دوسری شادی۔۔( قسط2)محمد اقبال دیوان

ہمارے دیوان صاحب کی یہ کہانی ان کے علاقے کے سنے سنائے واقعات پر مبنی ہے۔یہ ان دنوں کا ذکر ہے جب آزادی کا سورج بطن گیتی سے طلوع ہونے کو تھا اور نقل مکانی زور پکڑ رہی تھی۔امید ہے اس کا بیانیہ خاک اور خون میں لتھڑا ہونے کے باوجود ایک تلخ حقیت مان کر تسلیم کیا جائے گا۔
ایڈیٹر ان چیف

پہلی قسط کا آخری حصہ
رات کیشو کو اس نے کھانا تو اچھا کھلایا۔تازہ کلیجی دہی اور کھیر مگر بستر میں دوری رکھی۔اسے لگا کہ یہ بدن اب اس سے دور ہوگیا۔رات کو جب وہ گہری نیند میں تھی کیشو نے اس کو قابو کرلیا۔صبح کیشو جلدی چلا گیا۔آج مندر میں بڑا جاپ تھا۔صداقت نے لٹکی ہوئی رسی کو معمولی سا جھٹکا دیا تو ٹوکری نیچے رسی سمیت آگئی اور وہ ایک دفعہ پھر گوشت اس میں ڈال کر سنجو سے ملنے پہنچ گیا۔

tripako tours pakistan

دوسری قسط
سنجو نے آج جامنی کُرتا اور سفید چوڑی دار پاجامہ پہنا ہوا تھا۔تنگ کُرتے اور گھوڑے کی طناب جیسی کھنچی کھنچی برا سے سینے  کا ابھار جان لیوا ہوگیاتھا۔سنجو کی چونکہ عام لڑکیوں سے مختلف انداز میں  پرورش ہوئی تھی، لہذا پردے کا وہ چال چلن نہ تھا جوقیام پاکستان سے سن ساٹھ کی دہائی تک عام رواج مانا جاتا تھا۔باہر نکلتے وقت وہ البتہ عراقی برقعہ ڈال لیتی تھی جو سامنے سے کھلا ہوتا تھا اور انگلی کی چٹکی سے سب کچھ سامنے سے چھپابھی لیتا تھا۔

اعراقی بُرقعہ
طنابیں
سنجو

صداقت نے ویسے ہی جھینپ اور گھگھیا  کر گفتگو کا آغاز کیا کہ ”آج وہ آپ کے پتی احمد حسین دہلوی صاحب“جس پر سنجو نے شرارت کے انداز میں کہا ”چائے پینی ہو تو ویسے ہی بنادیتی   ہوں۔پاپے بھی ہیں۔کہیں تو پراٹھا بھی انڈے کے ساتھ دے دیتی ہوں مگر وہ میرے خاوند ہیں اور ان کا نام کیشو رام ہے۔آپ کو اگر اس کا بھی شوق ہو کہ میرا نام کیا ہے تو بندی ناچیز کوسنجیدہ خاتون عرف سنجو کہتے ہیں۔میرا نام سنجیدہ خاتون آپ کا نام حضرت رنجیدہ عرف دکھی پریم نگری“۔یہ کہہ کر اپنی بات پر ہنس دی،صداقت بھی خوش مزاجی کے اس مظاہرے پر مسکرادیا۔
اصل میں کیا ہے کہ  آج پھر آپ کی ٹوکری کی رسی پھسل کر نیچے آن گری تو مجھے آپ کو تکلیف دینی پڑی۔

سنجو نے جتایا کہ اس نے دیکھ لیاتھا کہ وہ ادھر اُدھر دیکھ کر خود ہی رسی کھینچ رہا ہے۔اچھا ہے، مجھے یہ چالبازی اچھی لگی۔میں خود بھی بہت شریر ہوں بہانہ کرنے کی ضرورت نہیں۔یوں بھی یہ ٹوکری میں کیشو کے جانے کے بعد ہی لٹکاتی ہوں۔ کل سے آپ خود ہی آجائیں مگر بہانے نہ بنائیں۔سنجو نے پوچھا کہ وہ کیا یہاں قریب میں رہتا ہے کہ کہیں دور؟ اس پر صداقت نے اسے بالکونی میں لے جاکر اشارے سے بتایا کہ سامنے والے لائن کے کونے پر نچلے مالے کا جو آخری ہرے دروازے والا فلیٹ ہے وہ میرا گھر ہے۔

سنجو نے پوچھا آپ ہوتی مارکیٹ جمیلہ اسٹریٹ سے کیوں نہیں جاتے؟۔گھر میں کون ہے؟۔ناشتہ کھانا کون بناتا ہے؟۔اسے جمیلہ اسٹریٹ سے نہ گزرنے کے علاوہ تمام جوابات سن کر دکھ ہوا۔جمیلہ اسٹریٹ سے ذرا لمبا پھیرا پڑتا ہے۔گھر میں کوئی نہیں۔ناشتہ کھانا سب ہوٹل سے ہوتا ہے۔

سنجو نے پیشکش کی وہ ناشتہ اس کے ہاں کرلیا کرے۔ ایک آدمی کا کیا ہے۔وہ اس کا مسلمان بھائی ہے۔یوں بھی انسان ہی انسان کے کام آتا ہے۔

بات ناشتے سے آگے بڑھ گئی۔ دیکھتے ہی دیکھتے ایک دوسرے کے منہ میں نوالے بھی دینے لگے۔گلے بھی لگے۔قول قرار بھی ہوئے۔ صداقت نے اسے سمجھایا کہ کیشو رام سے اس کا تال میل نصیب کی مجبوری تھی ،اب کیشو رام کے ساتھ وہ جو تعلق نبھا رہی ہے وہ بربادی ہے ۔ہندو مسلمان کی شادی پاپ ہے۔وہ کہے تو آج ہی نکل جاتے ہیں۔شہر بڑا ہے کہیں اور رہ لیں گے۔شادی کرلیں۔جھونپڑی میں بھی خوش رہ لیں گے۔اب جان لیا ہے تو گناہ کیا کرنا۔

اس نے مزید پیشکش کی یہیں رہنا ہے تو بنیا جب جاتا ہے جمیلہ اسٹریٹ پر پارسی کمپاؤنڈ کے سامنے ہی بندر روڈ مڑتے وقت ایک بڑی کچرہ کنڈی ہے۔ کیشو رام چھری کے ایک وار کی مار ہے۔پیچھے سے منہ  پر ہاتھ  رکھ کر وہ حلق تک کھینچ دے گا ۔ کس نے دیکھا۔ کس نے پوچھا۔ وہیں ڈھیر پر ڈال کر لاش پر کچرا پلٹ دے گا۔کتے کوئے نوچیں گے تب کسی کو پتہ لگے گا۔انہوں نے ہمارے بھاگلپور میں بہت مسلمان مارے، بچے تک جلادیے۔جوان عورتیں اور بچیاں ساتھ لے گئے۔سنجو نے صداقت کے منہ  پر ہات رکھ دیا کہ اللہ مرنے مارنے کی بات مت کرو۔میرا دل ہول کھاتا ہے۔مجھے تمہاری محبت پر پورا یقین ہے۔اللہ سے دعا کرو کہ خود ہی ہمارا راستہ بنادے۔

ایک دن صداقت کو کسی کباڑی کے ٹھیلے پر اردو کی کتابوں کا ایک پورا صندوق مل گیا۔عورتوں کے رسائل بھی تھے۔وہ اس نے سنجو سے وکیل کی چند کتابوں کے عوض لے لیا، رسائل کا ڈھیر اسے دے دیا۔

سنجو کو اردو پڑھنا آتی تھی۔مطالعے کا شوق بھی تھا۔اس کے گھر ناچ، گائیکی سکھانے کے علاوہ قرآن پڑھانے اور اردو سکھانے ایک مولوی صاحب بھی آتے تھے۔سندر تو ہمیشہ سے تھی ایک دن والدہ نے پردے کی اوٹ سے دیکھ لیا کہ مولوی صاحب درس دیتے وقت بچی کوتعلیم کم دیتے ہیں اور پیار زیادہ دیتے ہیں۔ ان کے ہاتھ  سنجو کے بدن کو لباس کے اندر ٹٹولتے ہی رہتے ہیں۔پاکستان میں تو اب بھی بچوں کو Bad Touch Good Touch کا فرق نہیں سمجھاتے،وہ زمانہ تو ابھی بہت ہی معصوم دور تھا۔ ممکن ہے جنس کے حوالے سے وارداتیں تب بھی ویسی ہی ہوں۔نجمہ بیگم نے دو چار پڑوسنوں کو جمع کیا، سب نے مولوی صاحب کو لات مار کے بھگا دیا۔ رنڈیوں کی جوان ہوتی بچیوں پر باجے والوں سے لے کر سب آنے جانے والوں ہی کی نگاہ بد رہتی تھی۔انہیں اس مسئلے سے نمٹنا بخوبی آتا تھا۔

کیشو نے انیل وکیل کی میز پر رسائل کا ڈھیر دیکھا تو اس سے پوچھ لیا کہ یہ خزینہء ادب کہاں سے آیا ہے؟ سنجو نے بتایا کہ وکیل صاحب والی کچھ موٹی موٹی کتابیں دے کر اس نے ہم وزن میگزین بدلے میں لے لیے ہیں۔ بنیاتھا، ماتھا ٹھنکا تو سہی مگر بولا کچھ نہیں۔

سنجو۔صداقت افئیر کو   کدکڑے لگاتے کل دو ماہ ہی ہوئے تھے کہ تمام دیش میں ایک بھونچال آگیا۔3 جون 1947 کو ہندوستان کی تقسیم کا اعلان ہوا۔اس اعلان کے بعد سے تو گویا ہندو مسلم نفرتوں کو ایک قانونی شکل مل گئی۔ اعلان کے چند ہی دن میں کیشو رام کچھ متفکر اور تنگ دل سا ہوگیا۔ سنجو سے الجھتا بھی تھا۔جس جنسی کھلواڑ کے لیے اس نے سنجو کو کھلونا جان سال بھر کے لیے خریدا تھا۔اس میں بھی دو وجہ سے گہرا بگاڑ آچلا تھا۔

سنجو اب اس قدر آسانی سے اسے ہاتھ  رکھنے نہ دیتی۔ اس کی وجہ ایک تویہ انکشاف تھا کہ یہ رقم اسے انیل موٹوانی کے ہاں سے ملی تھی۔اس رقم کی وجہ سے وہ اس کی زندگی میں آ نے کی حقدار ٹھہری ورنہ ویشیا عورت پر کون رقم لٹاتا ہے۔دوسرا صداقت کی محبت نے اس میں ایک احساس ندامت و گناہ کو جنم دیا تھا۔اس کی نگاہوں کے  سامنے اس کا شوہر بننے کا  متمنی ایک وجیہہ اور مہذب خاندانی مرد موجود تھا۔ جس کی دلیل کی وجہ سے وہ قائل ہو گئی تھی کہ کیشو رام سے اس کا موجودہ رشتے  کا آغاز تو کسی طور واقعی تقدیر کا جبر مانا جاسکتا ہے مگر اب کیشو رام کے ساتھ وہ جو تعلق نبھا رہی ہے صداقت کی شادی کی پیشکش کے بعد وہ واقعی ایک گناہء کبیرہ ہے۔

تجوری

دن بھر اس کے دل میں محبت اور ندامت کے دو جنونی دریا موجیں مارتے رہتے تھے۔اسی کشمکش میں ایک رات دیر سے گھر آئے کیشو رام نے ایک دھماکہ کیا کہ وہ اس ہفتے سمندری جہاز سے ہندوستان روانہ ہوجائیں گے۔اس کی ماں وہاں بہت بیمار ہے۔ چند ماہ وہاں بمبئی میں رہ کر واپسی پر اسے ساتھ لے آئیں گے۔ اس دوران نواسہ نواسی بھی پیدا ہوگا تو بہل جائے گی۔

یہ سب کچھ سن کر سنجو بہت پریشان ہوئی۔صداقت کو اس نے ماں کی طرف بھیج کر بلوالیا۔ماں نے جتایا کہ بلوچ سردار ہمارا اپنا مسلمان بھائی تھا جب اس کے ساتھ ملازمت میں وہ اسے کوئٹہ بھیجنے پر راضی نہ ہوئی تو ہندوستان تو دوسرا دیش ہے۔ بٹوارہ ہوگیا ہے۔ اب یہ دو مختلف دیس ہیں۔ شہر نہ چھوڑنے کی وجہ سے وہ رشید کھتری کے ساتھ ٹھٹھہ نہیں گئی، بلکہ اب اس کو ایک ہندو کا چلتا کاروبار شیر شاہ میں ملا ہے تو نئپیئر والے محلے کو چھوڑ وہاں رہنے اور شادی پر رضامند ہوئی ہے۔ماں نے سمجھایا کہ کیشو کو پیار سے سمجھائے کہ ہمارے ہاں کی لڑکی دوران ملازمت شہر سے باہر نہیں
جاتی۔وہ چاہے تو ہیرا منڈی کے چوہدری اور چند اور نائیکاؤں سے تصدیق کرسکتا ہے۔

جب اس مسئلے پر گفتگو سے سنجو کے نقطہ ء نظر اور انکار میں اسے اپنی پسپائی اور سنجو کی ضد دکھائی دی، تو اس نے دو ٹوک انداز میں مگر قدرے دھیمے لہجے میں سمجھایا کہ جو فیصلے بھاگ میں لکھے ہوں ان کو آسانی سے ٹالا نہیں جاسکتا۔کیشو رام نے بتایا کہ اب شہر کے اکثر ہندو سکھ کراچی چھوڑ ہندوستان جارہے ہیں۔ میٹنگیں ہوتی ہیں۔ وہ بھی اپنا کاروبار لپیٹ کے چلا جائے گا۔

رات بھی گھر پر آیا تو مو ڈ اچھا نہ تھا۔ سنجو بھی ماہانہ مجبوری کی وجہ سے دستیاب نہ تھی۔اسے حکم دیا کہ وہ صبح سے آہستہ آہستہ کرکے سامان باندھے۔ دوسرے کمرے پر جس میں اکثر تالا لگا رہتا تھا اور اک تجوری بھی رکھی تھی ،وہاں کافی دیر رہا۔سنجو اس کے لیے چائے لے کر گئی تو اس نے دیکھا کہ روپے کا ایک بکس بھر کے بیٹھا تھا۔اس کو لالچ دینے لگا کہ اتنی رقم سونا زیور ہے۔ہم بمبئی میں جوہو بیچ پر بنگلہ لے لیں گے۔ میں فلمیں بناؤں گا تیرے کو دلیپ کے ساتھ ہیرئن لینا ہے۔ کامنی کوشل، نادرہ، مدھوبالا، نورجہاں سب تیرے آگے ہیچ ہیں۔جس پر سنجو نے طعنہ دیا کہ یہاں تو کبھی سینما یا بگھی کی سیر پر سمندر دکھانے نہیں لے گئے اور اب یہ ضدم ضدی ہے کہ سمندری جہاز، جوہو بیچ، فلم کی ہیروئن۔

جاتے وقت کہہ گیا کہ شاید آج وہ اپنی طرف کے بڑوں کے ساتھ ہوگا ،اس کی ماں کا نیا گھر اس نے نہیں دیکھا۔ورنہ اسے بلالیتا۔سنجو نے بتایا کہ چھوٹی بہن کی طبیعت ٹھیک نہ تھی ورنہ وہ خود ایک آدھ دن میں چکر لگالیتیں۔

ایم این دوارکر

سنجو کے دل میں آئی کہ وہ اجازت دے تو کمیلہ دوپہر کو بند ہوجاتا ہے وہ صداقت بھائی کے ساتھ امی کی طرف ہوآئے، مگر اس نے خود کو روکا۔کیشو یہ پیشکش خود سے کرتا تو اور بات ہوتی۔شام کو اس کے دل میں دوسرا بکس باندھتے وقت ہول اٹھا تو اس نے نیچے گزرتے ایک چھوٹے سے لڑکے کو آواز دی اور ایک پیالے میں سالن ڈال کر ایک پیسہ دیا اور کہا وہ جو کونے پر گھر ہے ہرے دروازے والا وہاں صداقت بھائی کو جاکر دے کہ باجی بلا رہی ہیں، کیسا خراب گوشت دیا ہے۔سالن میں ذائقہ ہی نہیں آرہا۔

صداقت اتفاق سے نہا کر کہیں باہر جانے کے لیے نکل ہی رہا تھا۔اشارہ سمجھ گیا۔سامنے سے روٹی منگا کر بچے کو کہا مُنے تو بتا یار، سالن میں کیا برائی ہے؟۔فالتو فنڈ کی پنچائت  کھڑی کی ہے تیری باجی نے کہ گوشت ٹھیک نہیں۔اس نے بچے کو سامنے حلوائی سے برفی دلا دی تو بچہ برتن چھوڑ رفو چکر ہوگیا۔ صداقت اس کے بلاوئے پر پہنچا توسنجو روئی روئی سی بیٹھی تھی۔وہ گیا تو لپٹ کر دھائیں دھائیں کرکے روئی۔بتانے لگی کہ کیشو   ضد کررہا ہے کہ میرے ساتھ پانی کے جہاز سے بمبئی چل۔ میں کیوں جاؤں۔ایک سال کی یہاں کی شادی ہے؟ وہاں میرا کون ہے؟۔صداقت کو ایک سال کی شادی کا کچھ علم نہ تھا سو اس نے پوچھا بھی نہیں۔

سب کچھ سن کرصداقت نے کہا کہ کل بنئے کا کام اتار دیتے ہیں۔ کل بھی وہاں چیتو مل زچہ گھر (آج کا سوبھراج میٹرنٹی ہوم)کے پاس دو ہندو ہنگامہ کررہے تھے وہاں ایک گھر میں داخل ہونے والی نئی مسلمان فیملی کو باہر نکال رہے تھے۔رات کو کمیلے کے تین لڑکے گئے۔کاٹ کے پھینک آئے۔کیشو تو کسی گنتی میں نہیں۔سنجو نے نسوانی تجسس کے غلبے میں لگے ہاتھوں  پوچھ لیا کہ تم بھی شامل تھے ان بلوائیوں میں۔ ہاں تھا۔بلوائی بول کرتو نے زیادتی کی۔بلوائی تو وہ لوگ تھے۔جنہوں  نے ہمارے مسلمانوں کو بہار میں بلاوجہ قتل کیا۔چلو دو دیس بن رہے تھے۔اطمینان سے کہتے۔ہمارے ہندو ادھر،آجاؤ تم مسلمان لوگ واپسی ریل سے ادھر پاکستان چلے جاؤ۔گھر جلانا، انسانوں کو قتل کرنا، عورتوں کی عصمت لوٹنا یہ رام اور لکشمن کی تو سکھاؤنی نہیں۔ صداقت نے لیکچر جاری رکھا میرے دل سے آگ نہیں بجھتی۔ بلوائی آئے تو میں چھت سے دیکھ رہا تھا جب انہوں نے میری ماں باپ بھائی پورے دنوں کی حاملہ بھابھی کے پیٹ میں چھرے گھونپے۔تیرے جتنی میری بہن کو ساتھ اٹھا کے لے گئے۔بے چاری جانے کہاں ہوگی کیسی ہوگی۔

سنجو نے دلاسہ دینے کے لیے اس کاہاتھ  تھام کر  پوچھا ”میں ہندو ہوتی تو مجھے بھی چھری کا گھاؤ ماردیتے۔اس پر صداقت نے کہا وہ اسے مسلمان کرکے شادی کرلیتا۔ تجھے دیکھ کر تو مجھے بس گھر،بچے ماں، باپ اپنی حویلی یاد آتی ہے۔اس میں حویلی جھوٹ تھی۔ صداقت کا گھرانا قصابوں کا ایک عام سا گھرانہ تھا۔

تسلہ

صداقت نے اس کے اصل موضوع کی طرف لوٹ کر اصرار کیا کہ سنجو میری مان تو چل ابھی میرے ساتھ۔میں بگھی لاتا ہوں جو سامان اٹھانا ہے، اٹھالے۔ ہم ریل میں بیٹھ حیدرآباد چلے جاتے ہیں۔سنجو نہ مانی ۔وہ ڈرپوک اور مصلحت پسند لڑکی تھی۔زندگی کا کچھ خاص تجربہ بھی نہ تھا۔ اس نے صداقت کو کہا کہ جلدی مت کرو ابھی چار دن ہیں ہفتہ ختم ہونے میں۔تم بار بار چکر لگاتے رہو۔ کیشو گھر پر ہوگاتو بالکونی میں میرا لال دوپٹہ لٹکتا ہوگا۔ یہ خطرے کی نشانی ہے۔ایک وعدہ تم مجھ سے اپنی شہیدفیملی کی قسم کھاکر کرو کہ مجھ سے شادی کے بعد نہ تو کسی کو قتل کروگے نہ کسی کا گھر لوٹو گے۔میں روکھی سوکھی کھالوں گی۔ شکوہ نہیں کروں گی، مگر میرا دل یہ نہیں مان پائے گا کہ میرا میاں اور میرے بچوں کا باپ ایک قاتل ہے۔جو ہوا، اس کو بھلادو۔ سب اللہ پر چھوڑ دو ۔وہ سب دیکھ رہا ہے۔صداقت نے یہ سپردگی یہ قول یہ قرار سنا تو جھٹ قسم کھالی۔ جس کی وجہ سے سنجو نے اس کا ماتھا بھی چوما اور پیر بھی چھوئے اور اپنے سر پر ہاتھ رکھواکر قول دیا۔شادی جب بھی ہو اب سے تم میرے پتی۔اس پر صداقت   بولا۔ چائے پتی آپ کی طرف بولتے ہوں گے ہماری طرف مابدولت کو آپ خاوند پیارے یا صدو جان پکارا کریں گی۔

اس بول بچن کے بعد وہ اس کے لیے چائے بنانے کھڑی ہوئی تو اس نے عادتاً جب  بالکونی سے جھانکا تو اسے نکڑ پر کیشو رام کسی سے باتیں کرتا دکھائی دیا، تو اس نے جھٹ سے صداقت کو چھت کی طرف بھیج دیا۔ وہ بلڈنگ کی چھت سے ساتھ ملی چھت سے دوسری طرف کی گلی کی جانب اترگیا۔چلتے چلتے اسے اس نے سنجو کو خالص بہاری محاورے میں سمجھایا کہ جب تک کیشو کو ٹپکانے کا فیصلہ نہیں ہوتا اس سے لڑائی جھگڑا نہیں کرنا، سسرے کو تسلے میں چاند دکھاتے رہنا ہے۔(یعنی جھوٹ موٹ کا بہلاوا۔۔پچھلے زمانوں میں جب بچہ ماں سے چاند لینے کی ضد کرتا تھا تو ماں آٹا گوندھنے والے پیتل کے تسلے میں پانی بھر کے چاند کا عکس دکھلا اسے بہلا لیا کرتی تھی)۔ اس کے جانے کے بعد سنجو اس محاورے کی حکمت عملی پر سوچتی رہی۔

کیشو رام گھر میں داخل ہو ا تو تسلے والی حکمت کے تحت سنجو اس سے لپٹ گئی۔ لاؤنج میں بکسے پیک دیکھ کر کیشو کی ڈھارس بندھی۔ اسے چوم کر کہنے لگا ”میں بھی سوچتا تھا سالی تواپنے پہلے پیار کے ، اپنے پہلے مرد کے بغیر کیسے زندہ رہ لے گی۔ کہنے کو سنجیدہ خاتون بھلے سے پندرہ برس کی بھی نہ تھی مگر تربیت گھاگ رنڈیوں کی گود اور ہوس ناک مگر تجربہ کار مردوں کی نگاہوں کے سائے میں ہوئی تھی۔ بہت سلیقے سے اس کی بات کے وار کا رُخ نفسیات کی طرف موڑ دیا۔اس کی گود میں بیٹھ کاندھے پر سر رکھ کر کہنے لگی۔
”میرے پتی، میرے مہاراج عورت تو پانی ہے۔دال میں ڈالو تو دال بن جاتی ہے۔ قورمے میں انڈیلو تو قورمہ کا ذائقہ پکڑ لیتی ہے،شراب میں ملالوگے تو شراب کا نشہ دے گی۔عورت بس اپنی عزت سے ڈرتی ہے اس عزت و عصمت کے تو تم نے مفت کی رقم سے جی بھر کے مزے لے لیے۔اب جو بھی مرد آئے گا وہ شلوار سینہ تو کھولے گا،کھوپڑی تو نہیں کھولے گا نا“۔

جس پر کیشو نے کہا”سالی بہت سیانی ہوگئی ہے۔ عمر سے آگے کی بات کرتی ہے“۔رات کی مزید واردات بتانے کا کیا حاصل۔ بھرپور سیکس کے بعد نڈھال کیشو جب اس کے سینے پر ڈھیر تھا سنجو نے
کیشورام سے پوچھ لیا اگر میں تمہارے ساتھ ہندوستان نہ چلوں تو تم کیا کروگے“۔

اس بات پر کچھ دیر تو خاموشی رہی۔سنجو نے جب جتایا کہ میں تو تمہاری ہر بات کا جواب دیتی ہوں تم نے کچھ بتایا نہیں کہ میں ساتھ نہ چلوں تو کیا کروگے۔کیشو نے بہت دھیمے سے مگر ایک یقینی انداز میں ڈرایا کہ ”نہیں بات مانے گی۔ ہندوستان میرے ساتھ نہیں چلے گی تو کرنا کیا ہے۔ کیمیکل کا کام ہے۔دکان پر تیزاب کے ڈرم رکھے ہیں۔تیرا جو وہ قصائی یار ہے نا۔ کسی گنتی بنتی میں مت رہئیو۔ سالے کو اٹھنی(آدھا روپیہ) دوں گا کہ چل اپنی مسلمان بہن پر ایک بوتل میرے سامنے جانے والے دن   تیزاب پھینک دے۔ اٹھنی کام کے بعد۔ ایک روپیہ تیری جیسی کے لیے بہت۔ میں دیکھتا میرے بعد کون تیرا سینہ، شلوار کھولتا ہے۔“

Advertisements
merkit.pk

جاری ہے

  • merkit.pk
  • merkit.pk

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply