اطعنا کا انعام(یوم تکبیر، یوم لبیک)۔۔ ماسٹر محمد فہیم امتیاز

اگر آپکا وجود برداشت ہوتا تو پہلی پانچ دہائیوں میں چار باقاعدہ جنگیں آپ پر مسلط نہ کی جاتیں۔ 1948،1965،1971 اور 1999 یہ تاریخ ہے ہماری جو چیخ چیخ کر بتاتی ہے کہ تمہیں مٹانے کی تمنا دل میں بسائے کئی گدھ منڈلا رہے ہیں۔

صرف یہ چار جنگیں نہیں، امریکہ کا اڈے لیتے وقت ڈو اور ڈائی کا پتا، پاکستان میں ہزاروں جانوں کو نگل جانے والی لگائی گئی دہشتگردی کی آگ۔۔۔
پاکستان پر مسلط کی گئی معاشی جنگ۔۔۔پاکستان میں بھڑکائی گئی علیحدگی پسند تحاریک۔ پاکستان پر ڈالا جانے والا عالمی دباؤ،یہ سب بتانے کو کافی ہے کہ آپ دنیا میں دشمنوں کی کثیر تعداد رکھتے ہیں جو طاقت میں اور رسوخ میں بھی آپ سے کہیں بھاری ہیں۔

tripako tours pakistan

تو آپ کو کیا لگتاہے  ؟
جب چار جنگوں کی  منجھدار سے اپنا ایک بازو کٹوا کر بھی گرتا پڑتا پاکستان پھر کھڑا ہو گیا۔جب ضرب عضب،خیبر 1،2،3،میزان،راہ نجات،زالزال،راہ راست اور ردالفساد سمیت متعدد آپریشنز کے ذریعے دہشتگردوں کا خاتمہ کر کے ملک کو دھکیلی گئی آگ سے نکال لیا گیا۔جب ایم کیو ایم کا چیپٹر کلوز ہو گیا۔جب بلوچستان میں جنرل عامر ریاض اور ناصر جنجوعہ جیسے کماندار علیحدگی پسندوں کی بڑی تعداد کو گلے سے لگا کے قومی دھارے میں شامل کر چکے ہیں۔جب ملک کی جڑوں میں بیٹھے اور معیشت کو دیمک کی طرح چمٹے سیاست دانوں سے جان چھڑوا لی گئی۔جب معاشی استحکام کے لیے سی پیک جیسے منصوبے پایہ تکمیل پا چکے   ،جب افغان بارڈر پر باڑ لگا کر دہشتگردوں کا راستہ مسدود کر دیا گیا ہے،جب امریکہ کو ڈو مور کے جواب میں “نو مور” سننے کو مل چکا ہے ۔

تو کیا یہ صورتحال دشمنان پاکستان کے لیے قابل قبول ہو سکتی تھی ؟
ہرگز نہیں ہرگز نہیں۔۔۔۔
وہ دشمن اور اس کی پشت پناہی کرنے والے ہمارے ازلی دشمن جنہوں نے سات دہائیوں سے مسلسل پاکستان پر کبھی روایتی تو کبھی غیر روایتی جنگ مسلط رکھی۔۔۔ ان کا ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ! اتنی ساری ناکامیوں کے بعد سبھی ہتھکنڈے ناکام ہو جانے کے بعد 2019 کا پلوامہ ڈرامہ پاکستان کو ایک پانچویں روایتی جنگ میں دھکیلنے کا مکمل منصوبہ تھا۔۔۔اب کے پھر آخری حل دوبدو جنگ ہی تھی ۔جہاں امریکہ اور اسرائیل بھارت کی پشت پر کھڑے ہوتے اور ذہن میں رہے آخری حل کے طور پر پلوامہ سے پہلے اور بعد میں بھی یہ جنگ ہمارا دروازہ کھٹکھٹا سکتی تھی۔
لیکن ایسا نہیں ہوا۔۔ کیوں۔۔؟؟ کیونکہ بنیادی وجوہات میں ایک بہت بڑی وجہ ہمارا جوہری طاقت ہونا رہی۔۔

کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اگر خدانخواستہ پاکستان 1998 میں جوہری طاقت نہ بنتا تو آج صورتحال یہی ہوتی۔۔؟ پلوامہ ڈرامہ اسی طرح بند ہو جاتا یا گزشتہ دو دہائیاں یونہی گزر جاتیں۔ ؟
یہ اس لیے گزر گئیں،دشمن غیر روایتی ہتھکنڈوں پر اس لیے آیا کہ اب کی بار اسے ہمارا بھی آخری ہتھیار آخری راستہ دکھائی دے رہا تھا !
کہ ہاں۔۔ہم ایٹمی طاقت ہیں۔۔۔
ہاں ہم جاتے جاتے ان کی نسلیں ختم کر جانے کی صلاحیت سے لیس ہیں ۔
ہم جاتے جاتے بھی ان کی طاقت کو ان کے غرور سمیت ایسے تہس نہس کرنے جوگے ہیں کہ صدیوں تک اس کّرہ عرض پر اس کی باز گشت سنائی دیتی رہے ۔
یہ ایک بڑی وجہ تھی۔۔۔ ٹھٹکنے کی۔۔سوچنے کی۔۔۔ اپنے جنگی جنون کو لگام دینے کی،اپنے سابقہ اطوار میں بدلاؤ کی۔۔۔ آج کسی بھی جارحیت سے پہلے دشمن کو سوچنا پڑتا،لازمی سوچنا پڑتا کہ ہاں اس کا انجام کیا اور کیا سے کیا ہوسکتا !

Advertisements
merkit.pk

یہ تو وہ فزیکل فینامنا ہے جو بتایا اس کو بڑےسیدھے اور صاف انداز میں کہا جائے، اس کا دوسرا رخ دیکھا جائے تو یہ جھجھک،رعب یا ڈر دشمن کے دل میں اس لیے بھی آ گیا کہ ہم نے اطاعت کا ثبوت دیا۔۔۔یہ دن “یوم تکبیر” دراصل ہمارے لیے یوم لبیک رہا۔جب ہم نے رب تعالیٰ کے حکم پر لبیک کہا،جس کے انعام میں ہمیں یہ ملا کہ ہمارا دشمن دانتوں تلے انگلیاں دیے بیٹھا ہے۔
جب رب تعالیٰ نے کہا
وَ اَعِدُّوْا لَهُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّةٍ وَّ مِنْ رِّبَاطِ الْخَیْلِ تُرْهِبُوْنَ بِهٖ عَدُوَّ اللّٰهِ وَ عَدُوَّكُمْ وَ اٰخَرِیْنَ مِنْ دُوْنِهِمْۚ
اور ان(کافروں) کے لیے جتنی قوت ہوسکے تیار رکھو اور جتنے گھوڑے باندھ سکو تاکہ اس تیاری کے ذریعے تم اللہ کے دشمنوں اور اپنے دشمنوں کو اور جو اُن کے علاوہ ہیں انہیں ڈراؤ۔۔۔
تو ہم نے کہا۔۔ لبیک اللہم لبیک۔۔!!
انڈیا نے 5 دھماکے کیے ہم نے جواب میں 6 کر کے کہا۔۔۔
اطعنا۔۔۔اللہم اطعنا۔۔
اطاعت کی۔۔اے اللہ ہم نے اطاعت کی!

  • merkit.pk
  • merkit.pk

ماسٹر محمد فہیم امتیاز
پورا نام ماسٹر محمد فہیم امتیاز،،ماسٹر مارشل آرٹ کے جنون کا دیا ہوا ہے۔معروف سوشل میڈیا ایکٹوسٹ،سائبر ٹرینر،بلاگر اور ایک سائبر ٹیم سی ڈی سی کے کمانڈر ہیں،مطالعہ کا شوق بچپن سے،پرو اسلام،پرو پاکستان ہیں،مکالمہ سمیت بہت سی ویب سائٹس اور بلاگز کے مستقل لکھاری ہیں،اسلام و پاکستان کے لیے مسلسل علمی و قلمی اور ہر ممکن حد تک عملی جدوجہد بھی جاری رکھے ہوئے ہیں،

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply