• صفحہ اول
  • /
  • خبریں
  • /
  • برطانوی فوج کی مدد کرنے والے افغانیوں کو برطانیہ میں رہائش دینے کا فیصلہ

برطانوی فوج کی مدد کرنے والے افغانیوں کو برطانیہ میں رہائش دینے کا فیصلہ

افغانستان میں برطانوی فوج اور حکومت کے لئے کام کرنے والے سینکڑوں مزید افغان باشندوں کو اہلخانہ سمیت برطانیہ میں رہائش دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

یہ سکیم ،افغان ریلویکشن اینڈ اسسٹنس پالیسی 1 اپریل کو تشکیل دی گئی تھی۔

tripako tours pakistan

جن کو رہائش دی جائے گی ان میں زیادہ تر ترجمان ہوں گے اور توقع ہے کہ سب کے اہلخانہ سمیت کل تعداد3ہزار سے زیادہ ہوگی جبکہ اس سے قبل13 سو باشندوں کو رہائش دی گئی تھی۔

برطانیہ کے سکریٹری دفاع بین والیس نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ ان لوگوں کی حفاظت کیلئے کیا گیا ہے کیونکہ بین الاقوامی فوجیں ملک چھوڑنے کی تیاری کر رہی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا جنہیں افغانستان سے منتقل کیا جا رہا ہے ان کو غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد طالبان سے خطرہ ہو سکتا ہے۔

اس سے قبل سخت شرائط رکھی گئی تھیں اور زیادہ اہم کردار ادا کرنے والوں کو برطانیہ میں رہائش دی جاتی تھی۔

لیکن نئی حکومت کی پالیسی کے تحت، کسی بھی موجودہ یا سابقہ ​​ملازم جس کی جان کو خطرہ ہو برطانیہ کیا جائے گا۔

حکومت نے کہا کہ یہ اس حقیقت کی عکاسی کرنے کے لئے کیا گیا ہے کہ افغانستان میں سیکیورٹی کی صورتحال تبدیل ہوگئی ہے اور انھوں نے پچھلے 20 سالوں میں برطانیہ کی حکومت اور فوج کے لئے کام کرنے والے مقامی عملے کے لئے ممکنہ خطرے کو تسلیم کیا ہے۔

ایک حکومتی بیان میں کہا گیا ہے کہ افغانستان سے فوجی دستوں کی واپسی شروع کرنے کے فیصلے کے بعد ، وزیر اعظم نے وزارت دفاع ، ہوم آفس اور وزارت ہاؤسنگ ، کمیونٹیز اور بلدیاتی حکومت کے ساتھ درخواستوں پر تیزی سے عمل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ابھی یہ واضح نہیں ہوسکا ہے کہ کتنے افغان باشندے برطانیہ منتقل ہوں گے، لیکن حکومت نے3 ہزار سے زیادہ افراد کی آبادکاری کا اندازہ لگایا ہے۔

Advertisements
merkit.pk

نئی اسکیم میں ماضی کی نسبت زیادہ لوگ درخواست دے سکیں گے لیکن ہر وہ شخص جس نے انگریز کے لئے کام کیا اوہ درخواست دینے کا اہل نہیں ہوگا۔ کیوں کہ ماضی میں ایسے افراد کو ملازمت سے بے دخل بھی کیا گیا جنہوں نےسنگین غلطیاں کیں۔

  • merkit.pk
  • merkit.pk

خبریں
مکالمہ پر لگنے والی خبریں دیگر زرائع سے لی جاتی ہیں اور مکمل غیرجانبداری سے شائع کی جاتی ہیں۔ کسی خبر کی غلطی کی نشاندہی فورا ایڈیٹر سے کیجئے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply