دوسری شادی۔۔( قسط1)محمد اقبال دیوان

ہمارے دیوان صاحب کی یہ کہانی ان کے علاقے کے سنے سنائے واقعات پر مبنی ہے۔یہ ان دنوں کا ذکر ہے جب آزادی کا سورج بطن گیتی سے طلوع ہونے کو تھا اور نقل مکانی زور پکڑ رہی تھی۔امید ہے اس کا بیانیہ خاک اور خون میں لتھڑا ہونے کے باوجود ایک تلخ حقیت مان کر تسلیم کیا جائے گا۔
ایڈیٹر ان چیف
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صداقت انصاری کی نگاہیں جمیلہ  سٹریٹ کی پہلے مالے(منزل) کی بالکونی کی جانب تھیں۔ اس میں الگنی پر لکڑی کی چپٹی سے قابو سرخ دوپٹہ تو بہت دیر سے جھول رہا تھا۔ اس سرخ پھریرے کو شام چار بجے سے ہی سنجیدہ خا تون  نے سوکھنے کو ڈال دیا تھا۔صداقت قریشی کے لیے یہ اس بات کا سگنل تھا کہ بنیا کیشو رام گھر پر موجود تھا۔

tripako tours pakistan

پندرہ برس کی سنجیدہ خاتون کیشو رام کی رکھیل تھی۔کیشو نے سنجیدہ کی ماں نجمہ سے اسے نتھ کشائی کے لیے ساڑھے تین سو روپے کے عوض سال بھر کے لیے خریدا تھا۔ شہر میں فسادات کی لپاڈکی نہ ہوتی اور ہجرت کی اتھل پتھل میں بستیاں اجڑ کے روز نئے مکینوں سے آباد نہ ہورہی ہوتیں تو نئپیئر روڈ کے اس محلے  کی یہ رسم نتھ کشائی جسے یہ طوائفیں شادی کے نام سے موسوم کرتی تھیں، دیکھنے کی تقریب ہوتی۔ سنجیدہ دلہن بنتی،مرکزی نشست پر براجمان ہوتی، فلم سفر کے گیت ع

جمیلہ سٹریٹ
نیپیئر روڈ
Fortuner
سو روپے
میجر بلیک سکویئر
مدھو بالا

کبھی یاد کرکے گلی پار  چلی آنا ،پر ناچتی۔ ابھی رنڈیوں کا قومی ترانہ فلم ا ٓوارہ کا گیت
گھر آیا مورا پردیسی
پیاس بجھی موری اکھین کی
جو دراصل ام کلثوم کے سن 1936 کے مشہور گیت
’علی بلدی ال محبوب‘کی سیدھی سادھی نقل تھا ،موسیقار جوڑی شنکر جے کشن نے کمپوز نہ کیا تھا۔۔اس رات کھل کے دھوم دھڑکا ہوتا،زرق برق ملبوسات، لٹک مٹک مجرے،دیدار عام، مشتاقان ہوس کے نذرانے، اعلیٰ طعام۔

ساڑھے تین سو روپے اس زمانے میں بہت خطیر رقم تھی۔مانو آج کی Fortuner خریدلو۔
بنیا کیشو رام چودہ برس کی کنواری کلی سنجیدہ کی سال بھر کی دستیابی  کی اتنی رقم کبھی بھی نہ دیتا، مگر پچھلے چھ ماہ کے دوران کئی ہندو گھرانے سندھ سے بھارت چلے گئے تھے۔ ان میں انیل موٹوانی وکیل صاحب جو سامنے بلڈنگ میں رہتے تھے وہ بھی اپنا گھرانہ لے کر کیشو رام کی فیملی کے ساتھ تھرپارکر کے راستے اونٹوں پر براستہ کھوکراپار مناباؤ پاکستان چھوڑ جا چکے تھے۔وہ خود کچھ کاروباری ادھاری کی وصولی اور لالچ میں یوں بھی رک گیا تھا کہ اسے کراچی کے کئی ہندو گھرانوں کی دولت کا پتہ تھا۔ اسی کی طرح بھارت جانے والے گھرانوں کاکراچی میں کوئی اِکا دُکا رکھوالا مارا جاتا یا اسے امانت سونپ کر بھارت میں وصول یابی کے وعدے پر رخصت ہوجاتا تو وہ یہ دولت سمیٹ کر اس فلیٹ پر لے آتا۔ انیل جی کے گھر کی میز پر ایک فائل میں سو کے دس نوٹ مل گئے۔یوں اس کی سنجیدہ کو خریدنے کی مراد بر آئی۔

آرمی افسر
موٹر رکشہ

سنجیدہ کی ماں نجمہ سے پرلے درجے کے سوم ،ایک بلوچ سردار کی بات چل رہی تھی۔وہ سنجیدہ کی نتھ کشائی کے لیے سو روپے سے زیادہ کچھ دینے پر رضامند نہ تھے۔ اس پر ظلم یہ بھی کہ بچی کو رکھیں گے بھی اپنی کوئٹہ والی کوٹھی میں۔سو بات نہیں بن رہی تھی۔حالات دگر گوں تھے،مگر نجمہ ان عورتوں میں سے تھی جن کی اس رنڈی بازی میں چوتھی نسل چلی آرہی تھی۔

نجمہ کو ایک شام کراچی میں تعینات گورے میجر کالو جو ا سے سول لائنز کی کوٹھی پر اکثر و بیشتر یاد کرلیتے تھے وہاں محفل کا ایک مرتبہ پھر بلاوا آیا۔ اس بنگلے پر ایک اور بے حد حسین ہندو عورت کانتا دیوی اور بے حد خوبرو،لمبا گھبرو گورا کوئی اورفوجی بھی موجود تھا۔کالو میجر جن کا اصل نام تو میجر بلیک تھا مگر بلیک کو کراچی والوں نے زیادہ ہی کالا کردیا۔ انہوں نے خود تورات کانتا کے ساتھ گزاری۔نجمہ کو کئی مرتبہ برت چکے تھے لہذا اسے ویری گڈ ،ویری ٹاپ کلاس کے داد و تحسین کے ڈونگروں میں اس مہمان افسر کے ساتھ کردیا۔سنجیدہ خاتون اس افسر کے ساتھ گزاری ہوئی رات کی نشانی تھی۔

سنجیدہ کی جوانی ایسی شراب کی مانند تھی کہ صراحی میں رکھا دیکھ کر شیشے کے خالی جام بھی مست ہوجائیں  ۔ بال ایسے کہ گویا ریشم کے براؤن دھاگے۔، سینہ بھرپور و مغرور،بازو مدھوبالا جیسے سڈول اور آنکھیں  بھی اس جیسی ہی نشیلی اور اداس مگر گہری براؤن  بالکل ،قد دراز اور گہری کتھئی آنکھوں کے معاملے میں وہ اپنے والد پر گئی تھی ۔بدن میں لوچ،آواز میں ایک رسیلی توانائی اور مزاج میں ایک شائستگی سے لدا پھندا ٹھہراؤ۔

نجمہ اس کی ماں جب اسے دیکھتی تواسے وہ گورا افسر یاد آجاتا۔ کوئی فوجی تھا شاید، بدن مانو فولاد۔کہتا تھا ممبئی سے آیا ہے۔رات کسی طور رکنے کا نام ہی نہ لیتا۔وہ تھک بھی گئی تھی۔اسے لگا کہ کچھ اس کے اندر بھی ہوا ہے۔ گورے کا شاید نطفہ ٹھہر گیا ہے۔یہ اچھی بات تھی۔ایسے مرد اب کراچی میں نایاب تھے۔اسے نام یاد نہ رہا وہ انگریز ناموں سے نامانوس تھی۔بس اتنا یاد ہے کہ گورا مرد افسر
تھا جس کے سحر میں وہ رات بھر خود کو سونپتی ہی چلی گئی۔چلا گیا تو مارلن منرو کی ماں والا معاملہ ہوا۔وہ نفسیاتی مریضہ بھی بے چاری نشے میں تھی۔ کسی نے مئے کدے سے اٹھایا تھا۔ مرد بھی اجنبی،علاقہ بھی نیانیا۔ماں بن کر مارلن منرو کو جنم دیا۔مارلن منرو نے اپنے باپ کو سارے علاقے میں بہت ڈھونڈا مگر ماں کو نہ قصبہ کا نام یاد تھا نہ باپ کا نام اس نے یاد رکھا۔ایک رات کا ملن ملاپ،سب بھول گیا۔بچی البتہ نطفہ بن پرورش پاکر پیدا ہوگئی ۔عجب محرومیاں تھیں جو اس کا پیچھا کرتی تھیں۔نجمہ کے ہاں یہ پیار کاسودا تھا۔بد احتیاطی کہی جاسکتی ہے بد ذوقی نہیں۔ میجر کالو نے اس معاوضے کے طور پر جو دیا وہ بداحتیاطی کا داغ بھی دھوگیا۔کنواری نہ تھی سو سنجیدہ کے حوالے سے جو ملا بہت ملا۔

رادھا کشن گوپیوں کیساتھ
صداقت
ہوتی مارکیٹ
بھاگل پور

ان کی طرف بچہ پیٹ میں سمانے کے لیے شرط ہوتی تھی کہ مرد وجیہہ،خاندانی،اعلی ٰ مرتبت،دیالو اور معاملہ ساز ہو۔یہ Gene-Pool اور Quality Assurance کا معاملہ تھا۔ ان کی کھوکھ کسی چھٹ بھئیے،گلیوں کے راجہ، کنگلے، بے جڑ کے مرد کے نطفے کا مہمان خانہ نہ تھی۔میجر کالو کو جب اس نے مہمان کی سوغات کا بتایا تو انہوں نے  پیشگی سو روپے ادا کرکے ایک چھوٹی سی تین دکانوں کی مارکیٹ کی چابیاں اوردس روپے ماہوار کا وعدہ کیا۔ یہ ہاتھ خرچہ اسے بازار کے چوہدری کے ذریعے ہر ماہ بھیجنے میں کبھی کوتاہی نہ کی۔جب تک وہ یہاں کراچی رہے وہ جانو ان کی ملازمت میں رہی۔

سنجیدہ پیدا ہوئی تو ان کا وعدہ تھا کہ وہ اسے اپنے پاس ملایا بلالیں گے ،جہاں ان کی پوسٹنگ ہوئی ہے۔وہاں آیاؤں خادماؤں کی کیا کمی۔ نجمہ نے اس تجویز کو یکسر رد کردیا۔

کیشو رام نے جس کی کیمیکل کی ایک دکان نئپئر روڈ پر تھی۔اس نے ایک ماہ پہلے ہی سنجیدہ کو دیکھا تھا۔سامنے پان والے کے ذریعے معاملہ طے ہونا تھا۔نجمہ پر بھی اس کے یار رشید کھتری کا دباؤ تھا کہ وہ اب  دھندے سے باہر آجائے۔نجمہ چند منتخب گاہکوں کودستیاب تھی۔اس کا خرچہ اچھا چل رہا تھا۔ رشید کھتری چاہتا تھا کہ وہ اس کی بیوی بن کے رہے جس سے اس کی پہلے بھی ایک بیٹی تھی سائرہ۔یہ سنجیدہ سے پورے آٹھ برس چھوٹی تھی۔کیشو رام کی اولین بولی تو دوسو روپے کی تھی مگر جب اسے انیل موٹوانی جی کے گھر سے یہ جیک پاٹ لگا تو اس نے آؤ دیکھا نہ تاؤ۔ سر شام ہی نجمہ کو تین سو تیس روپے، دو روپےمزار کے نذرانے،دس روپے پنواڑی کی مشاطگی اور باقی آٹھ روپے خادمان حسن و جمال کی بخشش دے کر سودا فوری ڈیلوری آن کیش ڈن کر بیٹھا۔

معاملات طے ہونے پر سنجو کو بنا سنوار کر اس کی ماں موٹر رکشہ جسے کراچی میں پھٹ پھٹی رکشہ کہتے تھے اس میں بٹھا، چادر ڈال انیل موٹوانی جی کے فلیٹ پر چھوڑ آئی جہاں اسی رات کیشو رام نے اسے کنوار پنے کے قیمتی پاکیزہ بندھن سے آزاد کردیا ۔اپنے فلیٹ کی بجائے سنجو کو انیل وکیل کے گھر رکھنے کی ایک وجہ یہ تھی کہ اگر اچانک کبھی کوئی بھولا بھٹکا رشتہ دار اس کے فلیٹ پر آئے تو عزت محفوظ رہے۔

سنجیدہ نہ کیشو سے دھرم کا، نہ دولت کا حساب رکھتی تھی۔یہ ضرور جانتی تھی کہ وہ ادھر اُدھر سے بٹور کر لائی گئی رقم زیور سونا کس الماری میں رکھ کر ،چابی کس روشن دان کی سل پر چھپاتا ہے۔جنسی آسودگی جو اپنے سے بیس سال بڑے قد میں پانچ فیٹ کے کیشو سے نصیب ہوئی تھی وہ بھی اسے قبول تھی ،وہ یوگاکے پالے ہوئے لچکیلے بدن کا مالک،سانس روک کے دیر تک پیار کرنے والا اور تانتارک سیکس رازوں سے واقف تھا۔ کبھی کبھی تو اس کی وحشت سے تنگ آکر وہ اس سے کہتی کہ”لالہ جی تم انسان ہو کہ حیوان ہر وقت بس اسی کام میں لگے رہتے ہو“۔تو کیشو رام کہا کرتا کہ”چھوری تیرے جیسی رادھا مل جائے کرشنا بندرابن کی سولہ سو گوپیاں چھوڑدیں“۔

پرائمس سٹوو
مہاجر
ٹوکری

صداقت سے کیشو کا سامنا عجب طور ہوا۔ صداقت کراچی آمد کے پہلے چار پانچ دن تو وہ جمیلہ  سٹریٹ جہاں کیشو، سنجیدہ سب ہی رہتے تھے اس کے پاس ہوتی مارکیٹ کے کسی تھڑے پر چھری کے قبضے پر ہات رکھ کر سولیتا تھا۔اسے  یہاں کمیلے میں ایک آنا فی گائے کا ٹنے کا کام مل گیا۔

وہ مارچ سن سنتالیس میں کراچی مشکل سے جان بچا کر پہنچا تھا۔ ریاست بہار میں فسادات کی ابتدا اس کے اپنے ضلع بھاگل پور سے ہوئی۔ اس کے اپنے خاندان کو بھاگل پور میں ہندوؤں نے کاٹ ڈالا۔لڑکیاں اور بچیاں اغوا کرکے لے گئے۔قصائیوں کا گھرانہ تھا۔ ان کے مردوں نے بھی کئی بلوائی ماردیے۔خود اس نے تین ہندو اسی کشمکش میں ناف سے حلق تک چھرا چلا کر کاٹ ڈالے مگر جب بلوائی تعداد میں بڑھنے لگے تو وہ بھاگ کھڑا ہوا۔یہ ایک طویل کہانی ہے کہ وہ کیسے بحری جہازوں پرچھپتا چھپاتا، بوجھ ڈھوتا کلکتہ سے رنگون وہاں سے عدن اور پھر کراچی پہنچا۔پانچویں دن جب وہ دو گائے ذبح کرکے جوبلی سینما کی طرف سے ناشتہ کرکے آرہا تھا اس نے دیکھا کہ ایک گھوڑا گاڑی میں سامان رکھ کوئی ہندو گھرانہ رخصت ہورہا تھا۔

صداقت نے ان کی روانگی میں عجلت دیکھی تو وہاں موجود ایک صاحب سے پوچھا لیا کہ کیا چکر ہے۔کہاں کا ارادہ ہے۔ان کی نظر اس کے قصائی والے خون آلود کُرتے پر پڑی تو جواب دینے کی بجائے اسے کوئی گھاتک سمجھے اور بِلا کچھ کہے سنے انہوں نے  چپ چاپ اپنے فلیٹ کی چابیاں تھمادیں۔وہ چلے گئے تو صداقت نے صرف باہر کا کمرہ کھولا۔ضرورت کا سب سامان تھا۔حتی کہ  کچن میں آٹا، چاول، تیل، گھی،چائے، چینی اور ماچس تک موجود تھی۔مٹی کے تیل کی بوتل بھی اور پیتل کا پرائمس اسٹو بھی کوئی خاص میلا نہ تھا۔زندگی چونکہ روز مرہ کی بنیاد پر گزررہی تھی لہذا اس نے کچھ مارا ماری نہ کی۔نیا تالہ ڈال کر   سامنے پینٹر سے برش لاکر صداقت علی انصاری کا نام لکھ لیا ۔

صداقت سے کیشو کی ملاقات سر راہ ہوئی۔اسے گراؤنڈ فلور کے فلیٹ کا دروازہ بند کرکے کمیلے کی طرف جاتا دیکھ کر کیشو ٹھٹکا۔ وہ بخوبی جانتا تھا کہ یہاں کون سی گجراتی ہندو فیملی رہتی تھی۔ان سے اس کا میل جول تو نہ تھا مگر ان کے بارے میں یہ ضرور علم تھا کہ ان کا سنار کا کام ہے اور مالدار لوگ ہیں۔
کیشو رام نے جو یہ نیا مکیں دیکھا تو اس سے رہا نہ گیا کہ یہ کون مہاجر اس گھر میں گھس گیا ہے۔
”آپ کون ہیں یہاں کیا کررہے ہیں؟“ اس نے بہت ہمت کرکے پوچھ لیا۔صداقت جس نے قصائی کے کام والے خون آلود کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ اس کا سوال سن کر اس پر ایک بے رحم نگاہ ڈالی آہستہ سے چھری اس کے  پیٹ کی طرف کرکے کہا ”ابے اپنی راہ لگ۔یہ پہلے تیرے جیسے تین کو ٹھنڈا کرچکی ہے۔تیری چتا جل گئی ہے تو بتا۔

سنجو

صداقت کے ہاتھ  میں دس انچ کے پھل والی چمکتی چھری دیکھ کرکیشو رام کی گھگھی بندھ گئی۔لپک جھپک قریبی کھمبے کے پیچھے چھپ کر کہنے لگا ”وہ کیا ہے کہ جانے والے ہمارا ادھار لے گئے۔میں یہاں سامنے کونے والی بلڈنگ کے پہلے مالے پر رہتا ہوں۔ احمد حسین دہلوی نام ہے ،پیچھے سے دہلی کا ہوں۔ ہم جناح صاحب کی دعوت پر پاکستان ذرا جلدی چلے آئے۔اس کے باوجود ظالم سکھوں نے میرا اور بیوی کا سارا خاندان لم لیٹ کردیا۔ہمارا دو ماہ کا بچہ بھی ذبح کردیا۔،میری بیوی بھی ساتھ ہے۔چونی (چار آنے کا سکہ) نکال کر کہنے لگا آپ کا گوشت کا کام ہے نا ہوتی مارکیٹ میں، میری بیوی ٹوکری لٹکادے گی۔ آدھا پاؤ گوشت،ہفتے میں ایک دن مغز کلیجی گردے۔(چونی بڑی رقم تھی۔روپے میں سولہ آنے ہوتے تھے۔بکرے کا گوشت دو آنے سیر ملتا تھا۔اصلی گھی ایک روپے کا)۔کل سے ناغہ مت کیجیے گا۔آج سے ہم دوست ہیں“۔

صداقت کے ذریعے گوشت کی ترسیل روزانہ کا معمول بن گیا۔پہلے مالے سے ایک ہی ٹوکری لٹکا کرتی تھی۔ٹوکری لٹکانے والی البتہ کبھی دکھائی نہ دی۔ایک دن وقت مقررہ پر جب وہ گوشت لے کر پہنچا تو ٹوکری شاید مالکن کی غفلت کی وجہ سے بالکونی سے نیچے گری ہوئی تھی۔وہ گوشت ڈال کر اوپر دینے گیا تو مسجد سے فجر کی آذان ہوئے بیس منٹ ہوگئے تھے۔ بعد از وصال جسمانی کے غسل واجب سے دھلی مہکی سنجو اسے اچھی لگی۔شربتی کتھئی آنکھوں کا جنتر اسے بہت قاتل اور من بھاؤنا لگا۔ جوانی کے ابھار اور چاند کے پلنگ جیسے بدن کی تراوٹ نے اسے بہت برمایا۔ کچھ دیر کو تو زبان لڑکھڑا گئی۔صداقت نے اپنی جسارت کا جواز بنانے کے لیے کہا۔ وہ جی کیا ہے کہ وہ احمد حسین دہلوی صاحب کا حکم ہے کہ روز گوشت پہنچادیا کروں۔ آج ٹوکری ہوا سے نیچے گر گئی تو آپ کو تکلیف دینی پڑی“۔سنجو گھبرائی اور جھٹ سے دروازے کی اوٹ پکڑ کر سوچنے لگی کہ وہ روز کسی ا ور کا راشن تو پکا کر نہیں کھارہی۔جھٹ سے بول پڑی کون سے احمد حسین دہلوی صاحب، میرے میاں کا نام تو کیشو رام ہے۔

یہ سوال جواب والے ایام نہ تھے۔نہ عورتین دھوم دھڑکے سے اپنا نام بتاتی تھیں۔اس انکشاف سے صداقت کو یقین ہوگیا کہ وہ عمر میں بیوی سے چوتھائی صدی بڑا بنیا اس کے ہاتھ میں چمکتی لہو کی پیاسی چھری دیکھ کر کھمبے کے پیچھے اسلام لے آیا تھا اورجان بچانے کے لیے فوراً کیشو رام سے احمد حسین دہلوی بن گیا تھا۔

اس نے مزید جرات کرکے پوچھ لیا ”وہاں ہمارے بھاگلپور میں تو ہندو لوگ گوشت نہیں کھاتے۔آپ نے بتایا کہ آپ کے پتی کیشو رام جی ہندو ہیں تو کیا آپ بھی ان کے دھرم کی ہیں؟۔
”توبہ کریں جی۔میں الحمد و لی اللہ مسلمان ہوں۔بس یوں سمجھیں کہ میرے میاں برے ہندو ہیں اور میں بری مسلمان۔اور ہاں یہ چائے پتی آپ کے بھاگلپور میں بولتے ہوں گے۔ یہاں میاں کوخاوند بولتے ہیں“۔

بات اگر نگاہ اولین کی ہو، واردات اگر نگاہ میں کھب جانے کی ہو تو سنجو کو بھی صداقت ان گندے کپڑوں اونچے لمبے قد اور مچلتے ڈولوں (بازو کے مسلز) کی وجہ سے اچھا لگا۔اس نے جب قدرے وقار سے بتایا کہ اس کا نام صداقت قریشی ہے۔ بہار شریف کا مہاجر ہے۔وہاں اناج کا بہت بڑا کام تھا۔سب ہی کچھ فسادات کی نذر ہوگیا۔ماں، باپ، بہن،حویلی۔ یہ سب سن سنجو کے دل میں ہمدردی اور ممتا کی ایک لہر اٹھی اور اس کے ہوش و حواس کو ڈبوگئی۔۔سنجو کو اس مرد میں سچائی ، ایک مردانہ وقار ایک اعتماد اور اپنائیت لگی۔اس کی بے چارگی پر ترس بھی بہت آیا۔

اس نے چپ چاپ اس کا کیشو رام سے ایک موازنہ کرڈالا۔ چھوٹا،دبلا پتلا، پیکر کمینگی، دوسروں کے مال سے لوٹ مار کرنے والا۔ اس کے برعکس یہ سامنے موجود مرد کی مکمل ضد ہے۔
بظاہر میلا اور کم تر مگر انسانیت کے بہتر درجے پر ہے اور سب سے بڑھ کر مسلمان ہے۔کیشو کی تو ختنہ بھی نہ ہوئی تھی، جس کی وجہ سے وہ بہت مخمصے کا شکار رہتی تھی ۔

لمحہ ء وصال کی کسی وحشت میں اس سسرے کیشو رام نے سنجو پر یہ راز بھی کھول دیا کہ انیل وکیل کے اس فلیٹ کی میز کی کس دراز میں وہ فائل رکھی تھی جس میں ہزار روپے کا لفافہ وہ شاید جلدی میں پیچھے چھوڑ گئے تھے۔اس رقم کی وجہ سے وہ اس کی زندگی میں آ پائی ورنہ ویشیا عورت پر کون رقم لٹاتا ہے۔یہ سب سن کراس ایک لمحے میں سنجو کو خود سے بہت گھن آئی کہ اس کی جوانی اور حسن دلفریب کی قیمت کسی کے چرائے ہوئے روپوں میں سے صرف ایک تہائی رقم تھی۔ کیشو رام جسے وہ تقدیر کا جبر مان کر برے دنوں میں اپنا مالک تسلیم کیے بیٹھی تھی، اس ایک انکشاف سے اس کے خلاف سنجو کے دل میں  ایک دبی دبی سی نفرت  بیٹھ گئی۔

اس لڑکی کو چودہ سال بمشکل پورے ہوئے تھے۔ایک جرات بغاوت اور تکبر اس جواں عمر کو زیب دیتا تھا۔اس سرکش جوانی کے ساتھ یہ کیا گھٹیا واردات ہوئی کہ کسی مجبور و مفرور کے گھر میں ایک لفافے ملی رقم کے سہارے اس نے سنجو کے وجود کے بہترین لمحات کو پہلا مرد بن کر لوٹ لیا۔انتقام ابھی اس کے ذہن میں نہ تھا۔ماں کے اپنے مسائل تھے۔جو کچھ محسوس کیا اسے دل میں چھپالیا کہ کبھی تو ٹائم آئے گا۔ رشید کھتری اس پر شادی کا دباؤ ڈال رہا تھا۔بیاہ کر اسے ٹھٹھہ اپنے ماں باپ کے پاس لے جانا چاہتا تھا۔ ماں کہتی تھی وہ کراچی نہیں چھوڑ سکتی ۔

صداقت سے پہلی ملاقات کی وجہ سے سنجو کی دنیائے تخیل میں ایک بھونچال آگیا ،وہ سارا دن صداقت کے بارے میں سوچتی رہی۔کئی دفعہ بالکونی میں آگے پیچھے ہوکر اس نے صداقت کو دیکھنے کی کوشش کی مگر کامیابی نہ ہوئی۔وہ پچھلے دراوزے سے نکل لیا اور سامنے عقبی گلی سے ہوتا ہوا گھر آیا،نہا دھو کھا پی کر سڑکوں پر مارا مارا پھرتا رہا۔کافی ہندو شہر چھوڑ کر جارہے تھے۔ایک ویرانی اور اداسی نے اس علاقے کو گھیرے میں لے رکھا تھا۔

بھاگلپور بہار سے کراچی آمد کے بعدصداقت کو پہلی دفعہ ایسا لگا کہ اس کے جذبات کا بڑا ہتھیا چار ہوا ہے۔ کمیلے میں گائے پر چھری پھیرتے ہوئے اس نے ساتھی سے پوچھ لیا کہ کیا یہ واقعی جناح صاحب والا پاکستان ہے۔ کیا یہی وہ آزاد دیس ہے جس میں مسلمانوں کی اکثریت ہوگی۔وہاں بھی ہندو ہماری عورتیں لے جاتے تھے اور یہاں  بھی ہماری لڑکیاں ان کے قبضے میں ہیں۔کمیلے کے ساتھی نے جب سامنے گلی میں مسجد کے امام صاحب سے تصدیق کرائی تب اسے یہ واقعہ کچھ انہونا سا پیچیدہ راز لگا۔اس کے ساتھی نے اسے بہت کریدا مگر اس نے مزید تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔

رات کیشو کو اس نے کھانا تو اچھا کھلایا۔تازہ کلیجی، دہی اور کھیر مگر بستر میں دوری رکھی۔اسے لگا کہ یہ بدن اب اس سے دور ہوگیا ہے۔رات کو جب وہ گہری نیند میں تھی کیشو نے اس کو قابو کرلیا۔صبح کیشو جلدی چلا گیا۔آج مندر میں بڑا جاپ تھا۔صداقت نے لٹکی ہوئی رسی کو معمولی سا جھٹکا دیا تو ٹوکری نیچے رسی سمیت آگئی اور وہ ایک دفعہ پھر گوشت اس میں ڈال کر سنجو سے ملنے پہنچ گیا۔

Advertisements
merkit.pk

جاری ہے

  • merkit.pk
  • merkit.pk

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply