فریبِ اختیار۔۔عنبر عابر

میں اپنے بیٹے کے بغلوں میں ہاتھ ڈال کر اسے اپنے پیروں پر چلا رہا ہوں۔یہ اس کیلئے ایک نیا تجربہ ہے۔وہ چلتے ہوئے بار بار سر جھکا کر اپنے پیروں کی طرف دیکھنے لگتا ہے۔شاید وہ اس نئے تجربے کو سمجھنا چاہتا ہے۔
اگرچہ میں نے اسے تھام رکھا ہے لیکن منزل کی تلاش اس کے ذمے ہے۔وہ اپنی مرضی سے جہاں جانا چاہے جا سکتا ہے۔کبھی وہ مجھے درختوں کی طرف لے چل پڑتا ہے تو کبھی پانی کی ٹینکی کی طرف۔وہ کچن میں جاتا ہے اور برتنوں کو بجاتا ہے، کمرے میں جاتا ہے اور تین پہیوں والی سائیکل کا ہینڈل پکڑ کر اسے چلانے کی کوشش کرتا ہے۔وہ خوش ہے کیونکہ اسے اپنی مرضی اور ارادے کا احساس ہورہا ہے۔شاید وہ سمجھتا ہے کہ وہ ہر اس شے کو اپنی دسترس میں لا سکتا ہے جس کیلئے اس کے دل میں طلب پیدا ہو۔
تب وہ کچن کی طرف جاتا ہے اور توے کی طرف دیکھنے لگتا ہے۔توا گرم ہے اور وہ اسے ہاتھ لگانے کا ارادہ ظاہر کرتا ہے۔تب میں اسے اچک کر گود میں اٹھا لیتا ہوں اور کچن سے باہر لے آتا ہوں۔اس کا ارادہ ناکام ہوجاتا ہے اور وہ بلند آواز سے رونے لگتا ہے۔تب میں سوچتا ہوں کہ دوبارہ اس کے ارادے کو ٹھیس نہیں پہنچانی چاہئے اور دوسرا طریقہ اختیار کرنا چاہئے۔
میں ایک بار پھر اسے زمین پر اتار دیتا ہوں اور اس کے بغلوں میں ہاتھ ڈال کر اسے اپنے پیروں پر چلانے لگتا ہوں۔اسے اس کی مرضی دوبارہ مل جاتی ہے۔
اپنی مرضی پاکر وہ اس جگہ جانے لگتا ہے جہاں دھونے کیلئے ڈھیر سارے برتن رکھے ہیں۔اس کی نگاہیں ایک تیز دھار چھری پر جم جاتی ہیں اور میرے دماغ میں خطرے کی گھنٹیاں بجنے لگتی ہیں۔میں سوچتا ہوں کہ اگر میں نے اس کا اختیار سلب کیا تو وہ دوبارہ رو پڑے گا۔
وہ دھیرے دھیرے چھری کی طرف بڑھنے لگتا ہے، تب میں اس کا ہاتھ اپنی معمولی سی حرکت سے چائے کی پیالی کی طرف پھیر دیتا ہوں۔اس کے ہاتھ میں چھری آنے کے بجائے چائے کی پیالی آتی ہے۔
بچہ پیالی سے ہنسی خوشی کھیلنے لگتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اس نے اپنے اختیار سے چائے کی پیالی پکڑی ہے جبکہ میں جانتا ہوں کہ اگر میں اسے اختیار کا فریب نہ دیتا تو وہ رو پڑتا۔

  • merkit.pk
  • merkit.pk

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply