیشو نے بہت دھیمے سے مگر ایک یقینی انداز میں ڈرایا کہ ”نہیں بات مانے گی۔ ہندوستان میرے ساتھ نہیں چلے گی تو کرنا کیا ہے۔ کیمیکل کا کام ہے۔دکان پر تیزاب کے ڈرم رکھے ہیں۔تیرا جو وہ قصائی یار ہے نا۔ کسی گنتی بنتی میں مت رہئیو۔ سالے کو اٹھنی(آدھا روپیہ) دوں گا کہ چل اپنی مسلمان بہن پر ایک بوتل میرے سامنے جانے والے دن تیرے تیزاب پھینک دے۔ اٹھنی کام کے بعد۔ ایک روپیہ تیری جیسی کے لیے بہت۔ میں دیکھتا میرے بعد کون تیرا سینہ، شلوار کھولتا ہے۔“

tripako tours pakistan
سِل بٹہ

تیسری قسط
جس طرح کے اردگرد کے حالات کا دور دورہ تھا اور جیسا صداقت کا ساتھ میسر تھا ،ان عوامل کو سامنے رکھ کر۔اس جیسی بدن اور اعصاب کی مضبوط کوئی اور لڑکی ہوتی تو کیشو رام جب سوگیا ہوتا تو اس بکواس اور دھمکی کو سن کر کچن سے بٹہ سل پر سے اٹھالاتی اور اس کا سر کچل  دیتی ،مگر فجر سے کچھ دیر پہلے اس نے دودھ مانگا۔ اپنی معمول کی دوسری اننگ کھیلی۔سوگیا اور سویرے ناشتہ کرکے چلاگیا۔ اس کے جانے کے بہت دیر بعد تک سنجو جمیلہ اسٹریٹ پر جائزہ لیتی رہی۔ اسے شک تھا کہ کہیں آس پاس ہی نہ منڈلا رہا ہو، کہہ کر تو گیا تھا دوپہر سے پہلے آجائے گا۔ صداقت لال دوپٹے کا سگنل الگنی سے اتر جانے کے بعد اوپر آیا تو سنجو نے بھی ا صداقت کو صرف اتنا بتایا کہ کیشو نے دھمکی دی ہے کہ ہندوستان اس کے ساتھ نہ جانے کی صورت میں وہ مجھ پر دکان پر جو تیزاب کے ڈرم رکھے ہیں ان سے بوتل بھر لائے گا۔تیرا جو وہ قصائی یار ہے اس حرامی کو اٹھنی دوں گا، چل اپنی مسلمان بہن پر ایک بوتل میرے سامنے جانے والے دن تیزاب پھینک دے۔اٹھنی کام کے بعد۔ میں دیکھتا ہوں میرے بعد کون تیرا سینہ ،شلوار، کھولتا ہے۔“

یہ سن کر صداقت نے کیشو رام کو ماں کی بڑی سی گالی دی۔اسے گلے لگا کر پوچھا کہ” وہ اس کا کون ہے؟ تو سنجو کہنے لگی ”خا وند“ صداقت نے کہا ”وہ بھی اسے اپنی بیوی ہی مانتا ہے۔نکاح مولوی کا شک ہے تو چل میرے ساتھ ابھی کمیلے کے ْقصائیوں  کو بلا کر دو بول پڑھ کر نکل جاتے ہیں۔اس کا باپ بھی نہیں ڈھونڈ پائے گا۔اس دن جہاں چیتومل ڈسپنسری کے پاس دو بنئیوں کا پیٹ پھاڑا تھا ، وہاں اوپر کے مالے کے فلیٹ پر میرے شاگرد صابر لمبو کا قبضہ ہے۔میرا والا گھر اسے دے دیتے ہیں اور ہم اس والا گھر لے لیتے ہیں۔ کوئی قضیہ نہیں ہوگا“۔

سنجو نے بتایا کہ”سامنے جو بند والا کمرہ ہے اس میں ایک تجوری میں سونے کے زیور بھی ہیں  اور دو بکسے نوٹوں کے بھرے ہیں۔ اس کا یہاں پاس کسی بلڈنگ میں اپنا بھی گھر ہے۔ کیا پتہ وہاں بھی مال رکھا ہو؟“۔ اس پر ”صداقت نے کہا تُو لالچ میں پڑگئی ہے۔اس کا نقصان بھی ہوسکتا ہے“۔ سنجو نے سمجھایا کہ ”روانگی میں ابھی پورے تین دن باقی ہیں۔ کل تک سب بات کھل کے سامنے آجائے گی۔میں اس دوران کوشش کروں گی کہ تم نے جو تسلے میں چاند دکھانے کی بات سمجھائی ہے اس پر کام دکھاتی رہوں۔ شک نہ ہونے دوں کہ میرا تمہارا آگے کا کیا منصوبہ ہے۔ تم سے تیزاب کی بات
کرے تو تم ا یک کی بجائے دو روپے کی بات کرنا۔پولیس کچہری سے ڈرانا۔ایک روپیہ بیعانہ بھی لے لینا۔میں جب یہ گھر پر ہوگا تو خطرے کی جھنڈی لال دوپٹہ الگنی پر ڈال کر رکھوں گی اور دنگا فساد ہو ا تو بالکونی میں آجاؤں گی۔ تم میری خاطر ان دوتین دن کہیں آس پاس ہی سامنے چھپ کے نظر رکھنا۔کمینہ انسان ہے اس کا بھروسہ نہیں۔سوچو اس کو مارنا ہو تو کب مارنا ہے۔کیا چھرا مارنا ضروری ہے۔میرا دل تو چاہتا ہے کہ تم اس کو تیزاب والی دھمکی پر میرے سامنے ٹکڑے کردو۔ اس سے میری روح کو سکون ملے گا“۔

اس نے سنجو کے سر پر ہاتھ  رکھا اور اپنی ماں کی قسم کھاکے کہنے لگا ”سسرے کا بغدے سے پہلے تو تیزاب سے دھوکر ختنہ کروں گا ،پھر اس کی روح تیرے سامنے ہی قبض کروں گا۔سالے وہاں ہندوستان میں بھی بدمعاشی اور یہاں ہمارے جناح صاحب کے پیارے پاکستان میں بھی قتل کی دھمکی“۔

اس کی بات سن کر سنجو مسکراکر کہنے لگی ”بھولے بادشاہ ختنہ کے بعد تو کیشو رام مسلمان ہوجائے گا۔ہم نے مسلمان کو نہیں مارنا“۔ اس  پر صداقت سینہ پھلا کر کہنے لگا ”خالی ختنہ سے مسلمان تھوڑی ہوتے ہیں۔کلمہ پڑھنا پڑتا ،اللہ کو واحد اور پیارے نبی کو سچا ماننا پڑتا ہے“۔

سنجو نے کہا ”سدوجان تم پاس ہوتے ہو تو مجھے لگتا ہے ایک دنیا میرے پاس ہے۔میرا سہاگ میرے سر پر ہے۔باپ تو جانے کون تھا مگر میرے مرد صرف تم ہو۔ وہ کیا ہے کہ مردود کہہ کر گیا ہے کہ دوپہری میں کھانا ساتھ کھائیں گے۔ دال چڑھانی ہے۔بھنا گوشت بھی بنانا ہے۔ تم اب پتلی گلی سے نکل لو۔آگیا تو بہت اودھم مچ جائے گا“۔

چلتے چلتے سنجو کو صداقت نے ایک دفعہ پھر نصیحت کی کہ ”اس دوران کیشو سے ڈرنا نہیں، لڑنا نہیں۔ سمجھ لے تو برف خانے کی چمار ہے۔غصہ نام کو نہیں۔ جب تجھے ساتھ سامان لے کر گھوڑا گاڑی میں بیٹھ رہا ہوگا تب بھی کمیلے میں ایسے لڑکے ہیں کہ اس کا کیا کوچوان اور گھوڑے کا بھی چھرے مار قیمہ بنادیں، کل بھی ایک سکھ ایک ہندو کو رام باغ کے پاس لمبا کرکے آئے ہیں“۔

سونے کا دانت

کیشو آیا تو سنجو ڈر گئی۔ اس کے ساتھ کپڑے کی ایک تھیلی میں سفید پانی کی دو بوتلیں بھی تھیں۔ایک چھوٹی ایک بڑی ۔ گھر میں گھستے ہی سمندری جہاز کے کیبن کے دو ٹکٹ بھی اس نے سنجو کی آنکھوں کے سامنے نچائے بتانے لگا یہ مرچنٹ نیوی شپ دوارکا کے دس اگست کے ٹکٹ تھے۔

سنجو نے پوچھا کہ بوتل میں کیا ہے تو کھی کھی اپنا سونے کا دانت دکھا کرکے کہنے لگا کہ”تیزاب کی بوتلیں تیری نظروں کے سامنے رہیں گی تو جیسے گھوڑی چابک کی وجہ سے سیدھی چلتی ہے تو بھی قابو میں رہے گی“۔ یہ سن کر سنجو اندر ہی اندر خوف اور غصے سے کپکپاتی رہی۔ کہنے لگا ”تیار ہوجا۔یہ جو بکسے اور تجوری کا مال ہے یہ سامنے والی بلڈنگ میں میرا فلیٹ ہے۔وہاں لے کرجانا ہے۔ وہاں سے دس اگست صبح دس بجے ہماری روانگی ہوگی“۔

اس پر سنجو نے پوچھا کہ ”اپنے اس والے گھر سے کیوں نہیں۔کہنے لگا۔ ہماری والی بلڈنگ میں ایک ہندو فیملی ابھی رہتی ہے۔اس نے بھی ساتھ جانا ہے۔یہاں موہن کمار گردھاری رام جو ہمارے نوکر کا بیٹا ہے۔ وہ رہنے آجائے گا۔اس کو معلوم ہے کہ یہاں پہلے انیل مو ٹوانی وکیل رہتا تھا۔ اس کی ماں ان کی دور کی رشتہ دار تھی۔کھانا کھاکر اس نے کہاکہ”میں تیرے یار صداقت کو بلا کر لاتا ہوں۔سوچا ہے تیرا کام چھری سے اپنی آنکھوں کے سامنے اتروا دوں۔ تیرا کوئی بھروسہ نہیں۔میرے اندر سے کچھ کہتا ہے توبہت گڑبڑ عورت ہے۔پجاری جی سے تیری کل کنڈلی نکلواکر دیکھوں تیرے کیا ارادے ہیں؟ “

یہ سب کچھ سن کر سنجو سراسیمہ ہوگئی۔کیشو نے جو یہ ماجرا دیکھا تو کہنے لگا ”سالی ڈر مت۔مذاق کررہا تھا۔میں اس کو لینے جاؤں تو جو بند کمرے میں صندوق میں نے نوٹوں سے بھرے ہیں ان کو نکال کرسامنے جو تالے لٹک رہے ہیں وہ بکسے کی کنڈی میں لگادینا۔ اوپر انیل بھائی کی کتابیں رکھ دینا کہ صداقت کو لگے کہ ہم قانون کی قیمتی کتابیں ادھر اُدھر کرتے ہیں۔ ایک آنا دیں گے تو راضی ہوجائے گا“۔

کیشو چلا گیا تو سب سے پہلے اس نے اللہ توبہ کرکے اچھی طرح سے خود کو بچا کر کپڑے سے پکڑ کر کچن میں ایک کاکروچ پر بوتل کھول کر ذرا سا تیزاب کا ٹیپا (بوند) ڈالی تو بے چارا سلگ کر سیکنڈ میں مرگیا۔اس سے سنجو کو یقین آگیا کہ واقعی بوتل میں تیزاب بھرا ہے۔سنجو نے بصد احتیاط ادھر ادھر دیکھا اور فلیٹ کے سامنے نکل کر چھوٹے سے گٹر کا ڈھکنا اٹھا کر دنوں بوتلیں انڈیل دیں۔ تیزاب کا باقی ماندہ اثر بھی زائل کرنے کی خاطر کئی دفعہ پانی بھر کے انڈیلا اور پھر اپنی تسلی کرنے اور تیز ا ب کا باقی ماندہ اثر جانچنے کے لیے ایک مکوڑے پر ڈالا تو وہ پریشان ضرور ہوا مگر چلتا پھرتا رہا۔سنجو نے ایسے ہی دونوں بوتلوں کو پانی سے بھر کپڑے سے صاف کرکے واپسی جہاں کیشو چھوڑ کے گیا تھا وہیں جما دیا۔اس کے بعد وہ اپنا مشن پورا کرنے میں لگ گئی۔صداقت اور کیشو لوٹے تو پورا پون گھنٹہ ہوچلا تھا۔ کیشو کہنے لگا”وہ صداقت بھائی بھی ہوٹل پر کھانا کھاکر کسی کے ساتھ سینما کی طرف نکل گئے تھے۔ وہ تو میں ان کو وہاں سے پکڑ کے لایا ورنہ سینما میں گھس گئے ہوتے“۔

بکسے دو تھے۔ ان میں اگر صرف کرنسی نوٹ ہی بھرے ہوتے وزن خاص نہ ہوتا۔ فلیٹ منتقلی کے وقت دونوں ایک ایک صندوق اٹھا سکتے تھے۔ مگر کیشو کی ہدایت پر چونکہ سنجو نے انیل کی بھاری بھرکم چھ چھ کتابیں ان میں ٹھونس دی تھیں لہذا ان کو اٹھانا ایک آدمی کے بس کی بات نہ تھی۔ سنجو نے سوچا اب پاس پڑوس کی بلڈنگ کے بند فلیٹوں پر قبضے شروع ہوگئے ہیں۔ اسباب کی اس منتقلی کو ممکن ہے کیشو اس نقل و حرکت کو معمول کی کارروائی ظاہر کرنا چاہتا ہوتاکہ پاس پڑوس میں کسی کو شک نہ ہو۔اسے کیشو کی عیاری پر رشک آیا کہ ایک آنا جو شاید اس کی وجہ سے صداقت بطور اجرت قبول بھی نہ کرے۔اسے لگا کہ کیشو کا منصوبہ شاید یہ ہے کہ اس نے ایک معتبر گواہ اور ایک بڑاخزانہ ادھر سے اُدھر کردیا اور کسی کو کان و کان خبر نہ ہوئی۔بکسوں کے وزن کی وجہ سے دونوں کو دو پھیرے کرنے پڑے۔دوسرے پھیرے میں بنیئے نے سنجو کو بھی ساتھ لے لیا۔یہ فلیٹ انیل کے فلیٹ سے چھوٹا تھا مگر سامان سے لدا پھندا۔ایسا لگتا تھا اس کے مکینوں کو یقین تھا کہ اس مسکن میں انہوں نے برسہا برس رہنا ہے۔

کیشو نے اسے وہاں رکھا  سب کچھ سامان دکھا دیا ۔ دو تجوریاں تک جن میں زیورات اور دھات کی چند قدیم مورتیاں بھی رکھی تھیں۔سنجو کو پتہ نہ تھا کہ اصل دولت تو یہ قدیم مندروں سے ہتھیائی ہوئی مورتیاں ہیں۔کیشو نے اسے بتایا کہ جانے والی رات ،انیل موٹوانی والے فلیٹ کی تجوری خالی کرکے ہم دونوں یہاں آجائیں  گے۔ بمبئی میں اس دولت کے ساتھ ہم کاروبار کریں گے۔ابھی ہمارے پاس ڈھائی دن ہیں۔

ہنومان
ہنومان بطور سیتا کے سیکورٹی چیف

یہ سب کچھ کہہ کر اس نے سنجو کو بستر میں گھسیٹ لیا اور اس کی برہنگی کا لطف لے کر پیار کرتے کرتے کہنے لگا کہ میں  نے ٹکٹ سے دس گنا زیادہ قیمت دے کر پورا کیبن لے لیا ہے۔سمندر پر جب جہاز ہوگا تو تیرا کام پانی کرے گا۔خود ہی اوپر نیچے کرے گا تیری محنت بچ جائے گی تو مزے سے نیچے ننگی پڑی رہنا۔سنجو نے اس سے شکوہ کیا کہ ایک طرف توگھر میں بوتلیں لاکر مجھے تیزاب سے جھلسانے کی بات کرتے ہو تو دوسری طرف میری محنت بچا نے اور فلم کی ہیروئین بنانے کے سنہرے سپنے بھی دکھا تے ہو۔ تم کیسے پتی ہو۔ میں  نے تمہیں وچن دیا ہے کہ میں مرتے دم تک تمہاری ہوں۔سنجو نے صداقت کی برف خانے کے چمار والی ہدایت کو تریا چلتر میں چھپا کر جب اس نئی جگہ پر دوران وصل اپنی جوانی سے بھرپور وحشت کا مظاہرہ کیا تو کیشو کو یقین آگیا کہ سنجو جو نسلاً ایک ویشا ہے وہ اس کی دولت دیکھ کر وفا کی پتلی بن گئی ہے۔

واپسی پر کہنے لگا ڈر مت بوتل میں ہمارے پنڈت جی نے ہنو مان چالیسے کا جو جاپ کیا تھا اس کا پڑھیلا پانی ہے۔ چھوٹی بوتل جہاز چلے گا تو سمندر کے پانی میں ڈال دیں گے۔اس سے سمندر کا پانی تیری گود کا بچہ بن جائے گا۔اپنے پاس ہوگاتو اپنی رکھشا کاذمہ بھگوان ہنومان کا ہوگا۔

سنجو نے پوچھ لیا کہ ”آپ کے یہ ہنو مان جی کون ہیں؟۔ کیشو بتانے لگا ”ہنومان ہندوؤں کے بھگوان ہیں۔ ان کا ذکر ان کی مقدس کتاب رامائن میں موجود ہے۔یہ ہمارے محبت، لگاوٹ، ہشیاری اور شکتی کے بھگوان ہیں۔ہماری سنسکرت بولی میں ہنو کا مطلب ہوتا ہے جبڑا اور مان کا مطلب ہے بگڑا ہوا (اصل میں بد وضع۔disfigured’)۔ہندوؤں کا ماننا ہے کہ صدیوں پہلے وہ ایک بے حد طاقتور اور شریر بچہ تھے جو ایک دن سورج کو کوئی پھل سمجھ کر اسے توڑ کے لانے کے لیے آسمانوں میں جا گھسے۔ان کی اس جسارت پر دیوراج اندرا کو پیار بھی آیا مگر غصہ بھی بہت ہوئے اور انہیں زور سے واپس زمین پر دے پٹخا۔ اس چوٹ سے بے چارے بچے کا جبڑا ٹوٹ گیا۔ہنومان جی چونکہ ایک پل سکون سے نہ بیٹھتے تھے اسی وجہ سے کسی دیوتا کو بھی ناراض کربیٹھے اور ان کی ساری روحانی طاقت سلب ہوگئی۔بہت عرصے تک یہ عالم رہا پھر دیوتا جھمبا وانتھا کو ان پر رحم آیا اور ان کو دیوتا نے مزید ترقی دے کر ماں سیتا کا محافظ خصوصی بنادیا۔ “

اسے گھر پر چھوڑ کر کیشو یہ کہہ کر چلاگیا کہ آج کیماڑی والے مندر میں جاگرن (رت جگا) ہے ۔وہ صبح سات بجے ناشتہ لے کر آئے گا وہ چاہے تو اسے اس کی اپنی ماں کے گھر چھوڑ سکتا ہے۔واپسی پر لے گا ۔ کیشو کو یہ علم نہ تھا کہ اس کی والدہ اب نئیپئر روڈ پر کم اور رشید کھتری کے گھر شیر شاہ کی طرف زیادہ رہتی ہے۔

گھاگھرا
گھاگھرا

اس نے کہا”نہیں وہ بھی نہادھوکر عبادت کرے گی کہ ممبئی کا سفر خیریت سے گزرے۔امی آئیں گی۔سامان بندھا ہوا دیکھیں گی تو شک ہوجائے گا کہ میں تمہارے ساتھ ہندوستان جارہی ہوں۔ان کو اچھا نہیں لگے گا۔مجھے ہوسکتا ہے ساتھ ہی لے کر چلی جائیں تم کہاں ڈھونڈو گے“۔یہ عذر سن کر کیشو  اس کی دور اندیشی اور معاملہ فہمی سے بہت متاثر ہوا۔ انعام کے طور پر اس نے سنجو کو پھر سے بسترمیں کھینچنا چاہا مگر سنجو نے یہ کہہ کر جان چھڑائی کہ رات کے جاگرن کے بعد تم بھی صبح صبح ناشتے سے پہلے خود شریر ہنومان بن کر سورج کو پھل سمجھ کر اسے توڑ نے میری شلوار میں گھسو گے تب اپنی جاگرن کا کرشمہ دکھانا۔ ابھی جاؤ ناری کی خاطر من میلا مت کرو“۔ یہ سن کیشو نے کہا ”ہنومان جی میں بہت شکتی ہے واپس آؤں تو گھاگرا چولی پہن کے تیار رہنا۔بندی ٹیکا بھی لگانا۔تجھے بن  نکاح  کی برفی کھلاؤں گا۔“

اس گھر سے دوسرے فلیٹ پر چلتے وقت سنجو نے اپنا جو دوپٹہ بھگودیا تھا وہ گھر میں آتے ہی الگنی پر سکھادیا تھا۔دھوپ تو کوئی خاص نہ تھی مگر ہوا میں حبس تھا سو وہ سوکھ گیا تھا مگر سنجو نے اسے الگنی سے اتارنے میں جلدی نہ کی۔کیشو نے گھر کے پاس ہی ایک بگھی روکی اور مندر جانے کے لیے اپنی سفید دھوتی کرتا سمیٹ کر سوار ہوگیا۔جب گھوڑا گاڑی جوبلی سنیما سے آگے بڑھ گئی تب بھی سنجو نے دوپٹہ الگنی سے نہ اتار ا۔ صداقت خود بھی کیشو کو ماما سلاوٹ کی کیبن سے لگ کر بگھی میں بیٹھ جاتے ہوئے دیکھ چکا تھا۔

دوپٹہ کیشو کی روانگی کے بعد بھی الگنی پر لٹکا دیکھ اسے بڑی تشویش ہوئی۔سنجو نے البتہ جو فرمائش گھاگھرا چولی،بندی، خوشبو کی سنجو سے کی تھی وہ اس کی تیاری میں لگی رہی۔صداقت کو گماں گزرا کہ شاید بنیا کہیں قریب میں کسی سے معتبر بن کر بگھی میں سوار ملنے گیا ہے۔سو گھر جاکر سوگیا اور غسل کرکے جب نکلا تو الگنی پر دوپٹہ نہ تھا۔اس نے سامنے سے ایرانی کے ہوٹل سے پیٹیز اور کیک خریدا،احتیاطاً بلڈنگ کے پیچھے گلی میں موجودہ نور مسجد والی گلی کی تکون سے ایک چکر لگایا اور سنجو کے پاس جاپہنچا۔
سنجو کی سجاوٹ دیدنی تھی۔چولی سے امڈ امڈ پڑتی تھی۔

چائے بنانے میں تو کچھ دیر نہ لگی مگر شکوے شکایت کاندھے پر سر رکھ کر ہلکے ہلکے چومتے ہوئے تادیر جاری رہے کہ مجھے دوپٹہ الگنی سے کھینچے دو گھنٹے ہوگئے۔میری جان پر کبھی بن آئی تب بھی تم اپنے کیک پیٹیز کے چکر میں پڑے رہو گے۔اس نے لاکھ سمجھایا کہ ایک تو آج کام زیادہ تھا دوسرا کام کے بعد نہانا دھونا ہوتا ہے۔مجھے کیا پتہ تھا میری سنجو جان جمیلہ اسٹریٹ والی میری دلہن بن کے بیٹھی ہوگی ورنہ ہم قصائیوں کی بارات تو ولیمے کی گائے اور بھٹیارے(کک) سمیت سدا کی تیار ہوتی ہے۔بول ابھی سہرا باندھ آجاتا ہوں۔

سنجو نے ایک دم سنجیدگی پکڑی اسے تیزاب کی بوتلیں اور اپنی کاروائی اور ہنومان جاپ جل کا بتایا۔سنجو نے نوٹ کی ایک گڈی اسے دیتے ہوئے کہا کہ اس نے دس روپے کی تین گڈیاں نکال لیں تھیں جب وہ دونوں صندوق پیک کررہی تھی۔مسئلہ یہ  ہے کہ ہمارے پاس صرف کل کی رات ہے اگر ہم نے ان گھروں پر اور کیشو کی دولت پر قبضہ کرنا ہے۔نو اگست کی رات کو ہم دوسرے والے گھر پر چلے جائیں گے۔بہت دیر تک یہ بحث ہوتی رہی کہ کل کلاں کو اگر کیشو کو سڑک پر مارا تو ممکن ہے کوئی دیکھ لے۔سڑک کی گواہی کو کس نے روکا ہے پولیس ابھی بھی اپنے کام میں لگی ہوئی ہے۔

سنجیدہ نے صداقت کو لاکھ سمجھایا کہ رات کے میل ملاپ کے بعد کیشو رام کو ذرا بھی ہوش نہیں رہتا۔بچوں کی طرح منہ  کھول ننگ دھڑنگ بستر پر آڑا ھا  ترچھا پڑا رہتا ہے۔وہ نہا دھو کرعشا کی نماز پڑھ دو گھنٹے سو لیتی ہے تب کہیں منمنا کر کیشو ”سنجو دودھ دے نا کی“ آواز نکالتا۔ فرمانبردار سنجو اٹھ کر اس کے لیے باورچی خانے میں زعفران کیوڑے پستے کا دودھ کا پیالہ گرم کرکے لاتی ہے۔اس کے بعد وہ اس کو مالش کا کہتا ہے اور فجر کی آذان سے پہلے ایک دفعہ پھر بستر پر جنگ ہوتی ہے۔

اس کے بعد کا معمول صداقت کو پتہ تھا ،کیوں کہ وہ بھی بھاگلپور سے پاکستان آنے کے بعد ہوتی مارکیٹ کے کمیلے میں جانور ذبح کرنے پہنچ جاتا تھا اور کیشو، شری سوامی نرائن مندر اپنی پوجا پاٹ کے لیے روانہ ہوجاتا ہے۔

Advertisements
merkit.pk

جاری ہے

  • merkit.pk
  • merkit.pk

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply